Friday, April 3, 2015

دعوت و تبلیغ: ایک اہم فریضہ

دعوت و تبلیغ: ایک اہم فريضہ

بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

حرف آغاز:
جب اللہ سبحانہ و تعالی نے اس عالمِ رنگ و بو اور جہانِ نور و نکہت کی تزئین کے لیے جدّ اکبر سیّدنا آدم   ـ علیہ السلام ـ کے پتلے میں روح  پھونک کر فرشتوں کو ان کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا، تو فرشتوں نے فورًا اس حکم کی تعمیل کی؛ جب کہ ابلیس مردود نے اپنی برتری اور فوقیت ثابت کرنے کے لیے، حضرت آدم  ـ علیہ السلامـ کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا؛ بل کہ فرمانِ خداوندی کو ٹھکرادیا اور ذات واجب الوجود سے بغاوت کرنے پر کمر بستہ ہوگیا۔ اللہ نے اس حکم سے سرتابی پر ابلیس ملعون کو ہمیشہ کے لیے اپنے دربار سے دھتکار دیا۔ اس پر ابلیس نے بارگاہ ایزدی میں چیلنج کیا کہ وہ تا قیامت آنے والے بندگانِ خدا کو صراط مستقیم سے ہٹاکر، ضلالت و گمراہی کی راہ پر لانے کے لیے اپنے تمام حربے استعمال کرے گا اور ہر طرف سے تاک میں لگا رہے گا، جہاں کہیں بھی موقع پائے گا ، انھیں مقصد تخلیق سے دور کرنے کی کوشش کرے گا۔ اللہ تعالی نے ابلیس کے اس دعویٰ کو قرآن کریم میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ‘‘قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ۔ ثُمَّ لآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَآئِلِهِمْ وَلاَ تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ۔’’ (سورۃ اعراف، آیت: ۱۶۔۱۷) ترجمہ: ‘‘بولا تو جیسا تو نے مجھے گمراہ کیا ہے،میں بھی  ضروری بیٹھوں گا ان کی تاک میں تیری سیدھی راہ پر۔ پھر ان پر آؤں گا ان کے آگے سے اور دائیں سے اور بائیں سے اور نہ پائے گا تو اکثروں کو ان میں سے شکر گزار۔’’

اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر احسان عظیم کرتے ہوئے، ابلیس ملعون کے مکر و فریب سے بچانے کے لیے انبیاء و رسل ــ علیہم السلام ــ کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ہر قوم اور ہر خطہ میں موقع بہ موقع ، انبیاء و رسل ـ علیہم السلامـ  کی آمد و رفت ایک طویل زمانے تک جاری رہی اور سب سے آخر میں پیارے رسول محمد ــ صلی اللہ علیہ وسلم ــ کو انسان کو شرک و بت پرستی کے بھنور سے وحدانیت و توحید کے دعوت و تبلیغ کے لیے خاتم النبیین و المرسلین بنا کر مبعوث فرمایا۔ آقاء مدنی ــ صلی اللہ علیہ وسلم ــ کے بعد یہ سلسلہ ختم کردیا گیا اور اس دعوت و تبلیغ کی ذمے داری اس ‘‘امّت محمدیہ ’’کے کندھے پر ڈال دی گئی؛ یہی وجہہ ہے کہ اس امّت کو ‘‘خیر ِامّت ’’ کے لقب سے نوازا گیا۔

انبیاء علیہم السّلام اور دعوت و تبلیغ:
اللہ تعالی نے حضرات انسان کو اس روئے زمین پر پیدا کرکےیوں بے کار نہیں چھوڑا؛ بل کہ ان کی ہدایت و رہنمائی  کے لیے وقفے وقفے سے ہر زمانہ میں، ہر جگہ اور خطہء ارضی پر انبیاء و رسل ـ علیہم السلام ـ کو صحف و کتب کے ساتھ مبعوث فرماتا رہا۔ قرآن کریم کہتا ہے: ‘‘لِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٌ۔’’ (سورہ رعد، آیت: ۷) ترجمہ: ‘‘ہر قوم کے لیے ہادی ہے۔’’اور دوسری جگہ ارشادِ خداوندی ہے:‘‘و لِکُلِّ أُمَّۃٍ رَسُوْلٌ۔’’ (سورہ یونس، آیت:۴۷) ترجمۃ: ‘‘ہر امت کے لیے رسول ہے۔’’ چنانچہ انبیاء و رسل ـ علیہم السلام ـ نے اپنی اپنی قوم میں، اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی، اللہ کے احکام ، ان تک پہونچایا، ان کو برائیوں سے روکا اور اچھے کاموں کے کرنے کا حکم دیا۔

اللہ  تعالی نے سب سے اخیر میں جناب محمّد عربی ــ صلی اللہ علیہ وسلم ــ کو آخری نبی و رسول بنا کر بھیجا اور ان کی ہی ذاتِ اقدس پر نبوت و رسالت کا یہ مبارک سلسلہ ختم ہو گیا۔ انؐ کے بعد اب تک نہ کوئی نبی و رسول آیا ہے اور نہ آئے گا۔ ارشاد ربانی ہے: ‘‘مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ۔’’ (سورۃ احزاب، آیت: ۴۰) ترجمہ: ‘‘محمد  تم میں سے کسی کے باپ نہیں؛ لیکن وہ اللہ کے بندے اور خاتم النبیین ہیں۔’’ جناب نبی کریم ــ صلی اللہ علیہ وسلم ــ کو اللہ تعالی نے کسی ایک قوم یا ملک کا نبی و رسول بنا کر نہیں بھیجا؛ بل کہ ساری دنیا میں اللہ کے دین کی دعوت و تبلیغ اور اسلام کی پیغام رسانی کے لیے بھیجا۔ قرآن کریم نے صاف لفظوں میں اس حقیقت کا یوں اعلان کیا ہے: ‘‘قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ’’(سورۃ اعراف: ۵۸) ‘‘کہہ دیجئے! اے انسانو! میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔’’ رسول اللہ ــ صلی اللہ علیہ وسلم ــ نے اپنے منصب نبوت اور عہدہ رسالت کو بخوبی نبھایا، اللہ کے بندے کو اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی اور ایک بہت بڑی تعداد کے قلوب کو شمع ایمان سے منور کرکے، گوشہ اسلام میں داخل کردیا۔ آپ ــ صلی اللہ علیہ وسلم ــ کی وفات کے بعد صحابہ کرام ــرضی اللہ عنہمــ نے دعوت و تبلیغ کے ذریعے اسلام کو دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلایا۔

امت محمدیہ اور دعوتی مشن:
یہ امت محمدیہ اس خدائی ارض پر کسی سبزہ خود رو کی طرح نہیں ہےاور نہ یونہی پیدا کی گئی ہے؛ بل کہ اللہ سبحانہ و تعالی کو، اس دین کو قیامت تک باقی رکھنا تھا اور انبیاء و رسل ـ علیہم السلام ـ کا سلسلہ بھی آپ کی مبارک ذات پر ختم کردیا؛ اس لیے اللہ نے اپنے خلیفہ کی حیثیت سے دنیا کی قیادت و سیادت، قوم و ملت کی رہنمائی و نگرانی اور امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے فريضہ کو انجام دینے کے لیے اس امت کو پیدا فرمایا۔ اسی کام و عمل اور فريضہ کی وجہ سے اللہ نے قرآن کریم میں اس کو خیر الامم کے معزز لقب سے خطاب فرمایا، ارشاد خداوندی ہے: ‘‘کُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ۔’’ (القرآن: سورۃ آل عمران: ۳، آیۃ: ۱۱۰)  ترجمہ: ‘‘تم ہو بہتر سب امتوں سے جو بھیجی گئی عالم میں، حکم کرتے ہو اچھے کاموں کا اور منع کرتے ہو بُرے کاموں سے اور ایمان لاتے ہو اللہ پر۔’’

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں علامہ شبیر احمد عثمانی دیوبندی ثمّ پاکستانیؒ رقم طراز ہیں: ‘‘اے مسلمانو! خدا تعالی نے تم کو تمام امتوں میں بہترین امت قرار دیا ہے۔ اس کے علم ازلی میں پہلے سے یہ بات مقدر ہو چکا تھا، جس کی خبر بعض انبیائے سابقین کو بھی دیدی گئی تھی کہ جس طرح نبی آخر الزماں ــ صلی اللہ علیہ وسلم ــ سب نبیوں سے افضل ہوں گے، آپ کی امت بھی جملہ امت و اقوام پر سبقت لے جائے گی؛ کیوں کہ اس کو سب سے اشرف و اکرم پیغمبر نصیب ہوگا۔ ادوم و اکمل شریعت ملےگی۔ علوم و معارف کے دروازے ان پر کھول دیے جائیں گے۔ ایمان و عمل اور تقوی کی تمام شاخیں اس کی محنت اور قربانیوں سے سر سبز شاداب ہوںگی۔ وہ کسی خاص قوم و نسب یا مخصوص ملک و اقلیم میں محصور نہ ہوگی، بل کہ اس کا دائرہ عمل سارے عالم کو اور انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہوگا۔ گویا اس کا وجود ہی اس لیے ہوگا کہ دوسروں کی خیر خواہی کرے اور جہاں تک ممکن ہو انہیں جنت کے دروازوں پر لا گھڑا کرے۔ منکر (برے کاموں) میں کفر، شرک، بدعات، رسوم قبیحہ، فسق و فجور اور ہر قسم کی بد اخلاقی اور نا معقول باتیں شامل ہیں۔ ان سے روکنا بھی کئی طرح سے ہوگا۔ کبھی زبان سے، کبھی ہاتھ سے، کبھی قلم سے، کبھی تلوار سے، غرض ہر قسم کا جہاد اس میں داخل ہوگیا۔ یہ صفت جس قدر عموم و اہتمام سے امت محمدیہ میں پائی جاتی ہے، پہلی امتوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔’’ (تفسیر عثمانی)

آج جب سوسائٹی اور معاشرہ کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو یہی نتیجہ نکلے گا کہ اولاد آدم کا ہر قدم غلط اور ہر لفظ غیر مناسب ہے، ہر طرح کی برائیوں میں ملوث ہے، شرک و کفرکی دلدل میں پھنسی ہے، بدعات و خرافات ، ان کی زندگی کا محبوب مشغلہ ہے، رسم  و رواج کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے اور رشوت خوری، فریب دہی، جعل سازی اور خیانت  جیسے جرائم کے ارتکاب پر آمادہ ہے اور سب سے افسوس کی بات یہ کہ کار نبوت کی حامل خیر الامم جسے گم گشتہ راہ لوگوں کو صراط مستقیم پٹری پر لانے کے لیے ذمے داری تفویض کی گئی تھی اور مسیحا کی حیثیت سے بھیجا گیا تھا، وہ خود ہی بیمار ہو چکی ہے؛ اس لیے اس بیمار حال امت کے لیے ضروری ہے کہ اپنے مرض سے شفایاب ہو کر، فرمان خداوندی کی اہمیت ، خصوصیت اور فضیلت کو سمجھے اور صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم )، تابعین عظام، ائمہ مجتہدین، اور سلف و صالحین کی طرح خلق ِخدا کو بندوں کی بندگی کےبجائےاللہ کی غلامی و پیروی کا درس دے، مختلف باطل مذاہب و ادیان میں بھٹکنے کے بجائے دین اسلام (جو عین دین فطرت ہے) کا سبق سکھائے اور دنیا کی تنگ کوٹھری کے حرص و لالچ کے بجائے جنت کے محلات اور حور و قصور کی ترغیب دے؛ تب یہ خیر امت اپنے مشن کو رو بہ عمل لانے والی ہوگی اور یہی اس سے مطلوب و مقصود ہے۔

علمائے کرام کی دوہری ذمے داری:
          حضور پاک   ــ صلی اللہ علیہ وسلم ــ نے فرمایا: ‘‘إِنَّ العُلماءَ وَرَثۃُ الأنبیاءِ، و إِنَّ الأنبیاءَ لم یُوَرِّثُوا دِینارًا و لا دِرھمًا؛ و إنَّما ورّثوا العلمَ؛ فمن أَخَذَ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافرٍ۔’’ (مشکاۃ، ج: ۱، ص: ۳۴) ترجمہ: ‘‘یقینا علماء انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء دینار و درہم کا وارث نہیں بناتے؛ بل کہ وہ علم ہی کا وارث بناتے ہیں؛ لہذا جس شخص نے اسے حاصل کرلیا، اس نے ایک بڑا حصہ حاصل کرلیا۔’’ اس حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ علماء انبیاء ــعلیہم السلام ــکے علمی وارث ہیں؛ لہذا دینِ اسلام کی نشرو اشاعت، افرادِ امت کو اچھے کاموں کی رہنمائی اور برے کاموں سے روکنا اور اللہ سبحانہ و تعالے کے احکام کی اطاعت اور اس پر عمل پیرا ہونے کی تبلیغ کرنا: یہ تمام چیزیں علماء کرام کی ذمّےداریوں میں شامل ہیں۔ اس حقیقت کو واضح کردینا ضروری ہے کہ علماء کرام کی یہ دوہری ذمّے داری ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں تا قیام قیامت‘‘امت محمدیہ’’ کو اسلام و ایمان سے روشناس کرائیں اور جو لوگ پیغام اسلام کے حوالے تشنہ لب ہیں ، ان کی تشنگی بجھائیں۔ اگر کوئی دولت ایمان سے مالا مال ہے  اور فرائض و واجبات ، اعمال صالحہ، تقوی و پرہیزگاری میں کوتاہی کرتا ہی تو اسے اس طرف بھی توجہ دلائی جائے۔

دعوت و ارشاد کے طریقے:
          کار ِ دعوتِ دین جس قدر اہم اور ضروری ہی اسی طرح حکمت و دانائی، دستور العمل اور طور و طریقے کا متقاضی بھی ہے؛ چنان چہ اللہ تعالی نے اپنے انبیاء و رسل  ــعلیہم الصلاۃ و السلام ــ کو مختلف مواقع سے اس کے اصول و ضو ابط سکھلائے، جسے آج امت کے دعاۃ و مبلغین کے لیے بھی اپنانا ضروری ہے۔  اللہ تعالی نے اپنے پیارے رسول محمد ــ صلی اللہ علیہ وسلم ــ کو دعوت و تبلیغ کا طریقہ سکھلاتے ہوئے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: ‘‘ادْعُ إِلِى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ’’ (سورہ  نحل، آیت: ۱۲۵) ترجمہ: ‘‘بلا اپنے رب کی راہ پر پکی باتیں سمجھا کر اور نصیحت سنا کر بھلی طرح اور الزام دے ان کو جس طرح بہتر ہو۔’’ حضرت مفتی شفیع صاحبؒ آیت کریمہ مذکورہ کی تفسیر میں رقم طراز ہیں: ‘‘آیت مذکورہ میں دعوت کے لیے تین چیزوں کا ذکر ہے: اول: حکمت، دوسرے: موعظت اور تیسرے: مجادلہ بالتی ھی احسن۔ بعض حضرات مفسرین نے فرمایاکہ یہ تین چیزیں مخاطبین کی تین قسموں کی بناء پر ہیں۔ دعوت بالحکمہ، اہل علم و فہم کے لیے، دعوت بالموعظہ، عوام کے لیے، مجادلہ ان لوگوں کے لیے جن کے دلوں میں شکوک و شبہات ہوں، یا جو عناد اور ہٹ دھرمی کے سبب با ت ماننے سے منکر ہوں۔’’ مفتی صاحبؒ مزید رقم طراز ہیں: ‘‘دعوت الی اللہ در اصل انبیاء علیہم السلام کا منصب ہے، امت کے علماء اس منصب کو ان کے نائب ہونے کی حیثیت سے استعمال کرتے کرتے ہیں۔ تو لازم ہے کہ اس کے آداب  اور طریقے بھی انہیں سے سیکھیں، جو دعوت ان طریقوں پر نہ رہے، وہ دعوت کے بجائے عداوت اور جنگ و جدال کا موجب بن جاتی ہے۔(معارف القرآن، ج: ۵، ص: ۱۰ـ۴۰۹)

اللہ تعالی نے اپنے محبوب ترین بندے اور جلیل القدر نبی، حضرت موسی  ــعلیہ السلام ــ کو جب فرعون کو دعوت دینے کے لیے بھیجا تو ان کو یہ حکم فرمایا: فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى’’ (سورہ طٰہ، آیت : ۴۴) ترجمہ:‘‘سو کہو اس سے بات نرم شاید وہ سوچے یا ڈرے۔’’ اس آیت کریمہ میں  فرعون جیسے ظالم و جابر اور جفا کار کے پاس بھی دعوت کے وقت نرم گفتاری، رقت انگیزی، سلیقہ مندی اور خوش آہنگی کا درس دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعوت مخاطب کے اعتبار سے دی جائے گی اور انبیاء ــعلیہم السلام ــکے طریقے کو پیش نظر رکھ کر دعوت دی جائے گی، اگر اس راستے سے ذرہ برابر بھی بے توجہی کی گئی، تو داعی ناکام و نا مراد اور بے نیل و مرام رہے گا اور اس کی دعوت بے کار اور رائیگاں ہوگی۔

ترک دعوت تباہی کا پیش خیمہ:
          آج یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ اکثر مسلمان نان شبینہ کے محتاج ہیں، قتل و غارت گری کے شکار ہیں، ان پر ظالم و جابر حکمراں مسلط ہیں، ان کے ملکوں پر غاصبانہ قبضہ ہو رہا ہے، اپنے وطن میں رہتے ہوئےغیروں سے خائف ہیں، عزیز کو ذلیل کیا جا رہا ہے، مقدس مقامات: مساجدو خانقاہ کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے اور مدارس و مکاتب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ سب تباہی و بربادی کا سلسلہ لگا ہوا ہے اور مسلمان دفاعی قوت سے بھی محروم ہے، چہ جائے کہ اپنے دشمن کو مغلوب کرسکے۔ اس کی بنیادی وجہہ اور مرکزی سبب یہ ہے کہ مسلمانان عالم نے دعوت و تبلغ جیسی اہم ذمے داری کو ترک کردیا ہے۔ مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ ترک دعوت کے حوالے سےتحریر فرماتے ہیں:‘‘امت محمدیہ جب اس کام کو چھوڑ دےگی تو سخت مصائب و آلام اور ذلت و خواری میں مبتلا کردی جائےگی اور ہر قسم کی غیبی نصرت و مدد سے محروم ہوجائیں گی، اور یہ سب کچھ اس لیے ہوگا کہ اس نے اپنے فرض منصبی کو نہیں پہچانا اور اس کی قدر نہ کی اور جس کام کے انجام دہی کی ذمہ داری تھی اس سے غافل رہی اور اس کو بھلائے رکھنے سے سستی و کاہلی عام ہوجائےگی، گمراہی و ضلالت کی شاہراہیں کھل جائےگی، آپس میں پھوٹ پڑجائےگی، آبادیاں ویران ہوجائیں گی۔ مخلوق تباہ و برباد ہوجائےگی۔ اور یہ سب کچھ ہورہا ہے لیکن اس تباہی و بربادی کی خبر اس وقت ہوگی، جب میدان حشر میں خدا کے سامنے باز پرس کے لیے بلاجائےگا۔ (قرآنی افادات، ص: ۹۳)

حرف آخر:
          اس مضمون میں جو کچھ بیان کیا گیا اس سے یہ بات واضح اور عیاں ہوجاتی ہے کہ اس امت کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالی کی مدد و نصرت اور اعانت طلب کرتے ہوئے دعوت ِ دین کے کام کو مضبوطی سے پکڑ لے، اللہ کے پسندیدہ دین اسلام کی حفاظت کا فرض ادا کرے اور اس سے چشم پوشی سی اجتناب کرے، نہیں تو یہ کوئی دشوار کام نہیں کہ اللہ تعالی اپنے دین حنیف کی نشر و اشاعت اور حفاظت  و صیانت کے لیے کسی دوسرے کومنتخب کرکے ہمیں اپنے دربار سے گزشتہ امم و اقوام کی طرح مردود و مطرود کردے اور پھر ہم کہیں کے نہیں رہیں؛ کیوں کہ ہم اس ذات کے محتاج ہیں، وہ ہمارا محتاج نہیں؛ بل کہ وہ غنی اور بے نیاز ہے۔ فرمانِ خداوندی ہے: ‘‘يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى اللهِ وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ۔ إِن يَّشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ۔ وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللهِ بِعَزِيزٍ’’ (سورہ فاطر، آیت: ۱۵، ۱۶، ۱۷) ترجمہ: ‘‘اے لوگو تم ہو محتاج اللہ کی طرف اور اللہ وہی ہے بے پروا سب تعریفوں سے، اگر چاہے تم کو لے جائے اور لے آئے ایک نئی خلقت اور یہ بات اللہ پر مشکل نہیں۔’’


(مضمون نگار ،مولانا خورشید عالم داؤد قاسمی، دارالعلوم، دیوبند کے فاضل اور مون ریز ٹرسٹ اسکول ، زامبیا کے استاذ ہیں۔ ان سے   qasmikhursheed@yahoo.co.in  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)

Talaaq and Khulaa (Divorce)


By: Khursheed Alam Dawood Qasmi



Talaaq is an Arabic word. Linguistically it means “Divorce”. So, wherever, I will mention here the wordTalaaq that will mean the same one. As far as the word Khulaa is concerned, I’ll define it at the end of the topic, In-Shaa-Allah.


As Nikaah (Wedlock/It’s a contract deliberately aimed at owing the right to enjoyment. Ownership of enjoyment refers to a man’s right with a woman to sex, touching and kissing) is the first step of married life, the Talaaq is the last stage of marital life. Following the divorce, there is no any kind of marital relation between the very wife and the very husband. According to a narration of the prophet Muhammad (Sallallahu Aleihi Wa Sallam), the most despised permitted action in the sight of the Exalted Allah is the divorce. The Hadeeth is:

عن محارب قال، قال رسول الله ــ صلى الله عليه وسلم ــ ‘‘ما أحل الله شيئا أبغض إليه من الطلاق’’۔ (سنن أبي داؤد)

Translation: It is narrated on the authority of Muhaarib that he said, the Messenger of Allah said: “Allah didn’t make anything Halaal (permitted) that is more despised in His sight than divorce.” (Abu Dawood)

It is natural that when two people live together, there will be differences of views and opinions and sometimes it will take place in the shape of conflict. What about the husband and wife who stay always together? There also maybe conflict, difference, disparity, fighting, quarrel, discord and dispute of views and opinions on certain topics. If such things take place between wife and husband, in this case, it is the best that they should reconcile on the issue among them. If they aren’t able to do that, they should meet any elderly person of the family to solve the issue. If the elderly person is also unable to solve the matter, they must meet any elder one of the community. If he can’t solve it, they should meet anyone else who is more powerful than them to solve the matter. By this way, the conflict between the wife and husband should be solved.
But, if they, despite making all efforts, can’t reconcile and they feel that by remaining together, the laws and limits of Allah, the Almighty will be transgressed, then he or she should take step for divorce or Khulla.

It must be noted here that the Talaaq and Khulaa must be on the base of a religious affair. If one of the couple is sure, I’m repeating the point, that by remaining together the laws and limits of Allah, the Almighty will be transgressed, then he or she should take the step towards Talaaq or Khulaa.

Let me cite some examples of the transgressing the laws and limits of the Almighty Allah. If one of the couple is habitual of Zinaa (adultery) and the second one is forbidding him/her from this habit, but the one is not ready to do so. Or, if one of the couple is in the habit of drinking the alcohol, beer and wine, and the second one is forbidding him/her from this bad habit, but the one is not ready to do so. These are the examples of the transgressing the law and limit of the Almighty Allah. So, in this case, the one is allowed to take step for Talaaq and Khulaa. Similarly, there are many other examples, people can know and understand easily that where one is transgressing the law and limit of the Exalted Allah.

Following this preface and introduction of the topic, let’s recite a verse of the glorious Quran with translation and commentary that is related to Two Rajee divorces.

Allah, the Exalted said in the glorious Quraan:

 الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُواْ مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلاَّ أَن يَخَافَا أَلاَّ يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللّهِ فَلاَ تَعْتَدُوهَا وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللّهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ۔ (سورۃ البقرۃ:۲۲۹)
 Translation: Divorce is twice; then either to retain in all fairness, or to release nicely. It is not lawful for you to take back anything from what you have given them, unless both apprehend that they would not be able to maintain the limits set by Allah. Now, if you apprehend that they would not maintain the limits set by Allah, then, there is no sin on them in what she gives up to secure her release. These are the limits set by Allah. Therefore, do not exceed them. Whosoever exceeds the limits set by Allah, then, those are the transgressors. (Al-Baqarah: 02, Verse: 229)

 Commentary: “The best way to divorce a woman, if the need to do so is pressing, is to pronounce one unambiguous divorce during a period of Tuhur (it means when a woman is not menstruating), in which no sexual contact was made. This will be considered a Rajee divorce if the marriage was consummated (otherwise, it will be Baain). This will, however, become Baain once the Iddat (Period of three menstrual courses or three months) has expired. A Baain divorce would mean that he will lose the right to take her back into his wedlock without her consent. The same will apply if he pronounced another clear divorce before the expiry of this Iddah.
 If he issues a third divorce, it will now be termed Muhgallaza, meaning that he cannot ever wed her again unless she is married to another person and consummates the marriage, whereafter, he dies or divorces her, and she completes her Iddah. If this subsequent marriage is not consummate, she can still not be married to the previous husband, as is clearly stated in the Ahaadeeth. It is Makrooh Tahreemi (close to Haraam) for an agreement to be reached between the couple to marry, consummated the marriage and then be divorced. Messenger of Allah, Muhammad (Sallahu Aleihi Wa Sallam) has cursed such people. The Hadeeth is:

 عن بن عباس قال ‘‘لعن رسول الله ــ صلى الله عليه وسلم ــ المحلل والمحلل له۔’’ (سنن ابن ماجۃ)

 Following the above paragraphs in the light of the glorious Quraan, now I would like to explain theTalaaq in the light of the Fiqh (Islamic Jurisprudence) in the following paragraphs.

 If one wants to divorce, he must follow the religious method in this regard as well. There are two best methods of giving Talaaq:

1.      The first one is called “Ahsanut Talaaq”.

2.      The second one is called “Talaaqus Sunnah”.

 Definition of Ahsanut Talaaq:
Linguistically it means best method of Talaaq. In term, it means to divorce the wife once whilst she is in a state of purity in which the husband didn’t have sex with her. He then doesn’t have sex with her until herIddah finishes.

 Method of Ahsanut Talaaq:
When husband needs to divorce his wife, he should say: “I divorce you or I give you Talaaq”, during the period of Tuhur (when a woman is not in the case of mensturing) and in that Tuhur no sexual contact was made. Then the husband should not meet her, until three menstrual courses or its periods have passed. Then relation won’t remain longer between them and the marriage has broken at that point of time.

 Definition of Talaaqus Sunnah:
Linguistically it is the method of Talaaq that the prophet Muhammad (Sallallahu Aleihi Wa Sallam) taught his companions. In the religious term, it means to divorce thrice the wife whom he had sex with. The three pronouncements will be in three purity periods without sex.

 Method of Talaaqus Sunnah:
In this method, husband should say once: “I divorce you or I give you Talaaq”, during the period of Tuhurand in that Tuhur no sexual contact was made. It will be the first divorce. Then after the passing the next menstrual course or one month, he should repeat the same sentence in the period of Tuhur in which the sexual contact was not made. It will be regarded the second divorce. Then once again the husband should repeat the same sentence following passing the second menstrual period or the second month in the period of Tuhur in which the sexual contact was not made. This one will be the third Talaaq. Then relation won’t remain longer between them and the marriage has broken at that point of time.

Except these two methods, if a person divorces in any method, the Talaaq will take place, but the other methods are the worst one. So, when one needs to divorce, he should follow the one of the two above mentioned methods. My Allah protect our family and community members from this cursed action!

 Khulaa:
The word Khulaa is an Arabic word. Literally it means the paying of wife to the husband for her divorce. In Shariah it means “The ransoming of wife with money to free herself from her husband. If she says: “I cast you off (Khulaa) for such-and-such amount” and he accepts, a Baain divorce takes place and she is liable to pay the mentioned amount.” This is called Khulaa.

Although the right of divorce rests with the man, a woman has not been deprived of securing a divorce should the situation warrant it. This may be achieved through the agency of Khulaa, whereby she offers to pay the husband a stipulated sum in exchange of a divorce. If he agrees, payment will be due from her and aBaain Talaaq will come into effect. It doesn’t mean that she is able to divorce herself from him, nor can she do so in a court without a reason that the Shariah regards as a valid reason. In certain extreme circumstances, it is possible that a Muslim judge or ruler revoke a marriage upon the woman’s plea.

Some Necessary Terms:
In this article, I used some Arabic terms related to the topic. At the end of the article, I feel necessary to mention the definitions of those Arabic terms separately, so that it will easy for readers to understand.

Tuhur: It is an Arabic word that means purity. In Shariah, when a woman is not in the state of menstruating that period is called Tuhur.

Talaaq Rajee: It’s also an Arabic word. Linguistically it means revocable. If a husband gives only oneTalaaq and with the period of 4o days, he reconciles the matter and wants to take her back, he can take her back without any process. In this case only husband needs to say: “I take my wife back.”

Talaaq Baain: It’s an Arabic word too. It means irrevocable. The method mentioned above as Ahsanut Talaaq and Talaaqus Sunnah, in these cases, the Talaaq that takes place is called “Talaaq Baain”. This means that the husband has lost the right to take her back in his wedlock without her consent. Following wife’s consent, the new Nikaah is needed as well.

Talaaq Mughallazah: It means final divorce. If the husband issues Three Talaaqs at a time, it will now be termed as Mughallazah. It means that he cannot ever wed her again unless she is married to someone and consummated the marriage, whereafter, he dies or divorces her, and she completes her Iddah. Now the first husband can marry with her with her consent.

Iddah: It is an Arabic word that means period. In Shariah, if a man divorces his wife then she is not allowed to marry another man until she has spent three complete menstruations or three month (if she is small age or old age and there is not expectation of menstruations.) or until she gives birth (if she is pregnant) remaining in a house, where the Gheir Mahram (strange-man) can’t see her, this period is calledIddah.

Conclusion:

Our beloved prophet Muhammad (saws) says: “The most despised allowed and permitted action in the sight of Allah is divorce”, as I mentioned the Hadeeth in the beginning of the article. We must try to avoid from this evil action. It doesn’t affect only the life of the couple, but in the most cases, it destroys and ruins the life of the children. The whole family members have to spend the nights sleeplessly. Let’s make Duaa: May the Almighty Allah protect our family and community and us from this cursed action. Here I conclude my talk.


(The author is a graduate of Darul Uloom, Deoband, India and at present teacher of Moon Rays Trust School, Zambia, S. Africa. He can be reached at qasmikhursheed@yahoo.co.in)