بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ * اس بلاگ پر آپ کا استقبال ہے۔ اس بلاگ پر شائع شدہ مضامین میں پیش کی گئی آراء ذاتی ہیں۔ اگر کسی کو ان سے تکلیف پہنچتی ہے، تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔ شکریہ! جزاکم اللہ خیرا! ایڈیٹر: خورشید عالم داؤد قاسمی ________ Welcome to visit this blog. The views expressed in the published articles at the blog are personal. If someone gets hurt, I am sorry for that. Thanks! Jazaakumullah! Editor: Khursheed Alam Dawood Qasmi
Saturday, November 30, 2019
موت اس کی کرےجس کا زمانہ افسوس
موت اس کی کرےجس کا زمانہ افسوس
خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم صاحب قاسمیؒ کے کمالات واوصاف
بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی٭
Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in
دار العلوم، دیوبند کے بانی امام محمد قاسم نانوتویؒ (1832-1880) کے پڑپوتے، ریاست دکن (حیدرآباد) کی عدالتِ عالیہ کے قاضی اور
مفتی اعظم مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ (1862-1928) کے پوتے اور بیسویں
صدی میں برّ صغیر کےعالم فرید اور ملت اسلامیہ کی آبرو حکیم الاسلام قاری محمد طیب
صاحب قاسمیؒ (1897-1983)کے صاحب زادے خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم صاحب
قاسمیؒ (1926-2018) اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔ حضرت خطیب الاسلام کے آباؤ
اجداد نے وہ خدمات اور قربانیاں پیش کیں ہیں کہ
بر صغیر کا ہر مسلمان، ان حضرات کا شکرگزار ہے اور ان کو لائق صد تعظیم
وتکریم سمجھتا ہے۔ ان عظیم نسبتوں اور خاندانی خدمات کے علاوہ، خود خطیب
الاسلام کی ذات میں اللہ تعالی نے بہت سے کمالات واوصاف ودیعت کر
رکھے تھے۔آپ میں صلاحیت وصالحیت ،خشیت
وللہیت ، تقوی وپرہیز گاری ، صبر وتحمل، علم وفضل اور فہمِ فکر وفلسفۂ قاسمی بدرجہ اتم موجود تھی۔ بلا شبہ آپ
"فکرِ دیوبند" کے
ترجمان تھے۔ آج آپ کے رخصت ہوجانے پر، ہر
کوئی اظہارِ افسوس کررہا ہے۔
موت اس کی کرےجس کا زمانہ
افسوس - یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے
آپ کی خصوصیات وامتیازات اور اوصاف وکمالات کی وجہہ سے لوگ
آپ سے دل وجان سے محبت کرتے تھے؛ بل کہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اللہ نے آپ کی قبولیت ومحبت لوگوں کے دلوں میں اس طرح
ڈالدی تھی کہ سب آپ کے دیوانے تھے اور جب بھی آپ کا نام آتا؛ تو زبانیں ذکر خیر
اور تعریف وتوصیف میں مشغول ہوجاتیں۔ جناب نبی
صادق ومصدوق –صلی اللہ علیہ وسلم–
کا فرمان ہے: "إِذَا أَحَبَّ اللهُ العَبْدَ نَادَى
جِبْرِيلَ: إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحْبِبْهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ،
فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ: إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلاَنًا
فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ القَبُولُ فِي
الأَرْضِ" (صحیح البخاري عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ: 3209)
ترجمہ: جب اللہ تعالی کسی بندے سے محبت
کرتے ہیں؛ تو اللہ تعالی جبریل –علیہ
السلام– کو بلاتے ہیں (اور کہتے ہیں): اللہ تعالی فلاں سے محبت کرتے ہیں؛ لہذا آپ
بھی اس سے محبت کریں! چناں چہ جبریل –علیہ السلام– اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔پھر
جبریل –علیہ السلام– آسمان والوں کے درمیان اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالی فلاں سے
محبت کرتے ہیں؛ لہذا آپ بھی اس سے محبت کریں! چناں چہ آسمان والے بھی ان سے محبت
کرنے لگتے ہیں۔ پھر زمین میں اس کے لیے
قبولیت ڈالی جاتی ہے (روئے زمین والے بھی اس سے محبت
کرتے ہیں۔)۔
"علم" ایک بڑی قابل فضیلت چیز ہے۔ اس کی واضح اور
بین دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی شانہ نے قرآن کریم میں، "اہل ایمان" اور
"اہل علم" کے درجات بلند کرنے کا ذکر کیا ہے۔ فرمان باری تعالی ہے: ﴿يَرْفَعِ
اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا العِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللهُ
بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴾. (مجادلہ: 11) ترجمہ: "اللہ تعالی تم میں سے ایمان والوں کے
اور ان کے جنھیں "علم" عطا ہوا ہےدرجے بلند کرے گااور اللہ کو تمھارے
اعمال کی پوری خبر ہے"۔ اللہ تعالی نےخطیب الاسلام کو
علوم نبوّت کے وافر حصے سے نواز کر، بلند مقام ومرتبہ عطا فرما رکھا تھا،
جس کا مشاہدہ لوگوں نے اپنی کھلی آنکھوں کیا۔ اب آپ اس دنیا میں نہیں رہے، امید ہے
کہ آخرت میں بھی دونوں جہان کے خالق ومالک آپ
کو عظیم مراتب سے سرفراز فرماکر،
جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائیں گے۔
ما الفضلُ إِلا لأَهْلِ العِلمِ إِنّهُم ٭ عَلَی الهُدی لِمنِ اسْتَهْدی أَدِلّاءُ
ترجمہ: فضیلت تو اہل علم ہی
کے لیے؛ کیوں کہ وہ ہدایت پر ہیں (اور) ان کی رہنمائی کرتے جوہدایت کے طلب گار ہیں۔
مختلف حدیثوں میں "رفع علم" (علم کے اٹھنے) کو
علامات قیامت میں شمار کرایا گیا ہے۔ نبی اکرم –صلی اللہ علیہ وسلم– کے خادم خاص –رضی
اللہ عنہ– نقل کرتے ہیں کہ آپ –صلی اللہ علیہ وسلم– نے فرمایا: "إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ
السَّاعَةِ: أَنْ يُرْفَعَ العِلْمُ وَيَثْبُتَ الجَهْلُ، وَيُشْرَبَ الخَمْرُ،
وَيَظْهَرَ الزِّنَا" (صحیح البخاري عن أنس رضی
اللہ عنہ: 80)
ترجمہ: "قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھا لیاجائے گا اور جہالت جم
جائے گی، شراب پی جائے گی اور زنا عام ہوجائے گا"۔
اگرحضرت خطیب الاسلامؒ کی زندگی پر غور کریں؛تو اندازہ ہوگا کہ ان کا سینہ در
حقیقت علوم ومعارف کا گنجینہ تھا۔ آپ عصر حاضر میں ان چند گنے چنے
اہل علم میں سے تھے کہ بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان جیسے اہل علم وفضل کا
ہمارے درمیان رہنا رحمت کا باعث تھا اور ان جیسے کا ہمارے درمیان سے اٹھ جانا ،قربِ قیامت کی علامات میں
سے ہے جسے حدیث میں "رفع علم" اور "قبض العلم" سے تعبیر کیا
گیا ہے۔ حضرت خطیب الاسلامؒ کو اللہ
تعالی نے علم جیسی عظیم نعمت سے نوازا تھا۔ پھر اللہ تعالی نے ان کو علم سے نوازنے
کے ساتھ ساتھ ان علوم کی نشر واشاعت کی بھی بھرپور صلاحیت سے نوازا تھا؛ چناں چہ
آپ نے ان علوم سے امت محمدیّہ کے نونہالان کوخوب مستفید کیا۔ آپ نے ان علوم کی نشر
واشاعت کے لیے درس وتدریس، دعوت وتبلیغ، تقریر وخطابت، وعظ ونصیحت اور تحریر
وتصنیف کے راستے اختیار کیے۔
فراغت کے معًا بعد، ایشیاء کی عظیم اِسلامی درس گاہ: دار العلوم، دیوبند
میں، سن 1948 عیسوی میں مدرّس
ومعلم کی حیثیت سے آپ کا تقرر عمل میں آیا۔ آپ کو پڑھنے پڑھانے سے اتنی دل چسپی
تھی کہ جن حضرات نے آپ سے پڑھا اور استفادہ کیا ہے، ان کا بیان ہے کہ جوں ہی گھنٹہ
بجتا، آپ درس گاہ میں پہنچ جاتے۔ دورانِ درس اِدھر اُدھر کی باتوں سے کلی طور پر اجتناب کرتے۔ آپ کی اصل توجہہ
درس اور افہام درس پر ہوتی۔ جوں ہی اگلا گھنٹہ بجتا، آپ درس گاہ سے نکل جاتے۔ آپ
ٹھوس صلاحیت کے مالک، ایک قابل اور باصلاحیت مدرّس تھے۔ آپ کے درس کے دوران ایسا
لگتا تھا کہ گویا علوم ومعارف کے چشمے بہہ رہے ہیں۔ آپ کو صرف ونحو، فقہ، اصول
فقہ، تفسیر، اصول تفسیر، حدیث، اصول حدیث ، بلاغت اور عقائد وکلام جیسے فنون کی
تدریس کی ذمے داری سپرد کی گئی جسے آپ نے بحسن وخوبی انجام دیا۔ ایک مدت تک حدیث کی مشہور کتابیں: مشکاۃ المصابیح،
سنن ابی داؤد اورصحیح بخاری وغیرہ کا درس بھی دیا۔ اخیر میں ملی واجتماعی مصروفیات
کی وجہہ سے صرف صحیح بخاری کے کچھ اجزاء کی تدریس آپ سے متعلق تھی۔
تصنیف وتالیف کے حوالے آپ کے گہربار قلم سے چند قیمتی
کتابیں وجود میں آئیں۔ وہ کتابیں:
"قرآن کریم کے اردو تراجم کا جائزہ"،"رسالۃ
المصطفی"،"تاجدار ارض حرم کا پیغام"،"مرد غازی"،"مجاہدین
آزادی"،"ایک عظیم تاریخی کارنامہ"،"سفرنامہ برما" اور
"مبادئ التربیۃ الاسلامیۃ (عربی) وغیرہ
ہیں۔ اس کے علاوہ، مختلف مواقع سے لکھے گئے مضامین ومقالات بھی ہیں جو
مختلف جرائد ورسائل میں شائع ہوئے۔
عصری درس گاہوں کے اکثر طلبہ علومِ اسلامیّہ سے نابلد ہوتے
ہیں۔ اس کی وجہہ یہ ہے کہ اکثر عصری ادارے میں، علومِ اسلامیّہ کی تدریس شاملِ نصاب نہیں ہے۔ چناں
چہ عصری درس گاہوں کے طلبہ کو علومِ اسلامیّہ سے روشناس کرانے کی فکر میں، حضرت نے سن 1966 عیسوی میں ایک مراسلاتی طریقہ تعلیم کا ادارہ بہ نام:
"جامعہ دینیات" قائم کیا۔ عصری اداروں سے وابستہ سیکڑوں طلبہ نے اس
ادارہ سے وابستہ ہوکر، اسلامی علوم سے واقفیت حاصل کی۔ یہ ادارہ تاہنوز اپنی خدمات
پیش کررہا ہے اور طلبہ استفادہ کررہے ہیں۔
علوم دینیہ کی نشرواشاعت کے حوالے سے "جامعہ
دینیات" کے پیلٹ فارم سے خطیب الاسلام کی خدمت قابل ستائش ہے۔ اسی طرح آپ کے علوم ومعارف سے دونوں دارلعلوموں میں ہزاروں طلبہ اور علماء نے
استفادہ کیا اور نفع اٹھایا۔ آپ کی تحریری خدمات میں آپ کے قلم سے نکلی ہوئی
کتابیں ہیں۔ آپ کی یہ عظیم خدمات یقینا آپ کےلیے صدقہ جاریہ ہوں گی اور آپ کو اس
کا ثواب ملتا رہے گا۔ نبی اکرم –صلی اللہ علیہ وسلم– کا فرمان ہے: "إِذَا
مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ
صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو
لَهُ". (صحیح مسلم عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ: 1631) ترجمہ: جب
آدمی مرجاتا ہے؛ تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں، سوائے تین ( اعمال کہ ان کا
ثواب منقطع نہیں ہوتا ) : (1) صدقہ جاریہ
(لوگوں کے پانی پینے کے لیےپانی کا انتظام کردیا کوئی زمین وغیرہ للہ وقت
کردیا ہو)، (2) یا ایسا علم جس سے نفع
اٹھا یا جائے(دینی علوم کی تعلیم وتدریس میں مشغول ہو)اور (3) یا نیک اور صالح اولاد (چھوڑ کر وفات پایا ) جو اس کےلیے دعاء کرتی ہے۔
حضرت خطیب الاسلامؒ شروع سے ہی ایک
معتبر خطیب ومقرر کی حیثیت سے اندرون اور
بیرون ہند میں متعارف تھے۔ آپ اتنے سیدھے سادھے اور بھولے بھالے تھے کہ
جہاں سے بھی دعوتی واصلاحی پروگراموں کے لیے دعوت آتی، آپ دعوت قبول فرما لیتے۔ آپ
جہاں اور جس پروگرام میں تشریف لے جاتے، آپ کی حیثیت میر ِمجلس کی ہوتی؛ مگر اس کے
باوجود بھی دعوت دینے والوں کو شروط وقیود کے جال میں پھنسانے کو ہرگز پسند نہیں
کرتے تھے۔ اگر آپ کے پاس وقت ہوتا؛ تو خوش
دلی سے دعوت قبول فرمالیتے اوردعوت دینے والے جیسا بھی انتظام کردیں، آپ اس کے
خلاف زبانِ
شکایت نہیں کھولتے۔ آپ نے دعوتی واصلاحی
پروگرام کی مناسبت سے درجنوں ممالک اور اندرون ہند سیکڑوں
شہروں اور دیہاتوں کا سفر کیا۔ آپ شروع زمانے سے ہی منفرد اسلوب
ولہجہ کے خطیب ومقرر تھے جیسا کہ آپ کے عظیم والدحضرت حکیم الاسلام جلیل القدروفرید العصر خطیب ومقرر تھے۔ آپ
کسی بھی اصلاحی ودعوتی پروگراموں میں تشریف لے جانے سے انکار نہیں کرتے، گویا آپ
کے سامنے ہمیشہ نبی آخر الزماں –صلی اللہ
علیہ وسلم – کا فرمان ہوتا تھا کہ «بَلِّغُوا
عَنِّي وَلَوْ آيَةً» (صحیح البخاری
عن عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہ: 3461) ترجمہ: میری طرف سے پہنچاؤ، گرچہ ایک آیت ہی ہو۔
وقِیمةُ المرءِ مَا قَد كَانَ یُحسِنُهُ ٭ وَلِلرِّجَالِ عَلَى الْأَفْعَالِ أَسماءُ
ترجمہ:
انسان کی اہمیت اس کی خوبی اور بھلائی میں ہے جو اس نے کیا ہے؛ کیوں کہ مردوں کے
لیے صرف ان کے کام ہی (ان کے باصلاحیت
ہونے)ثبوت ہے۔
حضرت خطیب الاسلامؒ تواضع وخاک ساری، عاجزی وانکساری کے حوالے سےبھی
قابل تقیلد تھے۔ آپ انانیت وخودپسندی، خود غرضی وخود نمائی سے کوسوں دور تھے۔بڑے چھوٹے سب کو آپ پیار ومحبت
اور ادب واحترام سےخطاب فرماتے تھے۔ اسی کا
نتیجہ تھا اللہ تعالی نے آپ کو وہ مقام ومرتبہ دیا تھا کہ ہند وبیرون ہند سے اہل
علم وفضل علماء آپ کی زیارت اور کبھی علم حدیث کی سند واجازت کے لیے دیوبند میں
"طیّب منزل" پر تشریف لاتے۔کبھی بڑے بڑے داعیان ومبلغین آپ کے سامنے اپنی کارگزاری سنا
کر، دعا کی درخواست کرتے اور آپ کی دعا سے اپنے دامن کو بھر کرجاتے۔ بہت سی سماجی
شخصیات، سیاسی لیڈران اوراہل دولت وثروت
آپ سے شرفِ ملاقات کے لیے دیوبند تشریف لاتے اور "طیّب
منزل" پر پہنچ کر، آپ کی زیارت کا شرف حاصل کرتے اور دعا کی درخواست کرتے۔
پیارے نبی –صلی اللہ علیہ وسلم– نے ایک چھوٹے سے جملے میں کتنی بڑی حقیقت کو
رکھ دیا، آپ –صلی اللہ علیہ وسلم– کا فرمان ہے: «مَن تَواضَعَ للهِ رَفَعَهُ اللهُ». (شعب الإيمان، حدیث: 7790) ترجمہ: جس نے اللہ واسطے تواضع اختیار کی، اللہ
تعالی اس کو بلنددرجہ عطا کریں گے۔
آپ کی مجلس میں اکثر
علماء اورطالبانِ علوم بنویہ شرکت کرتے اور آپ کے زریں اقوال اورنصیحت
سے مستفید ہوتے۔ آپ کی مجلس میں شریک کسی فرد کو اجازت نہیں
تھی کہ وہ کسی کی کردار کشی اور عیب جوئی کرے۔
آپ کی مجلس غیبت وچغلی سے پاک وصاف اور منزہ ہوتی تھی، اس کا اعتراف ہر اس شخص کو ہوگا جس نے آپ کی مجلس میں شرکت کی ہے۔
اس طرح آپ خود بھی غیبت کرنے کی اخلاقی پستی سےدور رہتے اور اپنی مجلس کے شرکت
کنندگان کو بھی غیبت کی قباحت وشناعت سے محفوظ کردیتے۔ ایک حدیث ہے: "يَا
مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ، وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ، لَا
تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنِ
اتَّبَعَ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعُ اللهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ يَتَّبِعِ اللهُ
عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ."
(سنن أبی داود، حدیث: 4880) ترجمہ: اےان
لوگوں کی جماعت جن کے زبان پر تو ایمان
ہے، مگر ایمان ( ابھی) ان کے دل میں داخل نہیں ہوا! مسلمانوں کی غیبت اور عیب کے
پیچھے مت پڑو؛ کیوں کہ جو شخص ان کےعیب کے پیچھے پڑیگا ، اللہ اس کے عیب کے پیچھے
پڑیں گے، اور اللہ جس کے عیب کے پیچھے پڑیں گے، اسے اس کے گھر میں ہی رسوا کریں
گے۔
حقیقت یہ ہے کہ خطیب الاسلام عہدے اور مناصب کے جھمیلے سے دور بھاگتے تھے۔
مگرضرورت کے وقت کچھ عہدے اور مناصب کو آپ نے عزت بخشی۔ آپ ہندوستانی مسلمانوں کی
دینی واسلامی شعائراور عائلی مسائل کی محافظ تنظیم: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے کی مجلس
عاملہ کے موقر رکن اور نائب صدر محترم، مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر،ممتاز دینی
ادارہ جامعہ مظاہر علوم (وقف) کی مجلس شوری کے سرپرست، عالمی شہرت یافتہ دینی درس
گاہ: دار العلوم ندوۃ العلماء کی مجلس شوری وانتظامیہ کے رکن، اسلامک فقہ اکیڈمی،
انڈیا کے سرپرست، علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے کورٹ کے سابق رکن اور ان اداروں کے علاوہ مختلف دینی وملی ، تعلیمی
وفلاحی ادارے کےسرپرست ونگراں۔ اسی طرح آپ
دار العلوم وقف، دیوبند کے مھتمم، پھر صدر مھتمم رہے اور آج دار العلوم وقف کی
جو ترقی اور روشن خدمات ہیں، اس کا سہرا بلا واسطہ یا بالواسطہ آپ کے ہی سر جاتا
ہے۔
آپ کی تدریسی وتعلیمی، علمی ددینی اور دعوتی واصلاحی خدمات
مسلم ہے۔ آپ ایک ممتاز عالم دین تھے؛ چناں
چہ مصری حکومت نے آپ کو"نوط الامتیاز/نشان امتیاز" ایوارڈ سےنوازا۔ آپ سیکڑوں علماء وفضلاء کی موجودگی میں، ساؤتھ
افریقہ کی سرزمین پر،"امام محمد قاسم النانوتوي ایوارڈ" سے نوازے گئے۔
آپ حضرت شاہ ولی اللہ ایوارڈ سے بھی نوازے گئے۔
حضرت خطیبؒ الاسلام کی
تعلیم از ناظرہ وحفظ القرآن الکریم تا تکمیل فضیلت (دورہ حدیث شریف) دار العلوم،
دیوبندمیں ہوئی۔ آپ نے سن 1948م=1376ھ میں دار العلوم سے تکمیل فضیلت کی۔ آپ نے علوم حدیث کے
آفتاب وماہتاب محدثین سے درس حدیث اخذ کیا۔ ان میں حضرت مولانا سید فخرالحسن صاحبؒ، حضرت علامہ محمد ابراہیم بلیاوی صاحبؒ (1886-1967ء)، حضرت مولانا اعزاز علی امروہوی صاحبؒ (1882-1952ء)، (آپ کے والد ماجد) حکیم الاسلام قاری محمد طیب قاسمی
صاحبؒ (1897-1983ء) اور شیخ الاسلام
مولانا سید حسین احمد مدنی صاحبؒ (1879-1957ء) ہیں۔ آپ کو حضرت
شیخ الحدیث محمد زکریا صاحب کاندھلوی ثم مدنیؒ (1897-1982ء) اور شیخ عبد اللہ بن احمد الناخبیؒ سے بھی اجازت حدیث
حاصل تھی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آپ
حضرت تھانوی کے آخری شاگرد تھے۔ آپ نے درس
نظامی کی مشہور بنیادی کتاب: "میزان الصّرف" حکیم الامت حضرت مولانا
اشرف علی تھانویؒ (1863-1943ء) سے پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔
العِلْمُ زَيْن فَكُنْ لِلْعِلْمِ مُكْتَسِبَا ٭
وَكُنْ لَهُ طَالِبًا ما عِشْتَ مُقْتَبِسَا
ترجمہ:
علم خوبی اور حسن وجمال ہے؛ چناں چہ علم
ضرور حاصل کریں ٭ آپ طالب علم ہوجائیں، جب
تک آپ زندہ ہیں علم حاصل کرتے رہیں ۔
حضرت خطیب الاسلامؒ کی ولات، بہ روز: جمعہ، 8/جنوری 1926م =22/جمادی الاخری 1344ھ کو ہوئی۔ آپ
تقریبا 94/سال کی عمر میں، بہ
روز: سنیچر، 14/اپریل 2018م = 26/رجب 1439ھ کو اپنی جان
مستعار، جاں آفریں کو سپرد کردی۔ انا للہ
وانا الیہ راجعون۔ دار العلوم، دیوبند کا مشہور احاطہ: احاطۂ مولسری ـــــ جو ایک مدت تک آپ کے اخلاص وللہیت، علم وعمل اور
تعلیمی وتدریسی زندگی کا خاموش گواہ رہا ہے ـــــ میں رات کے دس بجے، آپ کی نماز جنازہ ادا کی
گئی۔ آپ کے صاحب زادے اوردار العلوم وقف دیوبند کے موقر رئیس حضرت مولانا محمد
سفیان صاحب قاسمی –دامت برکاتہم– نے آپ کی
نماز جنازہ پڑھائی۔ ہزارہا ہزار فرزندان توحید نے نماز جنازہ میں شرکت کی اور نم
آنکھوں سے "مزارِ قاسمی" میں، آپ کے والدِ
بزرگوار: قاری محمد طیب قاسمی صاحبؒ اور جدّ
امجد، امام محمد قاسم نانوتویؒ کی قبروں کے
درمیان آپ کو سپرد خاک کردیا۔
وَإِذَا ذكَرْتُكَ مَيتًا سَفَحَتْ ٭ عَيْنِيْ الدُّمُوْعَ فَفَاضَ وَانْسَكَبَا
ترجمہ: جب بھی میں آپ کی وفات کا ذکر کرتا ہوں، میری
آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور میں بکثرت روتا ہوں۔
٭ ہیڈ: اسلامک ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ
بیت المقدس فلسطین کا اٹوٹ حصہ ہے
بیت المقدس فلسطین کا اٹوٹ حصہ ہے
از: خورشید عالم داؤد قاسمی
E-mail: qasmikhursheed@yahoo.co.in
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 6/دسمبر
2017عیسوی کو"بیت المقدس" (Jerusalem) کو غاصب ریاست اسرائیل کا دار
الخلافہ تسلیم کرکے پوری دنیا کو یہ باور کرادیا کہ وہ امن پسند نہیں ہیں؛ بلکہ
تخریب کاری اور تباہی وبربادی کے اسباب فراہم کرنا ہی اس کا مشن ہے، چاہے اس کے
نتیجے میں یہ خوب صورت اور امن پسند دنیا جہنم ہی کیوں نہ بن جائے۔ ایسے بھی یہ
ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ امریکہ نے جب بھی کسی دوسرے ممالک کے حوالے سے کسی بھی رائے
کا اظہار کیا ہے اور کوئی موقف اختیار کیا ہے؛ تو عقلمند اور دانشور لوگوں نے کبھی
بھی اس کی رائے کو "امن وامان کے پیغام" کے طور پر قبول نہیں کیا؛ بلکہ
اسے امریکی مفاد کے طور پر دیکھا ہے اور کچھ مہینوں یا سالوں کے بعد، یہ حقیقت دو
اور دو چار کی طرح واضح ہوگئی کہ امریکہ نے فلاں موقع سے فلاں موقف اختیار کیا اور
اس میں امریکہ کا یہ مفاد پوشیدہ تھا۔
امریکی صدارت کے منصب پر فائز مسٹر
ٹرمپ نے قدس کی مقدس سرزمین کو اسرائیلی راجدھانی کے طور پر تسلیم کرکے، امریکی سفارت
خانہ (Embassy) کو بیت المقدس منتقل کرنے کی بات کررہا ہے؛ جب
کہ حقیقت یہ ہے کہ بیت المقدس فلسطین کا اٹوٹ حصہ ہے، جسے اسرائیل نے اپنی فرعونی
طاقت وقوت اور ظلم وجبر کو استعمال کرکے قبضہ کیے ہوا ہے۔ امریکہ نے اپنی اس
پالیسی سے جہاں صہیونیوں سے اپنے روابط مضبوط سے مضبوط تر کرکے اپنے مفاد کو محفوظ
کیا ہے، وہیں دوسری طرف قدس پر اسرائیل کے غیر قانونی قبضہ اور دعویداری کو بے
انتہا قوت فراہم کرکےمشرق وسطی اور عرب ممالک کو پورے طور پر اپنے کنٹرول میں
کرلیا ہے۔ امریکی صدر کے اس بے باکانہ؛ بلکہ ظالمانہ اور غیر منصفانہ فیصلہ سے ایسا
لگتا ہے کہ جیسے"بیت المقدس" ریاستہائے متحدہ امریکہ کا ایک حصّہ ہو،
جسے اس نے خوشی خوشی اسرائیل کو تحفہ میں پیش کیا ہو!
غاصب ریاست اسرائیل ایک طویل مدت
سے امریکہ سے یہ مطالبہ کررہا تھا کہ وہ بیت المقدس کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم
کرے۔ مگر سابق امریکی صدور نے بیت المقدس کو اسرائیلی دار الخلافہ ہونے کا اعلان
نہیں کیا؛ کیوں کہ پوری دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ بیت المقدس فلسطین کا
اٹوٹ حصہ ہے اور اس پر اسرائیل نے ناجائز طریقے سے قبضہ کر رکھا ہے۔ مگر فلسطینی
کاج کے حوالے سے عالم ِاسلام کی عدمِ دلچسپی نے امریکہ کو
ایک موقع فراہم کردیا اور مسٹر ٹرمپ نے اسرائیل کی دیرینہ خواہش کو عملی جامہ
پہناتے ہوئے بیت المقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرکے اپنے انتخابی منشور
کی تکمیل کردی۔ گزشتہ سال 2016 میں امریکی صدارتی انتخاب کے
دوران مسٹر ٹرمپ نے اپنی انتخابی ریلیوں میں اعلان کیا تھا کہ اگر وہ صدر منتخب
ہوتے ہیں، تو بیت المقدس کو اسرائیل کا دار الخلافہ تسلیم کریں گے۔
ڈونالڈ ٹرمپ کے اس فرمان سے صرف
فلسطین اور عالم اسلام کے کروڑوں لوگوں کو ہی تکلیف نہیں پہونچی ہے؛ بلکہ بہت وہ
ممالک بھی پریشانی محسوس کرہے ہیں جو آج تک فلسطینیوں کو یہ قائل کرانے میں لگے
تھے وہ اسرائیل کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرلیں، پھر اسرائیل اور فلسطین دو
علاحدہ ریاستیں ہوجائیں گی اور بیت المقدس فلسطین کا دار الخلافہ ہوگا؛ کیوں کہ
دنیا کے بیشتر ممالک اس بات سے واقف ہیں کہ اس شہر سے پوری دنیا کے مسلمانوں کا
قلبی لگاؤ ہے اور اس شہر میں مسلمانوں کا قبلہ اول (مسجد اقصی) ہے۔ مسلمان اسے کسی
بھی قیمت پر نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔
مگر
بدقسمتی سے فلسطین کی تقسیم کے ساتھ ساتھ "بیت المقدس" کو "بین
الاقوامی شہر" قرار دینا اقوام متحدہ کا جرم عظیم تھا۔ اقوام متحدہ نے ایک
منافقانہ چال چلتے ہوئے 1947 میں، قلب عرب
یعنی فلسطین کو تقسیم کرکے صہیونیوں کے حوالے کردیا اور مزید یہ کہ بیت المقدس کو
"بین الاقوامی شہر" کا ٹاٹئل دیکر ہمیشہ کے لیے متنازع کردیا۔ پھر فلسطینیوں
پر زبردستی کی جنگ تھوپی گئی اور 1949 میں اس جنگ کے خاتمے پر اسرائیل نے آدھے
مغربی بیت المقدس کو قبضہ کرلیا؛ جب کہ آدھا مشرقی بیت المقدس اردن کے زیر کنٹرول
رہا۔ پھر 1967 کی چھ روزہ جنگ میں، اسرائیل نے دوسرے آدھے حصے (مشرقی بیت المقدس)
کو بھی قبضہ کرلیا ہے۔ اس وقت سے پاک پوتر بیت المقدس پر ناپاک غاصب صہیونی ریاست
کا قبضہ اور کنٹرول ہے؛ جب کہ آج بھی دنیا کے بہت سے ممالک فلسطینیوں کی اس رائے
کے حق میں ہیں کہ بیت المقدس فلسطین کا غیر منقسم دار الخلافہ اور راجدھانی ہے اور
اسرائیل نے اسے اپنی طاقت کے بل پر قبضہ کر رکھا ہے۔
اصل
میں دجالی طاقت اسرائیل کو بیت المقدس میں دلچسپی کی وجہہ "مسجد اقصی" اور
"مسجد اقصی کی جگہ" ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح مسجد اقصی کو منہدم (Demolish) کرکے اس جگہ پر "ہیکل سلیمانی" کی
تعمیر کریں۔ چناں چہ غاصب ریاست اسرائیل کے قیام کے روزِ
اوّل سے ہی اسرائیلی حکمراں کسی نہ کسی بہانے مسجد اقصی کو نقصان پہونچانے کی سازش
کرتے رہے ہیں۔ کبھی ان ظالموں نے مسجد اقصی میں آگ لگوائی، اس کی عمارت کو نقصان
پہونچایا اور کبھی انھوں نے وہاں کھدائی کا کام شروع کراکر، مسجد اقصی کی عمارت کو
کمزور کرنے کی مذموم سعی کی۔ ان دجالی طاقتوں کا مقصد یہ ہے کہ وہ کسی طرح بھی
مسجد اقصی کو مسمار کرکے وہاں "ہیکل سلیمانی" قائم کرلیں۔ اس ناجائز
منصوبہ کی تکمیل کے لیے، ان کی نظر میں سب سے مامون ومحفوظ اور آسان راستہ یہ ہے
کہ وہ اقوام عالم سے بیت المقدس کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرالیں، پھر اپنی
مرضی کے مطابق مسجد اقصی کو ڈھاکر، اس جگہ سکون واطمینان سے "ہیکل
سلیمانی" تعمیر کرلیں۔ لیکن اقوام عالم تو اتنی آسانی سے بیت المقدس کو
اسرائیل کا دار الخلافہ تسلیم نہیں کرسکتے؛ کیوں کہ اس دنیا میں آج بھی کچھ ایسے
ممالک ہیں، جو غاصب اسرائیل کے ناجائز وجود کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے چہ جائے
کہ بیت المقدس کو اس کا دار الخلافہ تسلیم کریں؛ لہذا اسرائیل نے اس کام کی ابتدا
امریکہ سے کرواکر، دوسرے ممالک پر دباؤ بنانے کی چال بازی کی ہے۔
مسٹر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد، فلسطینی
عوام سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ احتجاج اور مظاہرے کے علاوہ ان کے پاس کوئی آپشن
بھی نہیں ہے؛ لہذا "حماس" (حرکۃ المقاومۃ الاسلامیۃ) نے تیسرے انتفاضہ
کا اعلان کردیا ہے۔ پورا ملک میدان جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ صرف چند دنوں میں ہی درجنوں
آدمی کے زخمی اور 4/لوگوں کے شہید ہونے کی خبر ہے۔ فلسطینیوں کے اس احتجاجی
کاروائی کو بہت سے نام نہاد امن پسند دہشت گردی کا نام دیکر غاصب ریاست اسرائیل کو
مہلک ہتھیاروں کے استعمال اور قتل عام کا موقع دیکر سیکڑوں بے گناہ جانوں کا قتل
کرائیں گے۔ بے شمار عمارتوں کو تباہ وبرباد کراکے زمیں بوس کراکر، اسرائیلی
کاروائی کو محافظت اور بچاؤ (Self Defense) سے تعبیر کریں گے۔
امریکی صدر کے اس ناجائز اور غیر
منصفانہ فرمان کے صادر ہوتے ہی، دنیا کے کونے کونے میں بس رہے مسلمانوں نے اپنے غم
وغصہ کا اظہار کیا ہے اور وہ سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ عالم ِاسلام کے حکمرانوں نے بہت حد تک ٹرمپ کے اس فرمان کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ خدا
کرے کہ عالم ِاسلام کے حکمرانوں میں، اس بہانے بھی ایک مضبوط اتحاد ہوجائے اور ایک
ٹھوس موقف اختیار کیا جائے! حقیقت یہ ہے کہ عالمِ اسلام کے حکمرانوں میں مسجد
اقصی، بیت المقدس اور فلسطین کے مقاصد جلیلہ کے حوالے سے کبھی بھی وہ یک جہتی اور
دلچسپی نظر نہیں آئی جو ان میں ہونی چاہیے تھی۔ ہمیشہ وہ اپے ذاتی اور وطنی مفاد
کی خاطر ٹکڑوں میں بٹے ہوئے نظر آئے۔ خود اندرون خانہ یعنی فلسطین میں فتح اور
حماس کے موقف اکثر وبیشتر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور اس کا فائدہ براہ راست
اسرائیل کو پہنچتا ہے۔ ٹرمپ کا بیت المقدس کو غاصب اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم
کرنے کے بعد، تحریک فتح کی مرکزی کونسل کے سینئر رکن عزام الاحمد نے اپنے ایک
حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر مسٹر ٹرمپ کے بیت المقدس کے حوالے سے حالیہ
اعلان کے بعد، فلسطینیوں میں مزید اتحاد پیدا ہوگیا ہے۔ خدا کرے کہ یہ اتحاد بیت
المقدس، مسجد اقصی اور فلسطین کے کے حق میں مفید ترین ثابت ہو!
اس دوران عرب لیگ کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی ہنگامی میٹنگ،
مصر کی راجدھانی قاہرہ میں منعقد کی گئی۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ اس میٹنگ میں واضح
لفظوں میں ٹرمپ کے اس اقدام کی مذمت کی گئی اورعالمی برادری سے یہ مطالبہ بھی کیا
گيا ہے کہ وہ فلسطین کو ایک آزاد ریاست تسلیم کریں۔ اس میٹنگ میں یہ بھی طے کیا گيا کہ اقوام متحدہ
کی سلامتی کونسل سے رجوع کرکے یہ مطالبہ کیا جائے کہ وہ مسٹر ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرے
اور اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرارا دے۔
بیت المقدس اور مسجد اقصی کے حوالے
سے ابھی وقت کی اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ عالم اسلام کے حکمراں متحد ہوکر، واضح
لفظوں میں دنیا کے سامنے اپنا موقف رکھیں کہ بیت المقدس میں واقع مسجد اقصی ہمارا
قبلہ اوّل ہے، ہم کسی بھی صورت میں اس سے دست بردار نہیں ہوسکتے۔ ہم کسی بھی صورت
میں بیت المقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت بننے نہیں دیں گے۔ اسی طرح اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالے
کہ فلسطین کو ایک مستقل علاحدہ ریاست کے ہونے کا اعلان کرے اور بیت المقدس کو اس
کا دار الخلافہ تسلیم کرے۔ مسلم حکمرانوں کی یہ بھی ذمے داری ہے کہ فلسطینیوں کو اخلاقی
اور مادّی تعاون پیش کرکے ان کی حوصلہ افزائی کریں اور پورے طور پر اتحاد کا
مظاہرہ کریں؛ کیوں کہ قدس واقصی کے حوالے سے عالم ِاسلام کے حکمرانوں کی غیرت وقوت کے امتحان کا یہ وقت ہے۔
اگر اس وقت اتحاد سے کام نہیں لیا گیا؛ تو مسلمانانِ عالم اپنی عظمت رفتہ کی بحالی کے لیے
اپنے خلیفہ حضرت مہدی کے ظہور کا ہی
انتظار کریں! ···
Subscribe to:
Posts (Atom)
-
My Open Letter to Noted Journalist MJ Akbar By: Khursheed Alam Dawood Qasmi Dear Sir, Your decision to join the BJP, an opportun...
-
Al-Fauz Al-Kabeer: A Brief Introduction By: Khursheed Alam Dawood Qasmi Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in Compilation...









