Sunday, May 30, 2021

نیتا جی! بہار میں کشمیر کی نہیں، بہار کی بات کیجیے

نیتا جی! بہار میں کشمیر کی نہیں، بہار کی بات کیجیے

 

از: خورشید عالم داؤد قاسمی

 

الیکشن کمیشن نے بہار اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کیا۔ یہ انتخابات 28اکتوبر،3نومبراور 7نومبر 2020  کو تمام 243سیٹوں پر  ہونے ہیں۔ جوں جوں انتخابات کی تاریخیں قریب ہورہی ہیں، سیاسی گہما گہمی عروج پر ہے۔ اس سیاسی گہما گہمی میں، اس انتخابات میں حصہ لے رہی پارٹیوں نے اپنی پارٹی اور امیداواروں کے حق میں، پرچار کرنے کے لیے کچھ ایسے شدت پسند نیتاؤں کو نامزد کیا ہے جو بہار کی ترقی، وہاں کے لوگوں کو اپنے شہر میں روزگار مہیا نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے شہروں میں مجبور ہوکر جانے کی پریشانیاں، تعلیمی اداروں میں تعلیم کی گرتی صورت حال، ہر سال آنے والے سیلاب کا قہر، بے روزگاری اور اس طرح کے کئی دیگر مسائل پر وہ بحث نہیں کرتے کہ اگر ان کی پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دیا جاتا ہے؛  تو وہ ان مسائل کے حل کے لیے کیا کریں گے؟ یہ بڑا تعجب خیز معاملہ ہے کہ اپنی پارٹی اور امیدوار کا پرچار کرنے والے نیتا، بہار  کے انتخابات میں کشمیر کی بات کرتے نظر آرہے ہیں۔

اب دیکھیے مرکزی وزارتِ داخلہ میں وزیر مملکت نتیانند رائے ویشالی میں ایک انتخابی ریلی میں لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے بہار کی فکر اس حد تک لگی کہ انھوں نے یہاں تک فرما دیا کہ اگر بہار میں "این ڈی اے" الائنس کی سرکار نہیں بنتی ہے اور اس کی جگہ آر جے ڈی کی سرکار بنتی ہے؛ تو کشمیر میں سرگرم دہشت گرد کشمیر کو چھوڑ کر، بہار میں پناہ لیں گے۔ مطلب یہ ہوا کہ ترقی کی بات نہیں کرنی ہے، بل کہ رائے دہندگان کو کشمیر میں سرگرم دہشت گرد سے ڈرا کر، ان کا ووٹ حاصل کیا جائے۔

یہ بات کم سے کم ایک عقلمند آدمی کو تو سمجھ میں نہیں آئے گی؛ کیوں کہ ہماری مرکزی حکومت نے دعوی کیا تھا کہ نوٹ بندی سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ پھر ہماری مرکزی حکومت نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ کشمیر سے دفعہ 370 کو ختم  کرنے سے دہشت گردی ختم ہوجائے گی۔ اس طرح کے دعووں کے باوجود کیا اب تک کشمیر میں دہشت گرد سرگرم ہیں؟ اگر دہشت گرد سرگرم ہیں؛ تو پھر حکومت کے دعووں کا کیا ہوا؟ اگر یہ مان لیا جائے کہ کشمیر میں دہشت گرد سرگرم ہیں؛ تو ان کو بہار سے کیا لینا دینا ہے۔ پورے ہندوستان کو چھوڑ کر، وہ بہار میں ہی کیوں پناہ لیں گے؟ وزیر مملکت برائے امور داخلہ صاحب کو یہ بھی بتانا چاہیےتھا کہ ابھی کچھ سالوں قبل آرجے ڈی، گانگریس اور جدیو کی سرکار بہار میں تھی، تو اس وقت کتنے کشمیری دہشت گردوں نے بہار میں پناہ لی تھی اور مرکزی حکومت یا پھر بہار حکومت کی کمان سنبھال رہے مسٹر نتیش کمار نے  ان کو روکنے کے لیے کیا کیا تھا؟

کچھ اسی طرح کا ایک اور بیان 21/ اکتوبر 2020 کو ایک نیتا جی نے بہار میں دیا۔ یہ بیان اس سیاسی لیڈر کا ہے جو اپنے زہریلے بیانات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو سبوتاز کرنے کی وجہ سے "یوگی" سے "ایم پی" اور پھر "ایم پی" سے بنے یوپی کے وزیر اعلی یعنی یوگی ادتیا ناتھ جی۔انھوں نے بہار میں بھوجپور کی تراری ودھان سبھا حلقہ میں ایک انتخابی ریلی میں لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب کشمیر سے دفعہ 370 کو ختم کردیا گیا ہے۔ اب بھوجپور کے نوجوان کشمیر میں زمین خرید سکتے۔ مطلب یہ ہوا کہ مرکزی سرکار نے جو کشمیر سے دفعہ 370 کو ہٹایا ہے، اس کی وجہ سے بھوجپور یا بہار کے نوجوان کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں؛ اس لیے اس کے بدلے بہار کے لوگ "این ڈی اے" کو ووٹ کرکے  حکومت کا پھر سے موقع دیں۔

یوگی جی کی یہ بات کسی بھی سمجھدار آدمی کو مضحکہ خیر لگے گی کہ اس دفعہ کو ختم کرتے وقت، مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ یہ کشمیریوں کے حق میں ہے۔ اس کے ان گنت فائدے کشمیریوں کے حق گنائے گئے تھے۔ اب یوگی جی کے بقول ایک سوا سال بعد، اچانک اس دفعہ کو ہٹانے کا فائدہ ان بھوجپوری نوجوانوں کو مل رہا ہے۔ اب ان یوگی جی کو کون بتائے کہ نوجوان روزگار کے لیے پریشان ہے۔ ان کی اکثریت دو وقت کی روٹی کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ ان کو اپنے وطن میں گھر بنانے کے لیے زمین نہیں ہے۔  جن کو موروثی  زمین ہے، وہ روپے پیسے کی مجبوری کی وجہ سے اس  پر گھربنانے سے قاصر ہیں۔ کچھ لوگ بڑی کوشش کے بعد، صرف جھونپڑی ہی بنا پاتے ہیں۔ ایسی موجودہ صورت حال میں یوگی جی کا یہ کہنا کہ اب بھوجپور کے نوجوان کشمیر میں،  زمین خریدیں گے،  میرے خیال میں ان نوجوانوں کی خاص طور پر اور اہالیان بہار کی عام طور پر توہین ہے۔

ہندوستان میں جو لوگ سیاست کے راستے اقتدار کے اعلی مناصب تک پہنچے ہیں، ان میں بہت سے ایسے سیاست داں آپ کو آسانی سے  مل جائیں گے، جو عوام کے جذبات سے کھیل کر، انتخابات جیت جاتے ہیں۔ ان سیاست دانوں کے لیے تو یہ خوش کن مواقع ہوتے ہیں؛ لیکن عوام کے حوالے سے یہ بہت خطرناک فیصلہ ہوتا ہے، گرچہ وہ سیاست داں عوام کے ہی ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں۔ پھر انتخابات جیتنے کے بعد بھی وہ عوام کے لیے کام کرنے کے بجائے، وہ ان کے جذبات کو مشتعل کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ وہ کسی بھی ایسے موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، جس میں عوام کے جذبات سے کھیل کر اپنی مقبولیت بڑھانے کی  ایک فی صد بھی گنجائش ہو۔ ان نیتاؤں کے حلقہائے انتخابات میں جاکر آپ معائنہ کریں؛ تو کہیں بھی کوئی خاص ترقیاتی کام آپ کو نہیں ملیں گے؛ کیوں کہ وہ ترقیاتی کام کے بجائے عوام کے جذبات کو ہی مشتعل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اس طرح کے لیڈران کبھی اپنے مخالف سیاستدانوں کے خلاف زبان درازی کرکے عوام کو الو بناتے ہیں؛ تو کبھی ڈر اور خوف کی سیاست کرکے، اپنے آپ کو ایک مقبول اور پسندیدہ لیڈر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں؛ جب کہ حقیقت میں وہ لفاظی کے علاوہ کسی کے کام کے نہیں ہوتے۔

در اصل اس طرح کے لیڈران کبھی اپنے زہریلے بیانات کے سبب، کبھی اپنے خاندانی سیاسی اثر ورسوخ کے سبب اور کبھی اپنے مال و زر کی وجہہ سے کسی سیاسی پارٹی سے انتخابات میں قسمت آزمائی کے لیے ٹکٹ حاصل کرلیتے ہیں اور عوام کو مشتعل کرکے، انتخابات جیتنے میں کام یاب ہوجاتے ہیں۔ ابھی کچھ دنوں پہلے کی بات ہے کہ جب کانگریس کے سچین پائلٹ نے راجستھان میں اپنا ڈرامہ شروع کیاتھا اور گہلوت حکومت گرنے والی تھی؛ تو ایک بڑے گانگریسی لیڈر نے مسٹر پائلٹ پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ لوگ ابھی جہاں ہیں، وہ  اپنی محنت سے یہاں تک نہیں پہنچے ہیں؛ بل کہ وہ کسی واسطے سے بہ آسانی  پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرکے یہاں تک پہنچے ہیں۔ اس لیڈر نے پوری دیانتداری سے کام لیتے ہوئے اپنے بیٹے کی مثال بھی دی کہ آج اگر ان کا بیٹا ایم پی ہے؛ تو وہ ان کی طرح بنیادی طورپر کام کرکے یہاں تک نہیں پہنچا ہے؛ بل کہ وہ ان کی وجہ سے یہاں تک پہنچا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر یہ لیڈران اپنے گاؤں، قصبہ، شہر وغیرہ میں، زمینی سطح پر کام کرکے اور لوگوں کی پریشانیوں کا اپنی آنکھوں مشاہدہ کرکے یہاں تک پہنچے ہوتے؛ تو یہ یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ لفاظی اور اشتعال انگیزی کے بجائے، ترقیاتی کاموں پر توجہ دیتے۔ وہ کچھ ایسا کام کرنے کی کوشش کرتے جس سے لوگوں کی پریشانیاں دور ہوتیں۔ مگر ہم ایسا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ رہے ہیں۔

بہار کے عوام وزیر مملکت برائے امور داخلہ اور یوپی کے یوگی وزیر اعلی صاحبان کو کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کشمیر کی بات ابھی چھوڑ دیجیے۔ کشمیر میں آپ نے اور مرکزی حکومت نے کیا کیا، وہ جگ ظاہر ہے۔ اس سے کس کو کیا فائدہ پہنچے گا، وہ بھی لوگ جانتے ہیں۔ ابھی آپ بہار کی بات کیجیے اور لوگوں کو یہ بتائے  کہ "این ڈے اے" سرکار اور نتیش کمار جی نے اپنے پچھلے پندرہ سالہ دور میں بہاریوں کے لیے کیا کیا ہے؟ آئندہ اگر آپ کی سرکار بنتی ہے؛ تو آپ کیا کریں گے۔ مزید بہار کے لوگوں کو یہ بھی بتا دیجیے کہ اگر "کرونا" جیسا وبائی مرض پھیلتا ہے؛ تو بہار میں آنے والی سرکار بہاریوں کے لیے کیا کرے گی؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ ابھی "کرونا" کی مہاماری میں، دوسرے شہروں میں کام کرنے والے بہاریوں کو بہت ہی پریشانی کا سامنا رہا ہے۔ ***

غاصب اسرائیل سے امن معاہدے کی کوشش میں مصروف مسلم ممالک


غاصب اسرائیل سے امن معاہدے کی کوشش میں مصروف مسلم ممالک

غاصب اسرائیل سے امن معاہدے کی کوشش میں مصروف مسلم ممالک

 

از: خورشید عالم داؤد قاسمی

 

Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

 

خلافت عثمانیہ کا خاتمہ مسلمانان عالم کے لیے ایک بہت بڑا المیہ تھا۔ خلافت کے خاتمہ کے بعد، جہاں مسلمان ٹکڑوں میں بٹ گئے اور ان کی طاقت منتشر ہوگئی،  وہیں دوسری طرف بہت ہی سوچی سمجھی سازش کے تحت اسرائیل کے نام سے ایک صہیونی ریاست کے قیام کا منصوبہ تیار کیا گیا اور بالآخر سن 1948 ء میں، فلسطین کی زمین پریہ صہیونی ریاست قائم کی گئی۔ تاریخ اس بات کو محفوظ رکھے گی کہ آج دنیا جس ناجائز وجود کو ریاست اسرائیل کے نام سے یاد کرتی، وہ در حقیقت فلسطین کا حصہ ہے جو فلسطینیوں کی آبائی زمین پر، زور زبردستی سے قائم کی گئی ایک صہیونی غاصب وقابض ریاست ہے۔فلسطینیوں کی زمین پر اس ریاست کے قیام کا واضح مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کے دشمن کو پوری دنیا سے اٹھا کر، قلب عرب  میں جمع کیا جائے، اس کی مادی وعسکری مدد کی جائے  اور پھر اس کے ذریعے پورے عرب خطہ کو کنٹرول میں رکھا جائے۔ منصوبہ بنانے والے اپنے منصوبہ میں کام یاب ہوگئے، مگر بد قسمتی سے عرب ممالک  اس منصوبہ کو سمجھنے میں ناکام رہے۔

اس غاصب صہیونی ریاست کے قیام کے فورا بعد، اس کو  رسیاستہائے متحدہ امریکہ نے تسلیم کرلیا اور مادی وعسکری تعاون فراہم کرنا شروع کردیا۔ آج یہ غاصب ریاست ایک ایٹمی طاقت بن چکی ہے۔ اس وقت بہت سے ممالک نے امریکہ کی راہ پر چلنے سے انکار کیا اور اسرائیل کے یک طرفہ قیام کو منظور نہیں کیا۔ انھوں نے اس وقت دو ریاستی حل، یعنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطین کے قیام کی بھی بات کی۔ پھریہ آج کادن ہے کہ یہ حل صرف زبان  سے ادا کرنے کے لیے باقی رہ گیا؛ ورنہ اس حل کو زمین پر وجود بخشنے کی کوشش نہیں کی گئی اور اقوام عالم نے کھل کر، سنجیدگی سے اس موضوع پر کبھی بات بھی نہیں کی۔ پھر بعد میں، یورپی ممالک نے بھی اسرائیل کو منظور کرنا شروع کردیا۔

یورپی ممالک جو پوری دنیا اور خاص طور پر عرب واسلامی ممالک کو  ہر صبح وشام، "حقوقِ انسانی" پر  لکچر دیتے رہتے ہیں، انھوں نے اسرائیل کو منظور تو کرلیا؛ مگر وہ اسے  یہ لکچر دینا بھول گئے کہ فلسطینی بھی انسان ہیں اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی بھی انسانی حقوق کی پامالی ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ جن فلسطینیوں کی آبائی زمین پر، اقوام متحدہ نے  اسرائیل کو قائم کیا، آج ان فلسطینیوں کو اس غاصب ریاست کی فوجیں جب اور جہاں موقع ملتا ہے، اپنی گولیوں سے بھون دیتی ہیں۔ جب جس فوجی ٹکڑی کے جی میں آئے، وہ فلسطینیوں کے گھروں میں گھس کر، چھاپا ماری شروع کردیتی ہیں۔ غاصب صہیونی ریاست فلسطینیوں کی نقل وحرکت پر روک لگانے کے لیے بچے کھچے فلسطین میں جگہ جگہ پر پولیس چوکیاں قائم کر رکھی ہے۔ ان پولیس چوکیوں کے قیام کا مقصد فلسطینیوں کے دلوں میں ڈر اور خوف بیٹھانا ہے؛ تاکہ وہ اپنی خود مختاری کی بات نہ کرسکیں۔ ان   صہیونی فوجوں کو ریاست کی طرف سے اتنی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ وہ جب چاہے، کسی بھی فلسطینی کے گھر میں گھس کر، توڑ پھوڑ شروع کردیتی ہیں۔ وہ  فلسطینیوں کا اغوا کرکے جیلوں میں سالوں سال کے لیے ڈال دیتی ہیں۔ آج اسرائیل کی جیلوں میں نہ  صرف فلسطینی مرد؛ بل کہ ان گنت خواتین اور نابالغ بچے بھی  کسی جرم کے بغیر، قید وبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔

جب سے فلسطینیوں کی زمین پر اسرائیل کے قیام کا منصوبہ بنا، اسی وقت سے فلسطینیوں کے ساتھ نا انصافیاں شروع ہوگئی تھیں جو آج تک جارہی ہیں۔ اقوام متحدہ نے اپنی قرار داد کے تحت جس صہیونی ریاست  کو قائم کیا، آج کی تاریخ میں وہی غاصب ریاست اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کی پامالی میں پیش پیش ہے۔ فلسطینیوں کے خلاف اس صہیونی ریاست کی دہشت گردی تاہنوز جاری ہے۔ فلسطینیوں کا قتل عام ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔  فلسطینیوں کے املاک کو مسمار کرنا اور ان کی آباد کھیتیوں کے تہس نہس کرنا،  ان کا روز کا معمول ہے۔ قابض فوجیں دشمنی میں اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ مذہبی مقامات کے احترام کا بھی خیال نہیں کرتی؛ بل کہ جب چاہے ان پر حملے کردیتی ہیں۔ بہت سی مسجدوں کو نائٹ کلب اور شراب خانوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ صہیونی ریاست بین الاقوامی قوانین کی پرواہ کیے بغیر،  فلسطینیوں کے گھروں کو توڑ  کر،ان مکینوں کو بے گھر کردیتے ہیں۔ دن بہ دن صہیونی بستیوں کی تعمیر کا کام جاری ہے۔

بہرحال، رفتہ رفتہ دنیا کے دوسرے متعدد ممالک نے بھی اس صہیونی غاصب ریاست کو تسلیم کرنا شروع کردیا۔ پھر مسلم ممالک میں سے سب سے پہلے اس وقت کی ترکی حکومت، جس کی باگ ڈور مصطفی عصمت اینونو (1884 - 1973) کے ہاتھوں میں تھی،نے بھی مارچ 1949 میں، اسرائیل کو تسلیم کرلیا۔ مگر اس وقت تک دوسرے عرب اور مسلم ممالک نے اسرائیل کے وجود نامسعود کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اسلامی تعاون تنظیم کے 1977 میں، منعقدہ اجلاس  میں، عرب و مسلم ممالک نے ترکی کو اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی بات کی، مگر اس وقت کی ترکی حکومت نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ پھر ایک وقت آیا کہ فلسطین کا عرب پڑوسی برادر ملک: مصر نے سن 1979ء میں، اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا اور 26/جنوری 1980 کو باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کرکے، قابض اسرائیل سے تعلق قائم کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا۔ پھر  سن 1994ء میں، مملکت اردن اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرکے، اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا دوسرا عرب ملک بن گیا۔

ابھی کچھ مسلم ممالک کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات قائم ہیں۔ فلسطین واقصی کو فراموش کرکے، اسرائیل سے کچھ مسلم ممالک اپنے خفیہ تعلقات کو امن معاہدے کے زیر عنوان  باضابطہ سفارتی تعلقات میں تبدیل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اپنی مملکت وسلطنت کی حفاظت وضمانت اور مال وزر کی لالچ میں، بہت سے عرب اور مسلم ممالک اسرائیل سے امن معاہدے اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے بے تاب نظر آرہے ہیں۔ اب ان عرب اور مسلم ممالک میں کچھ نے کھل کر، اسرائیل کے سامنے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ حال میں دوستی کا ہاتھ بڑھانے والوں میں، خلیجی ممالک میں سےمتحدہ عرب امارات (یو اے ای) ہے جس نے 13/ اگست 2020 کو امن سمجھوتے کا اعلان کیا ہے۔ یو اے ای کا یہ کتنا مضحکہ خیز دعوی ہے کہ اس کے اور اسرائیل کے درمیان اس سمجھوتے کے نتیجے میں، اسرائیل مغربی کنارے کے حصوں کے الحاق کو مؤخر کردے گا اور فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ نہیں کرے گا؛ جب کہ دوسری طرف غاصب ریاست کا وزیر اعظم :بنجامن نیتن یاہو یہ اعلان کر رہا ہے کہ یہ منصوبہ اب بھی موجود ہے۔ اب یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ متحدہ عرب امارات کی فلسطین واقصی کے حوالے سے اس کوشش کو کیا عنوان دیا جائے!

 جب یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کی بات مختلف ذرائع ابلاغ سے دنیا کے سامنے آئی؛ تو خلیج تعاون ممالک (جی سی سی) میں سے مملکت بحرین اور سلطنت عمان نے یو اے ای کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا۔ اس وقت کسے معلوم تھا جو بحرین آج متحدہ عرب امارات کے اس حرکت کی تائید اور خیر مقدم کر رہا ہے، وہ درحقیقت اس تائید کے در پردہ ، اسرائیل سے اپنے تعلقات استوار کرنے کی تمہید قائم کررہا ہے! پھر چند ہی دنوں میں، مملکت بحرین نے بھی یو اے ای کی تقلید کرتے ہوئے، اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کے نام پر اپنے تعلقات کا اعلان 11/ ستمبر 2020 کو کردیا۔

امن کے نام پر ہونے والے ان معاہدوں میں ثالثی کا کردار، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ادا کررہے ہیں۔ امریکی صدر خود ایک ایسا صہیونی ذہن آدمی ہے کہ اس کی نگاہوں میں، فلسطین  اور مسجد اقصی کے قضییے کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہے۔ اس کا واضح ثبوت ابھی حال میں اس کی طرف سے پیش کیا جانے والی صدی کی ڈیل ہے۔ دوسری طرف آئندہ سال امریکہ میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکی سیاست میں صہیونی یہودی لابی کا اثر ورسوخ ہمیشہ رہا ہے۔ کسی بھی صورت میں ٹرمپ کی یہ تمنا ہوگی کہ وہ اس آنے ولےانتخابات میں ایک بار پھر منتخب ہوسکیں۔ اس کے لیے وہ کسی حد تک جاسکتا ہے۔ یہ نام نہاد امن معاہدے اور سمجھوتے بھی انتخابات جیتنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے؛ لہذا یہ عین ممکن ہے کہ ابھی کچھ اور مسلم ممالک اسرائیل کے ساتھ، امریکہ کی ثالثی میں امن معاہدے کرسکتے ہیں۔

ابھی دو دنوں قبل کی ہی بات ہے کہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کیلی کرافٹ نے  واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ایک اور عرب ملک ایک یا دو دن میں ایک معاہدے پر دستخط کرے گا  اور تمام ممالک اس کی پیروی کریں گے۔ کرافٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکیوں کو امید ہے کہ سعودی عرب اسرائیلی وجود کے ساتھ معمول کے معاہدے پر دستخط کرے گا۔  ٹرمپ کا داماد اور وائٹ ہاؤس کے مشیر جیرڈ کشنر نے بھی یہ بات کہی ہے کہ یہ سعودی عرب کے مفاد میں ہوگا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات نے کیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ سمجھوتہ اور معاہدہ کرنے والے ممالک میں اب اگلا نمبر "سلطنت عمان" ، "مراکش" اور "سوڈان" کا ہوسکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا داماد اور وائٹ ہاؤس میں مشیرکار  جیرڈ کشنر ، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا اچھا دوست ہے، نے بارہا یہ کوشش کی ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کرے؛ مگر خبر رساں ادارے "اےایف پی" کے مطابق سعودی عرب  کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے برلن کے دورے کے موقع پر، صحافیوں سے بات چیت کرتے کہا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کرسکتا، جب تک یہودی ریاست، بین الاقوامی معاہدوں کی بنیاد پر فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہ کردیں۔ ایسے وقت میں جب کہ متعدد مسلم وعرب ممالک اسرائیل سے تعلقات بڑھانے کے حق میں ہیں اور اس کا کچھ عملی نمونہ سامنے بھی آگیا ہے، ایسے وقت میں سعودی کی طرف سے، ایک بڑے ذمے دار شخص کا  یہ باضابطہ بیان، فلسطینیوں کے حق میں "ڈوبتے کو تنکے کا سہارا" سے کہیں بڑھ کر ہے۔ آج فلسطین اور مسجد اقصی کا قضیہ نہایت نازک موڑ پر آچکا ہے۔ سعودی عرب، ترکی، ملیشیا وغیرہ کو چاہیے کہ ہم خيال ممالک کو ساتھ لے کر،قائدانہ رول ادا کرتے ہوئے، جتنی جلدی ہوسکے، وہ اس مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کرے؛ ورنہ یہ مسئلہ دن بہ دن مزید الجھتا چلا جائے گا۔ ●●●●

کیا صہیونی ریاست بچے کچھے فلسطین کو بھی نگل جائے گی؟





کیا صہیونی ریاست بچے کچھے فلسطین کو بھی نگل جائے گی؟

کیا صہیونی ریاست بچے کچھے فلسطین کو بھی نگل جائے گی؟

 

از: خورشید عالم داؤد قاسمی

Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین کے حوالے سے جس وقت "صدی کی ڈیل"  (Deal of the Century) کی بات کی تھی،اسی وقت انصاف پسند لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آگئی تھی کہ یہ ڈیل کسی طرح بھی فلسطین کی مفاد میں نہیں ہوگی؛ بل کہ یہ یک طرفہ غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے حق میں ہوگی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی ریلی کے وقت سے ہی، فلسطین واسرائیل کے حوالے جو بھی بیانات دیے، وہ سب کے سب جانبدار  اور صہیونی ریاست کی حمایت میں تھے۔ پھر صدر منتخب ہونے کے بعد، جب اس نے "صدی کی ڈیل" کی بات کی اور اس ڈیل کے کچھ نکات گاہے بہ گاہے لیک (Leak) ہونے شروع ہوئے؛ تو ان سے مزید اس رائے کو تقویت ملی کہ جو ڈیل پیش کی جانے والی ہے، وہ یک طرفہ ہوگی۔ جب اس سال جنوری کے آخری عشرہ (28/جنوری 2020) میں، وائٹ ہاؤس میں، ایک پریس کانفرنس کے دوران، اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کی موجودگی میں، اس ڈیل کو پیش کیا گیا؛ تو قضیہ فلسطین سے دل چسپی رکھنے والے ہر شخص نے محسوس کیا کہ یہ ڈیل یک طرفہ ہے۔ باریکی سے دیکھا جائے؛ تو  ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ڈیل کسی ثالثی نے تیار نہیں کیا ہے؛ بلکہ ایک طاقتور فریق کا تیار کیا ہوا ہے، جو اپنی مرضی کے موافق اپنے فریق کو کچھ شرائط وضوابط کی پابندی کے بعد، بھیک کی شکل میں کچھ دینے کو تیار ہو رہا ہو۔ اس ڈیل میں فلسطین کے حق اور مفاد میں کچھ بھی نہیں ہے۔

اس ڈیل میں ایسے بیجا شرائط کوجگہ دی گئی ہیں، جنھیں کوئی بھی خود مختاری کا مطالبہ کرنے والافلسطینی منظور نہیں کرسکتا تھا۔ ان سب بیجا شرائط کی منظوری کے بعد، ان  فلسطینیوں کو "فلسطین" نہیں؛ بل کہ"فلسطین جدیدۃ" کے نام سے جو کچھ دیا جاتا، وہ ایک نام نہاد اور مجبور ولاچار ریاست ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ڈیل میں اکثر مقامات اسرائیل کے حوالے کرنے کی بات کی گئی ہے اور "فلسطین جدیدۃ" کے نام سے جو چند سالوں کے بعد وجود میں آتا، وہ بشمول غزہ کی پٹی کے چند قطعہ اراضی فلسطینیوں کے حوالے کیا جاتا۔ صہیونی غاصب ریاست کے ظلم وجور اورقتل وغارت سے پریشان ہوکر، جو لاکھوں فلسطینی لبنان، اردن اور دنیا کے دوسرے ممالک میں پناہ گزیں  ہیں، ان کے واپسی کی اس ڈیل میں کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ ایک مضحکہ خیز شرط یہ بھی تھی کہ "فلسطین جدیدۃ" کی حکومت اپنے دفاع کےلیے کسی طرح کا کوئی ہتھیار نہیں رکھ سکتی؛ بل کہ اس کے دفاع کی ذمہ داری اسرائیل کو دی جاتی  اور "فلسطین جدیدۃ" کی حکومت  اس کی قیمت ادا کرنی ہوتی۔ جو بھی اسلحہ اور ہتھیار ابھی "حماس" اور "جہاد اسلامی" کے پاس ہیں، ان ہتھیاروں سے بھی دست بردار ہونے کی شرط تھی۔ ایسی بے جا اور یک طرفہ ڈیل کو "ٹرمپ منصوبۂ امن"  (Trump Peace Plan)  کا نام دیا گیا تھا۔

بہ ہرحال، اس ڈیل کو فلسطین کے بہادر عوام وخواص نے منظور کرنے سے انکار کردیا۔  ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مقصد بھی یہی تھا کہ فلسطین اس نام نہاد ڈیل کو منظور نہ کرے۔ پھر وہ دنیا کو یہ کہتے پھریں کہ دیکھیے ہم نے امن وامان کی غرض سے یہ ڈیل تیار کی تھی، مگر فلسطین نے منظور نہیں کیا۔ وہ امن وامان  کی راہ میں حائل ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق، آج کل صہیونی غاصب ریاست اپنے توسیع پسندانہ پروگرام کو بروئے کار لانے کی کوشش میں لگی ہے۔ اس پروگرام کے تحت  فی الحال مقبوضہ مغربی کنارے پر صہیونی ریاست کی خود مختاری کے منصوبے پر امریکہ اور غاصب ریاست کی انتظامیہ کے درمیان بات چیت جاری ہے۔  اسی طرح فلسطینی علاقے: غرب اردن اور وادی اردن کے الحاق کے حوالے سے بھی صہیونی ریاست امریکی انتظامیہ سے بات چیت کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی انتظامیہ کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطی "آفی برکوفیٹچ " نے غرب اردن کو اسرائیل سے الحاق کے منصوبے پر، عمل در آمد کے  حوالے خود صہیونی ریاست کے حکام سے ان دنوں بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جن کو امریکی صدر نے "صدی کی ڈیل" میں، غاصب ریاست کو حوالے کرنے کی تجویز بھی پیش کرچکا ہے۔

صہیونی ریاست کا اپنے توسیع پسندانہ پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امریکی انتظامیہ اور اس کے ایلچی سے صلاح ومشورہ اور بات چیت کی خبر سے یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ غاصب ریاست کے توسیع پسندانہ پروگرام کی پورے طور پر حمایت کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صہیونی ریاست کو"صدی کی ڈیل" میں، وہ سب کچھ دینے کی کوشش کی تھی جس کے بارے میں صہیونی ریاست نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ اتنی آسانی وہ سب اس کو مل جائے گا۔ پھر امریکہ غرب اردن اور وادی اردن کو اسرائیل سے الحاق کے لیے کیوں تائيد نہیں کرے گا! آج کل فلسطین کے حوالے سے جو اقدام ٹرمپ انتظامیہ اٹھا رہی ہے، وہ حقیقت میں اقوام متحدہ کے تجاویز کی کھلی خلاف ورزی ہے؛ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قضیہ فلسطین کے حوالے سے اسرائیل وامریکہ نے کبھی بھی اقوام متحدہ کی کسی بھی تجویز کو کوئی اہمیت نہیں دی ہے۔

ان نا گفتہ بہ حالات میں، اندرونِ خانہ یعنی فلسطین سے ایک مثبت خبر یہ آرہی ہے کہ فلسطین کی دو اہم جماعتیں: حماس (حرکۃ المقاومۃ الاسلامیۃ) اور تحریک فتح میں قربت بڑھ رہی ہے۔ ابھی چند دنوں قبل (4/جولائی 2020 کو) حماس کے نائب صدر صالح العاروری اور تحریک فتح کے مرکزی سیکریٹری جنرل جناب جبریل الرجوب نےصہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی تھی۔ اس پریس کانفرنس میں انھوں نے فلسطینی علاقوں پراسرائیلی ریاست کےقبضے اور توسیع پسندانہ پروگرام کے خلاف اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت پرزور دیا۔ کاش کہ فتح والےاتحاد کی یہ باتیں شروع سے سمجھ لیے ہوتے! بہرحال، یہ ایک قابل ستائش اور مثبت قدم ہے۔ فلسطینی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک نے اس مشترکہ پریس کانفرنس پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موقف، الفاظ، بیانات اور قومی قیادت کا متفق ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ انھوں نے صدی کی ڈیل اور فلسطینی علاقوں: غرب اردن اور وادی اردن کے الحاق کے اسرائیلی منصوبے کو ناکام  بنانے کے لیے مسلح مزاحمت پر مبنی، متفقہ حکمت اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ اسپیکر نے مزید کہا کہ اگر دونوں بڑی جماعتیں آپس میں متحد ہوجائیں؛ تو صہیونی ریاست کےتوسیع پسندانہ عزائم کو ناکام بنا سکتی ہیں۔

فلسطینی شہری کئی دہائیوں سے صہیونی ظلم وجور کے شکار ہیں۔ دن بہ دن ان پر صہیونیوں کا ظلم  بڑھتا جارہا ہے۔ قضیہ فلسطین کے حوالے سے جن لوگوں کو کھل کر بولنا چاہیے تھا، جن کو اس قضیہ سے دل چسپی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا اور جن کو فلسطینیوں کے بہتے خون کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی، فلسطینیوں کے جان ومال کے حفاظت کی فکر کرنی چاہیے تھی، وہ سب کے سب خاموش ہیں۔ دوسری طرف صہیونی ریاست اپنے توسیع پسندانہ پروگرام کے تحت دن بہ دن اپنے قدم بڑھا رہی ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے اکثر مسلم ممالک نے اپنے مال وزر کو خوب صورت اورفلک بوس عمارتوں کے بنانے میں صرف کرنا ضروری سمجھا۔ ان ممالک کے حکمرانوں نے اپنی ذات  پر ضرورت سے زیادہ مال وزر خرچ کیے اور اپنی شاہانہ اور پر تعیش زندگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔  مگر اپنے ممالک کے مستقبل کو کبھی  پیش نظر نہیں رکھا۔ مسلم دنیا کے اکثر ممالک عسکری طور کھوکھلے ہیں۔ ان کے پاس عسکری طاقت نہیں ہے۔ ان کے پاس کوئی قابل ذکر اسلحہ نہیں ہے۔ وہ سب عالمی طاقتوں کے سامنے بونے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی باتوں کو کوئی وزن نہیں دیتا۔ مگر اس کے باوجود، اگر مسلم دنیا فلسطین کی آزادی اور اقصی وقدس کی بازیابی کےلیے  بیک زبان بولتی ہے؛ تو آج نہیں تو کل، اس کا کچھ نہ کچھ اثرضرور ہوگا اور امید ہے کہ بہت سے دوسرے ممالک بھی کھل کر ان کا ساتھ دیں گے۔

ٹرمپ کے "صدی کی ڈیل" کا شوشہ چھوڑنے کے بعد سے اب تک –سوائے چند مسلم ممالک کے–  جس طرح اکثر مسلم ممالک خاموش ہیں، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سب کے سب اس ڈیل کا حصہ ہیں یا پھر وہ کسی ڈر اور خوف میں مبتلا ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے؛ تو پھر وہ خاموش کیوں ہیں؟ جس طرح  اسرائیل کے منصوبے ذرائع ابلاغ کے توسط سے گاہے بہ گاہے عام لوگوں تک پہنچتے ہیں، امید ہے کہ ان تک بھی پہنچتے ہوں گےبشرطے کہ ان کی قوت سماعت وبصارت کام کررہی ہوں۔ یہ ایسا وقت ہے کہ عرب لیگ اور مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم: او، آئی، سی (Organization of Islamic Cooperation) کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جانا چاہیے۔ ان دونوں تنظیموں کے ممبران کو اسرائیل کے اس توسیع پسندانہ پروگرام کے خلاف بر وقت قدم اٹھا نا چاہیے اورصہیونی ریاست کا غرب اردن کو اسرائیل کے ساتھ الحاق کرنے کے پروگرام کے خلاف کچھ عملی اقدامات کرنے چاہیے۔اگر ایسا نہیں ہوتا ہے؛ تولگتا ہے کہ چند سالوں میں صہیونی غاصب ریاست بچے کھچے فلسطین کو بھی نگل جائے گی۔ ····

Saturday, October 3, 2020

حضرت مولانا موسی ماکروڈ صاحبؒ : حیات وخدمات

حضرت مولانا موسی ماکروڈ صاحب ؒ  : حیات وخدمات

 

بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

 

Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

 

دار العلوم مرکز اسلامی کے بانی ومدیر ،ہمارے مشفق ومربی حضرت مولانا موسی ماکروڈ صاحب   – رحمہ اللہ– تقریبا اسّی سال کے تھے۔ اس عمر میں بھی آپ اپنی ذمے داریوں کو بر وقت انجام دینے کے حوالے سے بہت ہی متحرک ونشیط تھے۔ پیرانہ سالی کے باوجودبھی، آپ ہمیشہ تندرست وتوانا نظر آتے تھے۔ قریب سے دیکھنے والے جانتے ہیں کہ ان کو دیکھ کر کبھی بھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ آپ کی طبیعت ناساز ہو۔  بہرحال، 31/جولائی 2020 ء کوآپ کے بارے میں ایک مختصر سی خبر واٹس ایپ پر پڑھنے کو ملی کہ آپ دو دوز سے کچھ علیل چل رہے ہیں۔ پھر5/اگست کو یہ خبر ملی کہ آپ تقریبا چار بجے کواپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! سوشل میڈیا کے توسط سے آپ کی وفات کی خبر صبح ہوتے ہوتے ہند وبیرون ہند میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ مرکز اسلامی کے فضلا اور آپ کے محبین ومتعلقین کی طرف سے سوشل میڈیا پر دعائیہ اور  تعزیتی پیغامات موصول ہونے لگے۔

حضرت مولانا موسی ماکروڈ صاحبؒ ایک نیک، صالح،منکسر المزاج،خوش اخلاق، ملنسار اور بزرگ عالمِ دین تھے۔ آپ کی سادگی، شرافت، حسن اخلاق، خاکساری اور تواضع کا ہر کوئی معترف تھا۔آپ بڑے  سیدھے سادھے اور بھولے بھالے انسان تھے۔اللہ کے پیارے رسول حضرت محمد عربی –صلی اللہ علیہ وسلم–کی حدیث: «المؤْمِنُ غِرٌّ كَرِيمٌ» (ترمذی: 1964)(ترجمہ: مومن بھولا بھالا اور نیک دل ہوتا ہے۔) آپ پر پورے طور پر منطبق ہوتی ہے۔ آپ سے  ملاقات کے بعد، دلی  احساس کچھ اس طرح ابھر کر سامنے آتا تھا کہ

بہت جی خوش ہوا حالی سے مل کر

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں

        اللہ تعالی نے حضرت مولانا موسی ماکروڈ صاحبؒ کے دل میں اہل علم،  علما وفضلا اور اولیاء اللہ کے لیے بڑی محبت ودیعت فرما رکھی تھی۔ آپ اہل علم اور بزرگانِ دین سے بڑی محبت کرتے تھے۔ آپ علماء کرام اور بزرگان دین کو دعوت دیتے اور مرکز اسلامی میں مدعو کرتے۔ جب کوئی عالم وفاضل اور بزرگ شخصیت کی علاقے کے کسی ادارے میں آمد ہوتی؛  تو آپ ان کو مرکز اسلامی میں لانے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔ان سے بڑی محبت کا  اظہار فرماتے۔ ان کے سامنے خود کو اس طرح پیش کرتے کہ گویا ایک تلمیذ رشید اپنے شفیق استاذ کے سامنے کھڑا ہو۔ اپنے گھر سے کھانے کا انتظام کرتے اور ان کی ضیافت کرتے۔ جب طلبہ کو خطاب کرتے اور اکابر علما میں سے کسی کا کوئی واقعہ سناتے؛ تو آپ بڑے ادب واحترام اور پیار کے ساتھ ان کا نام لیتے۔ رویدرا میں حضرت مولانا اسماعیل صاحبؒ کے نکاح کی مجلس تھی۔ حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلیفہ حضرت مولانا معین الدین صاحب گونڈوی ؒ(شیخ الحدیث: مدرسہ  عربیہ امدادیہ، مراد آباد) نکاح سے قبل حاضرین مجلس کو خطاب  کر رہے تھے۔ انھوں نے دوران خطاب کوئی واقعہ بیان کیا اور ان کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔ حضرت مولانا فورا کھڑے ہوئے، اپنی جیب سے رومال نکالا اور ان کے آنکھوں سے آنسو پوچھنے لگے۔ یہ تھی حضرت مولانا ماکروڈ صاحبؒ  کی ایک عالمِ دین کے ساتھ محبت کا عالم۔

        حضرت مولانا موسی ماکروڈ صاحبؒ نمازکے بڑے پابند تھے۔ آپ پیرانہ سالی کے باوجود چاہے موسم گرما یا سرما یا موسم برسات آپ نماز  مدرسہ کی مسجد میں آکر ادا کرتے تھے۔  فجر کے وقت کبھی کبھی آپ خود ہی طلبہ کو بیدار بھی کرتے تھے۔  عصر کی نماز کے بعد، عام طور پر دورۂ حدیث شریف کے طلبہ کے ساتھ بیٹھ جاتے اور ان کے ساتھ کچھ مذاکرہ کرتے۔دفتر اہتمام میں بھی بڑی پابندی کے ساتھ،آپ وقت پر تشریف لاتے۔ آپ صبح میں دفتر پہنچ جاتے اور چھٹی کے وقت تک رہتے۔ جو بھی کام ہوتا اسے بروقت انجام دیتے۔ آپ چھٹی کے وقت اپنے گھر جاتےاور اپنے گھر پر ہی کھانا تناول فرماتے۔ مدرسہ میں آکر ظہر کی نماز با جماعت ادا کرتے اور پھر دفتر میں داخل ہوجاتے اور  جو کام ہوتا اسے انجام دیتے۔ چاہے جتنا بھی کام کا بوجھ ہوتا، مگر آپ کسی طرح کی جھنجھلاہٹ کا اظہار نہیں کرتے۔ آپ ہمیشہ خوش نظر آتے۔

حضرت مولانا موسی ماکروڈ صاحبؒ اور آپ کے صاحبزادے حضرت مولانا اسماعیل صاحبؒ  بندے  کےساتھ جو شفقت وکرم فرمائی اور پیار ومحبت کا معاملہ کرتے، اپنے گھر کے ایک فرد جیسا سلوک کرتے، اسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے بحیثیت مدرس تقریبا ڈھائی سال اس ادارہ میں خدمت انجام دی۔ مدرسہ میں کوئی پروگرام ہوتا؛ تو عام طور پر پروگرام کی نظامت کی ذمے داری اس راقم کو سپرد کرتے۔ ایک بار مرکز اسلامی کے جلسہ دستار بندی کی نظامت کی ذمے داری بھی اس بندے کو سپرد کی۔ اس جلسہ کی صدارت حضرت مولانا قمر الزماں صاحب الہ آبادی (دامت برکاتہم) فرما رہے تھے۔

جب کسی ادارہ میں کسی تقریب کا انعقاد ہوتا؛ تو اس راقم کو اس تقریب میں شرکت کے لیے ضرور بھیجتے۔  جب وہاں سے واپس آتا؛ تو دفتر میں بلا کر، تقریب کی پوری کارگزاری سنتے۔ اس طرح بندہ کو گجرات کے کئی مدارس کی زیارت کاموقع ملا۔ جب کہیں سے کوئی نئی کتاب یا رسالہ آتا؛ تو اس راقم کے حوالے کرتے،اس کی خواندگی کا حکم کرتے اور فرماتے کہ بھیجنے والوں کو شکریہ کا خط لکھ دوں۔

حضرت  کی انسانیت نوازی، خلوص اور اپنائیت آج کے دور میں تلاش بسیار کے بعد بھی مشکل سے ملتی ہے۔ بہرحال، اب آپؒ اس دنیا میں نہیں رہے۔ ایک کامیاب زندگی گزارکر ، آپ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ مجھے  یقین ہے کہ آپ کے اخلاق کریمانہ کی وجہ سے بہت سے آپ کے محبین ومتعلقین اور خاص طور پر مرکز اسلامی سے استفادہ کرنے والے سیکڑوں طالبان علوم نبوت آپ کو مدتوں یاد کریں گے۔

کچھ ایسی ہستیاں بھی عالمِ فانی میں آتی ہیں

فنا  کے  بعد بھی  جن کو زمانہ  یادکرتا ہے

اس جہان اور ہم سب کے خالق ومالک اللہ سبحانہ وتعالی نے حضرت مولانا موسی صاحب ماکروڈؒ کے لیے یہی وقت اور تاریخ مقرر کررکھا تھا؛ چناں چہ وہ اپنے وقت پر چلے گئے۔ انھوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ مرکز اسلامی کی آبیاری میں صرف کیا۔ اللہ کے فضل وکرم سے، انھوں نے اس  ادارہ کو ایک چھوٹے سے پودے کی شکل میں شروع کیا اور اسے ایک بڑا ثمر آور درخت بنایا ۔ اس ادارہ سے سیکڑوں طالبان علوم نبوت نے استفادہ کیا اور کر رہے ہیں۔ اب ان کی ذمے داری ہے کہ وہ حضرت والا کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں، ان کے لیے ایصالِ ثواب کریں، اپنی استطاعت کے مطابق ان کی طرف سے صدقہ وخیرات کریں اور ان کے پس ماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کریں۔

آپ کی ولادت اور آبائی وطن:

        حضرت مولانا موسی ماکروڈ صاحب کی پیدائش مورخہ: 22/نومبر 1939 کو اپنے آبائی گاؤں:"دیوا"، ضلع: بھروچ، گجرات  میں ہوئی۔ آپ کے والد ماجد کا نام جناب اسماعیل ماکروڈ تھا۔آپ کے والد ماجد معاش کی تلاش میں، ہندوستان سے افریقی ملک ساؤتھ افریقہ کے لیے رخت سفر باندھا۔ پھر ساؤتھ افریقہ کے مشہور شہر: ڈربن میں  مقیم رہ کر، اپنے اہل عیال کی کفالت کے لیے جد وجہد میں لگے رہے۔

تعلیم وتعلم:

آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی۔ پھر ثانوی درجے کی تعلیم کےحصول کے لیے سن 1952 میں، جامعہ حسینیہ، راندیر، سورت میں داخلہ لیا۔ آپ نے اس ادارہ سے فضلیت تک کی تعلیم کی حاصل کی۔  سن 1959ء میں، آپ نے  دورۂ حدیث شریف کی تکمیل کی۔ آپ نے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگردحضرت مولانا احمد صاحبؒ سے بخاری شریف پڑھی اور اجازتِ حدیث حاصل کی۔

جامعہ حسینیہ سے فراغت کے بعد، دار العلوم دیوبند کے اساتذۂ کرام سے استفادہ کےلیے "دیوبند" کا سفر کیا۔ آپ تقریبا دو سال تک دیوبند میں مقیم رہے۔ اس دوران آپ نے اساتذۂ دار العلوم، دیوبند  کے اسباق میں شرکت کرکے استفادہ کیا۔ آپ نے حضرت علامہ محمد ابراہیم بلیاوی صاحبؒ، حضرت علامہ فخر الدین صاحبؒ اور حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ  کے دروس میں خاص طور پر شرکت کرکے استفادہ کیا۔ دیوبند میں قیام کے دوران، آپ دار العلوم کے کبار اساتذہ کرام کی مجلسوں میں بھی شرکت کرتے  اور ان کے ملفوظات سے استفادہ کرتے۔

بیعت وسلوک اور اجازت وخلافت:

حضرت مولانا موسی ماکروڈ صاحبؒ کا ایک طویل زمانے تک حضرت تھانویؒ کے خلیفہ حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحبؒ سے اصلاحی تعلق رہا۔ ان کی وفات کے بعد، حضرت شیخ الحدیث کے خلیفہ اجل، حضرت مولانا معین الدین صاحب گونڈویؒ، (سابق شیخ الحدیث: مدرسہ عربیہ امدادیہ، مرادآباد، یوپی) سے اصلاحی تعلق رہا۔ ان کی وفات کے بعد، آپ نے  شیخ طریقت حضرت مولانا قمر الزماں صاحب الہ آبادی مدظلہ سے اصلاحی تعلق قائم کیا۔ حضرت مولانا الہ آبادی –مدظلہ العالی–اور حضرت مولانا منیر صاحب–دامت برکاتہم–نے آپ  کو خلافت سے بھی نوازا، الحمد للہ۔

آپ کی وفات:

حضرت مولاناکروڈ صاحبؒ مختصر سی علالت کے بعد،  5/اگست 2020 کو، صبح چار بجے، انکلیشور میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔

آپ کے پس ماندگان

حضرت مولاناموسی ماکروڈ صاحبؒ کو اللہ تعالی نے تین بیٹے اور چار بیٹیوں سے نوازا۔ آپ کے ایک صاحب زادے: حضرت مولانا اسماعیل ماکروڈ صاحبؒ نائب مدیر: دار العلوم مرکز اسلامی وڈائریکٹر: مرکز اسلامی ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر تھے جن کی وفات 17/نومبر2018 کو، جودھپور سے انکلیشور آتے ہوئے ایک کار حادثہ میں ہوگئی۔مولانا مرحوم کو اپنے اس صاحبزادے سے بہت امیدیں وابستہ تھی۔ مگر اللہ سبحانہ وتعالی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ بہرحال، جب تک مولانا اسماعیل صاحب آپ کے ساتھ رہے،آپ  کے بڑے ہی معاون، بہت سے تعلیمی وانتظامی کاموں میں آپ کے رفیق  اور سیکڑوں کام کی انجام دہی  میں وہ آپ کا ہاتھ  بٹاتے رہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک بیٹے کے لیے اپنے والد کا  جنازہ اٹھانا اتنا مشکل نہیں ہوتا، جتنا ایک بوڑھے باپ کے لیے اپنے جوان بیٹے  کا جنازہ اٹھانا مشکل ہوتا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا موسی صاحبؒان کی وفات سے بہت متاثر ہوئے۔  ان کی وفات کے بعد، جب بھی مولانا سے میری بات ہوتی؛ تو  وہ اپنے صاحبزادے کا ذکر خیر ضرور کرتے ۔

آمدم بر سر مطلب! مولانا اسماعیل صاحب کی وفات کے بعد،آپ کے  پس ماندگان میں، آپ کی  اہلیہ محترمہ–حفظہا اللہ –،دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ آپ کےایک صاحبزادے جناب اقبال موسی ماکروڈصاحب ہیں جو اپنی اہلیہ کے ساتھ لیسٹر، انگلینڈ میں مقیم تھے۔ حضرت مولانا اسماعیل صاحبؒ کی وفات کے بعد، اپنے والد کے معاون ومددگار کی حیثیت سے دار العلوم مرکزاسلامی میں، خدمت انجام دینا شروع کیا اور اب تک مرکز سے منسلک ہیں۔  دعا ہے کہ اللہ پاک آپ کی خدمات کو قبول فرمائے اور اجر عظیم عطا فرمائے!

آپ کے دوسرے صاحبزادےجناب زبیر موسی ماکروڈ صاحب ہیں۔ وہ نیو یارک، امریکہ میں اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ مقیم ہیں۔ آپ کی چار بیٹیوں میں سے ایک  بلقیس یوسف ٹوپیا ہیں۔ وہ ایک خاتونِ خانہ ہیں۔ وہ   گلاسٹر، انگلینڈ میں اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ مقیم ہیں۔ پھر آپ کی دوسری صاحبزادی  نفیسہ سعید حجازی ہیں جو نیویارک، امریکہ میں اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ مقیم ہیں۔ آپ کی تیسری صاحبزادی ہاجرہ جاوید جوگیات ہیں جو  نونیٹن، برطانیہ میں اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ مقیم ہیں۔ آپ سب سے چھوٹی صاحبزادی  خدیجہ سعید پٹیل ہیں۔ وہ بھی اپنے خاوند کے ساتھ نیو یارک، امریکہ میں مقیم ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ پاک حضرت مولانا ماکروڈ صاحبؒ کو جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے اور ان کے  پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے! آمین!

حضرت مولانا موسی ماکروڈ صاحب ؒ  کی تعلیمی خدمات

دار العلوم مرکز اسلامی کا قیام:

ہمارے حضرت مولاناموسی ماکروڈ صاحبؒ نے چھوٹی بڑی درجنوں خدمات امت کے لیے انجام دی۔ ہم آپ کی  تعلیمی خدمات کو یہاں مختصرا پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے آپ کی خدمات کا عظیم شاہ کار دار العلوم مرکزِ اسلامی کا قیام ہے۔ آپ نے اس ادارہ کی تاسیس وقیام کے روز اول سے اپنی موت تک، اپنے چند رفقاء کرام کی معیت میں، اس ادارہ کو احسن طریقے سے چلایا۔ یہ ادارہ کیسے قائم ہوا اور کیوں قائم ہوا، ہم ذیل میں اس پر روشنی ڈالتے ہیں۔ پھر اس ادارہ کی خدمات کو بھی مختصرا ہم پیش کریں گے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ قارئین کرام کو معلوم ہوسکے کہ مولانا ماکروڈؒ نے اس ادارہ کو کیوں قائم کیا اور اس کا پس منظر کیا ہے؟ پھر اس ادارہ نے  امت کے لیے کیا خدمات پیش کی۔

گجرات کی سرزمین پر "دار العلوم مرکزِ اسلامی، انکلیشور" ایک جانا پہچانا نام ہے۔اس ادارہ کی تاسیس کے حوالے حضرت مولانا موسی صاحب رحمہ اللہ بتایا کرتے تھے کہ وہ ذریعۂ معاش کے لیے، اپنے گاؤں کے قریب کے شہر"انکلیشور" میں، ایک اسٹیشنری کی دوکان کا آغاز کیا اور اس میں مشغول ہوگئے۔ آپ کے استاذ حضرت مولانا محمد سعید صاحب راندیریؒ، مھتمم: جامعہ حسینیہ، راندیر، سورت،نے آپ کو مشورہ دیا کہ دوکان کے ساتھ ساتھ، آپ انکلیشور میں، ایک مکتب قائم کریں اور وہاں کے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کریں! حضرت راندیریؒ کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے، آپ نے سن 1975ء میں، انکلیشور مسافر خانہ میں"انوار الاسلام" کے نام سے ایک مکتب قائم کیا اور اپنی دوکان چلانے کے ساتھ ساتھ، جز وقتی طور پر  بچے اور بچیوں  کو بنیادی دینی تعلیم سے آراستہ کرنے میں مصروف ہوگئے۔

کچھ سالوں کے بعد، طلبہ کی کثرت کی بنا پر مسافر خانے کی جگہ تنگ ہونے لگی؛ لہذا دوست واحباب کے مشورے سے آپ نے انکلیشور میں ایک بڑی جگہ پر، ایک ادارہ قائم کرنے کی نیت کرلی۔آپ نے انکلیشور میں جی جی سی ایل (گجرات گیس کمپنی لمیٹیڈ) کے قریب، بتوفیق خداوندی ایک بڑی زمین کا انتظام کرلیا۔ پھر سن1405ھ = مطابق: 1984ء میں،"دار العلوم مرکزِ اسلامی" کے نام سےاس ادارہ کا سنگ بنیاد، وقت کی دو عظیم شخصیات حضرت مولانا رضا احمد صاحب اجمیری ؒ، شیخ الحدیث: دار العلوم اشرفیہ، راندیر، سورت، گجرات اور حضرت مولانا معین الدین صاحب گونڈویؒ، شیخ الحدیث: مدرسہ عربیہ امدادیہ، مراد آباد کے ہاتھوں ڈلوایا۔

جب تک یہ اکابرباحیات رہے، ادارہ ان کی سرپرستی میں چلتا رہا۔ حضرت مولانا رضا احمد اجمیری صاحبؒ کی وفات کے بعد، حضرت مولانا معین الدین صاحبؒ گونڈوی اس ادارہ کی سرپرستی کا فريضہ انجام دیتے رہے۔ حضرت گونڈوی کی وفات کے بعد، اس وقت ادارہ کی سرپرستی شیخِ طریقت حضرت مولانا قمر الزماں صاحب الہ آبادی (حفظہ اللہ) فرمارہے ہیں۔ حضرت شیخ طریقت کی سرپرستی اور حضرت مولانا موسی ماکروڈ صاحب –رحمہ اللہ– کے زیر اہتمام، اب تک یہ ادارہ  دن بہ دن ترقی کے منازل طے کر رہا تھا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی اس ادارہ کو حضرت مولانا  کا نعم البدل عطا فرمائے اور مستقبل میں مزید ترقیات سے نوازے اور یہ دین کا قلعہ ہمیشہ سر سبزو شاداب رہے!

دار العلوم مرکزِ اسلامی میں، اردو کے ابتدائی درجات سے عالمیت تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ وقت اور تقاضے کو مد نظر رکھتے ہوئے "نصاب" میں قدرے ترمیم کرکے، عربی چہارم تک کے طلبہ کے لیے انگریزی زبان اور کمپیوٹر کی تعلیم کا بھی نظم ہے۔ اب تک اس ادارے  سے تقریبا پانچ سو طلبہ کرام عالمیت کی تکمیل کے بعد، ہند وبیرون ہند میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

عالمیت کے علاوہ، اس ادارہ میں  حفظ القرآن الکریم کے گیارہ حلقے ہیں۔ان حلقوں میں 260 طلبہ کرام، 11 ماہر اساتذۂ حفظ کی زیر نگرانی، کلام اللہ شریف کو زبانی یاد کرتے ہیں۔ اب تک دار العلوم کے شعبہ حفظ سے 536 طلبہ نے حفظ القرآن الکریم کی تکمیل کی ہے۔

قرآن کریم کو صحیح طریقے سے تجوید کے ساتھ پڑھنا لازم اور ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص قرآن کریم کو تجوید کے ساتھ نہیں پڑھتا؛ تو وہ گنہگار ہے۔حضرت مولانا موسی صاحبؒ نے اس بات کا خیال کرتے ہوئے، مرکز میں تجوید وقرات کا ایک شعبہ قائم کیا۔ سن 1440ھ کی رپورٹ کے مطابق، اس شعبے سے 120 طلبہ نے حفص، 94 طلبہ نے سبعہ، 42 طلبہ نے ثلاثہ اور 9/طلبہ نے عشرۂ کبیر کی تکمیل کرکے قاری کی سند حاصل کی ہے۔ یہ طلبہ ہند وبیرون ہند میں تجوید کی تدریس اور مساجد میں امامت وخطابت کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔

دار العلوم مرکزِ اسلامی سے فارغ ہونے والے طلبہ میں، فقہ وفتاوی کی دل چسپی کو محسوس کرتے ہوئے، دار العلوم نے سن 2010ء میں "تخصص في الفقہ" کا شعبہ قائم کیا۔ اس شعبہ میں طلبہ کرام داخل ہوکر، مفتیان کرام کی نگرانی میں، فقہ اسلامی میں مہارت حاصل کرتے ہیں۔ اب تک  29/علماء کرام نے یہاں سے مفتی کی سند حاصل کی ہے اور وہ قوم وملت کی خدمت میں مشغول ہیں۔

جو طلبۂ کرام دار العلوم میں زیر تعلیم ہیں، ان میں تقریری وتحریری صلاحیت پیدا کرنے کے لیے دار العلوم میں تین انجمنیں بھی ہیں جن کا ہفت واری پروگرام، اساتذۂ کرام کی نگرانی میں، بڑی پابندی سے منعقد کیا جاتا ہے۔ "انجمن تربیت الطلبہ" کے نام سے جو انجمن ہے، اس کے تحت طلبہ اردو زبان میں تقریر وتحریر کی مشق کرتے ہیں۔ عربی زبان میں تقریری وتحریری صلاحیت کو بیدار کرنے کے لیے "النادي الأدبي" کے نام سے ایک انجمن قائم ہے۔ اسی طرح تلاوت، اذان، امامت اور خطبۂ جمعہ وغیرہ کی تربیت کے لیے بھی ایک انجمن ہے جسے "انجمن تحسین القرآن الکریم" کے نام سے جانا جاتا ہے۔

سن 1984ء  میں طلبہ اور اساتذہ کی معمولی تعداد سے،حضرت مولانا موسی ماکروڈ صاحبؒ نے دار العلوم مرکز اسلامی قائم کیا۔ اللہ تعالی نے اس ادارے کو مقبولیت سے نوازا  اور آج اس ادارے میں تقریبا 550/ طلبہ کرام مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں جنھیں دار العلوم تعلیم اور حسن اخلاق کے زیور سے سنوارتا ہے۔ ان طلبہ کی تعلیمی وذہنی آبیاری کے لیے جہاں 44/اساتذۂ کرام شب وروز مشغول رہتے ہیں، وہیں دوسرے 15/ملازمین مطبخ، واشنگ روم، صفائی وغیرہ کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ سب اللہ پاک کی مہربانی اور حضرت مولانا ماکروڈ صاحبؒ کے حسن انتظام کا نتیجہ ہے۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ان کی خدمات کو قبول فرمائے، جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے اور اس ادارہ کو ہر طرح کے شرور وفتن سے محفوظ رکھے!

مرکزِ اسلامی گجراتی اسکول کا قیام:

عصر حاضر میں اسلامی اسکول کی اہمیت وافادیت سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا؛ بل کہ آج بہت سے مفکرین واہل قلم حضرات اپنے خطابات ومقالات میں وقت کی اس اہم ضرورت کی جانب توجہ دلاتے ہیں کہ جس شخص یا تنظیم وادارہ کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اسلامی اسکول چلاسکتے ہیں؛ تو وہ ضرور چلائیں۔  الحمد للہ،  حضرت مولانا ماکروڈ صاحبؒ نے اس ضرورت کو بہت پہلے محسوس کیا اور تقریبا چار دہائی قبل، سن 1984 میں، دار العلوم مرکزِ اسلامی کے زیر انتظام، ایک اسلامک  اسکول بہ نام: "مرکزِ اسلامی گجراتی اسکول" قائم کیا۔یہ اسکول "گویا بازار، انکلیشور" میں، دار العلوم کی عمارت میں چل رہا ہے۔اس اسکول کا مقصد مسلم بچوں کو اسلامی ماحول میں عصری تعلیم کے ساتھ حسن اخلاق سے بھی سنوارنا ہے۔یہ اسکول گجرات حکومت سے دسویں جماعت تک منظور ہے۔ اس میں تقریبا 432/ طلبہ، 15 اساتذہ کرام کی نگرانی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ طلبہ اس اسکول سے تعلیم کی تکمیل کے بعد، مختلف کالجز اور یونیور سٹیز میں اعلی تعلیم کے لیے داخلہ لیتے ہیں۔ الحمد للہ علی ہذا!

مرکز اسلامی ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر کا قیام:

عصر حاضر میں انگریزی زبان کی اہمیت وافادیت چاہے وہ مختلف علوم وفنون کو جاننے اور سمجھنے کے حوالے سے ہو یا پھر دین متین کی دعوت وتبلیغ کے حوالے سے،کسی بھی اہل عقل وخرد پر مخفی نہیں ہے۔ چناں چہ حضرت مولانا موسی صاحبؒ نے اپنے چھوٹے صاحبزادےحضرت مولانا اسماعیل صاحبؒ "مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، دہلی" میں انگریزی زبان کے حصول کے لیے بھیجا۔ انھوں نے اس ادارے میں رہ کر انگریزی زبان سیکھی۔ پھر جب اپنے وطن لوٹے؛ تو انھوں مرکز المعارف کے سلسلے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔حضرت مولانا اسماعیل صاحبؒ نے اپنے والد ماجدؒ کو علماء کرام کے لیے انگریزی زبان وادب کی اہمیت وافادیت کا بار بار ذکر کرتے رہے۔ کئی بار آپ نے اپنے والد صاحبؒ  کو ادارہ قائم کرنے کی جانب متوجہ بھی کیا۔

دوسری طرف حضرت مولانا موسی صاحبؒ کے ذہن میں بھی یہ بات آئی کہ مدارس اسلامیہ ہندیہ سے ہر سال کئی ہزار طلبہ فارغ ہوتے ہیں۔ ان جدیدفارغین کو انگریزی سکھانے کے لیے صرف ایک مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر کافی نہیں ہے؛ بل کہ اس ادارے کے طرز اور نہج پر اور بھی اداروں  کا قیام  وقت کی اہم اور اشد ضرورت ہے؛ تاکہ زیادہ سے زیادہ فضلاء مدارس اسلامیہ انگریزی زبان وادب سے مسلح ہوکر، عصر حاضر میں، بغیر کسی جھجھک کے کسی سے بھی مخاطب ہوکر، بہ سہولت دینی ودعوتی خدمات انجام دے سکیں۔

حضرت مولانا موسی صاحبؒ شعبہ انگریزی کے قیام کے لیے تیار ہوگئے؛ مگر انھوں نے قیام سے قبل یہ مناسب سمجھا کہ اکابر علما کرام سے اس سلسلے میں مشورہ کرلیا جائے کہ دار العلوم کے احاطہ میں اس شعبہ کا قیام کیسا رہے گا۔ پھر حتمی طور پر ان کے مشورہ کے مطابق عمل کیا جائے۔ پھر آپ نے متعدد اکابر علما سے درخواست کی کہ وہ حضرات اپنی رائے سے مطلع فرمائیں۔ان اکابر نے انگریزی زبان کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے، اس شعبہ کے قیام کی موافقت کی۔ ان علما کی موافقت سے ہمت وحوصلہ پاکر، حضرت مولانا موسی صاحب نے احاطۂ دار العلوم مرکز اسلامی میں اس شعبہ کے قیام کا پختہ ارادہ کرلیا۔

سینٹر کی تاسیس:

مشورہ کے بعد، مولانا ماکروڈ صاحبؒ نے اس شعبے کے قیام کےلیے منصوبہ بندی شروع کردی۔ اس منصوبے کے تحت دار العلوم مرکزِ اسلامی، انکلیشور کے زیر انتظام، دار العلوم کے ہی احاطے میں "مرکزِ اسلامی ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر" کے نام سے انگریزی زبان وادب کے شعبے کاقیام عمل میں آیا۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ انگریزی زبان وادب کا دوسالہ کورس ایک دینی مدرسہ کے احاطہ میں قائم ہورہا تھا۔  اس شعبے کی نظامت کی ذمہ داری  مولانا ماکروڈ صاحبؒنے اپنے صاحبزادے مولانا اسماعیل صاحبؒ کو سپرد کی۔ مولانا اسماعیل صاحب ؒنے اس خاکہ میں رنگ بھرنے کی پیہم کوشش شروع کردی؛ چناں چہ اپنے ہی ایک ساتھی حضرت مولانا شمس الہدی صاحب قاسمی کی تقرری اس شعبہ کے استاذ اور ہیڈ ٹیچر کے طور پر کی۔ اس ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے مختلف مدارس وجامعات کے نو فارغ، ان فضلا کو داخلہ دیا گیا جن کو دعوت وتبلیغ اور زبان وادب کے سیکھنے میں دل چسپی تھی۔ پھر اس ادارہ نے عملی طور پر اپنی خدمات شروع کی۔

سینٹر کے فیض یافتگان کی تعداد اوران کی خدمات:

ہر سال مختلف مدارس اور جامعات سے فارغ ہونے والے علما کی ایک بڑی تعداد، اس شعبے میں داخلے کے لیے کوشش کرتی ہے؛  تاکہ وہ دینی ودعوتی مقاصد کو پیش نظر رکھ کر انگریزی زبان سیکھ سکیں۔ شروع میں تو تقریبا پچیس علما کو داخلہ دیا جاتا تھا۔ اب چند سالوں سےتقریبا30-35/ کو داخلہ دیا جاتا ہے۔ الحمد للہ،  یہ ادارہ تقریبا 17/سالوں سےمدارس وجامعات کے فضلا کو انگریزی زبان وادب سے مسلح کر رہا ہے۔ اس قلیل مدت میں اب تک اس ادارے سے جتنے علماء کرام نے انگریزی زبان وادب کےحوالے سے استفادہ کیا ہے، ان کی تعدادتقریبا"دو سو ستر" ہے، الحمد للہ۔ ان میں سےاکثر علما تدریسی خدمات میں مشغول ہیں۔ ان میں سے درجنوں دوسرے ممالک مثلا: برطانیہ، امریکہ، کناڈا، ساؤتھ افریقہ، زامبیا، زمبابوے، بوسٹوانا، آسٹریلیا وغیرہ میں تدریسی اور دینی ودعوتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالی ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور شعبہ کی نیک نامی کا ذریعہ بنائے! آمین!●●●