Sunday, May 30, 2021

غاصب اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز کا مرتکب

‏‏غاصب اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز کا مرتکب

 

از: خورشید عالم داؤد قاسمی

 

Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

 

غاصب ریاست اسرائیل،اس کی قابض فوجیں اور اس کے غیر مہذب، شدت پسند صہیونی شہری ہر وقت کسی نہ کسی حیلہ اور بہانہ کی تلاش وجستجو میں لگے رہتے کہ کوئی موقع ہاتھ لگے اور بچے کھچے فلسطین پر بمباری شروع کردیں، فلسطین کے معصوم شہریوں پر راکٹ داغ سکیں، فلسطینیوں کے خلاف بے دریغ اپنے اسلحہ کا استعمال کرسکیں، ان کے خون سے اپنی پیاس بجھا سکیں، ان کی سر سبز وشاداب کھیتی اور ہرے بھرے باغات کو نذر آتش کرکے اپنی درندگی کو سکون پہنچا سکیں۔ ابھی اوائل رمضان (1442ھ)میں یہ خبر آئی تھی کہ  اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے وسطی غزہ میں، البریج مہاجر کیمپ کے قریب اور خان یونس کے مقام پر متعدد بار  بمباری کی۔ انھوں نے  جنوبی غزہ میں رفح کے مقام پر میزائل داغا۔  ہر مہینے، دو مہینے میں ایک دو بار اس طرح کی بمباری کرنا اور میزائل داغنا غاصب ریاست کے معمول کا حصہ ہے۔ جہاں تک قابض اسرائیلی فوجیوں کی بات ہے، تو اس کا کسی نہ کسی شکل میں فلسطینیوں پر ظلم وجور کرنا، ان کو تکلیف واذیت دینا اور خطرناک اسلحہ سے لیس ہوکر، ان کو خوف زدہ اور دہشت زدہ کرنا، تو بغیر کسی استثناء کے  شب وروز کا مشغلہ ہے۔

 

غاصب ریاست اسرائیل کی طرف سے فلسطین کے خلاف اس طرح کی منظم تباہی وبربادی اور معصوم انسانی جانوں کی ہلاکت پر کسی عالمی طاقت نے نوٹس لےکر، اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے یا پھر کسی دوسری یونین اور تنظیم  کے پلیٹ فارم سے اسرائیل کے خلاف کاروائی کا پرزور مطالبہ نہیں کیا۔ جب بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی یا اس کے ذیلی ادارے میں اس طرح کی بات آتی ہے؛ تو محض رسمی طور پر مذمتی قرار داد پاس کرکے، سب کے سب خاموش ہوجاتے ہیں اور اسرائیلی حکومت اپنے طور پر اس قرارداد کو مسترد کرکے، سکون کی سانس لینا شروع کردیتی ہے۔ اگر اقوام متحدہ میں اس سے زیادہ کچھ کرنے کی کوشش کی جائے گی؛ تو امریکہ بہادر اسے ویٹو کرنے کے لیے تیار بیٹھا رہتا ہے۔

 

ابھی ماہ رواں یعنی بہ روز منگل، 27/ اپریل 2021 کو "ہیومن رائٹس واچ" نے 213صفحات مشتمل اپنی تفصیلی اور جامع رپورٹ پیش کی ہے۔ اس تنظیم نے اپنی رپورٹ میں یہ بات واضح طور پر کہی ہے کہ اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں اور اپنے عرب شہریوں (وہ فلسطینی جنھوں نے اسرائیلی شہریت اختیار کرلی ہے۔) کے خلاف "اپارتھائیڈ"  (Apartheid) اور ریاستی جبر واستبداد، ظلم وستم کے جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی حکمت عملی یہ ہے کہ اپنے عرب شہریوں سمیت مقبوضہ علاقوں کے فلسطینیوں پر یہودی اسرائیلیوں کے تسلط کو قائم رکھا جائے۔ "ہیومن رائٹس واچ" نے اپنی اس رپورٹ میں "بین الاقوامی عدالت" سے اپیل کی ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف برتی جانے والی نسلی امتیاز کے حوالے سے جانچ کرے اور اس جرم میں ملوث پائے جانے والے لوگوں کے خلاف قانونی کاروائی کرے۔  اپارتھائیڈ (Apartheid) انگریزی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا معنی ہے: "ایک ایسا سیاسی نظام جہاں ، لوگ واضح طور پر رنگ، نسل، جنس وغیرہ کی بنیاد پر آپس میں منقسم ہوں۔" یہاں اس رپورٹ میں اس لفظ کا مطلب فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز کی ایسی پالیسی ہے جسے غاصب اسرائیل ریاست انجام دے رہی ہے۔ یہ عالمی قانون کے تحت انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرمسٹر  کینتھ روتھ نے صاف صاف یہ بیان دیا ہے کہ اسرائیل چالس سالوں سے فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ مسٹر کینتھ روتھ نے کھلے لفظوں میں یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت پر فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ جرائم کے ارتکاب کے ثبوت موجود ہیں۔ واضح رہے کہ ہیومن رائٹس واچ حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم جو عالمی سطح پر حقوق انسانی کے لیے کام کرتی ہے۔ اس کی ہیڈ آفس امریکہ کے نیویارک شہر میں قائم ہے۔

 

امریکی صدر جو بائیڈن کے اقتدار سنبھالتے ہی، اقوام متحدہ میں قائم امریکی سفیر رچرڈ ملز نے 26/جنوری 2021 کو کہا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن فلسطینیوں کی مدد بحال کرنے اور ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں بند کیے گئے فلسطینی سفارتی مشن کو جلد کھولنا چاہتے ہیں۔ اس سفیر نے مزید کہا تھا کہ بائیڈن کی پالیسی فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے دو ریاستی حل کی حمایت پرمبنی ہے۔ وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے لیے الگ الگ ریاستوں کے قیام کے حامی ہیں، جہاں اسرائیل کے ساتھ فلسطینی بھی اپنی ایک آزاد ریاست میں جی سکیں۔ اس خبر کے بعد، انسانیت پسند لوگوں کو ایک امید جگی تھی کہ امریکہ کی موجودہ انتظامیہ اپنے پیشرو کے غلط فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مظلوم فلسطینیوں کے لیے کچھ مثبت فیصلے لے گی؛ مگر "ہیومن رائٹس واچ" کی اس رپورٹ کے آتے ہی بائیڈن انتظامیہ نے بھی امید کے برخلاف اس رپورٹ کو مسترد کردیا اور اسرائیل کو بچانے کے لیے میدان میں آگئی۔   وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین بسا کنی نے یہ بیان دیا ہے کہ ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف جو رپورٹ آئی ہے اور جس میں اسرائیل پر نسل پرستی کا الزام لگایا گیا ہے، وہ ہمارے موقف  کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ ہر سال انسانی حقوق کی تحقیقات کرتا ہے اور اس حوالے سے ایک رپورٹ شائع کرتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے  اسرائیل کے حوالے سے کبھی بھی ایسی اصطلاح استعمال نہیں کی۔

 

جہاں ایک طرف "ہیومن رائٹس واچ" کی یہ تفصیلی رپورٹ 27/ اپریل 2021 کو  آئی، وہیں دوسری طرف بیروت میں منعقد ہونے والی عرب پارلیمنٹ اجلاس کی طرف سے، اسی دن ایک بیان جاری کیا گیا۔ اس کا ایک حصہ یہاں پیش کیاجاتا ہے۔ اس کے بعد، ہم اس پر بھی غور کریں گے کہ یہ بیان کتنا موثر ثابت ہوگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ انسانی حقوق کی تنظیموں، قومی پارلیمنٹس اور بین الاقوامی پارلیمانی یونینوں سے وابستہ بین الاقوامی تنظیموں سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے، قانونی احتساب کے اصول کو فعال کرنے اور اس قابض ریاست اور اس کے آباد کاروں  کے خلاف کارروائی پر زور دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ بیان میں  مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بیت المقدس کےہمارے فلسطینی بھائیوں کو جبروتشدد کے ذریعے اپنے گھر بار چھوڑنے پرمجبور کررہا ہے۔ اسرائیلی ریاست بیت المقدس کی آئینی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے یہودی آباد کاروں کا فلسطینی آبادی پر غلبہ اور تسلط قائم کرنا چاہتی ہے۔ عرب پارلیمانی یونین نے بین الاقوامی برادری ، سلامتی کونسل اور دنیا کے تمام آزاد ضمیر انسانوں  سے مطالبہ کیا ہے کہ و ہ قابض ریاست اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جاری سنگین جرائم کی روک تھام کے لیے آواز بلند کریں۔ واضح رہے کہ "عرب پارلیمنٹ" عرب لیگ کا ایک ذیلی ادارہ ہے جو 27/ دسمبر 2002 کو قائم ہوا۔ عرب ممبر ممالک میں سے ہر ایک کی طرف سے تقریبا چار چار افراد اس پارلیامنٹ کے رکن ہیں۔

 

ایک طرف عرب پارلیمنٹ کا یہ بیان ہے؛ جب کہ دوسری طرف کچھ عرب ممالک کے عملی اقدامات ہیں۔  اب ان دونوں صورت حال کو پیش نظر رکھ کر، دوسرے بین الاقوامی برادری سے کچھ دیر کے لیے صرف نظر کرکے، صرف عرب اور مسلم ممالک پر توجہ دیجیے اور غور کیجیے؛ تو ایک اہم سوال آپ کے سامنے آئے گا کہ کیا ان ممالک پر عرب پارلیمنٹ کے اس مطالبہ کا کچھ اثر پڑے گا؟ جواب یقینا نفی میں ہوگا۔ اس کی وجہہ یہ ہے کہ ابھی چند مہینے پہلے کچھ عرب ممالک نے، امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نگرانی میں، غاصب ریاست اسرائیل کی طرف خوشی خوشی دوستی کا ہاتھ بڑھا کر،اس سے سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں۔  کسی شروط وقیود کے بغیر ان ممالک کا غاصب ریاست کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنا، در حقیقت غاصب ریاست کے سنگین جرائم کو جواز فراہم کرنے جیسا ہے۔ پھر یہ ممالک قابض وغاصب ریاست اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جاری سنگین جرائم کی روک تھام کے لیے اپنی آواز کیسے بلند کرسکیں گے! غاصب ریاست اسرائیل کا فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز  اور ریاستی جبر واستبداد کے جرائم کا مرتکب ہونے کے بعد بھی کچھ عرب ریاستوں کااسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے رہنا اور "عرب پارلیمنٹ"  کے ذریعے عالمی برادری سے اسرائیل کے خلاف آواز بلند کرنے کا مطالبہ  زبانی جمع خرچ کرنے کے برابر ہے۔

 

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ یہ بعض عرب ممالک اپنی طرف سے جتنی بھی کوشش کرلیں، جس درجے کی بھی دوستی کرلیں، جس سطح کے بھی تعلقات قائم کرلیں، غاصب وقابض ریاست اسرائیل اور اس کا آقا امریکہ کبھی بھی ان ممالک کے حقیقی کے دوست نہیں ہوسکتے ہیں۔  قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ. (سورہ مائدۃ: 51) ترجمہ: "اے ایمان والو! یہودیوں اور نصرانیوں کو یار ومددگار نہ بناؤ۔ یہ خود ہی ایک دوسرے کے یار ومددگار ہیں۔ اور تم میں سے جو شخص ان کی دوستی کا دم بھرے گا؛ تو پھر وہ انہی میں سے ہوگا۔"  اللہ پاک ہم سب کو پیغامات قرآنی کو سمجھنے اور ان پر عمل کی توفیق عطا فرمائے!  ●●●

زکاۃ اسلام کا خوب صورت معاشی نظام






زکاۃ اسلام کا خوب صورت معاشی نظام

زکاۃ اسلام کا خوب صورت معاشی نظام

 

از: خورشید عالم داؤد قاسمی

 

Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

 

زکاۃ اسلام کا خوب صورت نظام:

زکاۃ اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے۔ وہ ایک ایسا کمیاب نظام ہے، جو فقیروں کی ترقی کا ضامن اور مسکینوں کی خوش حالی کا کفیل ہے۔زکاۃ اسلام کا ایسا اہم نظام ہے کہ اس کے ذریعے سماج سے غربت کا خاتمہ بآسانی کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے کہ اس سے امیروں اور فقیروں کے درمیان محبت والفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ غریبوں اور مسکینوں کی مدد اور تعاون کا یہ ایک ایسا نظام ہے کہ اس میں ان کو کسی طرح کا سود نہیں دینا ہوتا۔ زکاۃ یہ وہ حق ہے، جسے کائنات کے خالق نے اپنے فقیر ومسکین اور ان جیسے بندوں کے لیے متعین کیا۔  زکاۃ اسلام کا وہ خوب صورت اقتصادی ومعاشی نظام ہے جو اقتصادی ومعاشی سطح پر کمزور اور مجبور لوگوں کو مضبوط کرتا ہے۔ اس تحریر میں اسلام کے اس خوب صورت نظام کو مختصرا آسان طریقے سے پیش کیا جارہا ہے۔

زکاۃ کی تعریف:

زکاۃ عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا معنی طہارت وپاکی، نشو ونما اور بڑھوتری واضافہ کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں "زکاۃ: مخصوص مال میں سے، مخصوص مقدار کا، شریعت کے بیان کیے ہوئے مصارف میں خرچ کرنا"۔ (قاموس الفقہ، فقہی اصطلاحات: 1 / 280)

زکاۃ کا حکمِ شرعی:

زکاۃ کا حکم شرعی یہ ہے کہ زکاۃ اسلام کے فرائض میں سے ایک فرض ہے اور دین کے ستونوں میں سے ایک ستون ہے۔ ایک صاحب نصاب عاقل بالغ مسلمان پر زکاۃ کی ادائیگی فرض ہے۔ اس کی فرضیت قرآن کریم، احادیث شریفہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ قرآن کریم کی متعدد سورتوں میں اس کی فرضیت کا ذکر ہے، مثلا: وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ. (بقرۃ: 43) ترجمہ: "اور نماز قائم کرو اور زکاۃ ادا کرو"۔ اسی طرح متعدد حدیثیں زکاۃ کی فرضیت پر دلالت کرتی ہیں، مثلا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت ہدایت دی تھی: «فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ». ترجمہ: انھیں بتادیں کہ اللہ تعالی نے ان کے مال میں صدقہ (زکاۃ) فرض کیا، جو ان کے اہل ثروت سے لیا جائے گا اور ان کے فقراء کے درمیان بانٹا جائے گا۔ (صحیح البخاری: 1395) جو شخص بھی زکاۃ کی فرضیت کا انکار کرےگا، وہ شخص دائرۂ اسلام سے خارج ہوجائے گا۔

زکاۃ کب فرض ہوئی؟

اس میں اختلاف ہے کہ زکاۃ کی فرضیت کب ہوئی۔ مگر جمہور کا مذہب یہ ہے کہ زکاۃ کی فرضیت ہجرت کے بعد ہوئی۔ "اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رمضان کے روزے کی فرضیت ہجرت کے بعد ہوئی؛ اس لیے کہ جو آیت اس کی فرضیت پر دلالت کرتی ہے، اس کے مدنی ہونے میں کوئی اختلاف نہیں اور حضرت قیس بن سعد کی حدیث سے ثابت ہے، وہ فرماتے ہیں: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ، فَلَمَّا نَزَلَتِ الزَّكَاةُ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ» (سنن النسائي عن قیس بن سعد: 2507) ترجمہ: "زکاۃ کا حکم نازل ہونے سے قبل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ الفطر کا حکم دیا۔ پھر زکاۃ کی فرضیت نازل ہوئی؛ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہ حکم دیا نہ منع کیا اور ہم لوگ اسے ادا کرتے تھے۔" (موسوعہ فقہیہ: 23/ 280)

زکاۃ کن لوگوں پر فرض ہے:

کسی شخص پر زکاۃ کے فرض ہونے کے لیے سات شرائط ہیں۔ وہ شرطیں جس آدمی میں پائی جائیں گی، زکاۃ اس پر فرض ہوجائے گی۔ وہ شرطیں یہ ہیں کہ وہ شخص " آزاد ہو؛ کیوں کہ غلام سرے سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا۔ عاقل ہو؛ پتہ چلا کہ دیوانہ اور مجنوں پر زکاۃ فرض نہیں ہے۔ بالغ  ہو، اس سے یہ معلوم ہوا کہ نابالغ بچہ گرچہ صاحب نصاب ہو، مگر اس پر زکاۃ فرض نہیں ہوگی۔ مسلمان ہو؛ کیوں کہ زکاۃ ایک عبادت اور غیر مسلم سے عبادت متحقق نہیں ہوتی۔  مقدار نصاب کا مالک ہو،اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص مال کی ایسی مخصوص مقدار کا مالک جو اس کو مستغنی کردے اور دوسرے کے نزدیک ہاتھ پھیلانے کا محتاج نہ ہو۔ ملک تام ہو، مطلب یہ ہے کہ مال کا ایک شخص مالک بن گیا ہو ، وہ مال اس کی ملکیت میں اوراس پر پورا قبضہ بھی ہو اور اس میں تصرف کا اختیار رکھتا ہو۔مال نصاب پر قمری سال مکمل ہوگیا ہو، وہ اس لیے کہ زکاۃ ایسے مال میں فرض ہےجو نامی ہو اور بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اور یہ اندازہ کرنے کے لیے کہ مال بڑھا یا گھٹا اس کے لیے ایک مدت درکارہے؛ لہذا شریعت نے اس کے لیے ایک سال کی مدت متعین کیا ہے۔

وہ مال جس میں زکاۃ فرض ہوتی ہے:

وہ مال جس میں زکاۃ فرض ہوتی ہے، اس مال کی کچھ شرطیں ہیں۔ اگر وہ شرطیں کسی مال میں پائی جاتیں ہیں؛ تو زکاۃ اس میں فرض ہوگی۔ اگر وہ شرطیں نہیں پائی جاتیں ہیں، تو اس مال میں زکاۃ فرض نہیں ہوگی۔ وہ شرطیں یہ ہیں: " ۱ – وہ مال کسی متعین شخص کی ملکیت ہو۔ ۲ – اس کی ملکیت علی الاطلاق ہویعنی اس پر ملکیت بھی ہو اوروہ قبضہ میں بھی ہو۔ ۳ – وہ (مال) بڑھنے والا ہو۔ ۴ – وہ (مال) بنیادی ضروریات سے زائد ہو۔ ۵ – اس پر (ایک مکمل قمری) سال گذر جائے۔ ۶ – وہ نصاب کے بقدر (وہ مقدار جس میں زکاۃ فرض ہوتی ہے) ہو اور ہر قسم کے مال کا نصاب اس کے اعتبار سے ہوگا۔ ۷ – کوئی مانع موجود نہ ہو اور مانع یہ ہے کہ مالک پر کوئی ایسا قرض ہو، جو نصاب کو کم کردے۔"  (موسوعہ فقہیہ: 23/ 289)

بنیادی ضروریات کیا ہیں؟:

ان شرائط میں ایک اہم بات جو کہی گئی ہے، وہ بنیادی ضروریات ہیں۔ بنیادی ضروریات کو حاجت اصلیہ بھی کہا جاتا ہے۔ بنیادی ضروریات اور حاجت اصلیہ کو بھی سمجھنا ضروری ہےکہ وہ کیا ہیں؟  حاجت اصلیہ کی دو قسمیں ہیں۔ (۱)حاجت اصلیہ حقیقیہ  اس کے اندر وہ اشیاء شامل ہوتی ہیں، جس کے بغیر انسان کو ہلاکت کا خطرہ ہے، مثلا ضروری نفقہ، اخراجات اور رہائشی مکانات اور آلات جنگ اور سردی وگرمی کے وہ کپڑے جن کی اپنے موسم کے اعتبار سے ہر وقت ضرورت ہوتی ہے۔ (۲) حاجت اصلیہ تقدیریہ اس کے اندر وہ اشیاء داخل ہوتی ہیں، انسان جن کے بارے میں ہر وقت صحیح معنی میں متفکر رہتا ہے، مثلا واجب الادا قرض، اور پیشہ اور کاریگری کے اوزار وآلات اور گھر کے ضروری اثاث وسامان اور سواری کے جانوراور علماء کے لیے دینی کتابیں۔ یہ سب حوائج اصلیہ میں شامل ہیں۔ (فتاوی قاسمیہ 10/274)

نصاب کیا ہے؟

زکاۃ کے فرض ہونے کے لیے مال کا "نصاب" کے برابر ہونا ضروری ہے۔ مال کا نصاب کیا ہے؟ "نصاب" مال کی ایک معین مقدار ہے۔ وہ معین مقدار موجودہ اوزان کے اعتبار سے 87 گرام، 480 ملی گرام سونا ہے۔ اسی طرح موجودہ اوزان کے اعتبار سے 612 گرام، 360 ملی گرام چاندی یا اس کی قیمت کے برابر نقد روپے ہیں یا کسی تاجر کے پاس اس قدر وقیمت کے برابر کا سامان تجارت ہے۔ اگر کوئی شخص مال کی مذکورہ معین مقدار کا مالک ہے؛ تو اس کےمال میں زکاۃ فرض ہے۔ اب اسے چاہیے کہ بطور زکاۃ اس مال کا ڈھائی فی صد زکاۃ کے مصارف میں سے کسی کو دے کر، اس کا مالک بنادے۔

زکاۃ کے مصارف:

زکاۃ کے مصارف کا مطلب یہ ہوتا ہے وہ افراد اور لوگ جن کو زکاۃ دینا شرعی طور پر درست اور صحیح ہے۔جن لوگوں کو زکاۃ دینا درست ہے، وہ کون لوگ ہیں؟ ان کو قرآن کریم میں یوں بیان کیا گیا ہے: ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاء وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ. (التوبۃ: ۶۰) ترجمہ:  صدقات تو در اصل حق ہے فقیروں کا، مسکینوں کا، اور ان اہلکاروں کا جو صدقات کی وصولی پر مقرر ہوتے ہیں، اور ان کا جن کی دلداری مقصود ہے۔ نیز انھیں غلاموں کو آزاد کرنے میں، اور قرض داروں کے قرضے ادا کرنے میں، اور اللہ کے راستے میں، اور مسافروں کی مدد میں خرچ کیا جائے۔ یہ ایک فريضہ ہے اللہ کی طرف سے! اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک ہے۔

قرآن کریم کی اس ہدایت کے مطابق زکاۃ کے مصارف یا جن کے لیے زکاۃ لینا درست ہے یا جن کو زکاۃ دی جاسکتی ہے، وہ آٹھ قسم کے لوگ ہیں۔ ان کو ذیل میں مختصرا بیان کیا جاتا ہے:

۱۔ فقراء: فقیر کی جمع ہے۔ فقیر اس شخص کو کہیں گے، جس کے پاس کچھ مال تو ہو، مگر اتنا مال نہ ہو کہ وہ صاحب نصاب ہو۔ ایسے شخص کے لیے زکاۃ لینا جائز ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ اگر کوئی شخص فقیر ہے، مگر صحتمند ہے اور کما کر اپنی روزی روٹی کا انتظام کرسکتا ہے؛ تو ایسے شخص کے لیے زکاۃ لینا جائز تو ہے، مگر اسے چاہیے کہ محنت ومزدوری کرکے اپنی ضروریات پوری کرے۔ یہی اس کے لیے زیادہ بہتر ہے۔

۲۔ مساکین: مسکین کی جمع ہے۔ مسکین اس شخص کو کہتے ہیں جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ ایسا شخص بھی زکاۃ کا حقدار ہے۔

۳۔ عاملین: عامل کی جمع ہے۔ اسلامی حکومت جس کو زکاۃ جمع کرنے کےلیے مقرر کرے، اس کو عامل کہا جاتا ہے۔ ایسے شخص کی تنخواہ اور حق الخدمت زکاۃ کی رقم سے دی جائے گی۔

۴۔  مولفۃ القلوب: اب یہ مصرف باقی نہیں رہا۔ وہ اس لیے کہ اسلام کے غلبہ اور اسلامی تعلیمات کے عام ہوجانے کے بعد، اب تالیف قلب کی ضرورت نہیں رہی۔ ہاں، اگر کوئی شخص نیا مسلمان ہو اور مال ودولت نہ ہونے کی وجہ سے وہ فقیر ومسکین یا مصارف زکاۃ کے کسی دوسرے زمرے میں آتا ہے؛ تو اس شخص کو زکاۃ دی جائے گی۔

۵۔ غلام: "جس زمانے میں غلامی کا رواج تھا،  اس دور میں بعض غلاموں کے آقا ان سے یہ کہہ دیتے تھے کہ اگر تم اتنی رقم لاکر ہمیں دے دو؛ تو تم آزا ہو۔ ایسے غلاموں کو بھی آزادی حاصل کرنے کے لیے زکاۃ کا مال دیا جاسکتا تھا۔ "

۶۔ مقروض: "اس سے مراد وہ مقروض لوگ ہیں جن پر اتنا قرضہ ہو کہ ان کے اثاثے قرضے کی ادائیگی کے لیے کافی نہ ہوں، یا اگر وہ اپنے سارے اثاثے قرض میں دے دیں؛ تو ان کے پاس نصاب، یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر مال باقی نہ رہے۔"

۷۔ اللہ کے راستے : "اللہ کے راستے" کا لفظ قرآن کریم میں اکثر جہاد کے لیے استعمال ہوا ہے۔ لہذا اس سے مراد وہ شخص ہے جو جہاد پر جانا چاہتا ہے؛ لیکن اس کے پاس سواری وغیرہ نہ ہو۔ بعض دوسرے حاجت مند لوگوں کو بھی فقہاء نے اس حکم میں شامل کیا ہے، مثلا: جس شخص پر حج فرض ہوچکا ہو؛ لیکن اس کے پاس اتنے پیسے نہ رہے ہوں کہ وہ حج کرسکے۔"

۸۔ مسافر:  "مسافر" سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس چاہے اپنے وطن میں نصاب کے برابر مال موجود ہو؛ لیکن سفر میں اس کے پاس اتنے پیسے نہ رہے ہوں جن سے وہ اپنی سفر کی ضروریات پوری کرکے واپس وطن جاسکے۔" (آسان ترجمۂ قرآن تشریحات کے ساتھ)

خاتمہ:

ہم نے درج بالا تحریر میں زکاۃ کے تعارف واحکام کو مختصرا بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی نے اگر ایک مسلمان کو مال ودولت سے نوازا  کر، "نصاب کا مالک"بنا دیا ہے؛ تو اب اس شخص کی یہ ذمے داری ہے کہ فقیروں، مسکینوں اور ضرورتمندوں کو زکاۃ دے۔ زکاۃ دینے والے کو زکاۃ لینے والوں سے اس زکاۃ کے عوض کسی طرح کے دنیوی منافع یا احسان وشکریہ کی امید نہیں رکھنی چاہیے؛ بلکہ ذات واجب الوجود سے اجر وثواب کی امید رکھنی چاہیے۔ اللہ تعالی زکاۃ دینے والوں کو جہاں آخرت میں اجر وثواب عطا فرمائیں گے، دنیا میں بھی ان کو بلاؤں اور مصیبتوں سے نجات دیں گے۔ زکاۃ دینے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زکاۃ کو مستحقین تک بحسن وخوبی پہنچانے کی پوری کوشش کریں۔ اگر زکاۃ دینے والے لوگ منظم طریقے سے اپنی زکاۃ مستحقین تک پہنچانے میں کام یاب ہوجاتے ہیں؛ تو امید قوی ہے کہ سماج  کا کوئی بھی فقیر ومسکین اور ضرورتمندشخص بھوکا نہیں سوئے گااور بہت جلد سماج کے فقراء ومساکین کی معاشی صورت حال کو سدھارا جاسکتا ہے،  ان شاء اللہ۔ اس تحریر کو جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرمان پر ختم کرتا ہوں جس میں آپؐ نے فرمایا: «حَصِّنُوا أَمْوَالَكُمْ بِالزَّكَاةِ، وَدَاوُوا مَرْضَاكُمْ بِالصَّدَقَةَ، وَاسْتَقْبِلُوا أَمْوَاجَ الْبَلَاءِ بِالدُّعَاءِ وَالتَّضَرُّعِ» (رواه أبو دا ؤد سليمان السِّجِسْتاني في مراسيلہ: 105) ترجمہ: زکاۃ کی ادائیگی کے ذریعے اپنے اموال کی مضبوطی سے حفاظت کرو،  صدقہ کے ذریعے اپنے مریضوں کا علاج کرو اور دعا وگریہ و زاری کے ذریعے مصیبتوں کے طوفانوں کا مقابلہ کرو۔ ***

نیتا جی! بہار میں کشمیر کی نہیں، بہار کی بات کیجیے





نیتا جی! بہار میں کشمیر کی نہیں، بہار کی بات کیجیے

نیتا جی! بہار میں کشمیر کی نہیں، بہار کی بات کیجیے

 

از: خورشید عالم داؤد قاسمی

 

الیکشن کمیشن نے بہار اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کیا۔ یہ انتخابات 28اکتوبر،3نومبراور 7نومبر 2020  کو تمام 243سیٹوں پر  ہونے ہیں۔ جوں جوں انتخابات کی تاریخیں قریب ہورہی ہیں، سیاسی گہما گہمی عروج پر ہے۔ اس سیاسی گہما گہمی میں، اس انتخابات میں حصہ لے رہی پارٹیوں نے اپنی پارٹی اور امیداواروں کے حق میں، پرچار کرنے کے لیے کچھ ایسے شدت پسند نیتاؤں کو نامزد کیا ہے جو بہار کی ترقی، وہاں کے لوگوں کو اپنے شہر میں روزگار مہیا نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے شہروں میں مجبور ہوکر جانے کی پریشانیاں، تعلیمی اداروں میں تعلیم کی گرتی صورت حال، ہر سال آنے والے سیلاب کا قہر، بے روزگاری اور اس طرح کے کئی دیگر مسائل پر وہ بحث نہیں کرتے کہ اگر ان کی پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دیا جاتا ہے؛  تو وہ ان مسائل کے حل کے لیے کیا کریں گے؟ یہ بڑا تعجب خیز معاملہ ہے کہ اپنی پارٹی اور امیدوار کا پرچار کرنے والے نیتا، بہار  کے انتخابات میں کشمیر کی بات کرتے نظر آرہے ہیں۔

اب دیکھیے مرکزی وزارتِ داخلہ میں وزیر مملکت نتیانند رائے ویشالی میں ایک انتخابی ریلی میں لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے بہار کی فکر اس حد تک لگی کہ انھوں نے یہاں تک فرما دیا کہ اگر بہار میں "این ڈی اے" الائنس کی سرکار نہیں بنتی ہے اور اس کی جگہ آر جے ڈی کی سرکار بنتی ہے؛ تو کشمیر میں سرگرم دہشت گرد کشمیر کو چھوڑ کر، بہار میں پناہ لیں گے۔ مطلب یہ ہوا کہ ترقی کی بات نہیں کرنی ہے، بل کہ رائے دہندگان کو کشمیر میں سرگرم دہشت گرد سے ڈرا کر، ان کا ووٹ حاصل کیا جائے۔

یہ بات کم سے کم ایک عقلمند آدمی کو تو سمجھ میں نہیں آئے گی؛ کیوں کہ ہماری مرکزی حکومت نے دعوی کیا تھا کہ نوٹ بندی سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ پھر ہماری مرکزی حکومت نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ کشمیر سے دفعہ 370 کو ختم  کرنے سے دہشت گردی ختم ہوجائے گی۔ اس طرح کے دعووں کے باوجود کیا اب تک کشمیر میں دہشت گرد سرگرم ہیں؟ اگر دہشت گرد سرگرم ہیں؛ تو پھر حکومت کے دعووں کا کیا ہوا؟ اگر یہ مان لیا جائے کہ کشمیر میں دہشت گرد سرگرم ہیں؛ تو ان کو بہار سے کیا لینا دینا ہے۔ پورے ہندوستان کو چھوڑ کر، وہ بہار میں ہی کیوں پناہ لیں گے؟ وزیر مملکت برائے امور داخلہ صاحب کو یہ بھی بتانا چاہیےتھا کہ ابھی کچھ سالوں قبل آرجے ڈی، گانگریس اور جدیو کی سرکار بہار میں تھی، تو اس وقت کتنے کشمیری دہشت گردوں نے بہار میں پناہ لی تھی اور مرکزی حکومت یا پھر بہار حکومت کی کمان سنبھال رہے مسٹر نتیش کمار نے  ان کو روکنے کے لیے کیا کیا تھا؟

کچھ اسی طرح کا ایک اور بیان 21/ اکتوبر 2020 کو ایک نیتا جی نے بہار میں دیا۔ یہ بیان اس سیاسی لیڈر کا ہے جو اپنے زہریلے بیانات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو سبوتاز کرنے کی وجہ سے "یوگی" سے "ایم پی" اور پھر "ایم پی" سے بنے یوپی کے وزیر اعلی یعنی یوگی ادتیا ناتھ جی۔انھوں نے بہار میں بھوجپور کی تراری ودھان سبھا حلقہ میں ایک انتخابی ریلی میں لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب کشمیر سے دفعہ 370 کو ختم کردیا گیا ہے۔ اب بھوجپور کے نوجوان کشمیر میں زمین خرید سکتے۔ مطلب یہ ہوا کہ مرکزی سرکار نے جو کشمیر سے دفعہ 370 کو ہٹایا ہے، اس کی وجہ سے بھوجپور یا بہار کے نوجوان کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں؛ اس لیے اس کے بدلے بہار کے لوگ "این ڈی اے" کو ووٹ کرکے  حکومت کا پھر سے موقع دیں۔

یوگی جی کی یہ بات کسی بھی سمجھدار آدمی کو مضحکہ خیر لگے گی کہ اس دفعہ کو ختم کرتے وقت، مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ یہ کشمیریوں کے حق میں ہے۔ اس کے ان گنت فائدے کشمیریوں کے حق گنائے گئے تھے۔ اب یوگی جی کے بقول ایک سوا سال بعد، اچانک اس دفعہ کو ہٹانے کا فائدہ ان بھوجپوری نوجوانوں کو مل رہا ہے۔ اب ان یوگی جی کو کون بتائے کہ نوجوان روزگار کے لیے پریشان ہے۔ ان کی اکثریت دو وقت کی روٹی کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ ان کو اپنے وطن میں گھر بنانے کے لیے زمین نہیں ہے۔  جن کو موروثی  زمین ہے، وہ روپے پیسے کی مجبوری کی وجہ سے اس  پر گھربنانے سے قاصر ہیں۔ کچھ لوگ بڑی کوشش کے بعد، صرف جھونپڑی ہی بنا پاتے ہیں۔ ایسی موجودہ صورت حال میں یوگی جی کا یہ کہنا کہ اب بھوجپور کے نوجوان کشمیر میں،  زمین خریدیں گے،  میرے خیال میں ان نوجوانوں کی خاص طور پر اور اہالیان بہار کی عام طور پر توہین ہے۔

ہندوستان میں جو لوگ سیاست کے راستے اقتدار کے اعلی مناصب تک پہنچے ہیں، ان میں بہت سے ایسے سیاست داں آپ کو آسانی سے  مل جائیں گے، جو عوام کے جذبات سے کھیل کر، انتخابات جیت جاتے ہیں۔ ان سیاست دانوں کے لیے تو یہ خوش کن مواقع ہوتے ہیں؛ لیکن عوام کے حوالے سے یہ بہت خطرناک فیصلہ ہوتا ہے، گرچہ وہ سیاست داں عوام کے ہی ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں۔ پھر انتخابات جیتنے کے بعد بھی وہ عوام کے لیے کام کرنے کے بجائے، وہ ان کے جذبات کو مشتعل کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ وہ کسی بھی ایسے موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، جس میں عوام کے جذبات سے کھیل کر اپنی مقبولیت بڑھانے کی  ایک فی صد بھی گنجائش ہو۔ ان نیتاؤں کے حلقہائے انتخابات میں جاکر آپ معائنہ کریں؛ تو کہیں بھی کوئی خاص ترقیاتی کام آپ کو نہیں ملیں گے؛ کیوں کہ وہ ترقیاتی کام کے بجائے عوام کے جذبات کو ہی مشتعل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اس طرح کے لیڈران کبھی اپنے مخالف سیاستدانوں کے خلاف زبان درازی کرکے عوام کو الو بناتے ہیں؛ تو کبھی ڈر اور خوف کی سیاست کرکے، اپنے آپ کو ایک مقبول اور پسندیدہ لیڈر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں؛ جب کہ حقیقت میں وہ لفاظی کے علاوہ کسی کے کام کے نہیں ہوتے۔

در اصل اس طرح کے لیڈران کبھی اپنے زہریلے بیانات کے سبب، کبھی اپنے خاندانی سیاسی اثر ورسوخ کے سبب اور کبھی اپنے مال و زر کی وجہہ سے کسی سیاسی پارٹی سے انتخابات میں قسمت آزمائی کے لیے ٹکٹ حاصل کرلیتے ہیں اور عوام کو مشتعل کرکے، انتخابات جیتنے میں کام یاب ہوجاتے ہیں۔ ابھی کچھ دنوں پہلے کی بات ہے کہ جب کانگریس کے سچین پائلٹ نے راجستھان میں اپنا ڈرامہ شروع کیاتھا اور گہلوت حکومت گرنے والی تھی؛ تو ایک بڑے گانگریسی لیڈر نے مسٹر پائلٹ پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ لوگ ابھی جہاں ہیں، وہ  اپنی محنت سے یہاں تک نہیں پہنچے ہیں؛ بل کہ وہ کسی واسطے سے بہ آسانی  پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرکے یہاں تک پہنچے ہیں۔ اس لیڈر نے پوری دیانتداری سے کام لیتے ہوئے اپنے بیٹے کی مثال بھی دی کہ آج اگر ان کا بیٹا ایم پی ہے؛ تو وہ ان کی طرح بنیادی طورپر کام کرکے یہاں تک نہیں پہنچا ہے؛ بل کہ وہ ان کی وجہ سے یہاں تک پہنچا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر یہ لیڈران اپنے گاؤں، قصبہ، شہر وغیرہ میں، زمینی سطح پر کام کرکے اور لوگوں کی پریشانیوں کا اپنی آنکھوں مشاہدہ کرکے یہاں تک پہنچے ہوتے؛ تو یہ یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ لفاظی اور اشتعال انگیزی کے بجائے، ترقیاتی کاموں پر توجہ دیتے۔ وہ کچھ ایسا کام کرنے کی کوشش کرتے جس سے لوگوں کی پریشانیاں دور ہوتیں۔ مگر ہم ایسا ہوتے ہوئے نہیں دیکھ رہے ہیں۔

بہار کے عوام وزیر مملکت برائے امور داخلہ اور یوپی کے یوگی وزیر اعلی صاحبان کو کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کشمیر کی بات ابھی چھوڑ دیجیے۔ کشمیر میں آپ نے اور مرکزی حکومت نے کیا کیا، وہ جگ ظاہر ہے۔ اس سے کس کو کیا فائدہ پہنچے گا، وہ بھی لوگ جانتے ہیں۔ ابھی آپ بہار کی بات کیجیے اور لوگوں کو یہ بتائے  کہ "این ڈے اے" سرکار اور نتیش کمار جی نے اپنے پچھلے پندرہ سالہ دور میں بہاریوں کے لیے کیا کیا ہے؟ آئندہ اگر آپ کی سرکار بنتی ہے؛ تو آپ کیا کریں گے۔ مزید بہار کے لوگوں کو یہ بھی بتا دیجیے کہ اگر "کرونا" جیسا وبائی مرض پھیلتا ہے؛ تو بہار میں آنے والی سرکار بہاریوں کے لیے کیا کرے گی؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ ابھی "کرونا" کی مہاماری میں، دوسرے شہروں میں کام کرنے والے بہاریوں کو بہت ہی پریشانی کا سامنا رہا ہے۔ ***

غاصب اسرائیل سے امن معاہدے کی کوشش میں مصروف مسلم ممالک


غاصب اسرائیل سے امن معاہدے کی کوشش میں مصروف مسلم ممالک

غاصب اسرائیل سے امن معاہدے کی کوشش میں مصروف مسلم ممالک

 

از: خورشید عالم داؤد قاسمی

 

Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

 

خلافت عثمانیہ کا خاتمہ مسلمانان عالم کے لیے ایک بہت بڑا المیہ تھا۔ خلافت کے خاتمہ کے بعد، جہاں مسلمان ٹکڑوں میں بٹ گئے اور ان کی طاقت منتشر ہوگئی،  وہیں دوسری طرف بہت ہی سوچی سمجھی سازش کے تحت اسرائیل کے نام سے ایک صہیونی ریاست کے قیام کا منصوبہ تیار کیا گیا اور بالآخر سن 1948 ء میں، فلسطین کی زمین پریہ صہیونی ریاست قائم کی گئی۔ تاریخ اس بات کو محفوظ رکھے گی کہ آج دنیا جس ناجائز وجود کو ریاست اسرائیل کے نام سے یاد کرتی، وہ در حقیقت فلسطین کا حصہ ہے جو فلسطینیوں کی آبائی زمین پر، زور زبردستی سے قائم کی گئی ایک صہیونی غاصب وقابض ریاست ہے۔فلسطینیوں کی زمین پر اس ریاست کے قیام کا واضح مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کے دشمن کو پوری دنیا سے اٹھا کر، قلب عرب  میں جمع کیا جائے، اس کی مادی وعسکری مدد کی جائے  اور پھر اس کے ذریعے پورے عرب خطہ کو کنٹرول میں رکھا جائے۔ منصوبہ بنانے والے اپنے منصوبہ میں کام یاب ہوگئے، مگر بد قسمتی سے عرب ممالک  اس منصوبہ کو سمجھنے میں ناکام رہے۔

اس غاصب صہیونی ریاست کے قیام کے فورا بعد، اس کو  رسیاستہائے متحدہ امریکہ نے تسلیم کرلیا اور مادی وعسکری تعاون فراہم کرنا شروع کردیا۔ آج یہ غاصب ریاست ایک ایٹمی طاقت بن چکی ہے۔ اس وقت بہت سے ممالک نے امریکہ کی راہ پر چلنے سے انکار کیا اور اسرائیل کے یک طرفہ قیام کو منظور نہیں کیا۔ انھوں نے اس وقت دو ریاستی حل، یعنی اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطین کے قیام کی بھی بات کی۔ پھریہ آج کادن ہے کہ یہ حل صرف زبان  سے ادا کرنے کے لیے باقی رہ گیا؛ ورنہ اس حل کو زمین پر وجود بخشنے کی کوشش نہیں کی گئی اور اقوام عالم نے کھل کر، سنجیدگی سے اس موضوع پر کبھی بات بھی نہیں کی۔ پھر بعد میں، یورپی ممالک نے بھی اسرائیل کو منظور کرنا شروع کردیا۔

یورپی ممالک جو پوری دنیا اور خاص طور پر عرب واسلامی ممالک کو  ہر صبح وشام، "حقوقِ انسانی" پر  لکچر دیتے رہتے ہیں، انھوں نے اسرائیل کو منظور تو کرلیا؛ مگر وہ اسے  یہ لکچر دینا بھول گئے کہ فلسطینی بھی انسان ہیں اور ان کے حقوق کی خلاف ورزی بھی انسانی حقوق کی پامالی ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ جن فلسطینیوں کی آبائی زمین پر، اقوام متحدہ نے  اسرائیل کو قائم کیا، آج ان فلسطینیوں کو اس غاصب ریاست کی فوجیں جب اور جہاں موقع ملتا ہے، اپنی گولیوں سے بھون دیتی ہیں۔ جب جس فوجی ٹکڑی کے جی میں آئے، وہ فلسطینیوں کے گھروں میں گھس کر، چھاپا ماری شروع کردیتی ہیں۔ غاصب صہیونی ریاست فلسطینیوں کی نقل وحرکت پر روک لگانے کے لیے بچے کھچے فلسطین میں جگہ جگہ پر پولیس چوکیاں قائم کر رکھی ہے۔ ان پولیس چوکیوں کے قیام کا مقصد فلسطینیوں کے دلوں میں ڈر اور خوف بیٹھانا ہے؛ تاکہ وہ اپنی خود مختاری کی بات نہ کرسکیں۔ ان   صہیونی فوجوں کو ریاست کی طرف سے اتنی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ وہ جب چاہے، کسی بھی فلسطینی کے گھر میں گھس کر، توڑ پھوڑ شروع کردیتی ہیں۔ وہ  فلسطینیوں کا اغوا کرکے جیلوں میں سالوں سال کے لیے ڈال دیتی ہیں۔ آج اسرائیل کی جیلوں میں نہ  صرف فلسطینی مرد؛ بل کہ ان گنت خواتین اور نابالغ بچے بھی  کسی جرم کے بغیر، قید وبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔

جب سے فلسطینیوں کی زمین پر اسرائیل کے قیام کا منصوبہ بنا، اسی وقت سے فلسطینیوں کے ساتھ نا انصافیاں شروع ہوگئی تھیں جو آج تک جارہی ہیں۔ اقوام متحدہ نے اپنی قرار داد کے تحت جس صہیونی ریاست  کو قائم کیا، آج کی تاریخ میں وہی غاصب ریاست اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کی پامالی میں پیش پیش ہے۔ فلسطینیوں کے خلاف اس صہیونی ریاست کی دہشت گردی تاہنوز جاری ہے۔ فلسطینیوں کا قتل عام ایک عام سی بات ہوگئی ہے۔  فلسطینیوں کے املاک کو مسمار کرنا اور ان کی آباد کھیتیوں کے تہس نہس کرنا،  ان کا روز کا معمول ہے۔ قابض فوجیں دشمنی میں اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ مذہبی مقامات کے احترام کا بھی خیال نہیں کرتی؛ بل کہ جب چاہے ان پر حملے کردیتی ہیں۔ بہت سی مسجدوں کو نائٹ کلب اور شراب خانوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ صہیونی ریاست بین الاقوامی قوانین کی پرواہ کیے بغیر،  فلسطینیوں کے گھروں کو توڑ  کر،ان مکینوں کو بے گھر کردیتے ہیں۔ دن بہ دن صہیونی بستیوں کی تعمیر کا کام جاری ہے۔

بہرحال، رفتہ رفتہ دنیا کے دوسرے متعدد ممالک نے بھی اس صہیونی غاصب ریاست کو تسلیم کرنا شروع کردیا۔ پھر مسلم ممالک میں سے سب سے پہلے اس وقت کی ترکی حکومت، جس کی باگ ڈور مصطفی عصمت اینونو (1884 - 1973) کے ہاتھوں میں تھی،نے بھی مارچ 1949 میں، اسرائیل کو تسلیم کرلیا۔ مگر اس وقت تک دوسرے عرب اور مسلم ممالک نے اسرائیل کے وجود نامسعود کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اسلامی تعاون تنظیم کے 1977 میں، منعقدہ اجلاس  میں، عرب و مسلم ممالک نے ترکی کو اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی بات کی، مگر اس وقت کی ترکی حکومت نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ پھر ایک وقت آیا کہ فلسطین کا عرب پڑوسی برادر ملک: مصر نے سن 1979ء میں، اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کیا اور 26/جنوری 1980 کو باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کرکے، قابض اسرائیل سے تعلق قائم کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا۔ پھر  سن 1994ء میں، مملکت اردن اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرکے، اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا دوسرا عرب ملک بن گیا۔

ابھی کچھ مسلم ممالک کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات قائم ہیں۔ فلسطین واقصی کو فراموش کرکے، اسرائیل سے کچھ مسلم ممالک اپنے خفیہ تعلقات کو امن معاہدے کے زیر عنوان  باضابطہ سفارتی تعلقات میں تبدیل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اپنی مملکت وسلطنت کی حفاظت وضمانت اور مال وزر کی لالچ میں، بہت سے عرب اور مسلم ممالک اسرائیل سے امن معاہدے اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے بے تاب نظر آرہے ہیں۔ اب ان عرب اور مسلم ممالک میں کچھ نے کھل کر، اسرائیل کے سامنے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ حال میں دوستی کا ہاتھ بڑھانے والوں میں، خلیجی ممالک میں سےمتحدہ عرب امارات (یو اے ای) ہے جس نے 13/ اگست 2020 کو امن سمجھوتے کا اعلان کیا ہے۔ یو اے ای کا یہ کتنا مضحکہ خیز دعوی ہے کہ اس کے اور اسرائیل کے درمیان اس سمجھوتے کے نتیجے میں، اسرائیل مغربی کنارے کے حصوں کے الحاق کو مؤخر کردے گا اور فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ نہیں کرے گا؛ جب کہ دوسری طرف غاصب ریاست کا وزیر اعظم :بنجامن نیتن یاہو یہ اعلان کر رہا ہے کہ یہ منصوبہ اب بھی موجود ہے۔ اب یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ متحدہ عرب امارات کی فلسطین واقصی کے حوالے سے اس کوشش کو کیا عنوان دیا جائے!

 جب یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کی بات مختلف ذرائع ابلاغ سے دنیا کے سامنے آئی؛ تو خلیج تعاون ممالک (جی سی سی) میں سے مملکت بحرین اور سلطنت عمان نے یو اے ای کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا۔ اس وقت کسے معلوم تھا جو بحرین آج متحدہ عرب امارات کے اس حرکت کی تائید اور خیر مقدم کر رہا ہے، وہ درحقیقت اس تائید کے در پردہ ، اسرائیل سے اپنے تعلقات استوار کرنے کی تمہید قائم کررہا ہے! پھر چند ہی دنوں میں، مملکت بحرین نے بھی یو اے ای کی تقلید کرتے ہوئے، اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کے نام پر اپنے تعلقات کا اعلان 11/ ستمبر 2020 کو کردیا۔

امن کے نام پر ہونے والے ان معاہدوں میں ثالثی کا کردار، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ادا کررہے ہیں۔ امریکی صدر خود ایک ایسا صہیونی ذہن آدمی ہے کہ اس کی نگاہوں میں، فلسطین  اور مسجد اقصی کے قضییے کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہے۔ اس کا واضح ثبوت ابھی حال میں اس کی طرف سے پیش کیا جانے والی صدی کی ڈیل ہے۔ دوسری طرف آئندہ سال امریکہ میں صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکی سیاست میں صہیونی یہودی لابی کا اثر ورسوخ ہمیشہ رہا ہے۔ کسی بھی صورت میں ٹرمپ کی یہ تمنا ہوگی کہ وہ اس آنے ولےانتخابات میں ایک بار پھر منتخب ہوسکیں۔ اس کے لیے وہ کسی حد تک جاسکتا ہے۔ یہ نام نہاد امن معاہدے اور سمجھوتے بھی انتخابات جیتنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے؛ لہذا یہ عین ممکن ہے کہ ابھی کچھ اور مسلم ممالک اسرائیل کے ساتھ، امریکہ کی ثالثی میں امن معاہدے کرسکتے ہیں۔

ابھی دو دنوں قبل کی ہی بات ہے کہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کیلی کرافٹ نے  واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ایک اور عرب ملک ایک یا دو دن میں ایک معاہدے پر دستخط کرے گا  اور تمام ممالک اس کی پیروی کریں گے۔ کرافٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکیوں کو امید ہے کہ سعودی عرب اسرائیلی وجود کے ساتھ معمول کے معاہدے پر دستخط کرے گا۔  ٹرمپ کا داماد اور وائٹ ہاؤس کے مشیر جیرڈ کشنر نے بھی یہ بات کہی ہے کہ یہ سعودی عرب کے مفاد میں ہوگا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات نے کیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ سمجھوتہ اور معاہدہ کرنے والے ممالک میں اب اگلا نمبر "سلطنت عمان" ، "مراکش" اور "سوڈان" کا ہوسکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا داماد اور وائٹ ہاؤس میں مشیرکار  جیرڈ کشنر ، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا اچھا دوست ہے، نے بارہا یہ کوشش کی ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کرے؛ مگر خبر رساں ادارے "اےایف پی" کے مطابق سعودی عرب  کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے برلن کے دورے کے موقع پر، صحافیوں سے بات چیت کرتے کہا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کرسکتا، جب تک یہودی ریاست، بین الاقوامی معاہدوں کی بنیاد پر فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط نہ کردیں۔ ایسے وقت میں جب کہ متعدد مسلم وعرب ممالک اسرائیل سے تعلقات بڑھانے کے حق میں ہیں اور اس کا کچھ عملی نمونہ سامنے بھی آگیا ہے، ایسے وقت میں سعودی کی طرف سے، ایک بڑے ذمے دار شخص کا  یہ باضابطہ بیان، فلسطینیوں کے حق میں "ڈوبتے کو تنکے کا سہارا" سے کہیں بڑھ کر ہے۔ آج فلسطین اور مسجد اقصی کا قضیہ نہایت نازک موڑ پر آچکا ہے۔ سعودی عرب، ترکی، ملیشیا وغیرہ کو چاہیے کہ ہم خيال ممالک کو ساتھ لے کر،قائدانہ رول ادا کرتے ہوئے، جتنی جلدی ہوسکے، وہ اس مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کرے؛ ورنہ یہ مسئلہ دن بہ دن مزید الجھتا چلا جائے گا۔ ●●●●

کیا صہیونی ریاست بچے کچھے فلسطین کو بھی نگل جائے گی؟





کیا صہیونی ریاست بچے کچھے فلسطین کو بھی نگل جائے گی؟

کیا صہیونی ریاست بچے کچھے فلسطین کو بھی نگل جائے گی؟

 

از: خورشید عالم داؤد قاسمی

Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین کے حوالے سے جس وقت "صدی کی ڈیل"  (Deal of the Century) کی بات کی تھی،اسی وقت انصاف پسند لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آگئی تھی کہ یہ ڈیل کسی طرح بھی فلسطین کی مفاد میں نہیں ہوگی؛ بل کہ یہ یک طرفہ غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے حق میں ہوگی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی ریلی کے وقت سے ہی، فلسطین واسرائیل کے حوالے جو بھی بیانات دیے، وہ سب کے سب جانبدار  اور صہیونی ریاست کی حمایت میں تھے۔ پھر صدر منتخب ہونے کے بعد، جب اس نے "صدی کی ڈیل" کی بات کی اور اس ڈیل کے کچھ نکات گاہے بہ گاہے لیک (Leak) ہونے شروع ہوئے؛ تو ان سے مزید اس رائے کو تقویت ملی کہ جو ڈیل پیش کی جانے والی ہے، وہ یک طرفہ ہوگی۔ جب اس سال جنوری کے آخری عشرہ (28/جنوری 2020) میں، وائٹ ہاؤس میں، ایک پریس کانفرنس کے دوران، اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کی موجودگی میں، اس ڈیل کو پیش کیا گیا؛ تو قضیہ فلسطین سے دل چسپی رکھنے والے ہر شخص نے محسوس کیا کہ یہ ڈیل یک طرفہ ہے۔ باریکی سے دیکھا جائے؛ تو  ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ڈیل کسی ثالثی نے تیار نہیں کیا ہے؛ بلکہ ایک طاقتور فریق کا تیار کیا ہوا ہے، جو اپنی مرضی کے موافق اپنے فریق کو کچھ شرائط وضوابط کی پابندی کے بعد، بھیک کی شکل میں کچھ دینے کو تیار ہو رہا ہو۔ اس ڈیل میں فلسطین کے حق اور مفاد میں کچھ بھی نہیں ہے۔

اس ڈیل میں ایسے بیجا شرائط کوجگہ دی گئی ہیں، جنھیں کوئی بھی خود مختاری کا مطالبہ کرنے والافلسطینی منظور نہیں کرسکتا تھا۔ ان سب بیجا شرائط کی منظوری کے بعد، ان  فلسطینیوں کو "فلسطین" نہیں؛ بل کہ"فلسطین جدیدۃ" کے نام سے جو کچھ دیا جاتا، وہ ایک نام نہاد اور مجبور ولاچار ریاست ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ڈیل میں اکثر مقامات اسرائیل کے حوالے کرنے کی بات کی گئی ہے اور "فلسطین جدیدۃ" کے نام سے جو چند سالوں کے بعد وجود میں آتا، وہ بشمول غزہ کی پٹی کے چند قطعہ اراضی فلسطینیوں کے حوالے کیا جاتا۔ صہیونی غاصب ریاست کے ظلم وجور اورقتل وغارت سے پریشان ہوکر، جو لاکھوں فلسطینی لبنان، اردن اور دنیا کے دوسرے ممالک میں پناہ گزیں  ہیں، ان کے واپسی کی اس ڈیل میں کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔ ایک مضحکہ خیز شرط یہ بھی تھی کہ "فلسطین جدیدۃ" کی حکومت اپنے دفاع کےلیے کسی طرح کا کوئی ہتھیار نہیں رکھ سکتی؛ بل کہ اس کے دفاع کی ذمہ داری اسرائیل کو دی جاتی  اور "فلسطین جدیدۃ" کی حکومت  اس کی قیمت ادا کرنی ہوتی۔ جو بھی اسلحہ اور ہتھیار ابھی "حماس" اور "جہاد اسلامی" کے پاس ہیں، ان ہتھیاروں سے بھی دست بردار ہونے کی شرط تھی۔ ایسی بے جا اور یک طرفہ ڈیل کو "ٹرمپ منصوبۂ امن"  (Trump Peace Plan)  کا نام دیا گیا تھا۔

بہ ہرحال، اس ڈیل کو فلسطین کے بہادر عوام وخواص نے منظور کرنے سے انکار کردیا۔  ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مقصد بھی یہی تھا کہ فلسطین اس نام نہاد ڈیل کو منظور نہ کرے۔ پھر وہ دنیا کو یہ کہتے پھریں کہ دیکھیے ہم نے امن وامان کی غرض سے یہ ڈیل تیار کی تھی، مگر فلسطین نے منظور نہیں کیا۔ وہ امن وامان  کی راہ میں حائل ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق، آج کل صہیونی غاصب ریاست اپنے توسیع پسندانہ پروگرام کو بروئے کار لانے کی کوشش میں لگی ہے۔ اس پروگرام کے تحت  فی الحال مقبوضہ مغربی کنارے پر صہیونی ریاست کی خود مختاری کے منصوبے پر امریکہ اور غاصب ریاست کی انتظامیہ کے درمیان بات چیت جاری ہے۔  اسی طرح فلسطینی علاقے: غرب اردن اور وادی اردن کے الحاق کے حوالے سے بھی صہیونی ریاست امریکی انتظامیہ سے بات چیت کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی انتظامیہ کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطی "آفی برکوفیٹچ " نے غرب اردن کو اسرائیل سے الحاق کے منصوبے پر، عمل در آمد کے  حوالے خود صہیونی ریاست کے حکام سے ان دنوں بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جن کو امریکی صدر نے "صدی کی ڈیل" میں، غاصب ریاست کو حوالے کرنے کی تجویز بھی پیش کرچکا ہے۔

صہیونی ریاست کا اپنے توسیع پسندانہ پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امریکی انتظامیہ اور اس کے ایلچی سے صلاح ومشورہ اور بات چیت کی خبر سے یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ غاصب ریاست کے توسیع پسندانہ پروگرام کی پورے طور پر حمایت کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صہیونی ریاست کو"صدی کی ڈیل" میں، وہ سب کچھ دینے کی کوشش کی تھی جس کے بارے میں صہیونی ریاست نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ اتنی آسانی وہ سب اس کو مل جائے گا۔ پھر امریکہ غرب اردن اور وادی اردن کو اسرائیل سے الحاق کے لیے کیوں تائيد نہیں کرے گا! آج کل فلسطین کے حوالے سے جو اقدام ٹرمپ انتظامیہ اٹھا رہی ہے، وہ حقیقت میں اقوام متحدہ کے تجاویز کی کھلی خلاف ورزی ہے؛ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قضیہ فلسطین کے حوالے سے اسرائیل وامریکہ نے کبھی بھی اقوام متحدہ کی کسی بھی تجویز کو کوئی اہمیت نہیں دی ہے۔

ان نا گفتہ بہ حالات میں، اندرونِ خانہ یعنی فلسطین سے ایک مثبت خبر یہ آرہی ہے کہ فلسطین کی دو اہم جماعتیں: حماس (حرکۃ المقاومۃ الاسلامیۃ) اور تحریک فتح میں قربت بڑھ رہی ہے۔ ابھی چند دنوں قبل (4/جولائی 2020 کو) حماس کے نائب صدر صالح العاروری اور تحریک فتح کے مرکزی سیکریٹری جنرل جناب جبریل الرجوب نےصہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی تھی۔ اس پریس کانفرنس میں انھوں نے فلسطینی علاقوں پراسرائیلی ریاست کےقبضے اور توسیع پسندانہ پروگرام کے خلاف اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت پرزور دیا۔ کاش کہ فتح والےاتحاد کی یہ باتیں شروع سے سمجھ لیے ہوتے! بہرحال، یہ ایک قابل ستائش اور مثبت قدم ہے۔ فلسطینی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر عزیز دویک نے اس مشترکہ پریس کانفرنس پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موقف، الفاظ، بیانات اور قومی قیادت کا متفق ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ انھوں نے صدی کی ڈیل اور فلسطینی علاقوں: غرب اردن اور وادی اردن کے الحاق کے اسرائیلی منصوبے کو ناکام  بنانے کے لیے مسلح مزاحمت پر مبنی، متفقہ حکمت اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ اسپیکر نے مزید کہا کہ اگر دونوں بڑی جماعتیں آپس میں متحد ہوجائیں؛ تو صہیونی ریاست کےتوسیع پسندانہ عزائم کو ناکام بنا سکتی ہیں۔

فلسطینی شہری کئی دہائیوں سے صہیونی ظلم وجور کے شکار ہیں۔ دن بہ دن ان پر صہیونیوں کا ظلم  بڑھتا جارہا ہے۔ قضیہ فلسطین کے حوالے سے جن لوگوں کو کھل کر بولنا چاہیے تھا، جن کو اس قضیہ سے دل چسپی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا اور جن کو فلسطینیوں کے بہتے خون کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی، فلسطینیوں کے جان ومال کے حفاظت کی فکر کرنی چاہیے تھی، وہ سب کے سب خاموش ہیں۔ دوسری طرف صہیونی ریاست اپنے توسیع پسندانہ پروگرام کے تحت دن بہ دن اپنے قدم بڑھا رہی ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے اکثر مسلم ممالک نے اپنے مال وزر کو خوب صورت اورفلک بوس عمارتوں کے بنانے میں صرف کرنا ضروری سمجھا۔ ان ممالک کے حکمرانوں نے اپنی ذات  پر ضرورت سے زیادہ مال وزر خرچ کیے اور اپنی شاہانہ اور پر تعیش زندگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔  مگر اپنے ممالک کے مستقبل کو کبھی  پیش نظر نہیں رکھا۔ مسلم دنیا کے اکثر ممالک عسکری طور کھوکھلے ہیں۔ ان کے پاس عسکری طاقت نہیں ہے۔ ان کے پاس کوئی قابل ذکر اسلحہ نہیں ہے۔ وہ سب عالمی طاقتوں کے سامنے بونے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی باتوں کو کوئی وزن نہیں دیتا۔ مگر اس کے باوجود، اگر مسلم دنیا فلسطین کی آزادی اور اقصی وقدس کی بازیابی کےلیے  بیک زبان بولتی ہے؛ تو آج نہیں تو کل، اس کا کچھ نہ کچھ اثرضرور ہوگا اور امید ہے کہ بہت سے دوسرے ممالک بھی کھل کر ان کا ساتھ دیں گے۔

ٹرمپ کے "صدی کی ڈیل" کا شوشہ چھوڑنے کے بعد سے اب تک –سوائے چند مسلم ممالک کے–  جس طرح اکثر مسلم ممالک خاموش ہیں، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سب کے سب اس ڈیل کا حصہ ہیں یا پھر وہ کسی ڈر اور خوف میں مبتلا ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے؛ تو پھر وہ خاموش کیوں ہیں؟ جس طرح  اسرائیل کے منصوبے ذرائع ابلاغ کے توسط سے گاہے بہ گاہے عام لوگوں تک پہنچتے ہیں، امید ہے کہ ان تک بھی پہنچتے ہوں گےبشرطے کہ ان کی قوت سماعت وبصارت کام کررہی ہوں۔ یہ ایسا وقت ہے کہ عرب لیگ اور مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم: او، آئی، سی (Organization of Islamic Cooperation) کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جانا چاہیے۔ ان دونوں تنظیموں کے ممبران کو اسرائیل کے اس توسیع پسندانہ پروگرام کے خلاف بر وقت قدم اٹھا نا چاہیے اورصہیونی ریاست کا غرب اردن کو اسرائیل کے ساتھ الحاق کرنے کے پروگرام کے خلاف کچھ عملی اقدامات کرنے چاہیے۔اگر ایسا نہیں ہوتا ہے؛ تولگتا ہے کہ چند سالوں میں صہیونی غاصب ریاست بچے کھچے فلسطین کو بھی نگل جائے گی۔ ····