بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ * اس بلاگ پر آپ کا استقبال ہے۔ اس بلاگ پر شائع شدہ مضامین میں پیش کی گئی آراء ذاتی ہیں۔ اگر کسی کو ان سے تکلیف پہنچتی ہے، تو اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔ شکریہ! جزاکم اللہ خیرا! ایڈیٹر: خورشید عالم داؤد قاسمی ________ Welcome to visit this blog. The views expressed in the published articles at the blog are personal. If someone gets hurt, I am sorry for that. Thanks! Jazaakumullah! Editor: Khursheed Alam Dawood Qasmi
Sunday, December 10, 2023
Saturday, December 2, 2023
عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کا مایوس کن اجلاس
عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کا مایوس کن اجلاس
خورشید عالم داؤد قاسمی٭
عرب لیگ بائیس عرب ممالک کا اتحاد ہے۔ یہ لیگ بنیادی طور پر رکن ممالک کے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے سن 1945ء میں قائم کی گئی تھی۔ "اسلامی تعاون تنظیم" ایک بین الاقوامی تنظیم ہے، جس کے ارکان دنیا بھر کے ستاون مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔ اس تنظیم کا قیام 25/ ستمبر 1969 کو، شمالی افریقہ کے ملک مراکش کے دار الحکومت "رباط" میں، ایک کانفرنس کے بعد عمل میں آیا۔ اس کانفرنس کے محرک بیت المقدس کے مفتی اعظم جناب مفتی محمد امین الحسینی (1897 - 1974) رحمہ اللہ تھے۔ صہیونیوں نے مسلمانوں کے قبلۂ اول یعنی مسجد اقصی پر، 21/ اگست سن 1969 کو حملہ کیا اور جلانے کی کوشش کی۔ پھر یہ تنظیم اسی حملے کے نتیجے میں قائم کی گئی۔ اس تنظیم کا مقصد پورے عالم میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرنا ہے۔ "عرب لیگ" یا پھر "اسلامی تعاون تنظیم" اپنے مقاصد میں کس حد تک کامیاب ہے، یہ اتنا ظاہر ہے کہ اسے بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ۔
صہیونی ریاست اسرائیل کی قابض فوج نے غزہ کے خلاف حالیہ جنگ میں، فضائی حملے کے ساتھ ساتھ زمینی حملے بھی شروع کردیا، اس کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں بڑی تباہی پھیلنے لگی اور حالات بد سے بدتر ہونے لگے؛ تو کچھ مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ، فلسطین اتھارٹی کے صدر ابو مازن محمود عباس نے بھی 28/ اکتوبر کو، عرب سربراہی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔ عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کا مشترکہ ہنگامی اجلاس، بروز: سنیچر، 11/ نومبر 2023 کو ریاض میں منعقد ہوا۔ صہیونی ریاست کی طرف سے بغیر کسی تفریق کے غزہ کے بوڑھے، بچے، خواتین کے خلاف بدترین دہشت گردانہ کاروائی اور نسل کشی کے ہفتوں بعد، یہ اجلاس منعقد ہوا۔ اس کے باوجود، یہ دو تنظیمیں اس اجلاس میں، اسرائیل کے خلاف کسی قسم کی سیاسی یا معاشی کاروائی کے حوالے سے کوئی اعلامیہ جاری کرنے کی ہمت نہیں جٹا سکیں۔
کچھ ممالک نے متعدد ایسی تجاویز پیش کیں، جو اگر اس اجلاس کے اعلامیے کے طور پر جاری ہوتیں؛ تو صہیونی ریاست کو کچھ سوچنے پر مجبور ہونا پڑتا۔ وہ تجاویز یہ تھیں: تمام رکن ممالک اسرائیلی فوج کو دہشت گرد قرار دیں، اسرائیل کے ساتھ جن ممالک کے سفارتی تعلقات ہیں، وہ اپنے تعلقات منقطع کرلیں۔ الجزائر نے یہ تجویز پیش کی کہ اسرائیل کو تیل کی فراہمی روک دی جائے؛ مگر صہیونی قابض ریاست کے ساتھ "اَبراہم اکورڈ" کے تحت سفارتی تعلقات قائم کرنے والے ممالک: بحرین اور متحدہ عرب امارات نے اس تجویز کی مخالفت کی۔ مذکورہ بالا تجاویز میں سے کوئی بھی تجویز پاس نہ ہوسکی۔ اتنے بڑے اجلاس سے کوئی ایسا اعلامیہ جاری نہیں کیا جاسکا جس سےیہ واضح پیغام جاتا کہ یہ ستاون ممالک ایک پلیٹ فارم پر ہیں، وہ اسرائیل کی جارحیت، بلکہ دہشت گردی کو روکنے کے لیے کمر بستہ ہیں اور اس کی وحشیانہ کاروائی کے خلاف ردّ عمل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
اسلامی تعاون تنظیم ستاون ممالک کا اتحاد ہے۔ اس کے پاس اتنی طاقت ہے کہ یہ اسرائیل پر دباؤ ڈال سکے۔ اس کے پاس اسرائیل کے خلاف معاشی و سیاسی کاروائی کرنے کی طاقت ہے؛ مگر اس عظیم تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان آپسی عدم مفاہمت، گہری خلیج اور ان کے ملکی مفاد، کوئی اہم فیصلہ نہیں لینے دیتے۔ اتنے بڑے اجتماعی پلیٹ فارم سے جو فائدہ حاصل کیا جانا چاہیے تھا، اب تک مسلم ممالک وہ فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔ اس سربراہی اجلاس میں جو اعلامیے جاری کیے گئے، ان میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی گئی۔ ان اعلامیے میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ "عالمی برادری جنگ بندی کے لیے فوری کاروائی کرے، اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی ختم کرے اور انسانی امداد کی ترسیل کی فوری اجازت دے۔" اس اجلاس میں جاری کیے گئے ان ہیچ اور بے معنی اعلامیے کے بعد،صہیونی قابض فوج جو غزہ کے نہتے شہریوں پر شب و روز فضائی و بری حملے کر رہی تھی، اس میں مزید سختی آئی۔ کسی جوابدہی کے خوف کے بغیر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔ بہت سے اسپتالوں اور طبی مراکز کو بالقصد نشانہ بنایا گیا۔ الشفا اسپتال، القدس اسپتال، انڈونیشین اسپتال، بچوں کے لیے خاص ڈاکٹر رینتیسی اسپتال اور النصر اسپتال، سب پر صہیونی فوج نے حملہ کیا، مریضوں ، طبی عملے، بدنصیب اور خانما برباد لوگ جو وہاں پناہ گزیں تھے، ان کو نشانہ بنایا گیا۔
وہ بدترین دن بھی آیا کہ صہیونی بری فوج نے اپنے ٹینکوں کی گھن گرج کے ساتھ، الشفا اسپتال کا محاصرہ کرلیا اور اسپتال انتظامیہ کو مجبور کیا کہ اسپتال سے مریض کو باہر کا راستہ دکھائے۔ بہت سے مریضوں کو اسپتال چھوڑنا پڑا۔ درجنوں قبل از وقت پیدا ہوئے والے بچے، انکیوبیٹر کی بجلی بند ہونے کی وجہہ سے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ سینکڑوں مریض بستر علالت پر دم توڑ گئے۔ پھر قابض فوج نے اسپتال میں داخل ہوکر، سرچ آپریشن شروع کیا۔ بغیر کسی پختہ ثبوت کے یہ منوانے کی کوشش کی کہ یہ اسپتال مزاحمتی تنظیم"حماس" کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ اسپتال کے نیچے سرنگ میں جنگی ساز وسامان ہیں۔ "حماس" والے اس اسپتال سے اپنی مزاحمتی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ الشفا اسپتال کا محاصرہ کرکے، قابض فوج اپنی کاروائی انجام دیتی رہی اور اسپتال میں درجنوں مریض اور پناہ گزیں جاں بحق ہوتے رہے۔ حالات اتنے خطرناک تھے کہ جب قبرستان میں ان لاشوں کے تدفین کی کوئی صورت نہیں نکل سکی؛ تو اسپتال انتظامیہ نے 15/ نومبر کو الشفا اسپتال کے احاطے میں ہی اجتماعی قبر کھودوائی اور 179 لاشیں وہاں دفن کی گئیں۔ قابض فوج اس اجتماعی قبر سے کچھ لاشیں نکال کر لے گئی۔ صہیونی فوج نے 23/ نومبر کو الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر جناب محمد ابو سلمیہ اور ان کے کئی دیگر سینئر ڈاکٹر ساتھیوں کو گرفتار کیا، جو تاہنوز قید میں ہیں۔
قابض صہیونی فوج نے بروز: سوموار، 20/ نومبر کو انڈونیشین اسپتال کا بھی ٹینکوں سے چاروں طرف سے محاصرہ کیا اور گولہ باری شروع کردی۔ فوج نے اسپتال کے محاصرہ کے حوالے سے یہ بیان جاری کیا کہ یہاں سے دہشت گرد فائرنگ کر رہے تھے۔ پھر جوابی کاروائی کے نام پر بمباری شروع کردی گئی۔ قابض فوج کے حملے میں، اسپتال کا "سرجری روم" مکمل طور پر تباہ ہوگیا اورتقریبا بارہ لوگ شہید ہوئے جن میں کچھ ڈاکٹر بھی تھے۔ صہیونی قابض فوج غزہ کے لوگوں کی جس طرح نسل کشی اور قتل عام کر رہی ہے، وہاں کے اسپتالوں کا محاصرہ کرکے، جس طرح ان پر بمباری اورگولہ باری کر رہی ہے، مریضوں اور اور طبی عملے کو جس طرح نشانہ بنا رہی ہے، جس طرح ڈاکٹروں کو گرفتار کر رہی ہے کہ مستقبل کا مورخ اس کی اس وحشیانہ کاروائیوں کو انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ادوار میں شمار کرے گا۔
مسلم ممالک کے وزراء وصدور، جنھوں نے "عرب لیگ" اور "اسلامی تعاون تنظیم" کے اجلاس میں شرکت کی، کو ذار سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ ایک طرف درجنوں ممالک ہیں اور دوسری طرف ایک چھوٹا سا غاصب ملک، پھر بھی ان کو اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ ایسے اعلامیے جاری کرتے، جن سے صہیونی ریاست کو سوچنے پر مجبور ہونا پڑتا کہ اس سرزمین پر کچھ ایسے بہادر انسان موجود ہیں جو اس سے باز پرس کی طاقت رکھتے ہیں۔ انھوں نے ایسے بے معنی اعلامیے جاری کیے، جو کوئی بھی عام آدمی کرسکتا ہے۔ ان ستاون ممالک کے حکمرانوں کو ایک بار ضرور غور کرنا چاہیے کہ آخر انھوں نے جمع ہوکر، غزہ کے معصوم لوگوں کی نسل کشی کو رکوانے کے لیے کیا کیا؟ یہ حکمراں اس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں، جنھوں نے "مومنوں" کے بارے فرمایا تھا: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ، وَتَرَاحُمِهِمْ، وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ، تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى.» (صحیح مسلم: 2586) ترجمہ: "مومنوں کی مثال آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے، ایک دوسرے کے ساتھ رحم کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی کرنے کے حوالے سے جسم کی طرح ہے۔ جب اس کا کوئی ایک عضو درد محسوس کرتا ہے؛ تو اس کا باقی جسم اس کی وجہہ سے بیداری اور بخار میں مبتلا رہتا ہے۔" ان حکمرانوں کو غور کرنا چاہیے کہ اس حدیث میں جو کچھ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، کیا وہ بھی اس کے مصداق ہیں؟
یہ ستاون ممالک اس ایک چھوٹے سے قابض صہیونی ریاست سے خائف ہیں۔ اس کی وجہہ بدیہی ہے۔ اس چھوٹے سے قابض ملک نے مقبوضہ سرزمین پر بڑے بڑے ٹاور نہیں بنوائے ہیں، بلکہ خود کومعاشی طور پر مضبوط اور مستحکم کیا ہے۔ اس نے طرح طرح کے ہتھیار بنائے ہیں۔ اس چھوٹی سی صہیونی ریاست کے پاس ایٹم بم جیسے عام تباہی کے مہلک ہتھیار ہیں، جسے غزہ پر گرانے کی بات موجودہ صہیونی حکومت کے ایک انتہا پسند وزیر: امیچے الیاہو نے 5/نومبر کو کی تھی۔ یہی وجہہ ہے کہ سارے پڑوس عرب ممالک اس صہیونی ریاست سے ہر وقت خوف زدہ رہتے ہیں اور اس کے خلاف زبان کھولنے کی بھی ہمت نہیں کرتے۔
ان ستاون ممالک میں کئی ایسے ممالک ہیں جن کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہے۔ مگر انھوں نے اپنی دولت کو اچھے تعلیمی ادارے کے قیام پر خرچ نہیں کیے، انھوں نے اپنے ملکوں میں اچھے اسپتال نہیں بنوائے اورانھوں نے اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اچھے اسلحے بھی تیار نہیں کیے۔ وہ اس حوالے سےبالکل غافل ثابت ہوئے ہیں۔ ان کے پاس جو بھی اسلحے ہیں، وہ انھوں نے دوسرے ممالک سے خریدے ہیں اور ان کی معاشی طور پر مضبوط کیا ہے۔ اس کے باوجود بھی وہ ان اسلحے کے استعمال میں، خود مختار اور آزاد نہیں ہیں۔ انھوں نے کچھ بلند و بالا ٹاور اور عمارتیں اپنے ممالک میں ضرور کھڑی کی ہیں؛ مگر ضرورت کے وقت یہ عمارتیں یا ٹاور ان کی مدد نہیں کریں گے۔انھیں اپنی حفاظت کے لیے اسلحے بنانے چاہیے تھے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ عصر حاضر میں، ہتھیار امن اور حفاظت کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔
اس دوران، قطر اور مصر کی ثالثی میں، اسرائیل اور حماس کے درمیان عارضی جنگ بندی کا معاہدہ 22/ نومبر 2023 کو ہوا۔ یہ جنگ بندی کا معاہدہ صرف چار دنوں کے لیے ہے۔ یہ معاہدہ بروز: جمعرات، 23/ نومبر، مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے سے نافذ ہونا تھا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ بعد میں، یہ معاہدہ بروز: جمعہ 24/ نومبر کو مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے نافذ ہوا۔ اس معاہدے کے تحت، اسرائیل کی جیل میں بغیر کسی جرم کے قید، ایک سو پچاس فلسطینی خواتین اور بچوں کو رہا کیا جائے گا اور حماس سات اکتوبر کو یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں میں سے پچاس خواتین اور بچوں کو رہا کرے گی۔ مزید یہ کہ اس عارضی جنگ بندی کے دوران، مصر سے روزانہ دو سو امدادی ٹرکوں اور ایندھن کے ٹرکوں کو شمالی اور جنوبی غزہ کے تمام علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ واضح رہے کہ 23/ نومبر تک اس جنگ میں، پندرہ ہزار کے قریب لوگ شہید ہوچکے ہیں، جن میں تقریبا چھ ہزار بچے اور چار ہزار خواتین شامل ہیں؛ جب کہ زخمی ہونے والوں کی تعداد تقریبا چھتیس ہزار ہے۔ تقریبا سترہ لاکھ شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔
فلسطین اور غزہ ایک سرحد ہے۔ مسلم ممالک کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ یہ عام حدود وثغور کی طرح کوئی علامتی سرحد نہیں ہے جو ایک ملک کو دوسرے سے علاحدہ کرنے کے لیے اس دنیا کے سیاسی لوگوں نے مقرر کیا ہے؛ بلکہ یہ ایک معنی خیز سرحد ہے جسے آپ واضح لفظ میں"ریڈ لائن" اور "سرخ لکیر" کہہ سکتے ہیں۔ اگر دشمن اس "سرخ لکیر" کو عبور کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور غزہ کا سقوط ہوجاتا ہے؛ تو آپ کی حفاظت کے لیے کوئی حصار باقی نہیں رہے گا۔ وہ دشمن آپ کی گردن پر حملہ کرے گا۔ پھر وہ دن دور نہیں کہ صہیونی ریاست اپنے "گریٹر اسرائیل" کے خاکے میں، آسانی سے رنگ بھرنے کے لیے آپ کی طرف پیش قدمی کرے گی۔ اس وقت آپ کو سمجھ میں آئے گا کہ آپ نے غلطی کی ہے؛ جب کہ اس وقت بہت تاخیر ہوچکی ہوگی اور آپ خود کو ملامت کریں گے۔ خدا نہ کرے کہ کبھی ایسا ہو! اللہ عالم اسلام کی حفاظت فرمائے!
٭ مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ
Wednesday, November 8, 2023
فلسطینی عوام پر صہیونی ریاست کی بمباری کا مقصد
فلسطینی عوام پر صہیونی ریاست کی بمباری کا مقصد
خورشید عالم داؤد قاسمی٭
عوامی مقامات پر بمباری:
اس حالیہ جنگ میں اسرائیل جس طرح عوامی مقامات پر بمباری کر رہا ہے اور اس کے نتیجے میں جس طرح نہتھے فلسطینی عوام، معصوم بچے اور خواتین شہید ہو رہی ہیں، اس سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ صہیونی ریاست کا اصل نشانہ فلسطینی عوام ہیں۔ جن عوامی مقامات پر بم برسائے جارہے ہیں، وہ کوئی ایک جگہ نہیں ہے؛ بلکہ ان میں اسپتال، اسکول، مدرسہ، مسجد، عام رہائشی علاقے، پناہ گزینوں کے خیمے حتی کہ قبرستان بھی شامل ہیں۔ اس بمباری میں اسکول بس، عوامی نقل وحمل کے ذرائع، ایمبولینس وغیرہ کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ گذشتہ ماہ، 17/اکتوبر کی شام کو، صہیونی افواج نے فضائی حملہ کرتے ہوئے "الاہلی عرب اسپتال" پر بمباری کی۔ اس سے پہلے بھی کئی اسپتالوں پر بمباری کی گئی؛ مگر ان میں اتنے لوگ شہید نہیں ہوئے تھے، جتنے لوگ الاہلی اسپتال پر بمباری میں شہید ہوئے۔ تقریبا پانچ سو افراد اس بمباری میں شہید ہوئے؛ اس لیے اس خبر کو عالمی میڈیا میں جگہہ ملی۔
"الاہلی عرب اسپتال" پر بمباری کے بعد، قابض صہیونی ریاست کے حکام نے اس کی ذمے داری "اسلامی جہاد" والوں کے سر ڈالنے کی کوشش کی۔ پھر اس بمباری کے بعد، امریکی صدر جو بائیڈن صہیونی ریاست کے دورے پر "تل ابیب" پہنچے اور اس نے کہا کہ "غزہ کے اسپتال پر حملہ بظاہر آپ نے نہیں، دوسری ٹیم نے کیا ہے۔" مطلب یہ ہے کہ مسٹر بائیڈن صہیونی ریاست کو اصول و ضابطے کا اتنا پابند سمجھتے ہیں کہ ان کو یہ یقین نہیں ہوا کہ ایک اسپتال پر صہیونی افواج نے حملے کیے ہوں گے؛ بلکہ کسی اور نے وہ حملہ کیا ہوگا۔ اس حملے کے بعد سے، متعدد اسپتالوں اور عوامی مقامات پر صہیونی ریاست کی طرف سے حملے کیے گئے ہیں اور ان حملوں کی ذمے داری قبول کی گئی ہے۔ اب مسٹر بائیڈن ان اسپتالوں پر حملے کی ذمہ داری کس ٹیم پر ڈالیں گے؟ بائیڈن صہیونی ہے؛ اس لیے صہیونی ریاست چاہے کسی بھی جرم کا ارتکاب کرے، یہ اس کے خلاف نہیں بول سکتا۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، اسی اسرائیلی دورے میں، بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم اور اس کی جنگی کابینہ سے ملاقات کے دوران،یہ یقین دلایا: "میں نہیں مانتا کہ صہیونی ہونے کے لیے آپ کا یہودی ہونا ضروری ہے اور میں صہیونی ہوں۔"
القدس اسپتال پر اسرائیلی حملہ:
مستشفی القدس غزہ پٹی کے "تل الہوا" میں واقع ایک بڑا اسپتال ہے۔ یہ اسپتال بھی غاصب صہیونیوں کی بمباری سے محفوظ نہیں رہا۔ فلسطینی ہلال احمر کے ترجمان نے ایک بیان میں یہ کہا کہ بروز: اتوار، 29/ اکتوبر کو صہیونی ریاستی حکام نے دو بار فون کال کرکے، دھمکی دی کہ اس اسپتال کو خالی کرنا ہوگا۔ اگر اسپتال خالی نہیں کیا جاتا ہے اور کسی کی جان جاتی ہے؛ تو اس کی مکمل ذمہ داری فلسطینی ہلال احمر کی ہوگی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ "اس اسپتال میں تقریبا بارہ ہزار افراد ہیں۔ آئی سی یو بچوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جو حالیہ بمباری میں زخمی ہوئے ہیں۔ ان کو اسپتال سے نکالنے کا مطلب ان کی جان لینے کے برابر ہے۔" صہیونی ریاست کے حکام کی دھمکی کے اگلے دن، 30/ اکتوبر کو صہیونی افواج نے القدس اسپتال کے ارد گرد بمباری شرع کردی۔ القدس اسپتال کا ایک حصہ بمباری کی وجہہ سے مسمار ہوگیا۔ آس پاس کی کئی عمارتیں بھی منہدم ہوئیں۔ اس اسپتال پر سن 2009 میں بھی اسرائیل افواج نے حملے کیے تھے۔ پھر قطر وغیرہ کے تعاون سے اس کی مرمت کروائی گئی اور اسے قابل استعمال بنایا گیا۔
ترک فلسطینی فرینڈشپ اسپتال پر بمباری:
ترک حکومت کے تعاون سے کینسر کا ایک اسپتال، "ترک فلسطینی فرینڈشپ اسپتال"غزہ پٹی میں چلتا ہے۔ اس اسپتال پر بھی دوسری بار 31/ اکتوبر کو صہیونی لڑاکا طیارے نے بمباری کی ہے۔ اس سے پہلے بھی اس اسپتال پر اور اس کے ارد گرد، بمباری کی گئی تھی۔ غزہ میں یہ واحد اسپتال ہے جہاں کینسر کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس طرح اسپتالوں پر حملہ کرنا صہیونی حکومت کا وحشیانہ فعل ہے۔ انڈونیشین اسپتال پر بھی کئی بار حملے کیے گئے ہیں۔
الشفا اسپتال کے مرکزی دروازے پر بمباری:
الشفا اسپتال غزہ پٹی کے اہم اسپتالوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس اسپتال پر صہیونی افواج کی نظر بہت پہلے سے تھی۔ صہیونی ریاست کے سابق وزیر اعظم، ایہود بارک نے چند دنوں قبل الشفا اسپتال پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ایہود بارک ایک جنگی مجرم ہے جس کے خلاف جنگی مجرم کی حیثیت سے مقدمہ چلانے کا مطالبہ، ماضی میں کیا جاچکا ہے۔ بروز: جمعہ، 3/ نومبر کی شام کو، صہیونی افواج نے الشفا اسپتال کے مرکزی دروازے پر بمباری کی۔ اسپتال کے گیٹ پر ایک ایمبولینس میں، بہت سے زخمی افراد تھے، ان میں سے پندرہ زخمی افراد اس بمباری میں شہید ہوگئے۔ بمباری کے بعد، جو لوگ وہاں سے بھاگ رہے تھے، ان پر بھی حملہ کیا گیا۔ اس بمباری میں کئی ڈاکٹر اور طبی عملے کی شہادت کی بھی خبر ہے۔ مجموعی طور پر الشفا اسپتال پر حملے کے نیتجے میں، تقریبا ساٹھ افراد شہید ہوئے ہیں۔ صہیونی فوج نے اس حملے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جس ایمبولینس پر حملہ کیا گیا ہے، وہ حماس کے کارکنان اور اسلحے کے نقل وحمل کے لیے استعمال کیا جارہا تھا؛ جب کہ فلسطینی وزارت صحت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ در حقیقت صہیونی افواج نے زخمیوں کے لے جانے والے ایمبولینس کو نشانہ بنایا ہے۔
جبالیہ خیمہ کے پناہ گزینوں پر بمباری:
غزہ کے شمالی علاقے میں، فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے قائم ایک "جبالیہ خیمہ" ہے۔ یہ خیمہ غزہ کے آٹھ پناہ گزیں خیموں میں، سب سے بڑا خیمہ ہے۔ اقوام متحدہ نے سال رواں کے ماہ جولائی میں، اس کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے۔ اس ڈیٹا کے مطابق، اس خیمہ میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار فلسطینی پناہ گزیں رجسٹرڈ ہیں۔ اس پر بھی صہیونی ریاست نے 31/ اکتوبر کو بمباری کی۔ اس کے بعد بھی، اس پر کئی بار بمباری کی گئی ہے۔ 2/ نومبر کو بھی اس پر بمباری کی گئی۔ اس خیمہ کے تقریبا دو سو سے زیادہ پناہ گزیں شہید ہوئے ہیں، سات سو کے قریب لوگ زخمی ہوئے ہیں اور سو سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں۔ صہیونی مسلح افواج کے ترجمان نے اس کیمپ پر حملے کی ذمےداری قبول کرتے ہوئے کہا: "جبالیہ خیمہ میں، دو رہائشی عمارتوں کے انہدام اور کثیر تعداد میں شہری اموات کا سبب بننے والا حملہ ہم نے کیا ہے۔" صہیونی افواج کا کہنا ہے کہ اس خیمہ میں حماس کے ایک کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایک کمانڈر کو نشانہ بنانے کے بہانے، سینکڑوں لوگوں کو شہید کیا گیا ہے، اسے تاریخ کبھی نہیں بھولے گی۔
البریج خیمہ کے پناہ گزینوں پر بمباری:
صہیونی افواج کی طرف سے جو بمباری ہورہی ہے، اس سے یہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ وہ خاص طور پر رہائشی آبادیوں کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔ البریج نامی ایک خیمہ ہے، جس میں فلسطینی پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ اس خیمہ پر بھی 2/ نومبر کو صہیونی افواج نے بمباری کی۔ اس میں بھی بہت سے لوگ شہید ہوئے ہیں۔ وسطی غزہ میں قائم فلسطینی پناہ گزینوں کے المغازی خیمہ پر بھی 4 اور 5/ نومبر کی درمیانی شب میں، حملہ کیا گیا ہے جس میں تقریبا اکاون افراد شہید ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی بے بسی:
اس حالیہ جنگ کے دوران صہیونی ریاست نے جس طرح عوامی مقامات کو نشانہ بنایا ہے، اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ اس صہیونی ریاستی بمباری میں، روزانہ اتنے بے گناہ لوگ شہید ہو رہے ہیں کہ ان کا درست اعداد وشمار پیش کرنا بھی مشکل ہے۔ غزہ میں جدھر بھی نظر دوڑائی جائے، ادھر منہدم مکانات اور ہر طرف بکھری ہوئی شہیدوں کی لاشیں ہی نظر آتی ہیں۔ لوگوں کو خدشہ ہے کہ ان گنت لاشیں ملبے میں دبی ہوئی ہیں۔ غزہ جسے اب تک ایک کھلا جیل کہا جارہا تھا، اب وہ ایک اجتماعی قبرستان میں تبدیل ہوچکا ہے۔ یہی وجہ ہے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس کو بھی کہنا پڑا کہ: "الشفا اسپتال کے باہر ایمبولینس کے قافلے پر اسرائیلی حملے سے انتہائی خوف زدہ ہوں۔ اسپتال کے باہر لاشوں کو پڑے ہوئے دیکھنا بہت خوفناک ہے۔" صہیونی ریاست کی نظر میں، اقوام متحدہ کی کسی تجویز یا اس کے سکریٹری جنرل کے بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اگر کوئی حیثیت ہوتی؛ تو اقوام متحدہ کی طرف سے، 27/ اکتوبر کو جنگ بندی کی تجویز پاس ہونے کے بعد، صہیونی ریاست کا نمائندہ تجویز کی کاپی کو اقوام متحدہ میں، سارے ممبران کے سامنے نہیں پھاڑتا اور صہیونی ریاست جنگ بند کرنے پر مجبور ہوتی۔
اس جنگ میں، 5/ نومبر تک، قابض صہیونی افواج کے حملے میں، صرف غزہ میں، تقریبا 9500 افراد شہید ہوئے ہیں، جن 3900 بچے اور 2509 خواتین شامل ہیں؛ جب کہ تقریبا پچیس ہزار لوگ زخمی ہوچکے ہیں۔ مغربی کنارے میں اب تک ایک سو باون افراد کے شہید ہونے اور اکیس سو لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ ایک سو پجاس طبی عملے اور 36/ صحافی بھی اسرائیلی حملے کا شکار ہوکر، شہید ہوچکے ہیں۔ اس صہیونی دہشت گردانہ حملے میں تقریبا ساٹھ اسپتال، ستائیس ایمبولینس، پچپن مساجد، تین یونیورسیٹیاں اور تین چرچ بھی نشانے بنائے گئے ہیں۔ اب تک تقریبا تین لاکھ لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور کئی خاندانوں کا وجود صفحۂہستی سے مٹ چکا ہے۔
اسرائیل کا نشانہ فلسطینی عوام ہیں:
عوامی مقامات اور عوامی ذرائع نقل و حمل پر حملے کے بعد، صہیونی افواج کی طرف بیان آتا ہے کہ وہاں حماس کے لڑاکے تھے؛ اس لیے حملہ کیا گیا۔ القدس اسپتال پر حملے سے پہلے، اسرائیلی حکام نے اسپتال خالی کرنے کی دھمکی دی۔ مان لیا جائے کہ اگر اس اسپتال میں حماس کے مزاحمت کار رہیں ہوں گے؛ تو کیا وہ اس دھمکی کے بعد، وہاں سے فرار نہیں ہوجائیں گے؟ یقینا وہ وہاں سے کسی دوسری جگہ منتقل ہوجائیں گے۔ پھر یہ کہنا کہ وہاں حماس کے جنگجو تھے؛ اس لیے ہم نے وہاں بمباری کی اور میزائل داغے۔ یہ وجہہ غیر معقول ہے اور کسی بھی عقلمند آدمی کی سمجھ سے بالا تر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صہیونی افواج اسپتالوں، طبی مراکزوں، مساجد، چرچوں، پناہ گزینوں کے خیموں اور عام لوگوں کے گھروں پر دانستہ طور پر بمباری کر رہی ہے۔ اس بمباری کا مقصد فلسطینی عوام کو نشانہ بنانا، ان کی نسل کشی کرنا اور فلسطین پر قبضہ کرنا ہے۔ ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے، صہیونی ریاست کے وزیر اعظم کی ترجمان: تل ہینرک کی زبان سے بھی یہ بات نکلی ہے۔ اس نے کہا: "اسرائیل غزہ میں کسی اور کو نشانہ نہیں بنا رہا ہے سوائے سویلینز (عام شہریوں) کے۔" مگر جب اسے احساس ہوا کہ اس کی زبان سے ایک سچ اگلا جاچکا ہے؛ تو اس نے اپنے جملے کوبدلتے ہوئے بولی: "نہیں نہیں، نشانہ دہشت گرد ہیں۔"
صہیونی ریاست کو "دو ریاستی حل" بالکل گوارہ نہیں۔ وہ عام طور پر فلسطینیوں پر بمباری کرتی ہے، بغیر کسی جرم کے انھیں گرفتار کرکے جیل میں ڈالدیتی ہے اور ان کی گھروں کو مسمار کردیتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جو بھی فلسطینی مسلمان ہیں، وہ اپنی زمین و جائیداد کو چھوڑ کر، ہجرت کرجائیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے؛ تو پھر ان کی نسل کشی کی جاتی رہے گی؛ تا آں کہ صہیونی ریاست کے خلاف مزاحمت کرنے والا کوئی باقی نہ رہے اور بچے کھچے فلسطین پر بھی صہیونی ریاست کا قبضہ ہوجائے اور "دو ریاستی حل" کا فارمولہ خود ختم ہوجائے گا۔ عام لوگوں کے قتل کرنے اور ان کے مکانات کو مسمار کرنے کے پیچھے صہیونی ریاست کا ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فلسطینی عوام اپنی قیادت اور فلسطینی مزاحمتی جماعت پر مشتعل ہوں ، ان سے ناراضگی کا اظہار کریں اور ان کے خلاف اپنی زبانیں گھولنے پر مجبور ہوں۔ جب اس طرح کا عوامی ردّعمل ہوگا؛ تو کسی بھی مزاحمت پسند جماعت کویہ کہہ کر کنارہ لگایا جاسکتا ہے کہ عوام اسے ناپسند کرتی ہے اور یہ فلسطینیوں کی نمائندہ جماعت نہیں ہے۔ آج عام فلسطینیوں کا خون بہہ رہا ہے۔ صہیونی ریاست خوش فہمی میں ہے کہ وہ فلسطینی عوام اور حماس کے درمیان دوری پیدا کردے گی۔ مگر یہ اس کی غلط فہمی ہے؛ کیوں کہ اب تک فلسطینی عوام اپنی مزاحتمی جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ صہیونی ریاست یہ نہ بھولے کہ وہ جس قوم کا قتل کر رہی ہے، ان کا دل ایمان کی روشنی سے منور ہے۔ آج چاہے انھیں طاقت کے بل پر کچل دیا جائے؛ مگر وہ پھر تازہ دم ہوکر، اٹھ کھڑی ہوگی اور آگے بڑھے گی، ان شاء اللہ۔ ●●●●
٭ مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ
-
My Open Letter to Noted Journalist MJ Akbar By: Khursheed Alam Dawood Qasmi Dear Sir, Your decision to join the BJP, an opportun...
-
Al-Fauz Al-Kabeer: A Brief Introduction By: Khursheed Alam Dawood Qasmi Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in Compilation...
















