Tuesday, July 12, 2016

مسلمانوں کی عید


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 مسلمانوں کی عید
بہ قلم : خورشید عالم داؤد قاسمی
Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in 


زمانۂ جاہلیت میں عرب کے لوگ سال کے دومخصوص دنوں میں دوتہوار: "نیروز" اور "مہرجان" مناتے  تھے۔ یہ دونوں تہوارموسم بہار کی آمد ورفت سے متعلق تھے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ مکرمہ سے ہجرت  کرکے مدینہ منوّرہ تشریف لائے؛ تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان تہواروں کے بارے میں ذکر کیا کہ وہ ان دو مذکورہ دنوں میں زمانۂ جاہلیت میں کھیل کود کرتے اور خوشیاں منایا کرتے تھے، اس پر نبی کریم –صلی اللہ علیہ وسلم– نے کہا کہ اللہ تعالی نے ان دو دنوں کو ان سے بہتر  دو دوسرےدنوں :"یوم  الاضحی اور  یوم الفطر" سے بدل دیا  ہے۔ حضرت انس -رضی اللہ عنہ- اس واقعہ کو اس طرح نقل کرتے ہیں:
(ترجمہ) رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم-مدینہ تشریف لائے، (اس وقت) ان کے دو دن (مخصوص) تھے، جن میں وہ کھیلتے کودتے تھے۔ آپ  –صلی اللہ علیہ وسلم– نے ان سے پوچھا: "یہ دو دن کیا ہیں؟" انھوں نے جواب دیا: ہم ان دو دنوں میں زمانۂ جاہلیت میں کھیلاکرتے تھے۔ پھر رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– نے ارشاد فرمایا: "اللہ تعالی نے تمھارے لیے ان دو دنوں کو ان سے بہتر دو دنوں : یوم الاضحی اور یوم الفطر سے بدل دیا ہے۔" (ابو داؤد، حدیث نمبر: 1134، مسند احمد، حدیث نمبر: 12006)
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا  کہ زمانۂ جاہلیت میں جو لہو و لعب کے دو دن تھے اور  مدینہ کے لوگ ان میں مخرب اخلاق اعمال کا ارتکاب کرتے تھے؛ لہذا اللہ تعالی نے  ان دو دنوں کو" ذکر و شکر اور معافی و بخشش" کے دو دنوں سے بدل دیا۔ اس فرمان بنی -صلی اللہ علیہ وسلم- کے  بعد، مسلمانوں کے لیے صرف یہ دو دن خوشی و مسرت اور جشن کے رہ گئے۔ یہ ہیں مسلمانوں کی عیدیں۔ ایک تیسری عید بھی ہے، جو ہر ہفتہ میں ایک بار آتی ہے اور وہ جمعہ  کا دن ہے۔
آج کل کچھ مسلمان کئی کئی  عیدیں مناتے ہیں اور ان عیدوں کے جواز میں من گھڑت دلائل بھی پیش کردیتے ہیں۔لوگ ان عیدوں میں بغیر کسی خوف الہی کے بدعات و خرافات کا ارتکاب کرتے ہیں اور اسے کارثواب سمجھتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے صرف دو عیدیں: عید الفطر اور عید الاضحی ہیں جیسا حدیث شریف سے معلوم ہوا۔ ان عیدوں کو  بھی سادگی سے منایا جانا چاہیے؛ مگر معلوم نہیں کہ لوگوں نے عید کا مطلب کیا سمجھ لیا ہے!  شاید کچھ لوگ عید کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ عید کے دن وہ اپنے قیمتی اوقات  ضائع کریں اور دن بھر اور دیر رات تک لہو و لعب میں مست رہیں، ہر طرح کے بدعات وخرافات اور خرمستیوں کا ارتکاب کریں! بس یہی عید ہے؛ حال آں کہ عید کا یہ مطلب نہیں ہے؛  بل کہ مسلمانوں کے لیے عید کا مطلب تو یہ  ہےکہ اللہ سبحانہ و تعالی کا ذکر و شکر ادا کرے، اللہ کی عطا کردہ عظیم نعمت کا اظہار کرے، اللہ تعالی کی بڑائی و بزرگی بیان کرے، رمضان کے مہینے میں نیک اعمال کی توفیق  وہدایت کا شکرانہ ادا کرے، اس پاک ذات کی تکبیر و تہلیل میں رطب اللسان رہے اور "اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر و للہ الحمد"  کا ترانہ گنگنائے۔  یہ ہے  عید کا حقیقی جشن۔
آج جشنِ عید کا مطلب ہمارے معاشرے میں اور خاص طور پر جوان طبقہ میں  ہر طرح  کے مخرب اخلاق اعمال کا ارتکاب ہے۔ عید کی نماز کے بعد، کوئی پارک  جاتا ہے،کوئی سنیما گھر کا رخ کرتا ہے،  تو کوئی لہو و لعب کے اڈے کا رخ کرتاہے، دیر گئے رات تک وہ ان بیہودہ چیزوں میں خود کو مشغول رکھتا ہے۔ ایسی صورت میں ان سے فرائض و واجبات اور سنن و نوافل کے ادائیگی کی کیا امید کی جاسکتی ہے! رمضان کے پورے مہینے میں جو کچھ حاصل کیا، چند گھنٹوں میں ان سب پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ ہم مسلمانوں کے یہاں جشنِ عید کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں۔
کچھ لوگ عید کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ قیمتی اور عمدہ لباس زیب تن کیا جائے، لباس کی خریداری میں مبالغہ سے کام لیا جائے اورعید کے دن ضرورت سے زیادہ بڑھ چڑھ کر خرچ کیا جائے؛ جب کہ یہ "اسراف" کے دائرہ میں آتا ہے، اس سےبچنا چاہیے۔ فضول خرچی اور اسراف کی ہماری شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہمیں خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے۔ مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم اپنے اہل و عیال، ماں باپ،  بھائی بہن اور رشتے داروں پر  خرچ کرنے سے گریز کریں یا اس طرح ہمارے ہاتھ بند ہوجائیں کہ ہم بخل کی حد تک پہنچ جائیں! ہمیں اپنی وسعت کے مطابق، ان کے کھانے پینے اور لباس وپوشاک پر بغیر کسی تردّد کےخرچ کرنا چاہیے۔ یہ ایک قابل تحسین عمل ہے۔
ہم یہ جانتے ہیں کہ عید رمضان المبارک  کا جشن ہے۔  رمضان کا عظیم مہینہ، جس میں قرآن کریم لوح محفوظ سے سماءِ دنیا پر نازل کیا گیا، دوسرے کتبِ آسمانی نازل کیے گئے،جس مہینہ میں ایک نفل کا ثواب ایک فرض اور ایک فرض کا ثواب ستّر فرض کے برابر کردیا جاتا ہے، جس میں "شب قدر"  جیسی قدر و منزلت کی  رات ہے، جس میں ایک رات کی عبادت، ہزار مہینوں کی عبادت و بندگی   کی راتوں سے بہتر ہے ، عید تو دربار خداوندی میں انھیں چیزوں کا شکرانہ ہے۔ عید تو اس بات کا شکرانہ ہے کہ اس ذات  بر حق نے ہمیں رحمت و مغفرت اور آگ سے چھٹکارا پانے والے ایام، اس رمضان کے مبارک مہینہ میں عطا فرمائے۔
عید اس شخص کے لیے ہے جس نے رب ذو الجلال والاکرام کی عبادت کی، اس کے احکام کی اطاعت کی، دن میں روزے رکھے، رات میں تراویح پڑھی اور پھر راتوں میں قرآن کریم کی تلاوت اور نفلی اعمال  میں ہمہ دم مشغول رہا۔ جس نے اس پاک ذات کی رمضان کے مہینے میں بھی نافرمانی کی، لہو و لعب میں خود کو مشغول رکھا، پھر تو ایسے شخص کے لیے حسرت اور کف افسوس ملنے اور شرمشار ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں، ایسے شخص کے لیے عید کا کوئی مطلب ہی نہیں۔ عید تو اس شخص کی ہے جس نے رمضان کے مہینہ میں اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری میں اضافہ کیا، جس نے اپنے رب کی صفت غفاری کا فائدہ اٹھایا اور اس غفور و غفار رب کے سامنے گرگرا کر اپنے سارے گناہوں کی بخشش کروالی۔
حسن بصری –رحمہ اللہ– فرماتے ہیں: "مومن کا ہر وہ دن جس میں اس نے گناہ کا ارتکاب نہیں کیا، اپنے رب کی گستاخی نہیں کی؛ بل کہ اس کی اطاعت و فرمانبرداری کی، اس کے ذکر و شکر میں گزارا، اس کو خوش کرنے میں لگا رہا، وہ دن  اس کی عید ہے۔
رمضان کا جشن یہ بھی ہے کہ ماہ شوال کے چھ روزے رکھے جائیں! ہمارے پیارے نبی -صلی اللہ علیہ وسلم- نے ہمیں یہ  سکھلایا کہ تم رمضان کے متصلا بعد والا مہینہ: "شوال" کے  چھ روزے رکھو!  اللہ کے نبی محمد –صلی اللہ علیہ وسلم-کا فرمان ہے : "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ." [مسلم شریف، حدیث نمبر: 1164، ترمذی شریف، حدیث نمبر: 759] یعنی جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد ماہ شوّال کے چھ روزے رکھے، تو یہ پورے زمانے کے روزے رکھنے کی طرح ہے۔
ایک روایت مسند احمد میں اس طرح ہے: "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، فَكَأَنَّمَا صَامَ السَّنَةَ كُلَّهَا" (مسند احمد، حدیث نمبر: 14302) یعنی جس نے رمضان کے روزے رکھے اور شوال کے چھ روزے رکھے، گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔ ایک اور روایت مسند ابو داؤد طیالسی میں  ہے جس میں "فَذَلِكَ صِيَامُ السَّنَةِ" (یعنی وہ پورے سال کا روزہ ہے) کا ذکر ہے۔ (مسند ابو داؤد طیالسی، حدیث نمبر: 595)
مسند احمد اور مسند ابو داؤد طیالسی میں ذکر کردوہ روایات میں رمضان کے بعد ماہ شوال کے چھ روزے رکھنے کو پورے سال روزے رکھنے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ علماء نے اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ جب آدمی رمضان کے پورے مہینے کے روزے رکھتا ہے؛ تو "الحسنة بعشر أمثالهَا" (ایک نیکی کے بدلے دس گنا اجر دیا جاتا ہے) کے قاعدہ کے تحت ایک مہینے کے روزے،  دس مہینے کے برابر ہوگئے۔ پھر شوال کے چھ روزے اسی مذکورہ قاعدہ کے تحت دو مہینے کے روزے کے برابر ہوگئے۔ اب نتیجہ یہ نکلا کہ جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر ماہ شوال میں چھ روزے رکھے؛ تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔ اب دوسری حدیث کی وضاحت سے حدیث اول کی بھی وضاحت ہوجاتی ہے کہ جب ایک مسلمان اس طرح ہر سال رمضان کے روزے کے بعد، ماہ شوال میں چھ روزے رکھتا ہے؛ تو گویا اس نے پورے زمانے کا روزہ رکھا اور اس شخص نے اپنی پوری زندگی روزوں کے ساتھ گزاری۔
حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں کی عید یہ نہیں ہے کہ وہ عید کے جشن میں لغویات  اور لہو ولعب میں اپنے قیمتی اوقات اور مال  و متاع کو ضائع کریں؛ بل کہ عید کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ تعالی کا ذکر ، اس کی تسبیح و تحمید اور اس ذات کی طرف سے عطاکردہ بے انتہا نعمتوں اور ماہ رمضان میں نیک اعمال  کی توفیق پر اس  کا شکریہ ادا کریں!

٭ ہیڈ: اسلامک اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا۔

عید کی تیاری


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 عید کی تیاری
بہ قلم : خورشید عالم داؤد قاسمی
Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in 

عید کی آمد:
رمضان المبارک  کا  آخری عشرہ چل رہا ہےاور ہم عید سعید اورعید الفطر کی شکل میں جشن رمضان منانے  کا انتظار کررہے ہیں۔ کیا ہی بہتر  ہوگا کہ ہم یہ طے کرلیں کہ عید الفطر جیسے عظیم تہوار کو ہم پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت وہدایت کے مطابق منائیں گے۔یعنی ہم ایسی عید منائیں گے، جیسی ہمارے پیارے نبی محمد -صلی اللہ علیہ وسلم- نے منائی اور پھر  اسی اعتبار سے ہم عید سعید کی تیاری کریں!
عید کی رات:
رمضان کے ختم ہوتے ہی عید کی رات شروع ہوجاتی ہے۔ حدیث شریف میں اس کی رات کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضرت ابوامامہ-رضی اللہ عنہ- فرماتے ہیں کہ جو شخص عید کی رات میں ثواب کی نیت سے جاگ کر عبادت کرے، اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہوگا، جس دن لوگوں کے دل مردہ ہوں گے۔ حضرت مجاہد –رحمہ اللہ- فرماتے ہیں کہ فضیلت کے اعتبار سےفطر کی رات رمضان کے آخری عشرہ کی راتوں کی طرح  ہے۔ اس رات کو "لیلۃ الجائزۃ"یعنی انعام کی رات بھی کہا جاتا ہے۔ (قیام رمضان لمحمّد بن نصر المروزي، ص: 262)
عید الفطر کا دن:
رسول اللہ- صلی اللہ علیہ وسلم- فرماتے ہیں: جب عید الفطر کا دن ہوتا ہے تو ملائکہ راستے کے کنارے  کھڑے ہوجاتے ہیں اور آواز دیتے ہیں، اے مسلمانوں! اس رب کریم کی طرف چلو جو بہت خیر کی توفیق دیتا ہے اور اس پر بہت زیادہ ثواب دیتا ہے۔ اے بندو! تمھیں قیام اللیل  کا حکم دیا گيا،لہذاتم نے اسے بجا لایا، تمھیں دن میں روزے کا حکم دیا گيا،تم نے روزے رکھے اور تم نے اپنے رب کی اطاعت کی؛ لہذا آج تم اپنے انعامات لے لو۔ پھر جب لوگ نماز سے فارغ ہوجاتے ہیں؛ تو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے: تمھارے رب نے تمھاری مغفرت کردی۔ اپنے گھروں کی طرف ہدایت لے کر لوٹ جاؤ۔ یہ یوم جائزہ (انعام کا دن) ہے۔ (الترغیب والترھیب للمنذري، حدیث نمبر: 1659)
عید کے دن کی سنتیں اور مستحبّات:
عید کے دن مندرجہ ذیل اعمال مستحب ہیں: غسل کرنا۔ مسواک کرنا۔مباح عمدہ کپڑے پہننا۔خوشبو لگانا۔ شریعت کے مطابق اپنی آرائش کرنا۔ صبح سویرے بیدار ہونا؛ تاکہ ضروریات سے فارغ ہوکر، جلدی عید گاہ پہنچ سکے۔نماز عید الفطر کے لیےجانے سے پہلے کچھ میٹھی چیز کھانا (جیسےطاق عدد کھجور وغیرہ)۔عید کی نماز کے لیے جانے سے قبل صدقہ فطر ادا کرنا۔ فجر کی نماز محلہ کی مسجد میں ادا کرنا۔ پیدل عید گاہ جانا۔ عید کی نماز کے لیے عید گاہ ایک راستے سے جانا اور  دوسرے راستے سے واپس آنا۔ عید الاضحی میں بھی عید کی طرح ان اعمال کو کیاجائے، مگر عید الاضحی کی نماز سے پہلے کچھ نہ کھائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے بڑےبچے کو عید الاضحی کی نماز سے پہلے کھانے سے منع کرتے تھے؛ بل کہ چھوٹے بچوں کو بھی دودھ پینے سے روکتے تھے؛ تا آں کہ وہ نماز ادا کرلیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عید الفطر کی نماز کے لیے جاتے؛ تو گھر سے نکلتے وقت یہ پڑھتے تھے: "اللهُمَّ إنّي خَرجتُ إليكَ مخرجَ العبدِ الذَّليلِ". راستے میں آہستہ (عید الفطر میں اور عید الاضحی میں بلند) آواز سے تکبیر (الله اكبر الله اكبر لا الہ الا الله والله اكبر الله اكبر ولله الحمد) پڑھتے جانا۔ (تلخیص، از: البنایۃ شرح الھدایۃ: 3/101)
صدقہ فطرکی حقیقت:
صدقہ فطر درحقیقت روزہ کے حالت میں جو کچھ لغو و واہیات کا ارتکاب ہوجاتاہے، اس کی پاکیزگی اور طہارت کے لیے ادا کیا جاتا ہے۔ اسی طرح صدقہ فطر، غریب و مسکین اور فقیر کو عید کے موقع سے خوشی و مسرت اور فرحت و سرور میں شریک کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔   اگر ایسا نہیں ہوتا؛ تو یہ بھی ممکن ہے کہ اہل دولت و ثروت، عید منائیں اور فقیر و مسکین  عید جیسے خوشی کے دن میں اپنے گھر میں مایوس بیٹھے رہیں۔
          مسلمانوں کی غیرت ایمانی کے خلاف ہے کہ خود تو عید کے دن اپنے بچوں کے ساتھ جشن منائے اور  ایک غریب ومفلس مسلمان روپے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے مایوس بیٹھا رہے اور یاس و ناامیدی میں گھر سے باہر نکلنا بھی گوارہ نہ کرے۔ ایسے غریب و مسکین اور مفلس بھائی کی نصرت و اعانت خاص طور پر عید کے موقعے سے ہر صاحب دولت مسلمان پر ضروری ہے۔ جسے اللہ نے مال ودولت دیا ہے،اس کو چاہیے کہ ہدیے، تحفے اور اپنے زکات و فطرے کی رقم سے ایسے مفلس و مسکین بھائی کی مدد کرکے اللہ کی نظر میں سرخرو ہوں۔
صدقہ فطر کس پر واجب ہے؟
ایک حدیث میں صدقہ فطر کے حوالے سے نبی اکرم –صلی اللہ علیہ وسلم –نے ارشاد فرمایاجسے ابن عمر –رضی للہ عنہما-نے اس طرح نقل کیا: (ترجمہ) "رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم- نے مسلمانوں میں سے غلام وآزاد ، مذکر و مؤنث اور چھوٹے بڑے سب پر فطر کی زکاۃ (صدقہ فطر)، ایک صاع (غلہ ناپنے کا ایک پیمانہ جو موجودہ دور کے حساب سے : 3: کلو، 149: گرام، 280: ملی گرام ہوتاہے۔) "کھجور" یا  ایک صاع  "جَو"  فرض فرمایا اور لوگوں کے عیدگاہ جانے سے پہلے، اس (کے ادا کرنے) کا حکم فرمایاہے۔"
صدقہ فطر ہر اس شخص پر واجب ہے، جو عید الفطرکے دن ضرویّات زندگی کے علاوہ ساڑھےستاسی گرام سونا یا پھر612/گرام چاندی  یا اس کی قیمت کے بقدر مال کا کا مالک ہو۔ صدقہ فطر کے واجب ہونے کی دوسری صورت یہ بھی ہے کہ حوائج اصلیہ سے زاید ایسی چیزیں موجود ہوں، جن کی قیمت بقدر نصاب ہو، چاہے وہ چیزیں تجارت کے لیے نہ ہوں؛ جیسےرہائش کے مکان سے زیادہ مکان، گھر کے مصارف کے بقدر کاشت کاری کی زمین سے زائد زمین وغیرہ ۔ یہ واضح رہے کہ صدقہ فطر کے نصاب "حولان حول" (سال گزرنے) کی شرط نہیں ہے؛ بل کہ عید الفطر کے دن بقدر نصاب مال کا مالک ہونے سے صدقہ فطر واجب ہوجاتا ہے؛ جب کہ زکاۃ کے وجوب کے لیے بقدر نصاب مال پر سال کا گزرنا شرط ہے۔ جو شخص عید کے دن بقدر نصاب مال کا مالک ہے، جیسا کہ ابھی عرض کیا گيا؛ تو اس شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی طرف سے، اپنی نابالغ اولادکی طرف سے،جو یکم شوّال کی صبح صادق سے قبل تک پیدا ہوئے ہوں،  صدقہ فطر ادا کرے۔
صدقہ فطر کی مقدار اور وقت:
صدقہ فطر کی مقدار یہ ہے کہ ایک آدمی کی طرف سے ایک کلو 633/گرام (احتیاطا دو کلو) گیہوں یا تین کلو 266/گرام  (احتیاطا ساڑھے تین کلو) جَو، یا کشمش، یا کھجوریا  پھر ان میں کسی ایک کی قیمت ادا کی جاسکتی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ صدقہ فطر کے مذکورہ چار اصناف میں سے کوئی ایک یا اس کے وزن کے مطابق اس کی قیمت نکالنا کافی ہے۔ صدقہ فطر ادا کرنے کے حوالے فقہاء نے لکھا ہےکہ "صدقہ فطر" عید کے دن، نماز عید سے پہلے نکالا جائے۔ یہ بھی جائز ہے عید سے ایک یا دو دن پہلے نکال دیاجائے؛ تاکہ غریب و مسکین بھی اپنی ضروریات کی تکلمیل کرسکیں! صدقہ فطر کی ادائیگی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اگر کوئی شخص عید سے پہلے بھی نہیں دے سکا؛ تو  پھربعد میں ادا کرے۔ وقت پر نہ دینے سے صدقہ فطر ساقط نہیں ہوگا۔
عید کے دن مبارک باد دینا:
عید کی مبارکباد دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم کے عمل سے بھی یہ ثابت۔ مگر بہتر یہ ہے کہ عید کی مبارکباد  "تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ" کے الفاظ سے دی جائے۔ خالد بن معدان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مین نے عید الفطر کے دن  واثلہ بن اسقع سے ملاقات کی تو میں نے کہا: "تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ". یعنی اللہ آپ کی طرف سے اور میری طرف سے قبول فرمائے! تو انھوں نے فرمایا: "نَعَمْ، تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ". پھر واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں نے عید کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تو میں نے کہا: "تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ". آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: "نَعَمْ، تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَمِنْكَ". (السنن الکبری للبیہقي 3/446، نمبر: 6294)
عید الفطر کی نماز کا طریقہ:
عید الفط کی نماز دو رکعتیں ہیں اور یہ واجب ہے۔ اس میں چھ زائد تکبیریں بھی ہیں۔ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوں؛ تو پہلے عید الفطر کی دو رکعت واجب نماز زائد چھ تکبیروں کی نیت کے ساتھ تکبیر تحریمہ (اللہ اکبر) کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر باندھ لیں۔ پھر مکمّل ثناء پڑھی جائے۔ ثناء کی تکمیل کے بعد، تین تکبیر (اسی تکبیر کو تکبیر زائد کہتے ہیں) کہے۔ ان تین تکبیروں میں سے پہلی اور دوسری تکبیر میں باتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دے اور نہ باندھے۔ تیسری تکبیر (اللہ اکبر) کہتے ہوئے ہاتھ کانوں تک اٹھا کر لیجائے اور ہاتھ باندھ لے۔ اس کے بعد سورہ فاتحہ اور کسی سورہ کی تلاوت کرکے اور نمازوں کی طرح پہلی رکعت مکمل کی جائے۔ دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ اور کسی سورہ کی تلاوت کے بعد، پھر تین زائد تکبیریں کہی جائیں گی اور ہر تکبیر میں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دیا جائے گا۔ چوتھی تکبیر (اللہ اکبر) میں بغیر ہاتھ اٹھائے نمازی رکوع میں چلاجائے۔ نماز کا باقی حصّہ دوسری نمازوں کی طرح ادا کیا جائے۔ واضح رہے کہ عید الاضحی کی نماز بھی دو رکعتیں ہیں جو اسی طریقے سے ادا کی جاتی ہے۔ ان دونوں نمازوں  کے بعد خطبہ واجب ہے؛ لہذا امام دو خطبے پڑھے گا اور مقتدی کو خاموشی کے ساتھ ان خطبوں کو سننا چاہیے!
عید گاہ میں مصافحہ و معانقہ:
ہم عید الفطر اور عیدالاضحی کی نمازوں کے بعد عیدگاہ میں ایک بدعت کا ارتکاب ہیں۔ یہ مصافحہ اور معانقہ کی بدعت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عید گاہ میں مصافحہ و معانقہ بدعت ہے۔ اتنی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہےکہ اگر کسی صاحب کی ملاقات کسی شخص سے غیبوبت کے بعد ہورہی ہو اور اتفاق سے نماز کے بعد، عیدگاہ میں ہی پہلی ملاقات ہوئی؛ تو ایسے شخص سے مصافحہ اور معانقہ کیا جاسکتا ہے۔مگر یہ کیا بلا ہے کہ ایک شخص گھر سے کسی کے ساتھ آتا ہےاور بسا اوقات ایک ہی ساتھ نماز عیدالفطر یا نماز عید الاضحی ادا کرتا ہے؛ پھر مصافحہ اور معانقہ کےلیے ایک دوسرے کی طرف بڑی سرعت سے بڑھتا ہے!!! یہ سب بدعات و اختراعات میں سے ہے۔
حضرت مولانا مفتی سیّد عبدالرحیم صاحب لاجپوری رحمہ اللہ نے تو صورت مذکورہ کو واضح کرکے بیان کیا اورفرمایا ہے کہ یہ بدعت ہے۔ مفتی صاحب کی تحریر ملاحظہ فرمائے:
"عید کی نماز کے بعد ملنا اور معانقہ ومصافحہ کرنا کوئی امر مسنون نہیں؛ (بل کہ) لوگوں کی اختراعات اور بدعات میں سے ہے۔احادیث میں جہان تک معلوم ہے، اس کا پتہ نہیں چلتا۔ غیبوبت کے بعد مصافحہ اور طویل غیبوبت پر معانقہ ثابت ہے۔مگر عید کی نماز کے بعد ان کا ثبوت نہیں ہے۔ یہاں یہ حالت ہے کہ وہ رفقاء جو نماز میں شریک بل کہ برابر میں کھڑے تھے، سلام اور خطبہ کے بعد معانق ہوتے ہیں اور اس کو امر دینی سمجھتے ہیں؛ اس لیے یہ غلط چیز ہے۔" (فتاوی رحیمیہ، ج: 2، ص: 111-112)
حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "عیدین میں معانقہ کرنا یا عید کی تخصیص سمجھ کر مصافحہ کرناشرعی نہیں؛ بل کہ محض ایک رسم ہے"۔ (کفایۃ المفتی: 3/302)
مجدّد ملت، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے اس حوالے سے ایک قا‏عدہ کلیہ تحریر کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائے: "قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ عبادات میں حضرت شارع علیہ السلام نے جو ہیئت وکیفیت معین فرمادی ہے، اس میں تغیّر وتبدّل جائز نہیں اور مصافحہ چوں کہ سنّت ہے، اس لیے عبادات میں سے ہے، (لہذا) حسب قاعدۂ مذکورہ اس میں ہیئت وکیفیت منقولہ سے تجاوز جائز نہ ہوگا اور شارع علیہ السلام سے صرف اوّل لقاء کے وقت بالاجماع یا وداع کے وقت بھی علی الاختلاف منقول ہے۔پس اب اس کے لیے ان دو وقتوں کے سوااور کوئی محل و موقع تجویز کرناتغییر عبادت کرنا ہے، جو ممنوع ہے؛ لہذا مصافحہ بعد عیدین یا بعد نماز پنج گانہ مکروہ وبدعت ہے۔ شامی میں اس کی تصریح موجود ہے۔" (امدادالفتاوی، ج:1، ص:557)
خلاصۂ کلام:
          خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان عید اس طرح منائیں کہ شریعت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ اس حوالے سے ہمارے پاس پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اور فرمان موجودہے۔  انہیں عمل اور فرمان کی روشنی میں ہمیں عید منانا چاہیے۔ ہمیں ہر طرح کے خرافات اور بدعات و اختراعات سے اجتناب کرنا چاہیے؛ خاص طور پر عید کا دن جو ایک اہم روزے جیسی  عبادت کا جشن ہے، ہمیں اپنے غلط اعمال کی وجہ سے اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ہم شریعت وسنّت کی روشنی اپنی عید مناتے ہیں؛ تو ہمیں عید منانے کا بھی اجر وثواب ملے گا، ان شاء اللہ۔

٭ہیڈ: اسلامک اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا۔

Monday, May 23, 2016

مسجد اقصی پر حالیہ اسرائیلی حملہ اور عالم اسلام


مسجد اقصی پر حالیہ  اسرائیلی حملہ اور عالم اسلام

تحریر: خورشید عالم داؤد قاسمی


مسجد اقصی کا مسئلہ صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں ہے؛ بل کہ یہ پورے عالم اسلام کا قضیۂ ہے۔ مسلمانان عالم شاید یہ بھول رہے ہیں کہ مسجد اقصی قبلہ اوّل ہے۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے بعد، جس مسجد کا نمبر ہے وہ مسجد اقصی ہے۔ یہ وہی مسجد اقصی ہے، جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے رات میں لائے گئے تھے۔ اسی مسجد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء (علیہم السلام) کی امامت کی تھی۔ پھر یہیں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کا مبارک سفر شروع ہوا تھا۔ یہ وہی مسجد ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "وَصَلَاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلَاةٍ،" کہ ایک شخص کی  مسجد اقصی کی ایک نماز (ثواب میں) پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے۔ (ابن ماجہ، حدیث: 1413)
خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد، عالم عرب ٹکڑوں میں تقسم ہوگیا۔ پھر 14/مئی 1948 کا وہ بدترین دن بھی آیا، جس دن قلب عرب میں، فلسطین کی 55 فیصد اراضی پر زبردستی "اسرائیل" کے نام سے ایک آزاد، غاصب اور ناجائز صہیونیت زدہ یہودی ریاست کے قیام کا اعلان ہوا۔ پھر اسرائیل کی طرف سے بار بار تھوپی جانے والی جنگ و جدل کے نتیجے میں، آج فلسطین نام کی ریاست کے لیے دس فی صد زمین بھی باقی نہیں رہی؛ بل کہ فلسطین اپنے وجود کی جنگ لڑرہا ہے اور وہ "اقوام متحدہ"  جس کی "جنرل اسمبلی" نے 1947 میں زبردستی فلسطین کی تقسیم کا فیصلہ کیا، آج خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ بہت احسان کیا تو ایک قرارداد منظور کروادیا جسے اسرائیل اپنے جوتوں کی نوک سے روند کر اپنی تخریبی کاروائی اور دہشت گردی میں منہمک رہتا ہے۔
اسرائیل کے قیام کے بعد سے آج تک کئی جنگیں ہوچکی ہیں۔ ان جنگوں میں لاکھوں کی تعداد میں فلسطینی شہریوں کا قتل عام ہوا، ہزاروں شہروں  اور گاؤں کو تباہ و برباد کیا گیا ہے اور ہر جنگ میں فلسطینی اراضی پر اسرائیلیوں نے قبضہ کیا ہے۔ 1967 کی چھ روزہ عرب-اسرائیل جنگ کے میں، اسرائیل نے ناجائز طریقے سے عرب کے ایک بڑے حصہ پر قبضہ کرلیا، جس میں مشرقی یرشلم بھی شامل ہے، جہاں مسجد اقصی واقع ہے۔ اس وقت سے مسجد اقصی سے اسرائیل کی نظر ہٹی نہیں ہے۔ اقصی پلازا پر یہودیوں کےلیے عبادت کی اجازت نہیں تھی۔ اب شدت پسند صہیونیوں کا اسرائیلی حکام سے یہ مطالبہ ہے کہ ان کو اقصی کے باہر والے کمپاؤنڈ میں عبادت کی اجازت دی جائے۔ یہ ایسا مطالبہ ہے کہ یہ بیت المقدس کے مسلمانوں کو گراں گزرتا اور اس سے وہ مشتعل ہوتے ہیں اور یہ مشتعل ہونے کی بات بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ صہیونی شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی حکام کا بھی یہی ارادہ ہے کہ "مسجد اقصی" کو جلد از جلد اپنی نام نہاد عبادت گاہ کی میں تبدیل کردیں۔
یہودیوں کے نئے سال کی آمد کے موقع سے، 13/ستمبر 2015 کو فجر کے وقت، غاصب ریاست اسرائیل کی پولیس اور فوج نے مسجد اقصی کے احاطہ میں داخل ہوکر، آنسوں گیس اور دستی بم کی مدد سے یورش اور ہنگامہ شروع کردیا۔ پھر انھوں نے "مسجد اقصی" پر حملہ کرکے جانماز کو جلایا، توڑ پھوڑ کیا، عمارت کو نقصان پہنچایا اور درجنوں فلسطینیوں کو زخمی کیا۔ دو سیکوریٹی گارڈس کو گرفتار کیا؛ جب درجنوں نمازیوں کو قید کیا۔ 50/سال سے کم عمر کے ان نمازیوں کو جو "مسجد اقصی" میں نماز کےلیے جارہے تھے، ان کو جانے سے روک دیا۔ یہیں پر بس نہیں کیا؛ بل کہ اسرائیلی فوجیوں نے  مسجد کے اندرونی حصہ میں دھاوا بولتے ہوئے وہاں موجود درجنوں نمازیوں کو طاقت کے بل پر مسجد سے باہر نکال دیا۔ پھر اسرائیلی فوجیوں نے حملہ کے بعد، مسجد بند کردی اور نمازیوں و عبادت گزاروں کو احاطۂ مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ لوگ پتھراؤ اور سنگ باری کر رہے تھے، جس کے جواب میں یہ سب ہوا۔ اس حملے کے بعد، اسرائیلی فوجیوں نے اب تک تقریبا 47/فلسطینیوں کو حراست میں لے رکھا ہے جس میں کئی معصوم بچے بھی شامل ہیں۔
الجزیرہ کے نمائندہ اسکوٹ نے اس حالیہ حملے کے سلسلے میں کہا ہے کہ کچھ یہودی جماعتیں جن کو مسجد اقصی میں جانے اور عبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے، وہ وہاں داخل ہوگئیں، جو اوّلا تصادم و ہنگامہ کا سبب بنی۔ پھر اسرائیلی پولیس اور فوجیوں نے حملہ شروع کردیا۔ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق شروع میں کچھ قدامت پرست نو آباد یہودیوں نے فلسطینی مسلمانوں کو اشتعال دلایا اور برانگیختہ کیا جب کہ وہ اللہ سبحانہ و تعالی کی عبادت کے لیے مسجد جارہے تھے۔ پھر اسرائیلی پولیس اور فوج نے ان یہودیوں کی مدد کرتے ہوئے، حملہ شروع کردیا۔
وجہ جو بھی رہی ہو؛ لیکن پوری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ اسرائیلی پولیس اور افواج ہمیشہ جارحانہ، ظالمانہ اور دہشت گردانہ کاروائی میں یقین رکھتی ہے، جیسے وہ ماضی میں ہزاروں فلسطینیوں کے قتل اور لاکھوں کے زخمی کرنے کی مجرم ہیں، اس بار بھی اس حملہ میں وہ ہمیشہ کی طرح مجرم ہیں۔ رہی بات قدامت پرست نو آباد یہودیوں کی؛ تو وہ اس سے بخوبی واقف ہیں کہ ان کو بے لگام ہوکر سب کچھ کرنے کی اجازت ہے؛ کیوں کہ اسرائیلی حکام ان کے خلاف کوئی اکشن نہیں لے سکتے؛ بل کہ یہ کہنا چاہیے کہ انھیں اسرائیل حکومت کا کھلا تعاون حاصل ہے۔
جہاں تک فلسطینیوں کی طرف سے پتھراؤ کی بات ہے؛  تو یہ دنیا کو بیوقوف بنانے کا انوکھا طریقہ ہے۔ وہ بندوق، پستول، مشین گن، ٹینک اور طرح طرح کے مہلک ہتھیاروں اور بموں سے حملہ کریں؛ تو دفاع اور اگر کوئی اپنی جان، اپنے گھر اور اپنی عبادت گاہ کی حفاظت کےلیے سنگ باری اور پتھراؤ کرے؛ تو ظالم اور دہشت گرد ٹھہرے! یہ کہاں کا انصاف ہے! ابھی کل کی بات ہے کہ غاصب اسرائیل کی حکومت نے پولیس اور دیگر سیکوریٹی اداروں کے اراکین کو پتھراؤ کرنے والے فلسطینیوں پر گولی چلانے کی عام اجازت دے دی ہے۔ اسرائیل کے اس اقدام کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے بین الاقوامی قوانین کی سخت خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ نیا قانون اسرائیلی سیکوریٹی اہل کاروں کو بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام کا نیا لائسنس دینے کے مترادف ہے۔ مگر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو صبح و شام ٹھکرانے کے عادی لوگ، ان انسانی حقوق کی تنظیموں کے بیان پر کب توجہ دے سکتے ہیں؟!
اس حالیہ اسرائیلی حملے کے بعد جہاں ایک طرف کچھ انسانیت نواز لوگوں نے سڑکوں پر آکر اپنا احتجاج درج کرایا، وہیں دوسری طرف مسلم حکمرانوں نے بھی اس ظالمانہ تخریب کاری اور جارحیت و بربریت پر بر وقت اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی کاروائی کے بعد، اگر تمام مسلم ممالک کے حکمراں بر وقت اپنی زبان کھولنے کے عادی ہوجائیں؛ تو امید ہے کہ اس کا مثبت نتیجہ آئے گا اور اسرائیلی حکومت کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے بار بار اس کے ردّ عمل پر ضرور غور کرے گی۔
سعودیی عرب کے حکمراں، خادم حرمین شریفین ملک سلمان بن عبد العزیز (حفظہ اللہ) نے کھل کر اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں اپنا احتجاج درج کرایا ہے۔ سعودی بادشاہ نے اس خطرناک اسرائیلی چڑھائی کی بھر پور مذمت کی۔ انھوں نے مسجد اقصی میں حملے کے بعد اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور سیکوریٹی کونسل کے ممبران کو فوری سخت اقدام اٹھانے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے اس معاملہ کے حل کے لیے بین الاقوامی لیڈران سے بر وقت سنجیدہ کوشش کرنے اپیل بھی کی اور سیکوریٹی کونسل سے درخواست کی کہ اس تصادم و شورش کو ختم کرنے کےلیے فوری مداخلت کرے۔ انھوں کے کہا کہ عبادت گزاروں پر حملہ کرنا احترام مذاہب کے خلاف ہے جو دنیا میں شدت پسندی کو بڑھاوا دیگا۔ خادم حرمین شریفین نے باضابطہ فون کرکے برطانوی وزیر اعظم کیمرون، روسی صدر پتن اور فرانس کے صدر ہولانڈ سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیلی حملے کے خلاف سنجیدہ کوشش کریں!
اسی طرح اردن کی حکومت نے بھی اسرائیلی فوجیوں کے اس حملے اور فلسطینیوں کے خلاف وحشیانہ کاروائیوں کی مذمت کی ہے۔ اردن کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قبلہ اوّل کا دفاع امت مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ مسجد اقصی ماضی کی بنسبت اس وقت کہیں زیادہ خطرات سے دو چار ہے۔ اردن کی حکومت نے اس بات کو واضح طور پر کہا ہے کہ اب یہودی شرپسندوں کے ہاتھوں مسجد اقصی کی بے حرمتی اور اسرائیلی افواج کے ہاتھوں معصوم فلسطینیوں پر طاقت کے بے جا استعمال کے بعد خاموش رہنے کا کوئی جواز نہیں۔
عرب لیگ نے بھی بروقت قدم اٹھایا ہے جو قابل ستائش ہے۔ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس 27/ستمبر کو نیو یارک میں ہونا طے پایا ہے۔ عرب لیگ کے سکریٹری جنری: نبیل العربی نے کہا ہے کہ اس اجلاس میں فلسطنیوں پر اسرائیلی فوج کی ظالمانہ و دہشت گردانہ کاروائیوں، مسجد اقصی کے خلاف صہیونی سازشوں، اقصی کی مسلسل بے حرمتی کو روکنے پر غور و خوض کیا جائے گا۔
عرب لیگ کی طرح اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم او، آئی، سی (Organization of Islamic Cooperation) کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی ہنگامی طور پر 30/ستمبر اور یکم اکتوبر کو طلب کیا گیا ہے۔ او، آئی، سی کے سکریٹری جنرل، جناب ایاد امین مدنی نے کہا ہے کہ اس اجلاس میں 57/مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے اور تمام ممبران اسرائیلی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔
اللہ تعالی "عرب لیگ" اور "او، آئی، سی" کے ممبران کے دل میں کچھ ایسی باتیں ڈال دے کہ جس میں "قبلۂ اوّل" اور مظلوم فلسطینیوں کے حق میں خیر کا پیش خیمہ ہو۔ نہیں تو یہ فلسطینی اپنے ملک اور گھر میں رہ کر کب تک پناہ گزینوں اور قیدیوں کی سی زندگی گزاریں گے۔ آج کی تاریخ میں فلسطینیوں کی حیثیت پناہ گزینوں کی سی ہوگئی ہے؛ بل کہ کچھ اعتبار سے ان سے بھی بد تر ہے۔ ان کو کھانے کے لیے اناج کی سہولیت نہیں، پینے کے لیے صاف و شفاف پانی فراہم نہیں، مہینوں مہینوں تک بجلی کا انتظام نہیں، ان کے بچوں کےلیے کوئی عمدہ تعلیمی ادارہ نہیں۔ اگر بڑی محنت و مشقت اور قربانی کے بعد، کچھ کرتے بھی ہیں؛ تو ایک دن کی اسرائیلی دہشت گردانہ بمباری سے سب کچھ زمین بوس ہوجاتا ہے۔
ان مظلوم فلسطینیوں کو جس قوم کا سامنا ہے وہ نہایت ہی سرکش اور ضد و عناد سے بھری قوم ہے۔ اس قوم  کی سرشت  (Nature) میں یہ ہے ہی نہیں کہ وہ حق کو بخوشی قبول کریں؛ بل کہ ان کو اپنے مزعومہ "عظیم اسرائیل" کے خواب شرمندۂ تعمیر کرنے کی فکر ستاتی رہتی ہے۔ اللہ تعالی نے اس بے بہبود قوم کے ضد و عناد کے حوالے سے قرآن کریم میں فرمایا ہے: "وَلَنْ تَرْضَى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ۔" (سورہ بقرہ، آیت: 120) ترجمہ: "اور ہرگز راضی نہ ہوں گے تجھ سے یہود اور نصاری، جب تک تم تابع نہ ہو ان کے دین کا۔"  یعنی  یہود و نصاری اتنے سرکش اور ضدی ہیں کہ ان کو امرحق سے کوئی سروکار نہیں۔ وہ اپنی ضد پر اڑے رہیں گے اور کبھی بھی حق کی دعوت کو قبول نہیں کریں گے۔ ہاں، ایک صورت یہ ہے کہ آپ ان کے تابع ہوجائیں؛ تو ہی وہ آپ سے خوش ہوں گے؛ جب کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ ان کے تابع ہوجائیں؛ لہذا ان سے موافقت کی امید رکھنا بیکار کی بات ہے۔ جناب محمد رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم- کے زمانے میں جن یہودیوں کی یہ حالت ہو، آج ان کی اولاد سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ حق کو قبول کرلیں گے اور ان کے ساتھ مذاکرات کیا جائے!
اس حقیقت کے باوجود کچھ ذوالوجہین قسم کے لوگ ہمیشہ ان صہیونیت زدہ یہودیوں سے مذاکرات کے میز پر بیٹھ کر قضیۂ فلسطین اور قضیۂ مسجد اقصی کا حل نکالنے کی تلقین کرتے نہیں تھکتے ہیں؛ جب کہ یہ ایسی قوم ہے جو مذاکرات کی زبان نہیں سمجھتی۔ یہ بزدل قوم کبھی بھی امن پروگرام کو منظور نہیں کریگی۔ پھر ان سے مذاکرات کس لیے؟ ابھی اسی حالیہ حملہ کا ایک شرمناک واقعہ پڑھیے! اس حملہ کے موقع سے ناپاک اسرائیلی وزیر زراعت ان درجنوں شدت پسند صہیونیوں کے ساتھ تھے، جو مسجد میں موجود نمازی، طلبہ اور معصوم بچوں کو بغیر کسی رحم و کرم کے زخمی کرکے مسجد سے باہر جانے پر مجبور کررہے تھے۔ جس ملک کا وزیر اور منسٹر عام شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے ساتھ ہوکر معصوموں پر ظلم و زیادتی کو روا رکھے، وہاں کی حکومت سے مذاکرات اور ڈائیلاگ چہ معنی دارد۔ قضیۂ فلسطین اور مسجد اقصی کا واحد حل یہ ہے کہ اہالیان فلسطین کو مکمل آزادی سے رہنے کی اجازت  دی جائے، فلسطین فلسطینیوں کے حوالے کیا جائے، اسے مکمل ریاست کا حق دیا جائے اور مسجد اقصی کو مسلمانوں کی عبادت گاہ سمجھ کر مسلمانوں کے حوالے کیا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے؛ تو دنیا کی کوئی طاقت قضیۂ فلسطین اور مسجد اقصی کا حل پیش نہیں کرسکتی۔  ٭٭٭
(بہ تاریخ: 22/ستمبر 2015)
(مضمون نگار  دارالعلوم، دیوبند کے فاضل اور مون ریز ٹرسٹ اسکول ، زامبیا کے استاذ ہیں۔ ان سے   qasmikhursheed@yahoo.co.in  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)