Friday, July 17, 2015

مولانا محمد ابراہیم قاسمی شولاپوری: ایک دعوتی سفر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 مولانا محمد ابراہیم قاسمی شولاپوری:  ایک دعوتی سفر
بہ قلم : خورشید عالم داؤد قاسمی
Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in 

الحمدلله رب العلمین، والصلاة والسلام علی نبینه محمد بن عبدالله الامین و علی آله و اصحابه اجمین، اما بعد!

دارالعلوم مرکز اسلامی، انکلیشور، گجرات: دینی و عصری علوم کی ایک جامع درس گاہ ہے۔ اس ادارہ میں صرف عالمیت، حفظ، قرات اور افتاء نویسی کی ہی تعلیم نہیں ہوتی؛ بل کہ انگریزی زبان و ادب اور کمپیوٹر کی تدریس کا بھی معقول انتظام ہے۔ موخر الذکر عصری علوم و فنون کی تعلیم کے لیے سن 2003ء میں باضابطہ ایک شعبہ بہ نام: "مرکز اسلامی ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر " کا قیام عمل میں آیا۔ یہ شعبہ حضرت مولانا موسی صاحب مانکروڈ (مہتمم: دارالعلوم مرکز اسلامی) کی زیر سرپرستی اور مولانا اسماعیل صاحب مانکروڈ کی زیر نظامت محو سفر ہے۔ اس شعبہ نے اپنے نظام کی مختصر سی مدت میں ہی سیکڑوں فضلائے مدارس اسلامیہ کو انگریزی زبان و ادب اور کمپیوٹر و انٹرنیٹ کے علوم سے مسلح کرکےقوم کی خدمت میں پیش کیا ہے۔ یہ فضلائے کرام اندرون اور بیرون ہند، مثلا: امریکہ، کنیڈا، انگلینڈ، بہت سے افریقی ممالک اور بلاد اسلامیہ عربیہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ راقم الحروف بھی دارالعلوم، دیوبند سے فضیلت و ادب کی تکمیل کے بعد، انگریزی زبان و ادب کے حصول کےلیے، شعبہ مذکورہ میں سن 2005ء میں داخلہ لے کر، "دو سالہ ڈپلوما ان انگلش لنگویج اینڈ لٹریچر" مکمل کیا، پھر وہیں تدریسی خدمات سے وابستہ ہو گیا۔

جب احقر "مرکز اسلامی ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر" میں تدریسی خدمت انجام دے رہا تھا، ان دنوں سن 2009ء   کے اوائل میں،  "مون ریز ٹرسٹ اسکول ، زامبیا، جنوبی افریقہ" کے ٹرسٹی، جناب نجمل صاحب، مرکز اسلامی کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے۔ انھوں نے طلبہ کی کارکردگی کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور انھوں نے ساتھ ہی ساتھ مولانا اسماعیل صاحب مانکروڈ سے، یہ بھی درخواست کی کہ: مجھے آپ کے انگریزی شعبہ کا فارغ التحصیل ایک عالم چاہیے، جو میرے یہاں ایک اسکول میں کام کرسکیں۔ مولانا اسماعیل صاحب نے ایک انگلش داں عالم مہیا کرنے کا وعدہ کرلیا۔

مرکز اسلامی میں ہی جناب نجمل صاحب کی شناسائی مولانا محمد ابراہیم قاسمی شولاپوری سے ہوئی، جو اس وقت گیسٹ لکچرر کی حیثیت سے وہاں موجود تھے۔ پھر نجمل صاحب نے مولانا شولاپوری  کو بھی زامبیا میں خدمت کرنے کے لیے آمادہ کرنا چاہا؛ لیکن وہ تیار نہ ہوئے۔ واضح رہے کہ مولانا محمد ابراہیم شولاپوری صاحب دارالعلوم ، دیوبند کے فاضل ہیں۔ انھوں نے مرکز اسلامی میں ہی انگریزی زبان و ادب کی تعلیم حاصل کی، پھر تقریبا چار سال تک، ایک افریقی ملک "زمبابوے" میں دینی خدمات انجام دی ہے۔ مولانا سے عوام و خواص: سب بے حد محبت کرتے تھے۔ انھوں نے چار سال تک"زمبابوے" میں دینی خدمات انجام دینے کے بعد، اپنے ہی وطن: شہر شولاپور میں دینی کام کرنے کی نیت سے، استعفی دے کرچلے گئے۔ ان کے وطن پہنچنے کے فورا بعد "مرکز اسلامی ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر" میں ان کو بحیثیت گیسٹ ٹیچر بلایا گیا۔ الحمدللہ! ابھی مولانا ابراہیم صاحب اپنے وطن میں ہی ایک معیاری ادارہ: جامعہ اسلامیہ عمر فاروق –رضی اللہ عنہ-  میں خدمت انجام دے رہے ہیں۔

بہرحال، مرکز اسلامی کے ڈائرکٹر مولانا اسماعیل صاحب نے آپسی صلاح و مشورہ کے بعد، راقم الحروف کو "زامبیا" آنے کے لیے آمادہ کرنا شروع کیا اور بندہ کچھ غور و فکر کے بعد تیار ہوگیا۔ پھر 5/دسمبر 2009 عیسوی کو زامبیا پہنچا اور "مون ریز ٹرسٹ اسکول" سے وابستہ ہوگیا اور تا ہنوز خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس دوران، مون ریز کے ذمےداران مولانا شولاپوری سے رابطہ میں رہے اور یہاں آنے کےلیے آمادہ کرنے کی کوشش کی؛ لیکن ان کا جواب ہمیشہ نفی میں رہا اور مستقل استاذ کی حیثیت سے خدمت کرنے کو راضی نہ ہوئے۔ پھر ذمے داران کی رائے ہوئی کہ مولانا کو کچھ دنوں کے لیے مون ریز میں بلوایا جائے اور ان کے تجربات سے استفادہ کیا جائے۔ جب یہ تجویز مولانا محمد ابراہیم صاحب کو پیش کی گئی؛ تووہ ایک مہینہ مون ریز میں قیام کے لیے راضی ہوگئے۔

خیر، ضروری کاروائی کے بعد، بہ روز: چہار شنبہ، 20/اپریل 2011 کی شام کو مولانا ایتھوپیا ایرلائنس سے زامیبا کے دارالسلطنت "لوساکا" تشریف لائے۔ لوساکا انٹرنیشنل ایرپورٹ پر میزبان نے خوشی خوشی ان کو ریسیو کیا۔ لوساکا میں مہمان مکرم کا قیام و طعام کا انتظام، برادرم ریحان راوت (جو زامبیا کے مشہور تاجر اور مون ریز ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری ہیں) کے مکان پر تھا۔ مولانا کی آمد کے معا بعد، مون ریز ٹرسٹ کے ذمے داران کی ایک میٹنگ منعقد کی گئی، جس میں مہمان ذی وقار مولانا محمد ابراہیم صاحب قاسمی کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور ملک کی موجودہ صورت حال سے روشناش بھی کرایا گيا۔

زامبیا افریقی براعظم کے جنوبی خطے میں واقع ایک عیسائی مملکت ہے۔ اس کی کل آبادی 12935000 ہے؛ جب کہ مسلمان تقریبا ایک فی صد ہیں۔ یہ ملک بھی دوسرے افریقی اور ایشیائی ممالک کی طرح ، ایک طویل مدت تک انگریزوں کے قبضہ میں رہا۔ باشندگان وطن کی مسلسل سعی و کوشش سے 24/اکتوبر سن 1964 ء کو، یہ ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا۔ دوسرے ممالک کی طرح اس ملک میں بھی ہند نژاد لوگ ایک کثیر تعداد میں ہیں۔ ان کی معاشی حالت بہت اچھی ہے؛ جب کہ مقامی لوگ اقتصادی طور پر نہایت خستہ حال ہیں؛ بل کہ کچھ ایسے بھی ہیں، جو نان شبینہ کے لیے تڑپتے ہیں۔ راجدھانی میں چھ مساجد اور ایک بڑا مدرسہ ہے، جو ہند نژاد مسلمانوں کی دین داری اور ا سلامی حمیت  کی بین دلیل ہے۔ اسی طرح یہ مسلم حضرات، ملک کے طول و عرض میں بہ توفیق خداوندی، مساجد و مکاتب اور مسلم اسکولس کا جال بچھارہے ہیں۔ اسی سلسلہ کی ایک مبارک کڑی "مون ریز ٹرسٹ اسکول" بھی ہے، جہاں دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم سے بھی طلبہ و طالبات کے ذہن کو صیقل کیا جاتا ہے۔

برادرم شیخ شاہد موتالا صاحب زامبیا کے مشہور تجار میں سے ہیں۔ موتالا صاحب ایک دین دار شخص اور حضرت مولانا قمرالزماں صاحب الہ آبادی –دامت برکاتہم- کے خلیفہ ہیں۔ یہ سن 1999 ء میں بہ غرض تجارت، راجدھانی لوساکا سے ملک کے شمالی صوبہ کے شہر "مپلنگو" میں آکر اقامت اختیار کی۔ شہر "مپلنگو"، راجدھانی لوساکا سے 802/میل کی دوری پر واقع ہے۔ اس شہر کی آبادی 8574 لوگوں پر مشتمل ہے۔  موتالا صاحب "مپلنگو" میں ایک کمپنی  (Northern Fisheries) کے مالک ہیں۔  انھوں نے مقامی لوگوں کی خستہ حالی کو دیکھ کر، اپنی جگہ پر اور اپنے خاص بجٹ سے سن 2003 ء میں ایک مسلم اسکول قائم کیا۔ الحمدللہ! آج یہ اسکول 50/ ایکڑ کے رقبے پر قائم ہے اور 500/طلبہ و طالبات کو دینی و دنیوی علوم سے آراستہ کررہا ہے۔
خیر، مولانا محمد ابراہیم صاحب نے لوساکا میں چند ایام گزار کر، بہ روز: شنبہ: 23/اپریل سن 2011ء کی صبح کو مپلنگو تشریف لائے۔ مہمان مکرم کے قیام کا انتظام راقم السطور کی رہائش گاہ پر کیا گیا۔ پھر 24/ اپریل کی شام کو، جناب شاہد موتالا صاحب، چیرمین: مون ریز ٹرسٹ اسکول کی صدارت میں، ایک میٹنگ ہوئی، جس میں مولانا شولاپوری کے خطابات و بیانات وغیرہ کا نظام الاوقات تیار کیا گيا۔

مون ریز ٹرسٹ کے تحت چھ شعبے ہیں: (1) نرسری اسکول، (2) پرائمری اسکول، (3) سکنڈری اسکول، (4) شعبہ عالمیت (یہ ایک نیا شعبہ ہے جو سن 2011 ء میں شروع کیا گيا اور احقر اس شعبہ کا ہیڈ ٹیچر ہے۔)، (5) شعبہ دعوت و تبلیغ اور (6) شعبہ اسلامک اسٹڈیز؛ چناں چہ نظام الاوقات کچھ ایسا ترتیب دیا گيا کہ ہر شعبہ کے ذمے داران وغیرہ سے مولانا کی بات ہوسکے اور استفادہ کیا جاسکے، جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
(1)          شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے ہیڈ سے ملاقات اور تعلیم و تعلم سے متعلق تبادلۂ خیال۔
(2)          شعبہ عالمیت کے ہیڈ  اور اساتذہ سے ملاقات اور طلبہ کے درمیان گفتگو۔
(3)          شعبہ دعوت و تبلیغ کے نگراں سے ملاقات اور طریقہ دعوت پر گفت و شنید اور مفید مشورے۔
(4)          ہر روز تقریبا ایک گھنٹہ معلمین و معلمات کے درمیان اصلاحی بیان۔
(5)          ہر روز بعد نماز عشاء طلبہ و اساتذہ کے درمیان سیرت النبی –صلی اللہ علیہ وسلم – کے موضوع پر خطاب۔

الحمدللہ! نظام الاوقات کے مطابق، مولانا پورے انہماک کے ساتھ، اساتذہ و طلبہ سے ملتے رہے اور سارے شعبہ جات کی کارکردگی کا معائنہ کیا اور مفید مشورے سے نوازا۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

مولانا شولاپوری نے اسلامک اسٹڈیز کے حوالے سے بہت سے مفید مشورے دیے اور اساتذہ کو محنت و مطالعہ کی تلقین کی۔ جہاں تک شعبہ عالمیت کا تعلق ہے؛ تو مولانا نے اس شعبہ کے بھی اساتذہ و طلبہ سے ملاقات کی، طلبہ کے درمیان مختلف موضوع پر مختلف نششتوں میں تقریر بھی کی؛ بل کہ جب تک رہے ان طلبہ کو ایک گھنٹہ پڑھاتے بھی تھے۔ مولانا نے شعبہ دعوت و تبلیغ کے نگراں سے بھی ملاقات کی اور اس علاقہ کے ماحول سے واقف ہوئے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی طے ہوا کہ دعوتی کام کرنے والوں کے لیے ایک دو روزہ تربیتی پروگرام رکھا جائے؛ چناں چہ 7-8 /مئی سن 2011 ء کو تربیتی پروگرام منعقد ہوا۔ موضوع سے دل چسپی رکھنے والے لوگوں نے کثیر تعداد میں اپنی حاضری درج کرائی اور خوب استفادہ کیا۔مزید براں، معلمین و معلمات کے درمیان اصلاحی خطاب بھی مستقل جاری رہا۔ معلمین حضرات دل چسپی سے ہر روز حاضر ہوتے تھے۔ ہر روز پروگرام کے اختتام پر تقریبا 15/منٹ سوال و جواب کا بھی معمول رہا۔ سیرت النبی- صلی اللہ علیہ وسلم – کے موضوع پر عشاء بعد کا پروگرام تو نہایت ہی کام یاب رہا۔ اس پروگرام میں، لوگوں کا اچھا خاصا مجمع ہوتا تھا۔ الحمدللہ! مولانا نے زمانۂ جاہلیت سے لے کر حضور -صلی اللہ علیہ وسلم -کی وفات تک کے حالات، مستند حوالوں سے بیان کیے۔ اس طرح یہ سارے پروگرامس 25/ اپریل سے 17/مئی تک چلتے رہے اور لوگوں نے مولانا سے بہت ہی استفادہ کیا۔ جزاہم اللہ احسن الجزاء!

مپلنگو سے فراغت کے بعد، "پیٹاؤکے مسلم ٹرسٹ" کے چیرمین: جناب حافظ اسماعیل منشی صاحب کی فرمائش پر، مہمان مکرم پیٹاؤکے تشریف لے گئے۔ پیٹاؤکے میں مفتی عبد القوی قاسمی اور مولانا زکی الرحمان قاسمی وغیرہ نے مولانا شولاپوری کا پرزور  استقبال کیا۔ یہاں مولانا کا قیام ایک ہفتہ رہا۔ اس مدت میں مولانا شولاپوری نے "انوسا" پبلک اسکول اور مدرسہ انوارالعلوم کی وزٹ کی اور طلبۂ و اساتذہ اور عوام و خواص کے درمیان مختلف دینی و اصلاحی موضوع پر خطاب ہوا۔

واضح رہے کہ مفتی عبد القوی قاسمی اور مولانا زکی الرحمان قاسمی: دونوں دارالعلوم، دیوبند کے فضلاء ہیں۔ دونوں نے مرکز اسلامی ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر میں ہی انگریزی زبان و ادب کی تعلیم حاصل کی ہے۔ اول الذکر میرے رفیق درس اور بہت ہی مخلص دوست ہیں؛ جب کہ ثانی الذکر میرے بہت ہی مخلص شاگرد ہیں۔ ان دنوں یہ دونوں حضرات مدرسہ انوارالعلوم، انوسا میں تدریسی خدمات میں مشغول ہیں۔

مولانا شولاپوری پیٹاؤکے میں ایک ہفتہ گزار کر، پھر 24/مئی کو لوساکا پہنچے۔ اسی روز مغرب بعد "مون ریز ٹرسٹ" کے اراکین کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں اراکین نے مولانا کا شکریہ ادا کیا اور ہر سال کم از کم ایک مہینہ کا وقت دینے کا مطالبہ کیا، جسے مولانا نے قبول کیا۔ حضرت مولانا عبد الرشید صاحب (ایک تاجر اور مون ریز ٹرسٹ کے رکن) کی فرمائش پر، مولانا نے دو روز لوساکا میں قیام کیا۔ اس کے بعد 27/مئی کی دوپہر کو بذریعہ ہوائی جہاز زمبابوے کے لیے روانہ ہوئے۔ شام کے وقت زمبابوے کی راجدھانی "ہرارے" پہنچے، جہاں ایرپورٹ پر مفتی اسماعیل مینک انھیں لینے کے لیے آئے تھے۔ہرارے میں مولانا نے حضرت مولانا موسی مینک –دامت برکاتہم – کے دولت خانہ پر قیام کیا۔ 28-29/ مئی کو مولانا "ہرارے " میں ہی مقیم رہے اور بہت سے مخلصین و محبین سے ملاقات کی۔ 30/مئی کی صبح کو، مولانا موصوف ہرارے سے "بلوایو" پہنچے۔

"بلوایو" زمبابوے کا دوسرے نمبر کا شہر ہے۔ یہاں بہت سے ہند نژاد لوگ ہیں۔ یہاں مولانا محمد ابراہیم صاحب نے ماضی میں 4/سال تک دینی خدمت انجام دی ہے۔ یہاں کے بہت سے لوگ مولانا ابراہیم کو اپنے کنبہ کا ایک فرد شمار کرتے ہیں۔ چناں چہ سب لوگ مولانا سے رابطہ میں رہتے ہیں۔ ایک ایسی بھی معمر خاتون ہے جو مولانا کواپنا بیٹا کی طرح سمجھتی ہے۔ جب مولانا انڈیا میں تھے ، اسی وقت یہ معلوم ہوا تھا کہ اس معمر خاتون کی بہت زیادہ طبیعت خراب ہے؛ لہذا "بلوایو" آنے کا اصل مقصد اسی معمر خاتون کی عیادت کرنی تھی۔  خیر مولانا موصوف نے اس خاتون کی عیادت کی اور بہت سے دوسرے متعلقین سے ملاقات کی۔ اسی طرح 4/جون  تک بلوایو میں گزار کر 5/جون کو "ہرارے" پہنچے اور اپنے محبین و متعلقین کے درمیان مابقی ایام گزار کر 8/جون کو ایتھوپیا ایرلائنس سے ممبئی کے لیے روانہ ہوگئے اور 9/جون کی شام کو اپنے وطن: شولاپور صحت و سلامتی کے ساتھ پہنچ گئے۔
(مضمون نگار دارالعلوم، دیوبند کے فاضل اور مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ کے استاذ ہیں۔ ان سے qasmikhursheed@yahoo.co.in    پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)

Friday, June 19, 2015

پورے حقوق کی رعایت کے ساتھ روزہ رکھئے!


پورے حقوق کی رعایت کے ساتھ روزہ رکھئے!

از: خورشید عالم داؤد قاسمی


اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنے پسندیدہ دین "اسلام" کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا بھی منکر دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ روزہ ان پانچ بنیادوں میں سے ایک ہے جن پر اسلام کی بنیادیں ہیں۔ ان ارکان و اساس کو ایک حدیث نبوی میں اس طرح بیان کیا گيا ہے: عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- : "بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ." [صحيح بخاری، حدیث نمبر: 8، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 20 - (16)] ترجمہ: حضرت عبدا للہ بن عمر -رضی اللہ عنہما- روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  -صلی اللہ علیہ وسلم- نے فرمایا: "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: (1) گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد  (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، (2) نماز قائم کرنا، (3) زکوۃ ادا کرنا، (4) حج کرنا   (5) اور رمضان کے روزے رکھنا۔"


یوں تو روزہ کی کئی قسمیں ہیں، مگر ہم جس روزہ کی بات کررہے ہیں، وہ رمضان المبارک کے فرض روزے ہیں، جسے اللہ تعالی نے قرآن کریم یہ آیت کریمہ نازل فرماکر فرض کیا: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ." (سورہ بقرہ، آیت: 183) ترجمہ: "اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، اس توقع پر کہ تو متقی بن جاؤ۔" اس آیت کریمہ میں اللہ پاک اپنے مومنین بندے سے مخاطب ہے کہ جب تم ایمان کی دولت سے مالا مال ہوگئے؛ تو تمھیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ ماہ رمضان کے روزے بھی تم پر فرض ہیں؛ لیکن تمھیں حیرت و استعجاب کرنے کی ضرورت نہیں، چونک اٹھنے کی حاجت نہیں؛ اس لیے کہ یہ روزے تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض تھے۔ نصاری کے حوالے سے یہ بات حدیث میں ملتی ہے کہ ان پر بھی ایک ماہ کے روزے فرض تھے، مگر اس قوم نے اس کی تعداد بڑھا کر پچاس کرلی تھی۔ اللہ نے آگے فرمایا کہ اس روزے کا مقصد متقی بنانا ہے؛ کیوں کہ روزہ دار اپنے نفس کو متعدد تقاضوں سے روکنے کی عادت ڈالتا ہے اور اسی عادت کی پختگی تقوی کی بنیاد ہے۔


روزہ کا مطلب یہ ہے کہ ہر عاقل ، بالغ مسلمان مرد و عورت جو روزہ رکھنے کی طاقت و قوت رکھتے ہوں، وہ صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور جماع  سے رک جائے، اسی کو شرعی اصطلاح میں روزہ کہتے ہیں۔ جس طرح نماز کے کچھ حقوق و آداب اور شرائط ہیں، اسی طرح روزے کے بھی حقوق و آداب ہیں۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ: روزہ دار شخص جیسے مذکورہ چیزوں سے اجتناب کرتا ہے، اسی طرح مندرجہ ذیل چیزوں کا ارتکاب نہ کرے، یعنی کسی کی غیبت کرنا،جھوٹ بولنا، کسی سے جھگڑا  لڑائی اور شب و شتم کرنا ، کسی نازیبا اور حرام باتوں کا سننا اور غیر مناسب و ناجائز چیزوں کا دیکھنا۔ جب صائم ان تمام چیزوں سے اپنے آپ کو روکتا ہے ؛ تو روزہ کا بہت ہی اجرو ثواب پاتا ہے؛ ورنہ تو روزہ پھر کسی کام کا نہیں رہتا اور صائم کو کچھ ہاتھ نہیں لگتا۔ اس حوالے سے ہم ذیل میں ،چند احادیث نقل کرتے ہیں۔


جو شخص روزہ ایسے ہی رکھتا ہے جیسا کہ روزہ کا حق؛  تو پھر اس کا اجر وثواب بہت ہے۔ اللہ تعالی خود ایسے شخص کو  اجر وثواب عنایت فرماتے ہیں۔ ایک حدیث قدسی ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "قَالَ اللَّهُ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ." [بخاری شریف، حدیث نمبر: 1904، مسلم شریف، حدیث نمبر: 163 - (1151)] ترجمہ: حضرت ابوہریرہ- رضی اللہ عنہ- روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم -نے ارشاد فرمایا: " روزے کے سوا ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے ؛  کیوں کہ  روزہ  میرے لیے ہے اور اس کا بدلہ میں  دونگا۔"


ایک حدیث میں جناب نبی کریم -صلی اللہ علیہ وسلم- نے ایمان و احتساب کے ساتھ  روزہ رکھنے والوں  کے پچھلے سارے گناہوں کی بخشش کی بشارت دی ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ." [بخاری شریف، حدیث نمبر: 38، مسلم شریف، حدیث نمبر: 175 - (760)]  ترجمہ: حضرت ابوہریرہ  -رضی اللہ عنہ- سے مروی ہے کہ رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم - نے فرمایا: "جو شخص رمضان کا روزہ  حالت ایمان میں،  ثواب کی امید کرتے ہوئے رکھے؛  تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے۔"


ایک روایت میں ہے کہ "صیام" روزہ داروں کے سلسلے میں اور "قرآن کریم" تلاوت کرنے والوں کے سلسلے میں قیامت کے دن شفاعت کریں گے۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ فيَقُولُ الصِّيَامُ: أَيْ رَبِّ، إِنِّي مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ فَيُشَفَّعَانِ." (شعب الایمان، حدیث نمبر: 1839) ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرو –رضی اللہ عنہ- روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ – صلی اللہ علیہ وسلم- نے فرمایا: "روزہ  اور قرآن دونوں بندے کے حق میں شفاعت کریں گے؛ لہذا روزہ کہے گا: 'اے میرے رب! میں نے اسے دن میں کھانے اور شہوتوں سے روکے رکھا؛ اس لیے اس کے حوالے سے میری شفاعت قبول فرمائے!' اور قرآن گویا ہو گا: 'میں نے اس کو رات میں سونے سے روکے رکھا؛ اس لیے اس کے حوالے سے میری شفاعت قبول فرمائیں!' پھران  دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔"


اگر ہم  پورے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ روزہ نہیں رکھتے ہیں؛ تو پھر کیا ہوگا؟ اس سلسلے میں فرمان نبوی ملاحظہ فرمائے۔ ایک حدیث شریف میں ہےکہ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ ان کے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا،  ان کو کچھ  حاصل نہیں ہوتا ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: " كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ، وَكَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ." (مسند احمد، حدیث نمبر: 9685) ترجمہ: ابو ہریرہ –رضی اللہ عنہ- روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ –صلی اللہ علیہ-نے فرمایا: "بہت سے  روزہ دار ایسے ہوتے ہیں، جنھیں ان کے روزےسے سوائے بھوک (اور پیاس، دارمی) کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اوربہت سےشب میں  عبادت میں مشغول رہنے والےایسے  ہیں، جنھیں ان کی عبادت سے سوائے بے خوابی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔"


ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایسے شخص کے روزے کی اللہ کو کوئی ضرورت نہیں، جو جھوٹ بولتا ہو۔ حدیث ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ." [صحيح بخاری، حدیث نمبر: 1903] ترجمہ: ابو ہریرہ –رضی اللہ عنہ- روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم – نے ارشاد فرمایا: "جو شخص (روزہ کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑ دے؛ تو اللہ کو  اس بات  کی پرواہ نہیں  کہ اس نے اپنا کھانا پینا چھوڑ دیا۔"


ان مذکورہ بالا حدیثوں سے معلوم ہوا کہ روزہ دار کی اہمیت، اللہ کی نظر میں، بہت ہی زیادہ ہے؛ اس شرط کے ساتھ کے روزہ پوری رعایت کے ساتھ رکھا گيا ہو۔ انسان کو روزہ صحیح طریقے سے رکھنی چاہیے اور روزہ کی حالت میں لغویات وعبث ، فحش کلامی اور افعال باطلہ سے پرہیز کرنا چاہیے،  تاکہ زیادہ سے زیادہ اجروثواب اور انعام واکرام کا مستحق ہوسکے۔


روزہ کا مقصد اور غرض و غایت روزہ دار کو متقی بنانا اور صفت تقوی سے متصف کرنا ہے، جیسا کہ آیت کریمہ میں مذکور ہے۔ تقوی یہ ہے کہ اس سے متصف شخص اللہ عزوجل سے ڈر ے، ہر کام کرنے سے پہلے یہ سوچے کہ یہ کام اللہ اور اس کے پیارے رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم -کے فرمان کے موافق ہے یا مخالف؟ اللہ نے جن چیزوں کا حکم کیا ہے، اسے بجالائےاور جن چیزوں سے روکا ہے، اس سے رک جائے۔ تقوی کو ایک روایت میں مثال کے ساتھ سمجھایا گیا ہے جو قریب الفہم ہے۔ وہ روایت یہ ہے: ایک مرتبہ حضرت عمرؓنے حضرت ابی ابن کعبؓ سے تقوی کے متعلق دریافت فرمایا، تو انھوں نے جواب دیا : "امیر المومنین ! آپ کسی خاردار جھاڑیوں والے راستے (ایسا راستہ جس کے دونوں طرف کانٹوں کی قطار ہو) سے گزرے ہیں؟" انھوں نے ارشاد فرمایا : "ہاں۔" حضرت ابی ابن کعبؓ نے سوال کیا: "پھر اس وقت آپ نے کیا کیا؟" حضرت عمر –رضی اللہ عنہ-  نے کہا: "میں  دامن سمیٹ کر، احتیاط کے ساتھ قدم رکھتا تھا۔" حضرت ابی ابن کعبؓ نے کہا: "بس یہی تقوی ہی۔"  یعنی دنیا میں بہت سی اچھی اور بری چیزیں ہیں؛ تو کچھ بھی کرنے سے پہلے آدمی اسے ملحوظ خاطر رکھے کہ یہ شریعت کے مخالف ہے یا موافق ؟  اگر موافق ہو تو کرے اور اگر مخالف ہو؛  تو اس سے اجتناب کرے، پھر یہی عمل تقوی اور اس کا کرنے والا متقی ہے۔


روزہ جہاں صائم کے اندر تقوی پیدا کرتا ہے، وہیں یہ صبر بھی  سکھلاتا ہے۔ حضور -صلی اللہ علیہ وسلم -نے رمضان کے مہینہ کو "شَهْرُ الصَّبْرِ" (نسائي شریف، حدیث نمبر: 2408)  یعنی صبر کا مہینہ فرمایا کرتے تھے؛  اس لیے کہ صائم اشیاءِ خورد و نوش اور جِماع پر قدرت ہونے کے باوجود بھی،  اس سے اپنے آپ کو روکتا ہے۔ صبر بہت بڑی چیز ہی۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ صبر کا بدلہ جنت ہے۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والے کو بے حساب اجر دینے کا وعدہ فرمایا ہے؛ چناں چہ ارشاد ربانی ہے: "إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ." (سورہ زمر، آیت: 10) ترجمہ: "صبر کرنے والے کو ملتا ہے ان کا ثواب بے شمار ۔" مطلب یہ ہے کہ کسی چیز پر صبر کرنے سے صابر کو، اس کے عوض بے شمار بدلے دیے جائیں گے؛  اس لیے کہ اس کے مقابلے میں دنیا کی تمام سختیاں اور تکلیفیں ہیچ ہیں۔


روزہ ایسی عبادت ہے،  جو روزہ دار کو محتاج،غریب، مسکین فقیر کی غم خواری پر ابھارتا ہے، پرساں حال بناتا ہے اور مدد و نصرت پر مجبور کرتا ہے؛ کیوں کہ جب آدمی روزہ کی حالت میں بھوک وپیاس کی شدت برداشت کرتا ہے؛ تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ ان مفلس اور محتاج لوگوں کے شب وروز کتنی مشقت اور پریشانی کے ساتھ کٹتے ہوں گے، جن کو نان شبینہ بھی میسر نہیں ہے! پھر وہ روزہ دار جسے اللہ تعالیٰ نے دولت و ثروت عطا کیا ہے،  وہ زکاۃ و خیرات کی رقمیں بغیر کسی تاخیر کیے؛ بل کہ بعجلت مستحقین تک پہچانے کی سعی کرتے ہیں۔ اسی طرح روزہ میں اور بھی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔


اطباء کہتے ہیں کہ روزہ صحت کے لیے مفید ہے۔  روزہ دار تندرست و توانا رہتا ہے۔  کچھ ایسی بیمار ی انسان کے جسم میں ہوتی ہے کہ ڈاکٹر تھک ہار کر اسےچھوڑدیتا ہے؛ لیکن روزہ سے وہ مرض ختم ہوجاتا ہے اور مریض رو بصحت ہو جاتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ روزہ کے بے شمار دینی و دینوی اور روحانی و جسمانی فوائد ہیں۔ مسلمان کو بغیر کسی عذر لنگ اور کمی کوتاہی کے روزہ رکھنا چاہیے۔ پھر دینی فوائد کے ساتھ ساتھ دوسرے فوائد بھی حاصل ہو ں گے۔  اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ارکان اسلام اور شریعت محمدیہ کا قدرداں اور اس پر عمل کرنے والا بنائے! آمین!


(مضمون نگار دارالعلوم، دیوبند کے فاضل اور مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ کے استاذ ہیں۔ ان سے qasmikhursheed@yahoo.co.in    پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)

Wednesday, May 13, 2015

ہم جنس پرستی: فطرت سے بغاوت

ہم جنس پرستی: فطرت سے بغاوت

از: محمدخورشیدعالم داؤدقاسمی

حرف آغاز:
ہزار بار افسوس اور تف ہو اس موڈرن اور نام نہاد مہذب اقوام اور بہت سے ممالک اور ان کے رہنماؤں پر،  جس نے "ہم جنس پرستی" جیسی مہلک وبا میں بھی شخصی آزادی اور فطرت کے دشمن افراد کے جذبات کا ناجائز احترام کو سیکولرزم اور آزادی سے تعبیر کرکے، دنیا کو قعر مذلت میں ڈالنے پر تلے ہیں۔ یہ ایک ایسا خلاف فطرت فعل ہے جس کی کوئی مذہب اجازت دیتا ہے اور نہ کوئی مہذب معاشرہ۔ اس فعل کا مقصد محض فطرت سے بغاوت اور غلط و ناجائز طریقے سے خواہشات نفس کی تکمیل اور جنسی ہیجان کی تسکین ہے، جو در حقیقت ایک بہت بڑی بے چینی اور عدم اطمینان ہے۔

        "ہم جنس پرستی" کا لفظ اردو زبان و ادب میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی ہی جنس کے انسان کے ساتھ مل کر، اپنی جنسی خواہشات پوری کرے۔ یعنی مرد مرد کے ساتھ اور عورت عورت کے ساتھ مل کر اپنی جنسی خواہشات پوری کرے۔ اس فعل کو انگریزی میں  (جب مرد مرد سے اس فعل کا ارتکاب کرے تو) Homosexuality   اور (جب عورت عورت سے اس فعل کو انجام دے تو)Lesbianism  کہا جاتا ہے۔

ہم جنس پرستی کی ابتداء:
قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے: "وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ." (سورہ: اعراف، آیت: ۸۰) ترجمہ: "ہم نے لوط کو بھیجا؛ جب کہ انھوں نے اپنی قوم سے فرمایا، کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا والوں سے نہیں کیا۔" قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کے بہ موجب، اس شیطانی فعل کی ابتداء سیدنا حضرت ابراہیم –علیہ السلام- کے بھتیجے، اللہ کے نبی، حضرت لوط –علیہ السلام- کی قوم (اہل سدوم، سدوم: یہ بیت المقدس اور اردن کے درمیان ایک مقام تھا، جہاں حضرت لوط –علیہ السلام- نبی بنا کر مبعوث کیے گئے تھے) نے کیا۔ "اہل سدوم" سے پہلے دنیا میں، اس بدترین فعل کا کوئی تصور نہیں تھا۔ اس قوم سے قبل کسی نے اس کا ارتکاب نہیں کیا تھا۔ یہ اتنا گھناؤنا فعل ہے کہ دنیا کی کسی قوم کا ذہن بھی، اہل سدوم سے قبل، اس فعل کی طرف نہیں گیا۔ حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ اس قوم (اہل سدوم) سے پہلے دنیا میں کبھی ایسی حرکت کا ارتکاب نہیں کیا گیا۔ پھر وہیں سے یہ قبیح فعل شروع ہوا، جو آج تک ایک مہذب معاشرہ اور سوسائٹی کو ذلیل و خوار کرنے کے درپے لگا ہوا ہے۔

        آیت مذکورہ کے متصلا بعد ایک دوسری آیت ہے: "إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ." (سورہ: اعراف، آیت:۸۱) ترجمہ: "(یعنی) تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر، بل کہ تم حد  ہی سے گزر گئے ہو۔" جہاں پہلی آیت کریمہ میں "ماسبقکم بہا" سے یہ سمجھ میں آیا کہ قوم لوط سے پہلے، اس کام کا کسی نے ارتکاب نہیں کیا ہے۔ اسی طرح دوسری آیت کریمہ میں جو "بل انتم قوم مسرفون" آیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ کچھ لوگ بسا اوقات کچھ گناہوں کو دھوکہ اور فریب میں آکر ارتکاب کرلیتے ہیں، جن کو اپنے آباء و اجداد کو کرتے دیکھتے ہیں؛ لیکن اس فعل کے بارے میں اللہ تعالی نے کہا کہ اس میں تو دھوکہ کھانے اور کسی کو دیکھنے کی کوئی بات ہی نہیں؛ بل کہ تم نے ایک ایسے فعل کا ارتکاب کیا ہے، جس کا تم سے پہلے کسی نے ارتکاب نہیں کیا۔ یعنی اس سلسلہ میں تم نے خود دوسری اقوام کے مقابلے میں تجاوز کیا ہے ۔ اس آیتِ کریمہ سے بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ "ہم جنس پرستی" کے فعل کا آغاز "اہل سدوم" نے ہی کیا۔ (معارف القرآن،3/615-616)

قوم  لوط پر عذاب اِلٰہی:
جب قوم لوط نے ہم جنس پرستی جیسی بدترین عادت سے توبہ و استغفار نہیں کیا اور نہ ہی حضرت لوط –علیہ السلام- پر ایمان لائے؛ تو اللہ نے اس قوم پر عذاب واقع کرنے کےلیے فرشتوں کو بھیجا۔ جب وہ فرشتے عذاب واقع کرنے کےلیے حسین لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط –علیہ السلام- کے گھر مہمان بن کر ٹھہرنے آئے؛ تو اہل سدوم، انھیں حسین لڑکے سمجھ کر بدفعلی کی نیت سے حضرت لوط کے گھر پہنچ گئے۔ اس موقع پر حضرت لوط –علیہ السلام- بہت پریشان ہوئے کہ وہان مہمانوں (فرشتوں) کو ان خبیثوں اور شیطانوں سے کیسے بچائیں۔ آپ –علیہ السلام- کی پریشانی دیکھ کر فرشتوں نے آپ –علیہ السلام- سے بتلایا کہ وہ فرشتے ہیں، عذاب دینے آئے ہیں اور وہ لاکھ کوششوں کے باوجود، اہل سدوم کے قابو میں نہیں آسکتے ہیں۔ نیز حضرت لوط –علیہ السلام-سے یہ بھی کہا کہ آپ رات کے آخری حصہ میں اپنے اہل و عیال کو لےکر یہاں سے نکل جائیں۔ پھر اگلی ہی صبح،  اللہ تعالی کا عذاب اس قوم پر اس طرح نازل ہوا کہ آسمان سے ایک زبردست چیخ  آئی۔ پھر حضرت جبریل –علیہ السلام- نے اس بستی کو اٹھاکر پلٹ دیا اور مزید ان پر پتھر کی بارش کی گئی اور سارے کے سارے مرگئے۔ آج بھی وہ جگہ بیت المقدس اور نہر اردن کے درمیان "بحر میت" (ایک سمندر) کی شکل میں موجود ہے۔

قرآن کریم اور حدیث شریف میں ہم جنس پرستی کی قباحت اور سزا:
ہم جنس پرستی "گناہ کبیرہ" میں شمار ہوتا ہے۔ اس فعل کو بہت بڑا گناہ گردانا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس فعل کی قباحت یوں بیان کی گئی ہے: "أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ." (سورہ: اعراف، آیت: ۸۰) یعنی تم لوگ ایسا فحش کام کرتے ہو، جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا والوں میں سے نہیں کیا۔ اس آیت شریفہ کی تفسیر میں مفسرین حضرات فرماتے ہیں کہ یہاں لفظ: "الفَاحِشَة" کو "الف لام" کے ساتھ مقید کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسا خلاف فطرت فعل ہے جو گویا کہ ہر طرح کے فواحش کا مجموعہ ہے اور یہ فعل زنا سے بھی بڑھا ہوا جرم ہے۔

        نبی کریم –صلی اللہ علیہ وسلم- نے بہت سی حدیثوں میں اس خلاف ِ طبعِ انسانی فعل کی شناعت بیان فرمائی ہے۔ کہیں اس کو نزول تباہی کی علامت بتایا، تو کہیں علامات قیامت میں شمار کرایا اور کہیں اس فعل کے فاعل اور مفعول: دونوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد نبوی ہے:

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- : "مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الفَاعِلَ وَالمَفْعُولَ بِهِ." (ترمذی،  حدیث نمبر: 1456،  ابو داؤد، حدیث نمبر: 4462، ابن ماجہ، حدیث نمبر: 2561، مسند احمد، حدیث نمبر: 2732)

ترجمہ: حضرت ابن عباس -رضی اللہ تعالی غہما - روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - نے فرمایا: "تم جس شخص کو بھی قوم لوط کا عمل کر تے ہوئے پاؤ؛ تو فاعل و مفعول: دونوں کو قتل کردو۔"

صحابہ کرام، تابعین عظام اور ائمہ مجتہدین نے اس فعل کی شناعت و قباحت بیان کی ہے اور شدید ترین  گناہ قرار دیا ہے۔ امام  مالک  -رحمہ اللہ- نے فرمایا  کہ عمل قوم لوط کے کرنے والے  فاعل و مفعول کو رجم کیا جائے، چاہے وہ محصن ہو یا غیر محصن۔  (القوانین الفقہیہ: 3/232) اس حوالے سے امام ابو حنیفہ –رحمہ اللہ - کی رائے ہے کہ اس فعل کے مرتکب کو حد تو نہیں لگائی جائے گی؛ بل کہ تعزیر و عقوبت سے کام لیا جائے گا۔ امام ابو یوسف اور محمد –رحمہما اللہ- نے فرمایا کہ جو شخص ہم جنس پرستی کرتا ہے،  اسے وہی سزا دی جائے، جو ایک زانی کو دی جاتی ہے یعنی اگر وہ غیرشادی شدہ ہے تو اسے سو کوڑے لگائے جائیں اور اگر شادی شدہ ہے تو اس کو رجم کردیا جائے۔ حنفیہ کے مفتی بہ قول کے مطابق ،اگر کسی نے اس  عمل کی تکرار کی؛  تو اسے قتل کیا جائے گا۔ (فتح القدیر مع الہدایہ: 4/150) امام  احمد بن حنبل  - رحمہ اللہ - نے فرمایا کہ اس عمل کے کرنے والے فاعل اور مفعول: ہر دو کو وہی سزا دی جائے گی جو ایک زانی کو دی جاتی ہے۔ (کشاف القناع: 6/94) امام شافعی -رحمہ اللہ- کے ایک قول کے مطابق، فعل قوم لوط کے مرتکب پر حد زنا نافذ کی جائے گی؛ جب کہ دوسرے قول کے مطابق فاعل کو قتل کیا جائے گا، چاہے وہ محصن ہو غیر محصن۔  (الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ)

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہم جنس پرستی کی حمایت میں تحریک:
گزشتہ سال ۱۸؍ ۱۲؍ ۲۰۰۸ء کو "اقوام متحدہ" کی "جنرل اسمبلی" میں فرانس اور ہالینڈ جیسے نام نہاد مہذب و مثقف ممالک کے اراکین نے "ہم جنس پرستی" کے حق میں یہ کہتے ہوئے تحریک پیش کردی کہ: "ہم جنس پرستی کو حق سمجھا جائے اور اسے جرائم کی فہرست سے نکال دیا جائے۔" پھر کیا تھا یہ تحریک پیش ہوتے ہی ۶۶؍ ممالک کے رہنماؤں نے اس شنیع فعل کی حمایت میں دستخط ثبت کرکے حمایت کا اعلان کردیا۔ مگر شامی ممبر عبداللہ الحلاق نے بر وقت اس تحریک کے خلاف تحریک پیش کردی اور انھیں بھی۶۰ ؍ ممالک کے ممبران کی حمایت مل گئی اور مسئلہ رک گیا۔

ہم جنس پرستی اور اقوام عالم:
اس حقیقت سے شاید کوئی انکار کرسکے کہ عصر حاضر میں ہم جنس پرستی کو بڑھاوا دینے اور پروان چڑھانے میں مغربی ممالک اور مغربی میڈیا نے بہت اہم کردار ادا کیاہے۔ اس بدترین فعل کو کئی مغربی اور یورپی ممالک نے قانونی جواز فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کرکے اخلاق وکردار کا جنازہ نکال دیا ہے۔ آج امریکہ، کنیڈا، آسٹریلیا، بعض یورپی ممالک اور اسی طرح جنوبی افریقہ میں ہم جنسوں کی شادی کو قانونی منظوری دے کر، اسے جرائم کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ شخصی آزادی کے عنوان سے یہ ایسی بےراہ روی کی اجازت دے رکھی جو معاشرہ کی تباہی و بربادی کا بہت بڑا سبب ہے۔ ہم جنس پرستی کو قانونی جواز دینے کا سلسلہ مغربی اور یورپی ممالک سے شروع ہوا؛ چنان چہ آج نیدرلینڈ، ناروے، اسپین، سویڈن، کنیڈا اور بیلگام جیسے ممالک نے ہم جنس پرستی جیسے ملعون فعل کو شخصی آزادی کے نام پر ،قانونی جواز دے رکھا ہے اور ان ممالک میں ایک ہی جنس کے لوگ آپس میں شادی کرتے ہیں۔ حال آں کہ یہ سوچنے کی بات ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا پہلے سے ہی ایڈس جیسے مرض سے پریشان اور بدحال ہے؛ کیوں آزادی کے نام پر ہم جنس پرستی جیسے مہلک مرض اور فاسد اخلاق فعل کو قانونی جواز فراہم کیا جارہا ہے؟!

ہم جنس پرستی اور ہندوستان:
ہندوستان دینا کا ایک ایسا ملک ہے جو قدیم زمانے سے ہی تہذیب وتمدن کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کسی مخرب اخلاق فعل وعمل کی اجازت کبھی نہیں دی گئی۔ ہندوستان ہمیشہ سے صوفی، بزرگ اور رہسہ وادی دھرتی رہی ہے۔ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے شروع سے ہی پائے جاتے ہیں۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی یا کسی بھی مذہب کی کتاب میں، ہم جنس پرستی جیسے بدترین فعل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ابتدائی زمانہ سے ہی یہاں کا شہری اور حکومت اس بدترین فعل کے مخالف رہی ہے۔ یہی وجہ ہے ہم جنس پرستی جیسے خبیث فعل کو کبھی بھی قانونی جواز فراہم نہیں کیاگیا۔ اسی جیسے مخرب اخلاق فعل اور خلاف فطرت عمل کو روکنے کےلیے ایک لمبے زمانے سےقانون کی شکل میں"دفعہ: ۳۷۷" چلا آرہا ہے۔ اب اسے زمانہ کی گردش اور ایام کا الٹ پھیر کہا جائے یا پھر موجودہ آزادی کہ آج ہم جنس پرستی کو بھی شخصی آزادی کے نام پر قانونی جواز بخشا جارہا ہے۔

دفعہ ۳۷۷ ایک نظر میں:
دفعہ ۳۷۷ میں جو کچھ تحریر ہے وہ یہ ہے:
        377. Unnatural offences: Whoever voluntarily has carnal intercourse against the order of nature with any man, woman or animal, shall be punished with imprisonment for life, or with imprisonment of either description for term which may extend to ten years, and shall also be liable to fine.

        اس دفعہ کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص بھی رضاکارانہ طور پر (بھی) خلاف ترتیب فطرت کوئی فعل کسی مرد، عورت یا جانور کے ساتھ کرتاہے؛ تو عمر قید کی سزا یا پھر دس سال تک کی قید اور جرمانہ بھی لاگو کیا جائے گا۔

دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ:
دہلی کی ایک غیر سرکاری تنظیم "ناز فاؤنڈیشن" نے ۲۰۰۱ء، دہلی ہائی کورٹ میں، ایک پٹیشن داخل کرکے دفعہ ۳۷۷ کو ختم کرنے اور لغو قرار دےکر ہم جنس پرستی کو قانونی جواز فراہم کرنے درخواست کی؛ دہلی ہائی کورٹ ۲۰۰۳ء میں اس درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ درخواست گزار اس مسئلہ میں کوئی جائز مسلمہ حیثیت و اختیار (Locus Standi) نہیں رکھتا ہے۔ پھر ناز فاؤنڈیشن نے سپریم کورٹ میں اس فیصلہ کے خلاف عرضی پیش کی۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کو دہلی ہائی کورٹ میں سماعت کےلیے واپس کردیا۔

پھر دہلی ہائی کورٹ میں اس پر سماعت شروع ہوئی، آخر کار دہلی ہائی کورٹ کے دو محترم جج: چیف جسٹس اجیت پرکاش اور جسٹس ایس مرلی دھرکی بنچ نےعرضی کی سماعت کے دوران، اپنے تاریخ ساز فیصلہ میں، بہ روز: جمعرات،۲؍ جولائی۲۰۰۹ء کو، تعزیرات ہند کی ۱۵۰؍ سالہ قدیم دفعہ ۳۷۷ کا دائرہ محدود کرتے ہوئے، رضامندی کے ساتھ کی جانے والی ہم جنس پرستی کو قانونی اجازت دےدی ہے۔ جج حضرات نے ہم جنس پرستی کو جرم ماننے کو دفعہ ۲۱ کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دفعہ۲۱ کا حاصل یہ ہے کہ ہر شہری کو اپنے طور پر زندگی گزارنے کا مساوی موقع ملنا چاہیے اور قانون کی نظر میں ہم سب برابر ہیں۔
       
اب اس فیصلہ کے آنے کے بعد، اس کا نتیجہ یہ مرتب ہوگا کہ اب تک ہندوستان میں، ہم جنس پرستی جو ایک جرم کے دائرے میں آتی تھی، اب وہ جرم نہیں رہی۔ اب تک جو لوگ اس شیطانی فعل کا ڈھکے چھپے طور پر ارتکاب کرتے تھے اور خود کو مجرم سمجھتے تھے، اب انھیں کسی طرح کا کوئی ڈر اور خوف نہ ہوگا اور اس جنونی فعل کا ارتکاب کھلے طور پر بھی چاہیں تو کرسکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی ہائی کورٹ سے یہ فیصلہ جوں ہی صادر ہوا، ہم جنس پرستوں نے دیدہ دلیری کے ساتھ، کھلے عام سڑکوں پر آکر جشن منانا شروع کردیا اور ایک دوسرے کو مبارکبادی کا پیغام ارسال کرنے لگے۔

سیاست کے گلیاروں میں ہم جنس پرستی کی موافقت و مخالفت:
"یو پی اے" سرکار ہم جنس پرستی کے موضوع پر کچھ زیادہ ہی نرم دل معلوم ہورہی ہے؛ کیوں کہ گزشتہ یو پی اے سرکار میں بھی یہ مسئلہ زیر غور آیا تھا اور اب بھی زور پکڑے ہوا ہے۔ یو پی اے سرکار نے، ہم جنس پرستوں کے مطالبہ سے مرعوب ہوکر، جس طرح ہم جنس پرستی پر کھلے عام بحث ومباحثہ کے ذریعے عام اتفاق بنانے کی بات کہی ہے، یہ انتہائی ہی غیرمعقول بات ہے۔ یہ ایک ایسا غیر مناسب قدم ہے، جسے ہندوستانی سماج کا مہذب اور سنجیدہ طبقہ ہرگز قبول نہیں کرسکتا ہے؛ کیوں کہ یہ فعل ہندوستانی تہذیب وثقافت کے بالکل متصادم ہے۔ مگر ان تمام باتوں کے باوجود، غضب تو یہ ہے کہ اس شیطانی فعل کی حمایت کرنے والوں کو مہذب، ترقی پسند اور آزادی کا پاسدار مانا جارہا ہے؛ جب کہ اس کی مخالفت کرنے والوں کو پرانے خیال کا آدمی سمجھا جارہا ہے۔

        گزشتہ دنوں بھی مرکز میں جب کانگریس کی قیادت میں یو پی اے سرکار تھی، تو ہم جنس پرستی کا مسئلہ سامنے آیا تھا۔ اس موقع سے سابق وزیر صحت جناب امبونی رام داس نے ہم جنس پرستی کے خلاف نافذ ہونے والی دفعہ ۳۷۷ کو ختم کرنے کےلیے عدالت تک اپنی شفارش و پیروی شروع کردی تھی۔ جب کابینہ میں رام داس کی تجویز پر بحث ومباحثہ ہوا، تو سابق وزیر داخلہ جناب شیو راج پاٹل نے دفعہ ۳۷۷ کو ختم کرنے کی زبردست مخالفت کی تھی اور یہ موضوع کچھ دنوں کےلیے دب گیا۔ اب پھر یو پی اے سرکار کے وزیر قانون نے جناب ویرپا موئیلی نے اپنے پیشرو کی طرح، ہم جنسی کی موافقت میں آواز اٹھانی شروع کردی ہے۔ موجودہ وزیر داخلہ، سابق وزیر داخلہ کے برخلاف، اس موضوع پر نرم گوشہ رکھتے معلوم ہورہے ہیں؛ جب کہ وزیر صحت غلام نبی آزاد نے بھی اس موضوع پرپارلیامینٹ کے باہر اور اندر عام اتفاق کےلیے بحث ومباحثہ کی حمایت کی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے اور دفعہ۳۷۷ ختم کردیا جاتا اور کھلے عام ہم جنس پرستی جیسے شیطانی فعل کی اجازت مل جاتی ہے، تو ہندوستانی عوام یو پی اے سرکار کو معاف نہیں کریں گے اور اس کی سزا ایک نہ ایک دن سرکار کو بھگتنی ہی ہوگی۔ اس لیے اس حساس موضوع پر یو پی اے سرکار کو اپنا موقف بہت سخت رکھنا چاہیے اور تعزیر  ہند کی دفعہ ۳۷۷ بدستور قائم رکھنی چاہیے۔

حرف آخر:
آج جب ہم یورپی ممالک کے حکمراں اور عوام سب کے سب خود کو مہذب اورشائشتہ قوم سمجھتے ہیں اور دوسروں کو غیرمہذب اور ناشائشتہ، بیوقوف اور سفیہ سمجھتے ہیں؛ حال آں کہ حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے۔ مغربی ممالک نے آج آزادی کے نام پر صنف نازک کو گھر سے باہر نکال کر دوکانوں اور دفتروں کی زینت بناکر، ان پر دوہرا بوجھ ڈال دیا ہے۔ اسی مغربی ممالک نے آرٹ وکلچر اور اظہار رائے کی آزادی کے نام پر مذہبی پیشواؤں کی تنقیص و بیجا تنقید اور ان کے مضحکہ خیز کارٹونوں کے بنانے کا لائسنس فراہم کیے ہیں۔  انھیں مغربی ممالک کے قائدین نے شخصی آزادی کے نام پر ہم جنس پرستی جیسے ملعون فعل کو درست قرار دیا۔ آج ہندوستانی حکام وقائدین بھی، تہذیب وتمدن اور اعلی اقدار کے مرکز، وطن عزیز ہندوستان کی پرانی اور مثالی روایات کو مٹانے کے درپے لگے ہوئے ہیں اور بےسلیقہ اور ناشائشتہ اقوام کے بھوڈے، بھدے اور خلاف فطرت افعال کو تہذیب وتمدن کے طور پر قبول کر رہے ہیں اور آزادی کے نام پر انھیں قانونی جواز فراہم کر رہے ہیں۔ اگر اسی طرح آزادی کے نام پر جو کچھ ہورہا، ہوتا رہا تو وہ دن دور نہیں کہ اللہ تعالی اجتماعی طور پر نہیں؛ تو انفرادی طور پر یکے با دیگرے اِن اقوام عالم پر بھی وہی عذاب مسلط کردے جو قوم لوط پرکیا؛ کیوں کہ اللہ اپنا وعدہ پورا کرتا اور ارشاد خداوندی ہے:  "وماهِی من الظلمین ببعید."  یعنی جس طرح قوم لوط پر پتھر کی بارش برسائی گئی، آج کے لوگ بھی اگر وہ کام کریں تو کوئی دور نہیں کہ ان پر بھی پتھر کی بارش کی جائے۔


(مضمون نگار دارالعلوم، دیوبند کے فاضل اور مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ کے استاذ ہیں۔ ان سے qasmikhursheed@yahoo.co.in    پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)

Tuesday, April 21, 2015

کوئی بھی شخص مسلمانوں کاووٹنگ کا حق نہیں چھین سکتا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کوئی بھی شخص مسلمانوں کاووٹنگ کا حق نہیں چھین سکتا

بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

مادر وطن ہندوستان کی آزادی میں مسلم شہریوں کی قربانی، پھر ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں ان  کا کردار اور کارنامہ کسی بھی دوسرے مذاہب کے ماننے  والے شہریوں سے کم نہیں ہے۔ اس حقیقت کے باوجود ، جب بھی کوئی شخصی و انفرادی موضوع ہوتا ہے ؛ تو کچھ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے دشمن اور  گنگا جمنی تہذیب کے قاتل کی زبان وقلم سے سارے مسلم شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کا قلم و زبان صرف زہر ہی اگلتی ہے۔تعجب کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں  کی وطن دوستی اور حب الوطنی تک پر سوال اٹھایا جاتا ہے اور کچھ نفرت کے سوداگر یہاں تک کہہ  دیتے ہیں کہ مسلمانوں کا حقّ رائے دہی کو منسوخ و مسترد کردیا جائے اور ان کا یہ حق چھین لیا جائے۔ یہ زہر افشانی کرنے والے کبھی حزب اقتدار کے لیڈر مسٹر سبرامانین سوامی ہوتے ہیں، تو کبھی  شیوسینا کے راجیہ سبھا کے رکن اور پارٹی کے اخبار روزنامہ "سامنا" کے  ایکزیکٹیو  ایڈیٹر: مسٹر  سنجے راؤت اور ان کی تائید میں بی جے پی کے "اترپردیش" کے "انّاؤ" حلقہ سے لوک سبھا کے منتخب رکن مسٹر ساکشی مہاراج بھی آجاتے ہیں۔

گزشتہ 12/اپریل کو شیو سینا کے روزنامہ "سامنا" میں مسٹر  سنجے راؤت نے  ایک مضمون : "ممبئی میں اویسی کی اچھل کود-ساؤدھان- بل میں سپونلے ہیں" کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ "مسلمانوں کے ساتھ کی گئی ناانصافی کے خلاف جد و جہدکے نام پر ووٹ بینک کی سیاست کی جارہی ہے۔ جب تک ان (مسلمانوں)  کا استعمال ووٹ بینک کے طور پر ہوتا رہے گا، وہ کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتے۔مسلمانوں کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا،  جب تک وہ ووٹ بینک کی سیاست کے طور پر استعمال کیے جاتے رہیں گے؛ لہذا ایک بار بالا صاحب نے کہا تھا کہ مسلمانوں سے حق رائے دہی چھین لی جائے۔ " جو کچھ انہوں نے کہا تھا ، وہ درست ہے"۔

ایسا لگتا ہے کہ مہاراشٹرا کی سرزمین پر گزشتہ اسمبلی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین کی آہٹ  نے ان لوگوں کو کچھ زیادہ ہی بوکھلا دیا ہے۔ اور پھر ابھی ضمنی انتخاب میں مجلس نے اپنا امیدوار کو پیش کرکے،  ان لوگوں کے سوچنے کی قوت کو بھی ختم کردیا ہے؛ اسی لیے جو کچھ زبان و قلم پر آرہا ہے،  اسے کہتے اور چھاپتے چلے جارہے ہیں۔  اسی مضمون میں مسٹر راؤت نے اپنے بوگھلاہٹ کا مزید ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک پوچھ لیا کہ "مسلمانوں کو ایسے اویسیوں کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ انھیں کوئی کام کرنے والا اچھا لیڈر کیوں نہیں ہضم ہوتا؟" ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمانوں نے آزادی سے آج تک،  بغیر کسی بھید بھاؤ کے جو لیڈر ملا اسے قبول کیا ہے، ان میں معدودے چند کو مستثنی کیا جاسکتا ہے۔  یہی وجہہ ہے کہ آج مسٹر راؤت  کا قلم اتنی روانگی سے مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہا ہے؛ نہیں تو ایسے جملے لکھنے سے پہلے، ان کو  سو بار سوچنا ہوتا۔

جہاں تک اویسی برادران کا تعلق ہے؛  تو ان کو سارے ہندوستانی مسلمانوں نے اپنا نمائندہ نہیں بنا رکھا؛بل کہ وہ ایک پارلیمانی حلقہ کے منتخب نمائندہ ہیں۔  مگر مسلمان اس بات سے بخوبی واقف  ہیں کہ یہی اویسی ہے جو روڈ سے لیکر پارلیامنٹ تک مسلمانوں کے مسائل کو اٹھاتے ہیں اور ان کو ان کا حق دلانے کی بات کرتے ہیں۔مہاراشٹرا اسمبلی میں اویسی برادران نہیں ہیں، مہاراشٹرا کے مسلمانوں نے اویسی برادران کوپارلیامنٹ اور اسمبلی کے لیے منتخب بھی نہیں کیا ہے۔ انھوں نے اویسی کے علاوہ دوسرے لیڈروں کو ہضم کیا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ پچھلی سرکار نے مسلمانوں  کے لیے جو ریزرویشن طے کیا تھا، اسے موجودہ حکومت نے ختم کردیا؛  جب کہ مراٹھیوں کے لیے جو ریزرویشن متعین کیا گیا تھا وہ جوں کا توں باقی ہے؟ مسٹر راؤت اپنی زہر افشانی میں تنہا  اور واحد نہیں ہیں؛ بل کہ اس طرح کی بات کرنے والے اوربھی ہیں۔

مسٹر را‎ؤت کے بیان پر جب ساکشی مہاراج کی رائے پوچھی گئی؛ تو انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے زہریلے بیان سے اپنے زبان کو آلودہ کیے بغیر نہیں رہ سکے اور یہاں تک کہہ دیا کہ "میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کا صفایا کردیاجائے؛ لیکن ہر کوئی کےلیے یکساں سول کوڈ اور فیملی پلاننگ لازمی طور پر ہونی چاہیے۔ جب ہم چار بچے کا معاملہ اٹھاتے ہیں، تو لوگ بہت ہی شور و شرابہ کرتے ہیں اور جب وہ (مسلمان) چار بیویوں سے چالیس بچے پیدا کرتے ہیں؛  تو کوئی اس کو کچھ نہیں کہتا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا: "فیملی پلاننگ ہونی چاہیے۔ جب ملک آزاد ہوا تھا اس وقت صرف تیس کڑور کی آبادی تھی، آج ایک سو تیس کڑور کی آبادی ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟  ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی:  سب کے لیے یکساں قانوں ہونا چاہیے۔  چاہے ایک، دو، تین یا چار بچے ہوں، جب تک ہم سب کے لیے یکساں قانون نافذ نہیں کرتے، ملک کو فائدہ نہیں ہوسکتا؛ لہذا حزب اقتدار اور حزب مخالف کو  اجتماعی طور پر ایک  سخت قانون نا‌فذ کرنا چاہیے اور وہ لوگ جو اس قانون پر عمل نہیں کریں ان کا حق رائے دہی چھین لیا جائے۔"

میں ان کے اس متنازعہ بیان پر تبصرہ  کرنا نہیں چاہتا، مگر اتنا بتا دیتا ہوں کہ مسٹر مہاراج  یہ وہی شخص ہیں جنہوں نے کچھ ہی دنوں  قبل بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کو  محب وطن اور وطن دوست قرار دینے کی وجہ سے پارلیامنٹ میں معافی مانگنے پر مجبور کیے گیے تھے۔ یہی نہیں؛ بل کہ یہ وہی آدمی ہے جس نے ہندو آبادی  میں اضافہ کے لیے ہندو خواتین کو چار چار بچے جنم دینے کا مشورہ بھی دیا تھا، جس پر ہر چہار جانب سے ان کے بیان کی مذمت کی گئی تھی اور بی جے پی نے ان کی اس حرکت پر، ان کو شو کاؤز نوٹس جاری کیا تھا؛ لیکن پھر بھی مسٹر مہاراج کی زبان ہے کہ زہر اگلنے سے باز نہیں آتی ۔

اسی طرح  16/جولائی 2011 کو "جنتا دل" کے سابق صدر مسٹر سبرامانین سوامی نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ  "ہمیں بحیثیت ہندو، اسلامی دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے یکساں ذہنی سوچ کی ضرورت ہے۔ اگر ایک مسلمان اپنے ہندو  نسل سے ہونے کا اعتراف کرتا ہے؛ تو ہم ہندو اسے ایک عظیم ہندو سماج کے طور پر قبول کرسکتے ہیں جو کہ ہندوستان ہے۔ اور دوسرے جو اس کا اعتراف نہیں کرتے ، یا وہ غیر ملکی جنھوں نے  رجسٹریشن کے ذریعے ہندوستانی شہریت حاصل کی ہے،  وہ ہندوستان میں رہ تو سکتے ہیں؛ لیکن حق رائے دہی کا استعمال نہیں کرسکتے (جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نمائندہ  منتخب نہیں کیے جاسکتے)"۔

جس طرح ان لوگوں کو اویسی چبھ رہا ہے اور مسلمانوں سے الٹا سیدھا سوال کرتے ہیں اور حق رائے دہی کے سلب کرنے کی بات کرتے ہیں، ان سے بھی تو یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ آپ کو پورے ہندوستانیوں کا ترجمان اور نمائندہ کس نے بنارکھا ہے؟ آپ کو یہ کیسے معلوم کہ مسلمانوں کو کوئی اچھا لیڈر ہضم نہیں ہوتا ہے؟ کیا آپ کو اپنے بڑوں کی غلطی پر فخر ہے کہ آپ اسے دہرارہے ہیں اور سالوں پرانی بات کو لوگوں کےخانۂ خیال میں لارہے ہیں؟ اگر کوئی خود کو ہندو نسل سے نہیں مانتا ہے یا فیملی پلاننگ کے حق میں نہیں ہے؛ تو اس کا حق رائے دہی کس قانون کی بنیاد پر ختم کیا جائے گا؟

ان جیسے لوگوں کی زہریلی تحریر اور متنازعہ بیان بازی سے تو کوئی  صاحب عقل و دانش اتفاق نہیں کرسکتا۔ ہاں، یہ واضح  ہے کہ یہ لوگ اپنی سیاسی روٹی سیکنے اور خود کو قومی سطح کا لیڈر اور قائد بننے کے زعم میں اس طرح کی تحریر اور بیان بازی وقتا فوقتا کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ 1947 میں تقسیم ہند کے وقت، بہت سے مسلمانوں نے ہندوستانی  شہری بن کر رہنا پسند کیا۔  اگر وہ چاہتے تو ان کو یہ اختیار تھا کہ وہ پاکستان ہجرت کرجاتے۔آج یہ کون ہوتے ہیں جو مسلمانوں کی  حب الوطنی کا امتحان لیں اور ان کےووٹنگ کے حق کو چھینیں؟ جو حق ملک کا دستور ایک شہری کو دے رکھا ہے، اسے کیسے کوئی سرپھرا چھین سکتا اور منسوخ کرنے کی بات کرسکتا ہے۔ اس ملک کے شہری ہونے کے ناطے مسلمانوں کا  وہی حق ہے،  جو دوسروں کا ہے۔ صرف ووٹنگ ہی کیا، ان کا  کوئی بھی حق کوئی نہیں چھین سکتا۔ اگر کوئی سیاسی پارٹی مسلمانوں کے ساتھ ووٹ بینک کی سیاست کرتی ہے؛  تو یہ اس کی ضمیر فروشی  اور ذمے داری سے منھ پھیرنے والی بات ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے،  تو وہ اس سے  بخوبی واقف  ہیں کہ ان کے لیے اچھاکیا ہے اور برا کیا ہے۔ وہ اپنا فیصلہ اپنے حساب سےکرنے کا حق رکھتے ہیں ۔

لوگ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی اکٹریس نے  نیوز چینل اور اخباروں کی ہیڈ لائنس میں چھانے کےلیے،کسی چوپاٹی پر برہنہ ہوکر گھومنا شروع کردی۔ پھر کیا تھا، وہ ہفتوں  نیوز چینلس اور اخبارات میں چھائی رہیں۔ ہمارے کچھ مفاد پرست سیاستداں بھی اس روش پر گامزن لگ رہے ہیں، نہیں تو یہ لوگ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ان کی تحریر اور بیان بازی  سے کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس طرح کی ذہنیت کے لوگ معاشرہ و سوسائٹی اور ملک کے امن و امن کے لیے خطرہ ہیں۔ اگر ان کی بر وقت اصلاح نہیں کی گئی؛ تو صدیوں سے چلی آرہی ملک کی گنگا جمنی تہذیب مٹی میں مل جائے گی اور اس کی  ذمے دارحکومت ہوگی۔


(مضمون نگار دارالعلوم، دیوبند کے فاضل اور مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ کے استاذ ہیں۔ ان سے qasmikhursheed@yahoo.co.in    پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)