Monday, May 23, 2016

والدین: جنّت کی شاہِ کلید


والدین: جنّت کی شاہِ کلید
بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی ٭
Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in
خوش قسمت اولاد:
وہ اولاد نہایت ہی خوش قسمت ہے، جس نے اپنے والدین کو  عقل و شعور میں پایا اور ان کی خدمت کرکے جنّت کی شاہِ کلید حاصل کرلیا۔ والدین کا رشتہ ایک ایسا عظیم رشتہ ہے جو سب سے زیادہ حسن سلوک،عزت و توقیر، اطاعت و فرمانبرداری، احسان و اکرام اور ادب و احترام کا متقاضی ہے۔ والدین ایک عظیم نعمت اور عطیۂ ربّانی ہیں۔  زجر و توبیخ کرنا اور ڈانٹ ڈپٹ کرنا تو دور کی بات، اسلام نے انھیں "افّ" بھی کہنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ ایک مطیع و فرمانبردار اور صالح اولاد کی یہ ذمے داری ہے کہ والدین کے سامنے متواضعانہ انداز میں پیش ہو اور ان کا حکم کو بجالائے۔
بد قسمت اولاد:
آج لوگ والدین کے حقوق کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور بسا اوقات تو یہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگ والدین کے مقابلے میں جانور وں کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج یورپی ممالک؛ بل کہ بہت سے ایشیائی ممالک میں بھی جو لوگ "فادرس ڈے " اور "مادرس ڈے" مناتے نہیں تھکتے، ان کا حال یہ ہے کہ والدین کو بڑھاپے میں "اولڈ ایج ہاؤس" میں پہونچادیتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ والدین بڑھاپے میں اپنی اولاد اور بچوں کے زیادہ محتاج  اور ضرورت مند ہوتے ہیں۔ ایسے وقت میں ان کو ایسی جگہ پر پہونچا دیا  جاتا کہ وہ ایک تو بڑھاپے اور دوسرے اولاد کی جدائی کے صدمہ میں ڈپریشن (Depression) کے مریض ہوجاتے ہیں۔ یہ نام نہاد مہذّب و مثقّف  یورپی ممالک کے لوگ، جو اپنے والدین کے حقوق ادا نہیں کرپاتے،  دوسروں کو حقوق انسانی کا درس دینے میں ذرہ برابر بھی شرم و عار محسوس نہیں کرتے ہیں۔ ان ممالک میں ایک شخص اپنے پالتو کتّے کے حقوق کی رعایت، اپنے والدین کے حقوق سے زیادہ کرتا ہے۔ اس طرح کی اولاد کو بدقسمت نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے!
اویس قرنی  رحمہ اللہ:
اسلامی تاریخ میں ایک شخص اویس بن عامر قرنی یمنی (رحمۃ اللہ علیہ) کے نام سے جانےجاتے ہیں۔وہ بڑے متقی و زاہد  اور خیرالتابعین تھے۔ انھوں نے عہد نبوی پایا؛ لیکن  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہیں کرسکے۔ وجہ یہ تھی وہ اپنی والدہ کی خدمت کے لیےتنہا تھے اور کوئی دوسرا نہیں تھا جو ان کی خدمت کرتا؛ لہذا والدہ کی خدمت میں رہے اور رسول اللہ صلی اللہ کا دیدار کرسکے اور نہ صحبت نبوی سے مشرف یاب ہوسکے۔ یہ ہے حسن سلوک اور والدین کی اطاعت و فرمانبرداری کا عظیم نمونہ۔ (حلیۃ الأولیاء 2/87)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اویس قرنی کو "خیر التابعین"سے تعارف کرایا۔امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کیا ہے: "إِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ، وَلَهُ وَالِدَةٌ وَكَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَمُرُوهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ." [مسلم شریف، حدیث نمبر: 224 - (2542)] ترجمہ: تابعین میں سب سے بہتروہ شخص ہےجسے اویس کہا جاتا ہے۔ اس کی ماں (زندہ) ہے،ا ور اس کے جسم میں (برص کے) سفید  داغ ہیں۔ تم ان سے کہو کہ وہ تمھارے لیے مغفرت کی دعا کرے۔ سبحان اللہ!
اسلام ایک متوازن اور معتدل دین ہے۔ اس دین میں سب کے حقوق کی خوب رعایت کی گئی ہے۔ قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں والدین کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنے کا جو حکم آیا ہے، ہم اسے ذیل میں قلم بند کرتے ہیں۔
والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو!
اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے: "وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا." (عنکبوت، آیت: 8) ترجمہ: اور ہم نے انسان کو ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔
اللہ سبحانہ وتعالی نے اس آیت کریمہ میں انسان کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ اس حکم کو اللہ تعالی نے "وَصَّيْنَا" سے تعبیر کیا ہے۔ "وصیّت کہتے ہیں کسی شخص کو کسی عمل کی طرف بلانے کو؛ جب کہ وہ بلانا نصیحت اور خیرخواہی پر مبنی ہو۔" (معارف القرآن، 6/676)
والدین کو "ہوں" بھی مت کہو!:
ارشاد خداوندی ہے: "وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا. وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا." (سورہ بنی اسرائیل، آیت: 23-24) ترجمہ: اور تیرے رب نے حکم کردیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت مت کرو اور تم ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو۔ اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں کے دونوں بڑھاپے کو پہنچ جاویں، سو ان کو کبھی ہوں بھی مت کہنااور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا۔ اور ان کےسامنے شفقت سے، انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہناکہ اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحمت فرمایئے جیسا کہ انھوں نے مجھ کو بچپن میں پالا پرورش کیاہے۔
"امام قرطبی (رحمہ اللہ) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالی نے والدین کے ادب و احترام اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کواپنی عبادت کے ساتھ ملا کرواجب فرمایا ہےجیسا کہ سورہ لقمان (آیت: 14) میں اپنے شکر کے ساتھ والدین کے شکر کو ملا کرلازم فرمایا ہے "أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ" (یعنی میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا بھی) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ جل شانہ کی عبادت کے بعد،والدین کی اطاعت سب سے اہم اور اللہ تعالی کے شکر کی طرح والدین کا شکر گزار ہونا واجب ہے۔" (معارف القرآن 5/463)
والدین کے ساتھ احسان  کا معاملہ کرو:
قرآن کریم میں ایک جگہ فرمان خداوندی ہے: "وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا" (سورہ نساء، آیت: 36) (اور تم اللہ کی عبادت اختیار کرواور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت کرو اور (اپنے) والدین کے ساتھ اچھا معاملہ کرو)۔ اس کی تفسیر میں مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
 لفظ "احسان" لایا گيا، جس کے عام مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ حسب ضرورت ان کے نفقہ میں اپنا مال خرچ کریں اور یہ بھی داخل ہے کہ جیسی ضرورت ہو اس کے مطابق جسمانی خدمات انجام دیں۔ یہ بھی  داخل ہے کہ ان کے ساتھ گفتگو میں سخت آواز سے یا بہت زور سے نہ بولیں جس سے ان کی بے ادبی ہو، کوئی ایسا کلمہ نہ کہیں جس سے ان کی دل شکنی ہو۔ ان کے دوستوں اور تعلق والوں سے بھی کوئی ایسا سلوک نہ کریں جس سے والدین کی دل آزاری ہو؛ بل کہ ان کو آرام پہونچانے اور خوش رکھنے کے لیے جو صورتیں اختیار کرنی پڑیں وہ سب کریں۔ یہاں تک کہ اگر ماں باپ نے اولاد کے حقوق میں کوتاہی بھی کی ہو جب بھی اولاد کے لیے بدسلوکی کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ (معارف القرآن 2/410)
والدین کی شکرگزاری کیا کرو!:
        اللہ تعالی انسان کو والدین کی شکر گزاری اور اچھائی و حسن سلوک کی وصیت و تاکید کرتے ہوئے ماں کے  حمل کی مشقت و تکلیف اور پھر دودھ پلانے کا ذکرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ." (سورہ لقمان، آیت: 14) ترجمہ: اور ہم نے انسان کو ان ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے۔اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر، اس کو پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھوٹتا ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکرگزاری کیا کرو۔
"یہاں جب کہ والدین کے حقوق اور ان کی شکرگزاری کا حکم دیا گيا؛ تو اس کی حکمت یہ بتلادی کہ اس کی ماں نے اس کے وجود و بقا میں، بڑی محنت برداشت کی ہے کہ نو مہینے تو اس کو اپنے شکم میں رکھ کر اس کی حفاظت کی اور اس کی وجہ سے جو روز بروز اس کو ضعف پر ضعف اور تکلیف پر تکلیف بڑھتی گئی، اس کو برداشت کیا، پھر اس کے پیدا ہونے کے بعد بھی دو سال تک اس کو دودھ پلانے کی زحمت برداشت کی، جس میں ماں کو خاصی محنت بھی شب و روز اٹھانی پڑتی ہے، اور اس کا ضعف بھی اس سے بڑھتا ہےاور چوں کہ بچے کی پرورش میں محنت و مشقت زیادہ ماں اٹھاتی ہے؛ اس لیے شریعت میں ماں کا حق باپ سے بھی مقدم رکھا گیا ہے۔ "وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ." کا یہی مطلب ہے۔" (معارف القرآن 7/37)
نماز کے بعد والدین کا درجہ:
شریعت اسلامیہ میں نماز کو ایک بڑا ستون قرار دیا گیا ہے اور اس کے بعد والدین کے ساتھ نیکی کا درجہ رکھا گیا ہے؛ لہذا جب بھی والدین ہمیں اپنی خدمت اور کسی بھی غرض سے بلائیں، ہمیں بغیر کسی تاخیر کے ان کی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے۔ حضرت عبد اللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ العَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ قَالَ: "الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا." قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: "بِرُّ الوَالِدَيْنِ." قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: "الجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ." (بخاری شریف، حدیث نمبر: 5970) ترجمہ: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: "نماز وقت پر ادا کرنا۔" انھوں نے سوال کیا، پھر کون سا عمل؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔" انھوں نے پھر سوال کیا، پھر کون سا عمل؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب مرحمت فرمایا: "اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔"
والدہ احسان کی سب سے زیادہ مستحق:
والدہ احسان اور حسن سلوک کی سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ ایک سائل کے سوال کے جواب میں تین بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدہ کو حسن رفاقت اور حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق بتلایاہے۔ اس حدیث شریف کی  وضاحت میں علماء کرام نے یہ لکھا ہے کہ حسن سلوک کے حوالے سے ماں کا درجہ باپ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔وہ اس لیے کہ ماں تین ایسی مشقتیں برداشت کرتی ہیں، جو باپ نہیں کرتا۔ وہ مشقتیں یہ  ہیں: حمل کی مشقت، بچہ جننے کی مشقت اور دودھ پلانے کی مشقت۔ حدیث کے راوی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں:
جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: "أُمُّكَ" قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: "ثُمَّ أُمُّكَ" قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: "ثُمَّ أُمُّكَ" قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: "ثُمَّ أَبُوكَ." [بخاری شریف، حدیث: 5971، مسلم، حدیث: 1 - (2548)] ترجمہ: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! میری حسن رفاقت کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تمھاری ماں۔" اس نے سوال کیا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تمھاری ماں۔" پھر اس نے عرض کیا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: "تمھاری ماں۔" (اس کے بعد پھر ) اس شخص نے سوال کیا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: "تمھارا باپ۔"
مشرکہ ماں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرو!
        اگر کسی کے والدین کافر و مشرک ہوں، اس صورت میں بھی اسلام حسن سلوک سے نہیں روکتا؛ بل کہ حکم کرتا ہے کہ ان کے ساتھ بھی اچھے اخلاق سے پیش آؤ اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ اسماء رضی اللہ تعالی عنہا  کی والدہ "قتیلہ" جو کہ مشرکہ تھیں،بیٹی کے پاس کچھ ضرورت کی وجہ سے آئیں۔ اس حوالے سے بیٹی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کروایا ؛ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے "صلہ رحمی" کا حکم صادر فرمایا۔ حدیث شریف ذیل میں ہے:
قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: وَهِيَ رَاغِبَةٌ، أَفَأَصِلُ أُمِّي؟ قَالَ: "نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ." [بخاری شریف، حدیث: 2620، مسلم، حدیث: 50 - (1003)] ترجمہ: عہد رسالت میں میری والدہ میرے پاس آئی؛ جب کہ وہ مشرکہ تھیں؛ تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتوی طلب کرتے ہوئے عرض کیا کہ میری ماں کسی کام سے آئی ہیں۔ کیا میں اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب عنایت فرمایا: "ہاں، اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو!"
والدین کی رضا میں اللہ کی رضا:
ایک  حدیث شریف میں اللہ کی رضا کو والدین کی رضا کے ساتھ لازم کردیا گیاہے۔ اگر  والدین راضی ہوں؛ تو اللہ بھی راضی اور اگر والدین ناراض ہوں؛ تو اللہ بھی ناراض۔ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"رِضَى الرَّبِّ فِي رِضَى الوَالِدِ، وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ." (ترمذی شریف، حدیث: 1899) ترجمہ: ربّ کی رضا باپ کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے۔
والدین کے دوست کے ساتھ حسن سلوک:
اسلام میں والدین کے ساتھ حسن سلوک اور عزت و اکرام کے ساتھ یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ ان کے عزیز و اقارب اور دوستوں اور سہیلیوں  کے ساتھ بھی توقیر و تعظیم اور حسن سلوک کا معاملہ کیا جائے۔ خاص طور پر جب والدین دنیا سے رخصت ہوجائیں، اس وقت تو ان کے عزیز و اقارب اور رفیقوں کے ساتھ زیادہ ہی حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"أَبَرُّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ وُدَّ أَبِيهِ." [مسلم شریف، حدیث: 12 - (2552)] ترجمہ: بہت بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔"
خدمت والدین اور نفلی جہاد:
اسلام میں والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک  اور احسان کا اتنا خیال کیا گیا ہے کہ اگر مسلم والدین اپنی اولاد کی خدمت کے محتاج ہوں؛ تو اس وقت اولاد کو نفلی جہاد اور دیگر نفلی عبادات  میں اشتغال رکھنے کے بجائے، والدین کی خدمت کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر والدین خوشی سےجہاد میں جانے کی اجازت دیں یا پھر کسی اور طرح کے نفلی عبادت کی اجازت دیں؛ تو پھر اس کے کرنے میں کوئی حرج نہیں۔  ہاں، اگر جہاد فرض ہو یا پھر کوئی اورفرض عبادت ہو؛ تو اس میں والدین کی اجازت ضروری نہیں؛ بل کہ اگر وہ روکیں بھی؛ تو بھی نہیں رکنا چاہیے، چاہے والدین مسلمان ہی کیوں نہ ہوں۔ ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص  حصول رضائے الہی کی خاطر جہاد میں جانا چاہا؛ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کرکے رضائے الہی حاصل کرنے کا حکم دیا۔ عبد اللہ بن عمرو بن عاص  رضی اللہ عنہ اس واقعہ کو یوں نقل کرتے ہیں:
أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللهِ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ، أَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللهِ، قَالَ: "فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ؟" قَالَ: نَعَمْ، بَلْ كِلَاهُمَا، قَالَ: "فَتَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللهِ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا." [مسلم شریف، حدیث: 6 - (2549)] ترجمہ: ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، پھر اس نے کہا: میں آپ سے ہجرت اور جہاد کی بیعت کرتا ہوں، اللہ سے ثواب کا طلب گار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تمھارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟" اس نے کہا: ہاں، بل کہ دونوں (زندہ ہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اللہ سے ثواب کے طلب گار ہو؟ اس نے کہا : ہاں۔  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اپنے والدین کے پاس جاؤ اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرو!"
والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے:
        والدین کی نافرمانی کو اکبر کبائر (کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ)  میں شمار کرایا گيا ہے۔کبیرہ گناہ تو خود ایسا گناہ ہے کہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتا، پھر وہ گناہ جو اکبر کبائر ہو اس کی شناعت و قباحت کتنی ہوگی! ایک حدیث شریف میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کے فورا بعد، والدین کی نافرمانی کو اکبر کبائر میں شمار کرایا ہے۔ حضرت عبد الرحمن بن ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الكَبَائِرِ" قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الوَالِدَيْنِ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ: أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ، أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ". (بخاری شریف، حدیث: 5976) ترجمہ: نہایت ہی بڑے کبیرہ گناہ نہ بتادوں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ پھر آپ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے کہ (ٹیک چھوڑ کر) بیٹھے، پھر فرمایا: "خبرادا! جھوٹی بات کہنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ خبرادا! جھوٹی بات کہنا اور جھوٹی گواہی دینا۔"
دوسروں کے والدین کو بھی برا مت کہو!:
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے والدین کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھتا ہے؛ مگر دوسروں کے والدین کو گالی گلوچ کرتا ہے۔ پھر جواب میں دوسرا شخص بھی اس کے والدین کی گالی دیتا ہے؛ اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اگر کسی کے ماں باپ کے ساتھ سبّ و شتم کرتے ہو، پھر جواب میں وہ تمھارے والدین کے ساتھ سبّ و شتم کرتاہے؛ تو یہ ایسا ہے کہ  گویاتم خود اپنے والدین کو گالی گلوچ کررہے ہو؛ جب کہ والدین کے ساتھ گالی گلوچ کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَهَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ: "نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ، وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ." [مسلم شریف، حدیث: 146 - (90)] ترجمہ: "کبرہ گناہوں میں سے ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے۔" صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اے رسول اللہ! کیا آدمی اپنے والدین کو گالی دیگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "ہاں، وہ کسی کے باپ کو گالی دے، پھر وہ اس کے باپ کو (جواب  میں) گالی دےاور یہ اس کی ماں کو گالی دے، پھر وہ (جواب میں) اس کی ماں کو گالی دے۔"
ناک خاک آلود:
        ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے لیے بدنصیب و  بد قسمت اور ناک غبار آلود ہونے کی بد دعا فرمائی ہے جس نے اپنے ماں اور باپ دونوں کو یا پھر ان میں سے ایک کو کبر سنی  میں پانے کے باوجود، ان کی خدمت کرکے اور ان دعا کی بدولت جنت کا مستحق نہ بن گيا ہو۔ والدین تو ہمیشہ حسن سلوک اور حسن رفاقت کے  حق دار ہیں؛ لیکن بڑھاپے میں وہ اپنے اولاد کی خدمت کے زیادہ محتاج ہوتے ہیں؛ لہذا اولاد کو بھی چاہیے کہ والدین کے ساتھ بڑھاپے میں زیادہ حسن سلوک کریں۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میں بڑھاپے کا ذکر ہے:
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "رَغِمَ أَنْفُهُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ، ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ" قِيلَ: مَنْ؟ يَا رَسُولَ اللهِ! قَالَ: "مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِ، أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا، ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ." [مسلم شریف، حدیث نمبر: 10 - (2551)] ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اس شخص کی ناک غبار آلود ہوجائے،پھر اس شخص کی ناک خاک آلود ہوجائے،پھر اس شخص کی ناک غبار آلود ہوجائے۔" آپ سےپوچھا گيا: اے اللہ کے رسول! کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جس نے اپنے والدین میں سے ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پائے،  پھر وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوا۔"
والدین کی وفات کے بعدان کے حقوق:
        اسلامی تعلیمات کے مطابق والدین کے حقوق صرف ان کی حیات ہی تک محدود نہیں ہیں؛ بل کہ جب وہ انتقال کرجائیں، اس کے بعد بھی ان کےحقوق ہیں۔ بنو سلمہ قبیلہ کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس حوالے سے اس نے سوال کیا۔ پھر  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کے بعد بھی والدین کے حقوق شمارکرائے۔ حضرت ابو اسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
        بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا؟ قَالَ: "نَعَمْ، الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا، وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا، وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا، وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا." (ابو داؤد شریف، حدیث: 5142) ترجمہ: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ قبیلۂ بنو سلمہ کا ایک شخص آپ کے پاس آیا۔ پھر اس نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے والدین کی موت کے بعد، کوئی ایسی نیکی باقی ہےکہ میں ان کے ساتھ کرسکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "ہاں، ان کے لیے دعا کرنا، ان کےلیے استغفار کرنا، ان (کی موت ) کے بعد ان کے وعدوں کو پورا کرنا، ان کے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنااور ان کے دوستوں کی عزت کرنا۔"
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ والدین کی موت کے بعد ہمیں ان کے لیے دعا کرنا چاہیے، استغفار کرنا چاہیے، ان کےوعدوں کو پورا کرناچاہیے، ان کے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ  رحمی کرنی چاہیے اور ان کے دوست و احباب کی عزت کرنی چاہیے۔
خاتمہ:
دنیا میں صرف والدین ایسی شخصیات ہیں؛ جو صرف اور صرف ایک ہونے کے باوجود بھی بڑی آسانی سے مل جاتے ہیں۔ ان کے حصول کے لیے کچھ مال و دولت خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔لیکن یہ بھی ایک سچائی ہے کہ ہزاروں کوششوں کے باوجود بھی ان کا بدل نہیں ملتا۔ رہے دوسرے رشتے دار و اقارب؛ تو ان کی تعداد درجنوں میں ہو سکتی ہے اور اگر ایک نہ ہو؛ تو دوسرا دست یاب ہوجاتا ہے، مثلا: بھائی، بہن، بیوی، بیٹے، بیٹاں وغیرہ وغیرہ۔  اس واضح حقیقت کے باوجود بھی انسان والدین کی خدمت کرنے میں ناکام رہتا ہے۔کچھ لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جب ایک چیز اسے آسانی سے میسّر اور مہیّا ہوجاتی ہے؛ تو وہ اس کی قدر نہیں کرتے۔ ایسا ہی معاملہ کچھ لوگوں کا والدین کے ساتھ بھی ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اپنے والدین کی خدمت  اور ان کی ضروریات کو سمجھنے اور پوری کرنے کی توفیق عطا فرمائے! آمین!

٭ ہیڈ اسلامک اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ، مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا۔

Sunday, August 9, 2015

حج: ایک عاشقانہ سفر


حج: ایک عاشقانہ سفر
بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

حج کی فرضیت:
حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہےجن پر اسلام کی بنیاد ہے۔ حج کی فرضیت قرآن کریم، حدیث شریف اور اجماع امت سے ایسے ہی ثابت ہے جیسا کہ نماز، روزہ اور زکاۃ کی فرضیت ثابت ہے؛ اس لیے جو شخص حج کی فرضیت کا انکار کرے، وہ کافر ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ" (سورہ آل عمران، آیت: 97) ترجمہ : "اور اللہ کے واسطے لوگوں کے ذمہ اس مکان کا حج کرنا ہے، یعنی اس شخص کے جو کہ طاقت رکھے وہاں تک کی سبیل کی اور جو شخص منکر ہو؛ تو اللہ تعالی تمام جہاں والوں سے غنی ہیں۔" یہ  آیت کریمہ حج کی فرضیت کے حوالے سے  نصّ قطعی ہے۔

رسول اللہ-صلی اللہ علیہ وسلم- نے ان پانچوں ارکان کو ایک حدیث شریف میں بیان فرمایا ہے۔ "بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ." (بخاری شریف، حدیث نمبر: 8) ترجمہ: "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)  اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا ، زکاۃ دینا،  حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔"

ایک عاشقانہ سفر:
انسانی طبیعت یہ تقاضہ کرتی ہے کہ انسان اپنے وطن، اہل و عیال ، دوست و رشتہ داراور مال و دولت سے انسیت ومحبت رکھے اور ان کے قریب رہے۔ جب آدمی حج کے لیے جاتا ہے؛ تو اسے اپنے وطن اور بیوی و بچے  اور رشتے دار و اقارب کو چھوڑ کر اور مال و دولت خرچ کرکے جانا پڑتا ہے۔ یہ سب اس لیے کرنا پڑتا ہے کہ حج کی ادائیگی شریعت کا حکم ہے۔  یہی وجہ ہے کہ شریعت نے حج کے حوالے سے بہت ہی رغبت دلائی ہے، انسان  کوکعبہ مشرفہ کے حج و زیارت پر ابھارا،  مہبط وحی و رسالت کی دیدار کا شوق بھی دلایا ہے اور  سب سے بڑھ کر شریعت نے حج کا اتنا  اجر و ثواب متعین فرمایا ہے کہ سفر حج ایک عاشقانہ سفر بن جاتا ہے۔ ذیل کے سطور میں، حج کےاجر و ثواب احادیث شریفہ کی روشنی میں، ملاحظہ فرمائے!

حج  انتہائی نیک عمل ہے:
حضرت ابو ہریرہ -رضی اللہ تعالی عنہ- بیان کرتے ہیں: سُئِلَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ" قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: "جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: "حَجٌّ مَبْرُورٌ." (بخاری شریف، حدیث نمبر: 1519) ترجمہ : (ایک بار)نبی کریم –صلی اللہ علیہ وسلم– سے دریافت کیا گیا کہ کون سے اعمال اچھے ہیں؟ آپ  –صلی اللہ علیہ وسلم– نے ارشاد فرمایا : "اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ۔" پوچھا گيا پھر کون؟  فرمایا : "اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔" پوچھا گیاپھر کون ؟  ارشاد فرمایا: " حج مبرور۔"

حج مبرور  کیا ہے؟
·       وہ حج  جس کے دوران کوئی گناہ کا ارتکاب نہیں ہوا ہو۔
·       وہ حج جو اللہ کے یہاں مقبول ہو۔
·       وہ حج جس میں کوئی ریا اور شہرت مقصود نہ ہو اور جس میں کوئی فسق و فجور نہ ہو۔
·       وہ حج جس سے لوٹنے کے بعدگناہ کی تکرار نہ ہو اور نیکی کا رجحان  بڑھ جائے ۔
·       وہ حج جس کے بعد آدمی  دنیا سے بے رغبت ہوجائے اور آخرت کے سلسلہ میں دل چسپی دکھا ئے ۔

حج مبرور کی فضیلت:
ابو ہریرہ -رضی اللہ عنہ -  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم- نے ارشاد فرمایا : "العُمْرَةُ إِلَى العُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالحَجُّ المَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الجَنَّةُ." [بخاری شریف، حدیث: 1773، مسلم شریف، حدیث: 437 - (1349)] ترجمہ: "ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان( گناہوں)کا کفارہ  ہے،جو ان دونوں کے درمیان ہوئے ہوں، اور حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔"

حج پچھلے سارے گناہوں کو مٹادیتا ہے:
ابن شِماسہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمرو بن عاص –رضی اللہ عنہ- کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب کہ وہ قریب المرگ تھے۔ وہ کافی دیر تک  روئے، پھر انھوں نے اپنا چہرہ دیوار کی طرف کرلیا۔ اس پر ان کے صاحبزادے نے چند سوالات کیے۔ پھر انھوں نے (اپنے اسلام قبول کرنے کی کہانی سناتے ہوئے) فرمایا: جب اللہ نے میرے قلب کو نور ایمان سے منور کرنا چاہا؛  تو میں رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم- کی خدمت میں حاضرہوا اورعرض کیا: آپ –صلی اللہ علیہ وسلم-اپنا داہنا  دست (مبارک )پھیلائے، تاکہ میں بیعت کروں ۔  آپ –صلی اللہ علیہ وسلم-نے پھیلایا۔ پھر میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ۔ آپ –صلی اللہ علیہ وسلم- نے فرمایا : اے عمرو! تجھے کیا ہوا؟  میں نے کہا: میری ایک شرط ہے۔ آپ –صلی اللہ علیہ وسلم- نے فرمایا: تمہاری کیا شرط ہے؟  میں نے کہا:  میری مغفرت کردی جائے۔ آپ–صلی اللہ علیہ وسلم-  نے فرمایا : "أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا؟ وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟" [مسلم شریف، حدیث: 192 - (121)] ترجمہ: "کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اسلام (قبول کرنا)  پہلے (کے تمام گناہوں) کو مٹا دیتا ہے؟  ہجرت گزشتہ گناہوں کو مٹادیتی ہے اور حج پہلے(کے کیے ہوئے گناہوں) کو مٹا دیتا ہے ۔"

ایک حدیث میں حضرت ابو ہریرہ -رضی اللہ عنہ - نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  –صلی اللہ علیہ وسلم-نے ارشاد فرمایا: "مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ." (بخاری شریف، حدیث نمبر: 1521) ترجمہ: "جس شخص نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس نے (اس دوران) فحش کلامی یا جماع اور گناہ نہیں کیا ؛ تو وہ (حج کے بعد گناہوں سے پاک ہوکر اپنے گھراس طرح) لوٹا، جیسا کہ اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو۔"

"رفَث" کا معنی جماع، ہم بستری اور جو کچھ بھی شوہر و بیوی کے درمیان حالت جماع میں ہوتا ہے، جیسے بوس و  کنار وغیرہ کے ہیں۔ ابو عبیدہ نے فرمایا: "رفَث" کا مطلب "فحش کلامی" ہے۔ پھر کنایۃ جماع اور متعلقات جماع کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ (الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ 22/275)

مسئلہ: حالت احرام میں جماع کرنا فقہاء کرام کے نزدیک اتفاقی طور پر حرام ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: "فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلاَ رَفَثَ وَلاَ فُسُوقَ وَلاَ جِدَال فِي الْحَجِّ۔" (سورہ بقرہ، آیت: 197) ترجمہ: " سو جو شخص ان میں حج مقرر کرے، تو پھر نہ کوئی فحش بات ہے اور نہ کوئی بے حکمی ہے اور نہ  کسی قسم کا نزاع زیبا ہے۔"

مسئلہ: اگر کسی نے حالت احرام میں عمدا (جان بوجھ کر) جماع کیا ہو؛ تو اس کا حج فاسد ہوجائے گا اور قضاء و کفارہ لازم ہوگا۔ اگر کسی نے حالت نسیان(بھول )  میں جماع کیا ہو؛ تو حنفیہ، مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک اس صورت میں بھی حج فاسد ہوجائے گا اور قضاء و کفارہ لازم ہوگا؛ لیکن شافعیہ کے نزدیک حج فاسد نہیں ہوگا؛ بل کہ صرف کفارہ لازم ہوگا۔ (الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ 22/276-277)

        " فِسْق" سے مراد معاصی و گناہ ہے۔ "كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ"  کی شرح کرتے ہوئے علامہ ابن حجرعسقلانی –رحمہ اللہ- فرماتے ہیں : "کسی گناہ کے بغیر، اس کا ظاہری مطلب صغائر و کبائر (چھوٹے اور بڑے): سارے  گناہوں کا معاف کیا جانا ہے۔" (فتح الباری 3/382-383)

بوڑھے، کمزور اور عورت کا جہاد:
حضرت ابوہریرۃ  -رضی اللہ عنہ- سے روایت ہے  نبی کریم –صلی اللہ علیہ وسلم- نے فرمایا: "جِهَادُ الْكَبِيرِ وَالضَّعِيفِ وَالْمَرْأَةِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ " (السنن الکبری للنسائی، حدیث: 3592، مسند احمد، حدیث: 9459، السنن الکبری للبیھقی، حدیث: 8759) ترجمہ : "بڑی عمر والے،  کمزور شخص اور عورت کا جہاد : حج اور عمرہ ہے ۔"

ام المومنین عائشہ -رضی اللہ عنہا- فرماتی ہیں: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلاَ نَغْزُو وَنُجَاهِدُ مَعَكُمْ؟ فَقَالَ: "لَكِنَّ أَحْسَنَ الجِهَادِ وَأَجْمَلَهُ الحَجُّ، حَجٌّ مَبْرُورٌ." فَقَالَتْ عَائِشَةُ "فَلاَ أَدَعُ الحَجَّ بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ." (بخاری شریف، حدیث: 1861) ترجمہ : میں نے کہا: اے اللہ کے رسول -صلی اللہ علیہ وسلم-! کیا ہم آپ -صلی اللہ علیہ وسلم-کے ساتھ جہاد اور غزوہ میں شریک نہ ہوں؟  تو آپ-صلی اللہ علیہ وسلم- نے فرمایا : "لیکن سب سے بہتر اور اچھا جہاد حج : حج مبرور ہے۔" حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ" جب سے میں نے  رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- سے یہ سنا ہے؛ تو اس کے بعد سے میں حج نہیں چھوڑتی ہوں ۔"

حج افضل جہاد ہے:
ام المومنین عائشہ -رضی اللہ عنہا-نقل کرتی ہیں  کہ انھوں نے کہا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نَرَى الجِهَادَ أَفْضَلَ العَمَلِ، أَفَلاَ نُجَاهِدُ؟ قَالَ: "لاَ، لَكِنَّ أَفْضَلَ الجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ." (بخاری شریف، حدیث: 1520، السنن الکبری للبیہقی، حدیث: 17805) ترجمہ : اے اللہ کے رسول! ہم جہاد کو افضل العمل سمجھتے ہیں ، تو کیا ہم جہاد نہ کریں؟  آپ  -صلی اللہ علیہ وسلم -نے فرمایا : "نہیں، لیکن بہترین جہاد حج مبرور ہے۔"

فقرا ور گناہ کو مٹانے والے اعمال:
حضرت ابن عباس –رضی اللہ عنہما- سے روایت ہے کہ نبی کریم –صلی اللہ علیہ وسلم- نے ارشاد فرمایا : "أَدِيمُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذَّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ." (المعجم الاوسط، حدیث: 3814) ترجمہ : "حج اور عمرہ پر دوام برتو؛  کیوں کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو ختم کرتے ہیں ، جیسا کہ دھونکنی لوہا سے زنگ کو دور کردیتی ہے۔"

ایک دوسری حدیث ہے جس میں رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم-نے ارشاد فرمایا: "تَابِعُوا بَيْنَ الحَجِّ وَالعُمْرَةِ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الكِيرُ خَبَثَ الحَدِيدِ، وَالذَّهَبِ، وَالفِضَّةِ، وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ المَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلَّا الجَنَّةُ." (ترمذی شریف، حدیث نمبر: 810) ترجمہ: "حج اور عمرہ ایک ساتھ کیا کرو؛ کیوں کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو مٹاتے ہیں جیسا کہ بھٹی لوہا ، سونا اور چاندی سے زنگ ختم کردیتی ہے اور حج مبرور کا ثواب جنت ہی ہے۔"

برائے حج خرچ کرنے کی فضیلت:
ابو زہیر –رضی اللہ عنہ– نبی کریم –صلی اللہ علیہ وسلم– سے روایت کرتے ہیں آپ –صلی اللہ علیہ وسلم– نے ارشاد فرمایا : "النَّفَقَةُ فِي الْحَجِّ كَالنَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ." (مسند احمد، حدیث: 23000، شعب الایمان، حدیث: 3829) ترجمہ : "حج میں خرچ کرنا اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی طرح، (جس کا ثواب) سات سو گنا تک ہے "۔

حاجیوں کی دعائیں:
ابن عمرـ رضی اللہ عنہماـ فرماتے ہیں: "الْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ وَفْدُ اللهِ تَعَالَى يُعْطِيهِمْ مَسْأَلَتَهُمْ، وَيَسْتَجِيبُ دُعَاءَهُمْ، وَيَقْبَلُ شَفَاعَتَهُمْ، وَيُضَاعِفُ لَهُمْ أَلْفَ أَلْفَ ضِعْفٍ." (اخبار مکۃ للفاکہی، حدیث: 902) ترجمہ : "حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالی کےمہمان  ہیں، اللہ تعالی ان کی مانگ ان کو عطا فرماتے ہیں، ان کی دعاؤں کو قبول کرتے ہیں، ان کی شفارش قبول کرتے ہیں اور ان کے لیے ہزار ہزار گنا تک ثواب بڑھایا جاتا ہے"۔

حضرت ابن عمرـ رضی اللہ عنہماـ نبی کریم  -صلی اللہ علیہ وسلم -  سے روایت کرتے ہیں کہ "الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ وَفْدُ اللَّهِ، دَعَاهُمْ، فَأَجَابُوهُ، وَسَأَلُوهُ، فَأَعْطَاهُمْ." (ابن ماجہ، حدیث: 2893) ترجمہ : اللہ کے راستے کا مجاہد اور  حج و عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں۔  اللہ نے انھیں بلایا؛ لہذا  انھوں نے اس پر لبیک کہا اور انھوں نے اللہ تعالی سے مانگا ہے؛  تو اللہ  نے ان کو نوازا ہے۔"

حج کرنے میں جلدی کیجیے:
ابن عباس –رضی اللہ عنہما- روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم- نے ارشاد فرمایا: "تَعَجَّلُوا إِلَى الْحَجِّ - يَعْنِي: الْفَرِيضَةَ - فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَا يَعْرِضُ لَهُ." (مسند احمد، حدیث: 2867) ترجمہ : "حج –یعنی فرض حج–  میں جلدی کرو ؛ کیوں کہ تم میں کوئی یہ نہیں جانتا کہ اسے کیا عذر پیش آنے والاہے۔"

حج نہ کرنے پر وعید:
حضرت علی -رضی اللہ عنہ -  نے کہا کہ اللہ کے رسول –صلی اللہ علیہ وسلم–نے ارشاد فرمایا: "مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: "وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ البَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا". [آل عمران: 97] (ترمذی شریف، حدیث نمبر: 812) ترجمہ:  "جو شخص اتنے توشہ اور سواری کا مالک ہو جائے،  جو اسے بیت اللہ تک پہنچادے، اس کے باوجود وہ حج نہ کرے ؛ تو اس کے لیے کوئی ذمے داری نہیں ہے کہ وہ یہودی ہونے کی حالت میں مرے یا نصرانی ، اور یہ اس وجہ سے کہ اللہ تعالی اپنی کتاب میں فرماتا ہے: "اور اللہ کا حق ہے لوگوں پر حج کرنا، اس گھر کا جو شخص قدرت رکھتا ہو اس کی طرف راہ چلنے کی۔"

حضرت عمر بن خطاب -رضی اللہ عنہ- نے فرمایا: "لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَ رَجُلًا إِلَى هَذِهِ الْأَمْصَارِ، فَلْيَنْظُرُوا إِلَى كُلِّ رَجُلٍ ذِي جَدَةٍ لَمْ يَحُجَّ، فَيَضْرِبُوا عَلَيْهِمُ الْجِزْيَةَ، مَا هُمْ مُسْلِمِينَ، مَا هُمْ مُسْلِمِينَ." (السنۃ لابی بکر بن الخلال 5/44) ترجمہ: "میں نے ارادہ کیا  کہ کچھ لوگوں کوان شہروں میں بھیجوں، پھر وہ  ان لوگوں کی تحقیق کریں کہ   جنھوں نے استطاعت کے باوجود  حج نہیں کیا، پھر وہ ان لوگوں پر ٹیکس  لاگو کریں؛ (کیوں کہ) وہ مسلمان نہیں ہیں،  وہ مسلمان نہیں ہیں۔"

حرف آخر:
حج کے اجر و ثواب جو احادیث مبارکہ کی روشنی میں لکھے گئے ہیں، وہ کسی بھی مسلمان کو حج و عمرہ کا شوق دلانے کے لیے کافی ہیں۔ جن مسلمانوں کو اللہ تعالی نے مال و دولت سے نوازا ہے، ان کو چاہیے کہ خود کو حج و عمرہ کے عظیم ثواب سے محروم نہ  کریں؛ کیوں کہ ہم ہمہ دم نیکیوں کے حصول اور گناہوں و  سیئات سے مغفرت کے سخت محتاج ہیں ۔ یہ بھی ہم جانتے ہیں کہ ہماری زندگی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ یہ کاغذ کی ایک ناؤ ہے، جہاں تک پہنچ جائے یہ ایک غنیمت ہے۔ آپ کی یہ ڈھیڑ دن کی زندگی چلی گئی؛ تو پھر کبھی واپس نہیں آئے گی۔ پھر حج  کرنے میں کیوں تاخیر!


(مضمون نگار  دارالعلوم، دیوبند کے فاضل اور مون ریز ٹرسٹ اسکول ، زامبیا کے استاذ ہیں۔ ان سے   qasmikhursheed@yahoo.co.in  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)

Hakeemul Umaat H Maulana Ashraf Ali Thanvi (RA)

Hakeemul Umaat H Maulana Ashraf Ali Thanvi (RA)


By: Khursheed Alam Dawood Qasmi


Introductory Words:
Hazrat Maulana Ashraf Ali Thanwi (Rahmatullah Aleih), popularly known as “Hakeemul Ummah” (Spiritual Physician of Muslim Ummah) in the Indian subcontinent, was a prominent and celebrated Islamic scholar for his all qualities, Allah had bestowed him. He was a distinguished graduate of Islamic University, Darul Uloom, Deoband, India. He was a wise preacher, well-versed teacher, famous Sufi, prolific writer and dynamic orator. In brief, at a time he was preacher, teacher, Sufi, writer and lecturer; all in one. He used the most part of his living without wasting an hour, for reformation, rectification and betterment of the Muslim community. In this write-up, I would make an effort to highlight his life as well as his services rendered to the Muslim community.

Birth & Place of Birth:
Thanwi (RA) was born in a dignified family of a village, “Thana Bhawan” to Abdul Haqq Al-Hanafi on 5th Rabi Al-Thani, 1280 (19th August, 1863). His noble lineage goes back to the second caliph of Islam, Umar Bin Khattab (RaziAllah Anhu). “Thana Bhawan” in North West India, is a small town of district, “Shamli” of “Uttar Pradesh” in India. It is situated at the distance of 180 kms from India’s capital city, New Delhi and 28 kms from Muzaffarnagar district under which “Thana Bhawan” fell previously. Though it’s a small town, but known in India thanks to the knowledge, piety, mysticism, patriotism, martyrdom and freedom struggle of its towering personalities. A famous martyr and scholar, Sheikh Dhamin Al-Shaheed (RA) belonged to the very town.

Learning & Education:
Thanwi (RA) acquired his basic and primary education in his birth place “Thana Bhawan” from Sheikh Fath Muhammad Thanwi  (1322 AH), one of the Darul Uloom, Deoband’s graduates and Sheikh Manfat Ali Deobandi (1322 AH). In 1295 AH (1880 AC) when he was 15 years old, got admission in Darul Uloom, Deoband, for the secondary and higher Islamic education. He remained as a learner there in Darul Uloom, Deoband, for five years and was taught all the Islamic subjects of “Darse Nizaami” by the towering figures and outstanding scholars of the time, like Sheikhul Hind Mahmood Hasan Deobandi (1268-1339 (1851-1920), Sheikh Sayyad Ahmad Dehlvi (1322 AH), Sheikh Yaqoob Nanautavi (1249-1302 AH) and Imam Muhammad Qasim Nanautavi (1833-1880). Thus, he completed his graduation in Islamic Studies from the prestigious Islamic University, Darul Uloom, Deoband, India in 1299 (1884).

At the end of the final year of Thanwi (RA) and his calss-fellows, the convocation ceremony was held and Maulana Rasheed Ahmad Gangohi (Rahmatullahi Aleih) (1244-1323=1828-1905), Patron of Darul Uloom, Doeband, was invited to bless the occasion with his presence. He arrived for the ceremony. Sheikhul Hind (RA) informed him about Thanwi’s intelligence and calibre. Gangohi (RA) wanted to test him by asking the most difficult questions that he could think of. Thanwi’s answers utterly amazed and pleased Gangohi (RA), who himself tied the graduation turban (that marks the completion of the course) to Thanwi’s head.

While learning in Darul Uloom, Deoband, he had many relatives in the town. They used to invite him for having lunch or supper with them frequently, but he never accepted their invitations saying, “I have come here just for learning”. So, he spent five years in Deoband, but never visited any of his relatives’ houses.

Following his graduation, when Thanwi (RA) went for Hajj, he received the science of Tajweed and Qiraat from an Indian scholar, Sheikh Muhammd Abdullah, who had migrated to Makkah and was teaching in “Madrasa Sawltiyyah” (Established in 1292 (1875) by an Indian Islamic scholar, Sheikh Rahmatullah Usmani Kairanvi [1818-1891]) in Makkah Mukarramah.

An Admonitory Story:
A story of Thanwi (RA) which Mufti Muhammad Taqi Usmani (HafizahuAllah) has quoted in his “Foreword of Ilaaus Sunan” will be an admonitory one for the readers, particularly for the students in today’s scenario and for educational standard. When Thanwi (RA) came to know that Darul Uloom is going to hold a convocation for them, he got stunned and along with his some classmates went to the then Head-Teacher, Sheikh Yaqoob Nanautavi (RA) and said, “We hear that Madrasa is going to grant us graduation certificate and turban will be tied to our heads. But the fact is that we don’t deserve this certificate and the turban. We fear that the people may doubt the Madrasa quality that it produces like us students who have no knowledge.” Sheikh Yaqoob Nanautavi (RA) replied, “You think so, because you are amongst your teachers, so you consider your knowledge nothing in front of them. I bear witness that once you are graduated and step out of this institution, you will realize your worth and importance, InshaAllah. You will be superior in the field of knowledge and you will be incomparable.”

First Journey for Hajj:
Following his graduation, Thanwi (RA) left for Makkah Mukarramah accompanying his father in Shawwal 1300 AH to perform Hajj. In the same journey, he took the oath of allegiance to Sheikh Al-Hajj Imdadullah Rahmatullahi Aleih (1233-1317=1818-1899), an Allah-fearing person of Thanwi’s birth place, who had migrated to Makkah Mukarramah. Taking oath of allegiance, he accompanied Sheikh Imdadullah (RA) in Makkah Mukarramah for a short period of time.

Though, Thanwi (RA) had taken the oath of allegiance to Sheikh Imdadullah (RA), but he was attached to Sheikh Rashid Ahmad Gangohi (RA) spiritually. Once he said, “Among my teachers, I was spiritually attached to Maulana Gangohi more than anyone else, with the exception of Sheikh Imdadullah Muhajir Makki. I have never witnessed such a unique personage, one in whom external and internal goodness merged so cohesively, like Hazrat Gangohi (RA).”

Career & Teaching:
After his return from Hajj, Thanwi (RA) was sent by his teachers to Madrasah, “Faize Aam”, in Kanpur on the request from the Madrasa’s management committee as a teacher in Safar, 1300 AH. He worked in the Madrasa as a teacher and head for few years. Later, he established another Madrasa in the same city of Kanpur namely “Jamiul Uloom” and started heading and teaching in that Madrasa. His teaching attracted many students. He got sound position as a teacher and mentor among the learners and the students became fond of his teaching.

Second Journey for Hajj:
When Thanwi (RA) was in Kanpur in 1310 AH, he planned for the second Hajj and went to Makkah Mukarramah. Having performed Hajj, he stayed there in Makkah Mukarramah for six months in the company of his Sheikh, Al-Haajj Imdadullah (RA) for spiritual guidance and soul rectification. Reflection of being in the Sheikh’s company was apparent in Thanwi’s life and developed in piety, righteousness and morality very soon.

Coming back to India, he continued in Kanpur’s Madrasa about 4 years. In Safar 1315, he retired from the Madrasa and made one of his students, Sheikh Muhammad Ishaq Bardawani its Principal. Within 14-year of his teaching, he produced some such students who became the world’s renowned scholars for their works. Some of his noteworthy students include: Sheikh Muhammad Ishaaq Bardawani (1283-1357 AH), who had memorised the whole Bukhari Shareef, his nephew Sheikh Zafar Ahmad Usmani Thanwi (1310-1394 AH), who compiled the famous book of Hanafi school of thought: إعلاء السنن, in 22 volumes published by “Idartul Quran Wal Uloomil Islamia”, Karachi, Pakistan, Sheikh Abdul Hai Al-Hasani (1286-1341=1869-1923), father of Sayyad Abul Hasan Ali Nadvi (RA) and author of الإعلام بمن في تاريخ الهند من الأعلام المسمى بـ (نزهة الخواطر وبهجة المسامع والنواظر) in 8 volumes published by “Daar Ibne Hazm”, Beirut, Lebanon and rector of Nadwatul Ulama, Lucknow, India and Sheikh Hakeem Muhammad Mustafa Bijnori (Deceased 1941 AC).

Back in Thana Bhawan:
Having retired from teaching, finally, he came back to his birth place, Thana Bhawan. In Thana Bhawan, he devoted himself to re-establish the “Khanqaah Imdadiyah” (spiritual centre) of his Sheikh Al-Hajj Imdadullah Muhajir Makki (RA) on his Sheikh’s behest. Re-establishing the Khanqaah over a short period of time, he acquired a reputable position as a Sheikh of mysticism. The people, with the intention of manners’ reformation and soul rectification, from the different parts of India (India-Pakistan-Bangladesh), started visiting the Khanqaah. Not to speak of Ulamaa, even the secular educated people took the oath of allegiance to him. This continued, until he breathed his last in Thana Bhawan.


Disciples of Thanwi (RA), who took the oath of allegiance to him, settled in different parts of India and engaged themselves in rectification of the Muslim community like Thanwi (RA) did. Some of his well-known disciples are: Sheikh Muhammad Abdul Ghani Phulpuri (1876-1963), Mufti Muhammad Hasan Amritsari (1880-1961), Allamah Sayyad Sulaiman Nadvi (1884-1953), Khwaja Azizul Hasan Majdhub (1884-1944), Sheikh Muhammad Ilyas Kandhlawi (1885/86-1944), Sheikh Abdul Bari Nadvi (1886-1976), Sheikh Wasiullah Fatehpuri (Deceased 1976), Sheikh Zafar Ahmad Uthmani (1310-1394 AH), Qari Muhammad Tayyib Qasmi (1897-1983), Mufti Muhammad Shafi Usmani (1897-1976), Dr. Abdul Hai Arifi (1898-1986), Sheikh Muhammad Idris Kandhlawi (1899-1974), Sheikh Muhammad Yusuf Binnori (1908-1977), Sheikh Maseehullah Khan (1911/12-1992) and Sheikh Abrarul Haq Haqqi Hardoi (1920-2005) (Rahmatullahi Aleihim Ajmaeen).

Speeches & Public Talks:
Thanks to his sincere practice for speech and elocution while learning in Deoband, Thanwi (RA) became one of the most famous speakers and orators of his time. He had command over oratory and public talks. He had an eloquent and fluent language to present his inner feelings. The desire to reform the masses intensified in him during his stay in Kanpur. So, being in Madrasa, he didn’t restrict himself to only teaching books, but he engaged in delivering public talks, uprooting the spread innovations, strengthening the true beliefs, compiling the precious books and reforming and rectifying the worst conditions of the masses. During these years, he travelled to various cities and villages delivering public talks in the hope of reforming the Muslim community.

Thanwi (RA) wasn’t famous only in giving public talks among masses, but he was also the most welcomed speaker in colleges and Universities. His book, Al-Intibaahaa Al-Mufeedah Anil- Ishtibaahaat Al-Jadeedah was actually written following his speech delivered in Aligarh Muslim University (Established 1875) at the invitation of the management in November 1909.

His public talks were full with positive aspects and comprehensive messages. The sole purpose of his talks was to benefit the audience, and non else. He wasn’t in the habit of touching a disputed topic in his talks. If it was required, he used to bring it up in details and in the best of manners with wisdom, insight and good counsel, so that none gets hurt. He never targeted his opponents. He never tried to humiliate his rival in public talk. He was a reputed orator, but never cashed his reputation for personal gain. He never accepted a penny for his public talks.

Generally the printed versions of his lectures and discourses would usually become available shortly after the tours. Until then, just few Islamic scholars had had their lectures printed and widely circulated in their own lifetimes. Al-Hamdulillah, today, his published discourses are a lamp for the young generation.

Works & Compilations:
The Almighty Allah blessed Thanwi (RA) with writing skill along with expertise in the arts of oratory and teaching; therefore, he compiled about eight hundred books touching to the crying needs of Muslim community of the Indian subcontinent. Wherever he felt a call for a book or booklet for the reformation of the Muslim community, he compiled and produced one, be it small or big, but he didn’t leave the people go unguided. His works and compilations are well known in Islamic institutions and well-received by Islamic scholars. None from his contemporary could surpass him in this field. His prestigious work is in form of Bayaanul Quraan, in Urdu Language, a commentary of the Glorious Quraan in 4 volumes. Some of his books are:

Bayaanul Quraan, 4 volumes, At-Taqseer Fit-Tafseer, Jamiul Aathaar, Imdadul Fataawaa, 6 volumes, Bahisthti Zewar, Tahdheerul Ikhwaan Anir Ribaa Fil-Hindustaan, Raafiu Al-Dhank An Manaaf Al-Bank, Al-Iqtisaad Fit-Taqleed Wal-Ijtihaad, Al-Heelah Al-Naajizah Lil-Heelah Al-Aajizah, Al-Intibaahaa Al-Mufeedah Ani- Ishtibaahaat Al-Jadeedah, Al-Masaalih Al-Aqliyyah Lil-Ahkaam Al-Naqliyyah,  Shahadatul Aqwaam Al’a Sidqil Islam, Masaailis Sulook Min Kalaami Malikil Mulook, At-Tasharruf Bi Marifati Ahaadeeth Al-Tasawwuf, Hayaatul Muslimeen, Taleemud Deen, Huququl Islam, Huququl Waalidain, Huququl Ilm, Islaahun Nisaa, Islaahur Rusoom, Aghlaatul Awaam, Nashrut Teeb Fi Zikri Al-Nabi Al-Habeeb, Jazaaul Aamaal, Anwaarul Wujud Fee Atwaar Al-Shuhud, Tahzeer Al-Ikhwaan An Tazweer Al-Shaytaan and Al-Qaul Al-Faasil Bein Al-Haq Al-Baatil.

Daily Schedule:
Thanwi (RA) knew that “The time is more precious than the gold”. He was very much punctual of his timetable. He never wasted the time. He used to follow the time according to the schedule. No excuse could disturb his daily schedule, except in some emergency cases. Even this exception was rarest of the rare. After performing Fajr, he used to take a pew separating from the people. In this time, he used to get busy with his activities, like reading and compiling books. Then he used to have lunch. Following lunch, he had siesta, thereafter he used to go for Zuhr Salaah. No one was allowed to bother him from Fajr until he offers Zuhr Salaah. After Zuhr Salaah, his Majlis (Gathering/Assembly) with his disciples was held. In this Majlis, he used to sit with them. One person used to read a certain book and he used to explain some scholarly points of the read text, which weren’t boring and tedious, rather a food for thought for them. This Majlis used to continue up to Asr. Between Zuhr and Asr, he also used to reply the received letters. After Asr, he used to get busy with his day-to-day family affairs until he offers Ishaa Salaah. No one could disturb him in this time as well.

Final Journey:
Benefiting the people with his knowledge, lectures and spiritual guidance in the “Khanqaah Imdadiyah” for 48 years, Thanwi (RA) breathed his last in Thana Bhawan on July 4, 1943 AC = Safar, 1362 AH; while he was 82-year old. His funeral prayer was led by his nephew, Sheikh Zafar Ahmad Usmani Thanwi (RA). He was buried in the graveyard of Ishq-e-Bazan that is actually his garden. Thanwi (RA) is no more now, but he will be remembered for his inspiring, lucid, rational writings, balanced approach and reformative teachings for a long period of time. May Allah accept his services and shower His blessing and mercy at his grave! Aameen!

(The author is a Darul Uloom, Deoband alumnus and presently teacher of Moon Rays Trust School, Zambia, Africa. He can be reached at qasmikhursheed@yahoo.co.in)