Thursday, June 4, 2020

قرآن کریم کے ساتھ اسلاف واکابر کا شغف

قرآن کریم کے ساتھ اسلاف واکابر کا شغف

از: خورشید عالم داؤد قاسمی
Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

اللہ تعالی نے قرآن کریم کو جہاں امت محمدیہ کی رشدوہدایت کے لیے نازل فرمایا، وہیں اس میں بہت سے برکات بھی رکھے ہیں۔ اس کتاب میں تدبروتفکر اور سمجھ کر پڑھنے سےانسان بخوبی نشانِ منزل کو پالیتا ہے۔ اگر کوئی شخص عربی زبان وادب کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے، مگر اسے پڑھنے پر قادر ہے؛ تو ایسے شخص کو بھی اس کتاب ہدایت کی تلاوت ضرور کرنی چاہیے۔ یہ ایسی بابرکت کتاب ہے کہ اسے بغیر سمجھے ہوئے، صرف الفاظ کو  پڑھنے سے بھی آدمی اجر وثواب کا مستحق ہوتا ہے۔  ایک حدیث شریف میں تو یہاں تک آیا ہے کہ اگر کوئی حافظ قرآن نہیں ہے اور وہ شخص قرآن کریم کی تلاوت اٹک اٹک کر، مشقت کے ساتھ کرتا ہے؛ تو اس شخص دوگنا ثواب ملے گا۔ حضرت عائشہؓ  بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَهُوَ حَافِظٌ لَهُ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ، وَمَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ، وَهُوَ يَتَعَاهَدُهُ، وَهُوَ عَلَيْهِ شَدِيدٌ، فَلَهُ أَجْرَانِ". (صحیح بخاری: 4937) ترجمہ: "اس شخص کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے؛ جب کہ وہ قرآن کریم  کا حافظ ہے،(تو وہ) مکرم اور نیکی لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور اس شخص کی مثال جو قرآن کریم پڑھتا ہےاور وہ بار بار پڑھتا ہے؛ جب کہ وہ اس کے لیے دشوار ہے(یعنی وہ شخص حافظ نہیں ہے اور اٹک اٹک کر پڑھتا ہے)؛ تو اسے دوگنا ثواب ملے گا"۔
قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے کو جو اجر وثواب ملے گا، ا س کی تفصیل ایک حدیث شریف میں آئی ہے کہ ایک حرف کے پڑھنے پر ایک نیکی ملے گی۔ پھر وہ ایک نیکی دس گنا کردی جائے گی۔  حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لاَ أَقُولُ الْم حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ، وَلاَمٌ حَرْفٌ، وَمِيمٌ حَرْفٌ". (ترمذي: 2910) ترجمہ: "جس نے اللہ کی کتاب (قرآن کریم) کا ایک حرف پڑھا؛ تو اس کے بدلے اس شخص کے لیے ایک نیکی ہے اور وہ نیکی دس گنا ہوگی ۔ میں نہیں کہتا ہوں کہ "الم" ایک حرف ہے؛ بلکہ "الف" ایک حرف ہے، "لام" ایک حرف ہے اور "میم" ایک حرف ہے"۔
اگر کوئی شخص اس قرآن کریم کی تلاوت پر قادر نہیں ہے، مگرکسی کو پڑھتے دیکھتا ہے؛  تو رغبت ومحبت سے اسے غور سے سنتا ہے؛ تو اس پر بھی اس کو ثواب ملے گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَنِ اسْتَمَعَ إِلَى آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، كُتِبَ لَهُ حَسَنَةٌ مُضَاعَفَةٌ، وَمَنْ تَلَاهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " (مسند احمد: 8494) ترجمہ: جو شخص قرآن کریم کی ایک آیت بھی غور سے سنے؛ تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے، جو بڑھتی چلی جاتی ہے اور جو قرآن کریم کی ایک آیت کی بھی تلاوت کیا، وہ اس کے لیے قیامت کے دن روشنی ہوگی۔ " ایک دوسری روایت میں  ہے کہ جو شخص وضو کی حالت میں قرآن کریم کا ایک حرف سنتا ہے؛ تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اس کے دس گناہ معاف کیے جاتے ہیں اور اس کے دس درجے بلند کیے جاتے ہیں۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:  "مَنْ اسْتَمَعَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللهِ طَاهِرًا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَتْ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ." (شعب الإيمان: 1918)
قرآن کریم کی تلاوت کے ساتھ ساتھ، ایک آدمی قرآنی احکامات پر عمل بھی کرتا ہے؛ تو اللہ تعالی ایسے شخص کو جنت میں داخل فرمائيں اور اس کی سفارش قبول فرمائيں گے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہے، قرآن کریم زبانی یاد کرتا ہے، اس کے احکامات پر عمل کرتا ہے؛ ایسے شخص کو اللہ تعالی جنت میں داخل فرمائیں اور اس کے گھر کے دس لوگوں کے سلسلے میں اس کی سفارش بھی قبول فرمائیں اور وہ دس لوگ اس کی سفارش کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے۔ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَاسْتَظْهَرَهُ، فَأَحَلَّ حَلاَلَهُ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِ الجَنَّةَ وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ". (سنن ترمذي: 2905) ترجمہ: جس نے قرآن کریم پڑھا اور اس کو حفظ کیا۔ پھر قرآن نے جس چیز کو حلال کیا ہے، اس کو حلال سمجھا اور جس چیز کو حرام کیا ہے، اس کو حرام سمجھا(یعنی قرآن کے احکام پر عمل کیا)؛ تو اللہ اس کو اس عمل کی وجہ سے جنت میں داخل فرمائیں گے اور اس کے اہل خانہ میں سے دس ایسے افراد کے حوالے سے اس کی سفارش قبول فرمائیں گے، جن کے لیے دوزخ واجب ہوچکی ہوگی۔
قرآن کریم کی تلاوت کے حوالے سے اور بھی بہت ساری حدیثیں ہیں، جن میں قرآن کریم کی تلاوت کے فوائد اور اجر وثواب کو ذکر کیا گیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم سے شغف کا یہ عالم تھا کہ کہ کبھی کبھی  نفل نماز کی پہلی رکعت میں پوری سورہ بقرہ  پڑھ لیتے، دوسری رکعت میں پوری سورہ آل عمران پڑھ لیتے، تیسری رکعت میں پوری سورہ نساء پڑھ لیتے اور چوتھی رکعت میں پوری سورہ مائدہ یا پھر سورہ انعام پڑھ لیتے تھے۔ حدیث شریف میں ہے: فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فَقَرَأَ فِيهِنَّ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ، وَالنِّسَاءَ، وَالْمَائِدَةَ، أَوِ الْأَنْعَامَ، شَكَّ شُعْبَةُ. (سنن ابو داؤد: 874) ترجمہ: پس آپ  صلی الہ علیہ وسلم نے چار رکعتیں پڑھی؛ چناں چہ ان میں سورہ بقر، سورہ نساء، سورہ مائدہ یا (راوی شعبہ کو شک ہوا) سورہ انعام پڑھی۔
قرآن کریم میں تدبر وتفکر، اس کی تلاوت اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کے متعدد فضائل وفوائد، انعامات وبرکات اور اجر وثواب احادیث شریفہ میں مذکور ہیں، جن میں سے کچھ کو میں نے یہاں ذکر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے ساتھ ہمارے اسلاف واکابر کی دل چسپی حیران کن تھی۔  قرآن کریم کے ساتھ علماء وصلحا کا شغف قابل رشک تھا۔  آج اگر قرآن مجید کے ساتھ ان اکابر واسلاف کے تعلق ورشتہ کو ذکر کیا جائے؛ تو لوگوں کو بہت تعجب ہوگا۔  ہم یہاں  چند اسلاف واکابر اور علماء وصلحاء کی قرآن کریم کے ساتھ تدبر وتفکر اور قرات وتلاوت کی حقیقت کو ذکر کرتے  ہیں۔ ممکن ہے کہ اسے پڑھ کر ہمیں بھی حوصلہ ملے اور بتوفیق خداوندی ہم بھی اپنی آخرت سنوارنے کے لیے اپنا رشتہ قرآن کریم سے مضبوط کرنے کی فکر کریں۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خود اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ ایک رات میں ایک قرآن کریم ختم کیا کرتے تھے۔ سلف وصالحین کی ایک جماعت کے بارے میں بھی یہی بات منقول ہے۔ (غذاء الألباب في شرح منظومۃ الآداب 1/ 403)
سعید بن  جبیر اسدی  رحمہ اللہ تابعی ہیں۔ آپ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگردوں میں سے ہیں۔ آپ تفسیر وفقہ کے امام شمار ہوتے تھے۔  آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ مغرب وعشاء کے دوران نماز میں ایک مکمل قرآن ختم کرلیتے تھے۔ آپ خانہ کعبہ میں بیٹھ کر، ایک بیٹھک میں پورا قرآن ختم کرلیتے تھے۔  کبھی کبھی آپ خانہ کعبہ میں ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کرلیتے تھے۔   (البدایۃ والنہایۃ 9 / 116)
امام احمد بن حنبل (780 – 855ء) کے صاحبزادے عبد اللہ فرماتے ہیں: "میرے والد ہر دن ورات میں تین سو رکعات (نوافل) پڑھتے تھے۔ پھر جب ان کوڑے کی وجہ سے بیمار ہوئے جس نےان کو کمزور کردیا تھا؛ پھر دن ورات میں ایک پچاس رکعات (نوافل) پڑھتے تھے؛ جب کہ آپ (کی عمر) اسّی برس کے قریب تھے۔ ہر دن (قرآن کریم کا) ساتواں حصہ پڑھتے اور سات دنوں میں ایک قرآن ختم کرتے تھے اور آپ ہر سات راتوں میں بھی ایک قرآن ختم کرتے تھے"۔ (صفۃ الصفوۃ 1/484)
محمد بن عبد اللہ بن شاذان فرماتے ہیں: "کہا جاتا ہے  کہ کنانی (ابو بکر محمد بن علی بن جعفر کنانی) نے طواف کے دوران بارہ ہزار مرتبہ قرآن کریم ختم کیا۔"  (صفۃ الصفوۃ 1/539) کنانی اصلا بغداد کے تھے۔ آپ نے مکہ مکرمہ میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ آپ کی وفات مکہ مکرمہ میں ہی ہوئی۔
حمانی فرماتے ہیں: "ابو بکر بن عیاش کی وفات کا وقت قریب آیا؛ تو ان کی بہن رونے لگی۔ پھر انھوں نے اپنی بہن سے کہا: کس وجہ سے رو رہی ہو؟ گھر کے اس کونے کی طرف دیکھو۔ اس کونے میں تیرے بھائی نے اٹھارہ ہزار دفعہ قرآن کریم ختم کیا ہے۔"  (صفۃ الصفوۃ 2/96) ابو بکر بن عیاش  کے بیٹے ابرہیم فرماتے ہیں کہ جب میرے والد کی وفات کا وقت قریب آیا؛ تو میں ان کے پاس رونے لگا۔  انھوں نے فرمایا کیوں روتے ہو؟ کیا تمھارا خیال ہے کہ اللہ تیرے والد کو ضائع کردیں گے جس نے چالیس سال تک ہر رات ایک قرآن ختم کیا؟" (صفۃ الصفوۃ 2/96)
حسین بن عمرو منقزی فرماتے ہیں: "جب (عبد اللہ) بن ادریس کی موت کا وقت قریب آیا؛ تو اس کی لڑکی رونے لگی۔ پھر انھوں نے کہا: مت روؤ! میں نے اس گھر میں چالیس ہزار دفعہ قرآن کریم ختم کیا ہے۔  (المنتظم في تاريخ الأمم والملوك 9/ 205)
ابو عبد اللہ محمد بن یوسف بناء لوگوں کو فتوی دینے پر اجرت لیتے تھے۔ اس اجرت میں سے ایک دانق اپنی ذات پر خرچ کرتے تھے اور باقی صدقہ کردیتے تھے۔  ہر دن ایک قرآن ختم کرتے تھے۔ چھ سو شیوخ سے استفادہ کیا اور اور بہت سی حدیثیں حاصل کی"۔ (صفۃ الصفوۃ 2/287)
عبد العزیز مقدسی فرماتے ہیں: "میں نے بلوغ کے دن سے آج تک کا اپنا محاسبہ کیا؛ چناں چہ میری لغزشیں چتھیس سے زیادہ نہیں ہیں۔  میں ہر لغزش کےبدلے اللہ عزوجل سے ایک لاکھ دفعہ استغفار کیا۔ ہر لغزش کےبدلے ایک ہزار رکعتیں پڑھی۔ ہر لغزش کے بدلے ایک قرآن کریم ختم کیا۔ اس کے باوجود بھی میں اپنے پروردگار کے غصہ سے مامون نہیں ہوں کہ وہ ان لغزشوں کی وجہ سے میری گرفت فرمائے"۔ (صفۃ الصفوۃ 2/395)
ابو نصر محمد بن محمد طوسی شافعی خراسان کے مفتی تھے۔ انھوں نے حدیث پر توجہ دی اور حدیث کے لیے متعدداسفار کیے۔۔۔۔۔۔ انھوں نے رات کو تین حصوں میں بانٹ رکھا تھا: ایک تہائی تصنیف کے لیے، ایک تہائی تلاوت قرآن کریم کے لیے اور ایک تہائی سونے کےلیے۔ (مرآۃ الجنان 2/252) امام ابو بکر محمد بن احمد، لوگوں کے درمیان ابن حداد سے معروف تھے۔ ان کے بارے میں منقول ہے کہ"وہ ایک دن ناغہ کرکے روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ورات میں ایک قرآن کریم ختم کرتے تھے۔ (مرآۃ الجنان 2/252)
ابن عون کی یہ عادت تھی کہ ایک دن ناغہ کرکے روزہ رکھتے تھے۔ ایک ہفتہ میں ایک قرآن ختم کرتے تھے۔ (تاريخ الإسلام ووفيات المشاہير والأعلام 9 / 461) احمد بن عمر الباجیّ فرماتے ہیں کہ میں نے احمد بن نفیس کو کہتے ہوئے سنا: "میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے پاس ایک ہزار بار قرآن کریم ختم کیا۔" (تاريخ الإسلام ووفيات المشاہير والأعلام 30 / 337)
صالح بن محمد بن عبد اللہ بن عبد الرحمن ابو الفضل شیرازی فرماتے تھے کہ میں چار ہزار دفعہ قرآن کریم ختم کیا۔ (المنتظم في تاريخ الأمم والملوك 12/ 362) عبد الملک بن حسن بن احمد بن احمد بن خیرون ایک زاہد شخص تھے۔ آپ ہر رات ایک قرآن ختم کرتے تھے۔ کثرت سے روزہ رکھتے تھے۔ (المنتظم في تاريخ الأمم والملوك 16 / 207)
یزید بن ہارون ابو بکر بن عیاش کے بارے میں نقل کیا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے پہلوؤں کو چالیس سال تک زمین پر نہیں رکھا۔ ساٹھ سال تک اس حالت میں گذارا کہ ہر روز ایک مکمل قرآن ختم کرتے تھے۔ (البدايۃ والنہایۃ 10 / 243)
ابن  حاجب کہتے ہیں: ابو الحسن السلمی فقیہ تھے۔ ایک دن و رات میں ایک قرآن ختم کرتے تھے۔  (الدارس في تاریخ المدارس 1 / 153)
احمد ابو الحواري فرماتے ہیں: "میں قرآن کریم کی تلاوت کرتا ہوں اور اس کی آیتوں میں غور وفکر کرتا ہوں؛ تو اس سے میری عقل حیران ہوجاتی ہے۔  مجھے قرآن کے حافظوں پر تعجب ہوتا ہے کہ کیسے انھیں سکون سے نیند آتی ہے، کیسے یہ ان کے لیے ممکن ہوتا ہے کہ وہ دنیوی امور میں مشغول رہیں؛ جب کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں۔ وہ جس (قرآن مجید)کی تلاوت کرتے ہیں، اگر اسے سمجھ لیں، اس کے حق کو جان لیں، اس کی لذت محسوس کرنے لگیں اور اس سے سرگوشی کی چاشنی محسوس کرنے لگیں؛ تو انھیں جو کچھ عطا کیا گیا ہے، اس کی خوشی میں ان (کی آنکھوں) سے نیند اڑ جائے گی۔" (لطائف المعارف لابن رجب 1/ 173)
حضرت شیخ الہند مولانا محمو حسن دیوبندی کا معمول، قرآن کریم کی تلاوت کے حوالے سے، کچھ اس طرح نقل کیا جاتا ہے: "۔۔۔۔پھر و‌ضو فرمانے کے بعد، تلاوت قرآن شریف، دلائل الخیرات، حزب الاعظم وغیرہ میں مشغول ہوجاتے۔ مگر قرآن کریم بہت زیادہ پڑھتے تھے۔ غالبا روزانہ دس بارہ پارے پڑھتے تھے۔"(مفتی عزیز الرحمن بجنوریؒ، تذکرۂ شیخ الہندؒ، ص:153)
قرآن کریم دنیا کی واحد کتاب ہے جس میں اللہ تعالی نے اپنے بندے کی فلاح وکامیابی کے راستے بتائے ہیں۔  اس کتاب میں اللہ پاک نے اپنے بندے کے لیے بہت سے برکات وانعامات رکھے ہیں۔  اس عظیم کتاب کی تلاوت پر اجرو ثواب طے فرمایا ہے۔اللہ تعالی قیامت کے دن اس کتاب کے حفظ کرنے والے اور اس کتاب کے احکامات پر عمل کرنے کی سفارش ایسے شخص کے حوالے قبول فرمائیں گے جن پر جہنم واجب ہوچکی ہوگی۔ اس بابرکت کی کتاب کی یہ وہ خوبیاں جو دنیا کی کسی بھی کتاب میں نہیں پائی جاتی ہے۔ اس کتاب سے ہمارا تعلق، عشق اورشغف اسی طرح مثالی اور لازوال ہونا چاہیے جس طرح ہمارے اسلاف واکابر اور علماء وصلحا کا تھا۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے ہیں، تو یہ ہماری بدقسمتی ہے۔ جو شخص قرآن کریم کی تلاوت سے اپنے سینے کو معمور ومنوّر نہیں کرتا اور قرآن کریم کے ان عظیم برکات وانعامات سے خالی ہے؛ تو گویا وہ شخص اس گھر کی طرح ہیں جو اجڑا ہوا۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ القُرْآنِ كَالبَيْتِ الخَرِبِ". (ترمذی: 2913) ترجمہ: "بے شک وہ شخص جس کے پیٹ میں قرآن کریم میں سے کچھ بھی نہیں، وہ شخص اجڑے ہوئے گھر کی طرح ہے۔ ····

ماہِ رمضان اور نزولِ قرآن کریم

ماہِ رمضان اور نزولِ قرآن کریم

از: خورشید عالم داؤد قاسمی
Email: qasmikhursheed@yahoo.co.in

رمضان المبارک کا مہینہ بہت ہی بابرکت مہینہ ہے۔ رمضان المبارک کو مہینوں کا سردار کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالی نے اس پورے مہینہ کا روزہ مسلمانوں پر  فرض کیا ہے۔ اس مہینہ کی اہمیت کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رجب سے ہی رمضان المبارک میں پہنچنے کی دعا شروع کردیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے: "اے اللہ! ہمارے لیےرجب وشعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں رمضان کے مہینہ تک پہنچائے!" (شعب الایمان: 3534) رمضان کےتعلق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: "میری امتی رمضان کے حوالے پانچ ایسی چیزوں سے نوازی گئی ہے  کہ مجھ سے پہلے کسی نبی کو وہ چیزیں نہیں دی گئیں۔ پہلی چیز: جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے، اللہ تعالی اس امت کی  طرف دیکھتے ہیں اور اللہ تعالی جن کی طرف دیکھ لیتے ہیں، ان کو کبھی بھی عذاب نہیں دیتے۔ دوسری چیز: افطار کے وقت روزہ داروں کے منھ کی خوشبو، اللہ تعالی کو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ تیسری چیز:  فرشتے ان کے لیے دن ورات استغفار کرتے ہیں۔ چوتھی چیز: اللہ عز وجل اپنی جنت کو حکم کرتے ہوئے فرماتے ہیں: میرے بندوں کے لیے تزئین کرلو اورتیار ہوجاؤ ۔۔۔۔، پانچویں چیز: جب (رمضان) کی آخری رات ہوتی ہے، تو (اللہ تعالی) ان سب کو معاف فرمادیتے ہیں۔ (شعب الایمان: 3331)
قرآن کریم اسی ماہ مبارک: رمضان میں نازل ہوا۔ فرمان خداوندی ہے: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ. (سورۃ بقرۃ: 185) (رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گيا۔) قرآن کریم ماہ رمضان کی ایک خاص رات میں نازل ہوا۔ اس مبارک رات کو، ہم "لیلۃ القدر" یا  شب قدر کہتے ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے: إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ. (سورۃ القدر: 1) (بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔) قرآن کریم کا ماہ رمضان میں، لیلۃ القدر میں نازل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کریم کو "لوح محفوظ" سے آسمان اول پر، "بیت العزت" میں بیک وقت شب قدر میں اتارا۔ پھراللہ تعالی نے  بیت العزت سے ضرورت کے مطابق تئیس سالوں میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک حضرت جبریل علیہ السلام کے معرفت بھیجا۔
مشہور مفسر عماد الدین ابوالفداء اسماعیل بن عمر بصری (700- 774ھ) لکھتے ہیں: "ابن عباس  وغیرہ (رضی اللہ عنہم) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے پورا قرآن شریف "لوح محفوظ" سے آسمان دنیا پر "بیت العزت" میں یکبارگی (شب قدر میں)  نازل فرمایا۔ پھر واقعات کے مطابق تفصیل وار  تئيس سالوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر (تھوڑا تھوڑا)نازل ہوا"۔  (تفسیر ابن کثیر 8/441)
مذکورہ قرآنی آیات سے ثابت ہوا کہ قرآن کریم کا  رمضان میں نازل ہونا ایک حقیقت ہے۔  رمضان سے قرآن کریم کا تعلق بہت گہرا ہے۔ ہمیں رمضان کے اوقات وساعات کی قدر کرتے ہوئے، روزہ کے ساتھ ساتھ تلاوت قرآن کریم میں مصروف رہنا چاہیے۔ رمضان اور قرآن ایک دوسرے سے اس طرح مربوط ہیں کہ یہ دونوں قیامت کے دن روزہ رکھنے والوں اور تلاوت کرنے والوں کے حق میں سفارش بھی کریں گے۔ حدیث شریف میں ہے: "الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ الصِّيَامُ رَبِّ إِنِّي مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ: رَبِّ إِنِّي مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ فَيشَفَّعَانِ". (حلیۃ الأولياء وطبقات الأصفياء 8 / 161) ترجمہ:  روزہ اور قرآن قیامت کے دن (روزہ  رکھنے والے اور تلاوت کرنے والے  کےحق میں) سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا:  اے میرے پروردگار! میں نے اس شخص کو دن میں کھانے  پینے سے روک دیا تھا؛ لہذا اس کے حق میں میری سفارش قبول فرمالیں!  قرآن کریم کہے گا: اے میرے ربّ! میں نے رات میں اس کو سونے سے روک دیا تھا؛ لہذا اس کے حق میں میری سفارش قبول کرلیں! پھر ان دونوں کی سفارشیں قبول کرلی جائیں گی۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ رمضان المبارک کے مہینہ میں، اپنا وقت زیادہ تر  قرآن کریم میں تدبر وتفکر اور اس کی تلاوت وقرات میں گزاریں۔ یہ عمل جہاں ان کو رمضان جیسے مبارک مہینہ میں ادھر ادھر کی لغو اور لایعنی باتوں سے محفوظ رکھے گا، وہیں اس عمل سے اس کی آخرت بھی سدھرے گی اور من جانب  اللہ بڑااجر و ثواب بھی ملے گا۔  اللہ تعالی نے ہمارے اسلاف واکابر کو اس حوالے توفیق دی اور وہ رمضان المبارک میں سارے مشاغل سے دور رہ کر، اپنے اکثر اوقات قرآن کریم کی تلاوت میں ہی صرف کرتے تھے۔
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہ معمول تھا کہ آپ رمضان المبارک میں حضرت جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دَور کیا کرتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  رمضان میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت وغم خواری  اورحضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ  قرآن کریم کے دور کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیر کے معاملہ میں لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اس وقت رمضان میں اور زیادہ بڑھ جاتی تھی، جب جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے۔ جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان شریف کی ہر رات میں ملتے،تا آں  کہ رمضان ختم ہوجاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبرئیل علیہ السلام سے قرآن کا دور کرتے تھے۔ جب جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے لگتے؛ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتی ہوا سے بھی زیادہ بھلائی پہنچانے میں سخی ہو جایا کرتے تھے"۔ (صحیح بخاری: 1902) اس حدیث  سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ رمضان کے مہینہ میں جہاں ہمیں قرآن کریم کی تلاوت  کرنی چاہیے، وہیں ہمیں صدقات وخیرات میں سخاوت سے کام لینا چاہیے۔
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ (80 – 150 ھ) رحمہ اللہ کی شخصیت عوام وخواص میں جانی پہچانی ہے۔ امام صاحب کے بارے میں علی بن زید صیدانی بیان کرتے ہیں کہ ہو  رمضان میں ساٹھ قرآن ختم کرتے تھے، ایک ختم دن میں اور ایک ختم رات میں۔  (التدوين في أخبار قزوين 2 / 332)
حضرت امام مالک (93 – 179 ھ) رحمہ اللہ کے بارے میں ابن عبد الحکیم فرماتے ہیں: "جب رمضان کا مہینہ آتا؛ تو امام مالک حدیث کی تدریس اور اہل علم کی مجلسوں سے دور رہتے  اورپوری دل چسپی سے قرآن کریم دیکھ کر تلاوت کرتے"۔  طائف المعارف لابن رجب 1/ 171)
امام شافعی (150 – 204 ھ) رحمہ اللہ شروع میں طلب علم میں مشغولیت کی وجہ سے قرآن کی تلاوت کم کرتے تھے۔ پھر آخر عمر میں بہت زیادہ تلاوت کرتے تھے۔ ربیع آپ کے بارے میں فرماتے ہیں: "آپ ہر رات ایک قرآن ختم کرتے تھے۔ ماہ رمضان میں آپ ساٹھ قرآن ختم کرتے تھے"۔ (المنتظم في تاريخ الأمم والملوك 10 / 135)
حضرت سفیان ثوری (97 - 161) رحمہ اللہ کے بارے میں عبد الرزاق فرماتے ہیں : "جب رمضان آتا؛ تو سفیان ثوری رحمہ اللہ ساری (نفلی) عبادتوں کو چھوڑ دیتے اور پوری دل چسپی کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرتے۔" (لطائف المعارف لابن رجب 1/ 171)
ولید (668 – 715)بن عبد الملک بنو امیہ کے نامود اور مشہور خلیفہ تھے۔ آپ کے بارے میں ابراہیم بن ابو عبلہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے انھوں نے ایک دن پوچھا: "کتنے دن میں قرآن ختم کرتے ہو؟" میں نے جواب دیا اتنے اتنے دنوں میں۔ پھر وہ بولے: امیر المومنین مشغول ہونے کے باوجود تین دن میں ایک قرآن ختم کرتا ہے۔ وہ ماہ رمضان میں سترہ قرآن ختم کرتے تھے"۔  (البدايۃ والنہايۃ 9 / 182)
امام محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بخاری (810 – 870ء)رحمہ اللہ کے رمضان کا معمول بیان کرتے ہوئے ابن حجر عسقلانی (1372-1448ء) فرماتے ہیں: "جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی؛ تو امام بخاری اپنے ساتھیوں کو جمع کرتے۔ آپ ان کی امامت کرتے اور ہر رکعت میں بیس آیتوں کی تلاوت کرتے۔ یہی آپ کا معمول رہتا، تا آں کہ آپ قرآن مکمل کرتے۔ اور آپ سحری کے وقت تک نصف سے ثلث قرآن کے درمیان تک پڑھتے؛ چناں چہ ہر تیسری رات کو سحری کے وقت ایک قرآن ختم کرتے۔ آپ دن میں ہر روز ایک قرآن ختم کرتے۔ (فتح الباری 1/ 481)
محمد بن زہیر بن قمیر فرماتے ہیں: "میرے والد ہم سب کو رمضان میں  قرآن کریم ختم کرتے وقت جمع کرتے تھے۔ ایک دن ورات میں تین قرآن ختم کرتے تھے۔ ماہ رمضان میں نوے قرآن ختم کرلیا کرتے تھے۔" (تاريخ بغداد 8/ 485)
امام بغوی  (433 – 516 ھ) زہیر محمد بن قمیر کے بارے میں فرماتے ہیں: "امام احمد بن حنبل کے بعد، ان (زہیر محمد بن قمیر) سے بہتر کسی شخص کو نہیں دیکھا۔ وہ رمضان میں نوے قرآن کریم ختم کرتے تھے"۔ (العبر في خبر من غبر 1 / 369)
مامون رشید  (786 – 833 ء)مشہور ومعروف عباسی خلفاء میں سے تھے۔ اللہ تعالی نے ان کو علم، حلم اور شجاعت وبہادری سے نوازا تھا۔انھوں نے خلق قرآن کے حوالے سے علماء کرام پر ظلم کیا۔ یہ ان کی زندگی کی ناگفتہ بہ حقیقت ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے: "وہ  بعض رمضان میں 33 مرتبہ قرآن کریم ختم کرلیا کرتے تھے"۔ (تاریخ الخلفاء للسیوطي 1/226)
ابو جعفر محمد بن عبد اللہ فرغانی فرماتے ہیں کہ ابو العباس بن عطاء نے فرمایا: "اے ابو جعفر! بہت سالوں سےہر روز میں ایک قرآن ختم کرتا ہوں۔ رمضان میں ایک دن اور رات میں تین قرآن ختم کرتا ہوں"۔   (صفۃ الصفوۃ 1/533)
حضرت قتادہ (متوفی: 735ء) رحمہ اللہ ہر سات رات میں ایک قرآن مجید ختم کرتے تھے۔ جب رمضان آتا؛ تو ہر تین رات میں ایک قرآن ختم کرتے تھے۔ جب آخری عشرہ ہوتا؛ تو ہر ایک رات میں ایک قرآن کریم ختم کرتے تھے۔ (نداء الريان في فقہ الصوم وفضل رمضان 1 / 198)
حضرت علامہ کشمیری کا قران مجید میں  تدبر وتفکر:
حضرت مولانا محمد منظور صاحب نعمانی (1905 - 1998) رحمہ اللہ حضرت علامہ محمد انور شاہ  (1875 - 1933) کشمیری رحمہ اللہ کا رمضان میں قرآن کریم  میں تدبر وتفکر کے حوالے سے رقم طراز ہیں:  "علم کی گہرائی اور دقت نظر کا کچھ اندازہ اس سے بھی کیا جاسکتا ہےکہ حضرت نے اپنا یہ حال خود ایک دفعہ بیان فرمایا کہ 'میں رمضان مبارک میں، قرآن مجید شروع کرتا ہوں اور تدبّر وتفکّر کے ساتھ اس کو پورا کرنا چاہتا ہوں؛ لیکن کبھی پورا نہیں ہوتا۔ جب دیکھتا ہوں کہ آج رمضان المبارک ختم ہونے والا ہے؛ تو پھر اپنے خاص طرز کو چھوڑ کر، جو کچھ باقی ہوتا ہے، اس دن ختم کرکے دور پورا کرلیتا ہوں'۔ یہ عاجز (حضرت نعمانی) عرض کرتا ہے کہ رمضان المبارک میں کبھی حضرت کے قریب رہنے کا اتفاق تو نہیں ہوا؛ لیکن یہ معلوم ہے کہ آپ "انزل فیہ القرآن" والے اس مبارک مہینہ میں، زیادہ وقت قرآن مجید ہی کی تلاوت اور تدبر وتفکر پر صرف فرماتے تھے۔ اس کے باوجود قرآن کریم ختم نہیں کرپاتے تھے"۔ (عبد الرحمن کوندو، الانور، ص: 307)
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا  صاحب کاندھلوی (1898 - 1982) رحمہ  اللہ حدیث اور علوم حدیث کے ایک اہم اسکالر کے طور پر عرب وعجم میں مشہور تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی کو درس وتدریس، تعلیم وتعلم، تصنیف وتالیف، عبادت وریاضت اور اصلاح وتزکیہ کے لیے وقف کررکھا تھا۔ رمضان میں کئی سالوں تک آپ کا یہ معمول  رہا کہ آپ روزانہ ایک قرآن کریم ختم کرتے۔ آپ رقم طراز ہیں: "(سن) 38 ہجری سے ماہ مبارک میں، ایک قرآن روزانہ پڑھنے کا معمول شروع ہوا تھا، جو تقریبا (سن) 80 ہجری تک رہا؛ بل کہ اس کے بھی بعد تک (رہا)"۔ (آپ بیتی 1/ 72)
حضرت شیخ الحدیث صاحب کی دادی محترمہ قرآن کریم کی حافظہ تھیں۔ آپ کو دوران حفظ اپنی دادی سے بھی شرف تلمذ حاصل ہے۔  آپ ان  کی تلاوت قرآن پاک کے بارے میں لکھتے ہیں:  "میری دادی صاحبہ حافظہ تھیں اور بہت اچھا یاد تھا۔ سال بھر کا معمول، خانگی مشاغل، کھانے پکانے کے علاوہ، ایک منزل روزانہ کا تھا اور رمضان میں چالیس پارے روزانہ کا تھا"۔ (آپ بیتی 1/ 72)
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان (1926 - 2017) صاحب رحمہ اللہ کا ماضی قریب کے نمایاں علما کرام میں شمار ہوتا ہے۔ آپ دار العلوم دیوبند کے فاضل اور حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی (1879-1957) کے شاگردوں میں سے تھے۔ آپ  رمضان المبارک میں روزانہ  مکمل قرآن کریم ختم کیا کرتے تھے۔ حضرت مولانا عبید اللہ خالد صاحب  آپ کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں: "رمضان المبارک میں یہ معمول اتنا بڑھ جاتا تھا کہ یومیہ پورا قرآن مجید پڑھتے تھے"۔ (تذکرہ شیخ الکل مولانا سلیم اللہ خاں رحمہ اللہ، ص: 132)
مذکورہ بالا اقتباسات سے ہم آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارے اسلاف واکابر رمضان المبارک میں، قرآن کریم کے ساتھ کس طرح چمٹے رہتے تھے۔ در اصل وہ اس حقییقت سے واقف تھے کہ قرآن کی تلاوت اللہ پاک کو بہت پسند ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت اللہ تعالی کی خوشنودی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ وہ تلاوتِ قرآن کریم کی توفیق کو اپنے لیےخوش قسمتی سمجھتے تھے۔ہمیں بھی اپنے بڑوں سے سیکھ کر، قرآن کریم تلاوت کو شب وروز کا معمول بنانا  چاہیے۔ خاص کر رمضان المبارک کے مہینے میں، ہمیں پوری دل چسپی اور لگن کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت میں مشغول رہنا چاہیے۔ اگر ایک شخص ساری نفلی عبادتوں کو چھوڑ دے، تا آں کہ وہ تسبیح وتھلیل اور دعا  وغیرہ کو بھی چھوڑ کر، صرف تلاوت قرآن کریم میں مشغول رہتا ہے؛ تو اللہ پاک اس کی ساری مرادیں پوری فرمائیں گے۔ تلاوت قرآن میں مشغولیت کی وجہ سے دعا بھی نہیں مانگ سکا؛ تو اللہ تعالی اس شخص کو وہ چیزیں بھی عطا فرمائیں گے، جو  مانگنے سے رہ گئیں ہیں۔ ایک حدیث قدسی ہے: "مَنْ شَغَلَهُ الْقُرْآنُ عَنْ ذِكْرِي وَمَسْأَلَتِي؛ أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِي السَّائِلِينَ". (ترمذي: 2926) ترجمہ:    جس شخص کو قرآن کریم میرے ذکر اور مجھ سے مانگنے سے  مشغول کردے؛  میں اس شخص کو اس سے بہتر دیتا ہوں، جو میں مانگنے والوں کو دیتا ہوں۔
رمضان کے مبارک مہینہ میں، اکابر واسلاف اور علماء وصلحا کا قرآن کریم میں  تدبر وتفکر اور قرات وتلاوت کا جو نقشہ اوپر پیش کیا ہے، وہ قرآن کریم کے ساتھ ان کی دل چسپی، شغف اور محبت وعقیدت کا بین ثبوت ہے۔ ہمیں بھی خود کو قرآن کریم کے حوالے سے کچھ اسی طرح کی جد وجہد اور سعی کوشش کرنی چاہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ قرآن کریم اللہ تعالی کا کلام ہے، جب ہم خود کو اس پاک ذات کے کلام کے ساتھ مشغول رکھیں گے، اس کے ساتھ محبت کا اظہار کریں گے، تو وہ پاک ذات بھی ہمیں پسند کرے گی اور اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما لے گی اور ہماری آخرت سنور جائے گی!پروردگار عالم ہم سب کو رمضان المبارک کے قیمتی اوقات کے قدر کی توفیق بخشے! آمین! ····

Saturday, March 7, 2020

Few Days in an African Country Zambia


Few Days in an African Country Zambia
By: Mohammad Akram Qasmi,
Director: Makatib Darul Ma’arif, Itarsi,Hoshanabad, MP


With the name of Allah, The Most Gracious, The Most Merciful.

All praise be to Allah; the cherisher and sustainer of the worlds. Peace and blessings of Allah be upon His final Prophet; Muhammad, upon his progeny and companions.

Say: "Travel through the earth and see how (Allah) originated creation, and then Allah will bring forth (resurrect) the creation of the Hereafter. Verily, Allah is Able to do all things." (The glorious Qur’an; AlAnkabut, 20)

The most valuable thing possessed by a Muslim is his Iman. The prophet of Islam Muhammad S.A.S. said, "If Allah wants to do good to a person, He makes him comprehend the religion". The basic knowledge of deen is must to safeguard the priceless asset of Iman.

In this world, there are a lot of people born in some Muslim family but they are deprived of basic knowledge of Deen and Duniya. Life and future of children deprived of basic knowledge is almost uncertain and their Imans are mostly at stake. Illiteracy generally takes these children to ignorance which cause them lead to adopt various kinds of irreligious innovations and non-islamic rituals. People in small villages live in a multi-religious atmosphere where they frequently observe lot of unlawful customs and practices. And gradually they start adopting those rituals of non-believers in their day to day life. This happens because of their shallow belief in Islam which couldn't have grown mature due to lack of basic education.

The most dire need in such critical circumstances is to establish maktabs (Islamic primary schools) for imparting the elementary education to the common people. Opening the institutions of primary education (makatib) at each such places is only way to protect the religious values of people, specifically in rural and remote villages.

The way the Muslims have been making efforts to safeguard knowledge of Deen, through the ages, proves it is indeed an inscription by Allah which also serves a very convincing evidence of the prophet Muhammad PBUH being the last Messenger of Him. History lays it bare that Allah has chosen some people in all the ages to convey the knowledge of Islam to those after him. Verily, the people chosen by Allah for safeguard of Islamic knowledge were the luckiest and most successful people in their age, irrespective of whatsoever people were speaking of them.

During a recent visit to Zambia, I came across a panorama when I was reminded of Allah's such wisdom in His land. My journey from India to Zambia was intended to visit some outstations (makatib) and to meet some of the very special friends: serving the knowledge of Islam in Zambia. I was accompanied by Maulana Ibrahim Sholapiluri (an expert Daee and a well-traveled person). His company made my journey more experiencing and beneficial.

We reached Lusaka on February 16th, 2020 and visited JamiaIslamia, Lusaka and DarulYatama, Makeeni; two institutions among the most trusted ones in Zambia. We met many renowned personalities and some administrators there. The present day education system, syllabus and way of teaching were our main topic of discussion with them.

On February 17, we started our journey from Lusaka to Mpulungu. Mpulungu is a city in Zambia and approx 1050 kilometers from Lusaka (the capital city of Zambia). Mpulungu is a town in the northern province of Zambia, situated on the southern bank of Lake Tanganyika (the world's longest freshwater lake). Many of the villages on the mountains alongside the lake have a significant number of Muslim populations. Even some Muslims dwell on the islands in-between the lake. All these villages belong to black people who are mostly tribal natives of these villages. They are mostly irrelevant of today's technological, educational and economical world. Though the journey to Mpulungu itself isn't easy, but reaching to these tribal villages (mostly on mountain tops) through difficult paths is a real challenge.

Some about 20 years ago, a fishing company was established in Mpulungu. The director of the company; Uncle ShahidMutala came to Mpulungu with the establishment of his company and later became a permanent residence of this town. With the passage of time, his children grew younger causing him worried of their education that appeared to be a challenge for him. As there was no any madrasa for Islamic education in Mpulungu, he decided to hire a personal mentor to teach his children the basics of Islam and started a small madrasa inside his own house. As soon as people around got aware of it, they started sending their children to uncle Shahid's house. Soon the number of children coming to madrasa got multiplied and a significant number of pupils started coming to this madrasa-like house to acquire the knowledge of Deen. And thus blessings of Allah turned towards these people and resulted in fetching some thoughtful, generous person's attention towards it.

In the beginning, those unselfish people established a school with a separate department of Islamic knowledge. Afterwards, they took to care for the believes of people residing in rural areas and started establishing maktabs. Most of these maktabs are situated in the mountainous tribal villages. The paths to those villages are full of various difficulties. Some villages could only be reached through seaway, using small boats. Number of these maktabs had crossed seventy, until 8 months ago. Out of these 70 plus maktabs, just two/three have electric power. Language is one of the biggest challenges when it comes to speak of skilled staff. Local people are almost unaware of teaching methodologies, while outsiders couldn't play any significant role cause to language-barrier in-between. Most of the present teachers at these maktabs are local youngsters, who had done Muallim Course. 'Muallim Course' is a three year diploma which had been specifically designed to train youngsters for teaching basic religious education in maktabs. During this 3 year diploma, students are taught basics of Deen, _masail_ , _aqaid_, Quran teaching method, _Imamat_ etc.

Number of pupils across the maktabs differs according to Muslim population of the village. When any center for education is started in any village and though thenumber of Muslims in that place is not high, people usually send their children to that center irrespective of religious barriers. English is generally taught in the schools here. School-going children have knowledge of English language but the ones having no access to schools, don't know English, rather they can speak only Bemba (their mother tongue). For our easiness' sake, approx all the teachers know English language and can speak too.

The educational standard in these maktabs has always been a challenging task. Cause to unavailability of any proper teaching method and well-designed syllabus, never did those maktabs reach to any satisfactory standard. So getting no suffice outcomes and having no results of years-long work, trustees had decided to temporarily terminate all the maktabs, round about 8 months ago. Later they themselves thought of restarting them, with some profitable syllabus and reliable methodology of teaching. Many of the friends residing in Zambia were always been a significant part in all such efforts. So we all discussed the issue for months and contacted field experts for their suggestions. The same thing became reason behind my visit to Mpulungu, Zambia.

Having reached Mpulungu, all related things were studied deeply once again. After taking all the factors in account, 36 places amongst the previous ones were selected to restart maktabs with reappointment of previous muallims, whereas 16 new teachers were appointed for more 16 places. Muallims who were already working at maktabs couldn't be called upon for the workshop we had on 'Methodology of Teaching', because things weren't clear prior to our visit. 16 freshly appointed teachers were present, with whom we sat together to discuss teaching methods. In a three day workshop on Methodology of Teaching, muallims were shown method to teach Qaidah from very beginning. With consent from muallims,we decided a roadmap for first 6 months of upcoming academic year, where a syllabus of things to be learnt by heart has been decided and assigned to them. We have also started work to generate detailed data of every maktab, which is supposed to be tabled within two months. Once we have all the required data aboutmakatib in our hands, the way forward would be decided according to the requirements and necessities, InshaAllah.

For now, the center for makatib related activities is JamiaIrfania, which is situated in Mpulungu. Faculties at JamiaIrfania include Nazera, Alimiyat classes and Muallim course. It was a pleasure to meet JamiaIrfania's teaching staff but we couldn't discuss their teaching method and syllabus in detail. At least, mallim course does require a thorough study of its syllabus, to get it utilized at its best.

Getting free from the makatib activities, we visited Moon Rays School as well. Moon Rays school is a private school run by a muslim body. It has a separate department of Islamic knowledge. Students acquire knowledge of Islam once the school is over. We could only visit the girl section of the school due to lack of time. Alhamdulillah, students were able to recite glorious Quran nicely. They were also good at basics of Islamic knowledge. We pray to Allah to make this school a dynamiccenter for knowledge and light and bless the trustees, teachers and all the well-wishers! It was experiencing quality time we spent in Mpulungu and unforgettable days that got fitted to our pleasant memory. May Allah reward all the friends in Mpulungu for their great hospitality and precious company!

On 24th of February, we were on our journey back to Lusaka. Once having reached Lusaka, we were to visit Petauke and Chipata to meet many friends serving Islam there. But due to some unexpected breakdowns midway, we changed our program and decided to directly visit the friends in Petauke. It took us two days to reach Petauke. We couldn't manage to go uptoChipata, yet the friends living there came to Petauke itself and we had an enjoyable quality time together. There is a school in Petauke run by a muslim body wherein our friends work. A Hifz class is also operated in this school.It runs many makatib too. Lack of time didn't allow us to visit more than two maktabs. Teachers and students were busy in their jobs of teaching and learning respectively at both maktabs. Though the path to these maktabs isn't smooth, but comparing to Mpulungu-side maktabs, these are easy to reach to. Both the two maktabs had a satisfying education standard. Still the infra and well-set system demands much more improvement in education standard. We are very thankful to all the friends for their priceless love and wonderful care more than what we deserved for.

We returned Lusaka on February 26. On 27th of February after Asar, some of the trustees gathered at Rehanbhai's house. The meeting was related to Makatib visit. Alhamdulillah, it was very fruitful get together, as we discussed lot of important issues. It caused us increase in our intentions and strengthen our will-power as it energized the spirit inside us.

May Allah reward this collective effort with His acceptance; making it beneficial for all in both the worlds! May Allah bestow his favour upon all and help us all to get the makatib work to exemplary criteria! Aameen!

Mohammad Akram Qasmi, Surat (Gujarat) INDIA

04 March 2020



افریقی ملک زامبیا میں چند دن


افریقی ملک زامبیا میں چند دن

از: (مولانا) محمد اکرم قاسمی صاحب
ڈائریکٹر: مکاتب دار المعارف، اٹارسی،  ضلع: ہوشنگ آباد، ایم پی

بسم الله الرحمن الرحیم
الحمد لله ربّ العلمین، والصَّلاةُ والسلام علی سیّدنا و حبیبنا محمد بن عبد الله الامین، وعلی آله وصحبه اجمعین، أمَّا بعد:
ایک مسلمان کے لیے سب سے قیمتی چیز اس کا ایمان ہے۔ اس دنیا میں اپنے ایمان کی حفاظت کرنا اور ایمان کی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہونا ہمارے لیے سب سے اہم ہے۔ ایمان کے اس قیمتی سرمائے کی حفاظت کے لیے ہمارے پاس "علم دین" کا ہونا بہت اہم اور ضروری ہے۔ دین کی بنیادی تعلیم ہی مسلمانوں کی نسلوں میں ایمان کے بقا کا بہترین ذریعہ ہے۔
جس طرح سے مسلمانوں نے ہر دور میں علوم دینیہ کی ترویج و اشاعت کا اہتمام کیا ہے وہ یقینا من جانب اللہ ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے کی واضح دلیل ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اللہ رب العزت نے دین اسلام کی حفاظت کے لیے ہر دور میں کچھ ایسے افراد کو منتخب کیا جنہوں نے نبی خاتم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوے آخری دین کو اپنے بعد آنے والے لوگوں تک پہونچانے کا فریضہ انجام دیا۔ اللہ نے جن لوگوں کو دین اسلام کی حفاظت کے لیے منتخب کیا، بیشک وہ حضرات اپنے وقت کے سب سے خوش قسمت اور کامیاب ترین لوگ تھے، چاہے دنیا انہیں جو کچھ کہتی رہی ہو۔
اسی سلسلے کا ایک نظارہ گذشتہ دنوں زامبیا (افریقہ) کے سفر پر دیکھنے کو ملا۔ ہندوستان سے زامبیا کا یہ سفر وہاں کے کچھ مکاتب دیکھنے اور اس پرائے ملک میں بڑی قربانیوں کے ساتھ علم دین کی خدمات میں مشغول کچھ احباب سے ملاقات کے مقصد سے ہوا تھا۔ حضرت مولانا ابراہیم صاحب شولاپوری جیسے تجربہ کار داعی اور جہاں دیدہ ساتھی کی رفاقت نے اس سفر کی کامیابی کو دوبالا کر دیا تھا۔
۱٦، فروری ۲۰۲۰ء زامبیا کی راجدھانی 'لوساکا' پہونچنا ہوا، اور اسی روز مفتی عزیز الرحمان صاحب(استاد جامعہ اسلامیہ، لوساکا) کی رہبری میں وہاں کے مرکزی ادارہ 'جامعہ اسلامیہ، لوساکا اور دارالیتامی مکینی جانا ہوا۔ اہل علم اور ذمہ داران سے ملاقاتیں ہوئیں اور ملک کے موجودہ تعلیمی حالات پر تبادلۂ خیال ہوا نیز وہاں کے طریقۂ تعلیم اور نصاب پر بھی کچھ گفت و شنید ہوئی۔
اگلے دن یعنی ۱۷ فروری کو لوساکا سے پولونگو کے سفر پر نکلنا ہوا۔ پولونگو ایک شہر ہے جو زامبیا کی راجدھانی لوساکا سے ۱۰۵۰ کلومیٹر کے فاصلے پر آباد ہے۔ یہ شہر دنیا کے میٹھے پانی کے سب سے لمبے تالاب 'لیک ٹنگانکا' کے کنارے واقع ہے۔ اس تالاب کے کناروں پر آباد گاؤں، دیہاتوں میں اور کچھ جزیروں میں مسلم آبادیاں موجود ہیں۔ یہ سب یہاں کے پرانے قبیلائی سیاہ فام لوگوں کی بستیاں ہیں، جو دنیا کے موجودہ تعلیمی، تکنیکی اور اقتصادی نظام سے تقریبا پوری طرح کٹی ہوی ہیں۔ یوں تو پولونگو تک ہی پہونچنا کافی دشوار گذار ہے، مگر ان قبیلائی دیہاتوں تک پہونچانا اور بھی مشکل ہے۔
آج سے کچھ سال پہلے، مچھلیوں کے کاروبار کی ایک کمپنی یہاں آئی، جسکے مالک جناب 'شاہد بھائی مُتالا' بھی یہاں آئے اور اس جگہ آباد ہو گئے۔ جب انکے بچے بڑے ہوے تو انہیں اپنے بچوں کی تعلیم کی فکر ہوئی، اور اس طرح دو/چار بچوں پر مشتمل ایک چھوٹا سا مدرسہ انہوں نے اپنے یہاں شروع کیا۔ جب لوگوں میں اس بات کی تشہیر ہوئی تو انہوں نے بھی اپنے بچوں کو بھیجنا شروع کر دیا اور یوں ایک بڑی تعداد اس گھرنما مدرسہ میں علوم نبویہ کو حاصل کرنے والوں کی جمع ہونے لگی۔ لوگوں میں جہالت اور بے دینی کے مناظر دیکھ کر یوں تو ہر مؤمن کا دل دکھتا ہے، مگر جہالت کے سمندر جیسے علاقے میں لوگوں میں علم دین کا شوق ہونا کرشمۂ قدرت ہی کہا جا سکتا ہے۔ بہرحال اللہ تبارک و تعالی کو یہاں کے لوگوں کی پراگندہ حالی پر رحم آیا جسکے نتیجہ میں کچھ اہل خیر حضرات کی توجہ اس طرف مبذول ہوئی۔ 
ان اہل خیر حضرات نے یہاں ایک اسکول اور مدرسہ قائم کیا۔ پھر دیہاتوں میں بسنے والے مسلمانوں کے ایمان و عقائد کی فکر کرتے ہوے، وہاں مکاتب کا نظام شروع کیا۔ یہ مکاتب جنگلاتی، پہاڑی علاقوں میں واقع ہیں اور راستے انتہائی دشوار گذار ہیں۔ بعض جگہوں پر صرف کشتی ہی سے جانا ممکن ہے۔ ان مکاتب کی تعداد آج سے چند ماہ پہلے تک ۷۰ سے متجاوز تھی۔ ان ۷۰ سے زائد جگہوں میں سے بجلی (لائٹ) صرف دو یا تین جگہوں پر ہی ہے۔ ان جگہوں پر کام کرنے میں دیگر بہت سی دشواریوں کے ساتھ ایک بڑی دشواری زبان ہے۔ مقامی لوگ علم سے ناآشنا ہیں اور باہر سے آنے والے یہاں کی زبان نہیں جانتے۔ فی الحال ان مکاتب میں اساتذہ وہ مقامی نوجوان ہیں جو اسکول کے بعد 'معلم کورس' کیے ہوے ہیں۔ 'معلم کورس' یہاں پر بطور خاص مکاتب میں اساتذہ کی فراہمی کے لیے چلایا جانے والا ایک تین سالہ کورس ہوتا ہے، جس میں بنیادی دینی معلومات، قرآن پڑھانے کا طریقہ، امامت کا طریقہ و غیرہ جیسی بنیادی چیزیں سکھائی جاتی ہیں۔
ان مکاتب میں کہیں کثیر تعداد میں بچّے ہیں تو کہیں کم۔ اگر کسی جگہ مسلم بچّوں کی تعداد کم بھی ہو اور کوئی وہاں بچّوں کو پڑھانے بیٹھ جائے، تو غیر مسلم بھی اپنے بچّوں کو حصول علم کے لیے بھیجنا شروع کر دیتے ہیں۔ جن جگہوں پر اسکول ہیں، وہاں طلبہ انگریزی جانتے ہیں اور جہاں کوئی اسکول نہیں ہے، وہاں لوگ انگریزی نہیں جانتے اور بیمبا (یہاں کی مقامی زبان) ہی بول سکتے ہیں۔ اساتذہ انگریزی سمجھتے اور بول لیتے ہیں۔
بہرحال، مکاتب کا جو سلسلہ یہاں جاری تھا، ان میں کوئی ترتیب نا ہونے کی وجہ سے تعلیم کبھی کسی معیار کو نہیں پہونچ سکی۔ ممکن ہے دیگر کچھ اور وجوہات بھی رہی ہوں جنکی بناء پر کوئی خاطر خواہ نتیجہ نا مل سکا ہو۔ لہذا آج سے تقریبا ۸ مہینے قبل، ٹرسٹی حضرات نے کوئی نتیجہ ناملنے کی وجہ سے اس سلسلے کو موقوف کر دیا تھا۔ بعد میں خود ٹرسٹی حضرات اور زامبیا میں پڑھانے والے کچھ ساتھیوں نے اس نظام کو دوبارہ شروع کرنے کی فکریں کیں اور کسی نتیجہ خیز ترتیب و نظام کے ساتھ دوبارہ کام شروع کرنے کی فکریں ہوئیں۔ پچھلے کچھ مہینوں سے ساتھیوں میں مشورے ہوتے رہے اور اسی نسبت پر میرا بھی یہاں آنا ہوا۔
یہاں پہونچنے کے بعد ساری چیزوں پر غور کیا گیا اور پہلے سے چلنے والے مکاتب میں سے ۳٦ اور نئے ۱٦ مکاتب شروع کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ چونکہ پرانے مکاتب سے متعلق پہلے سے کوئی بات طے نہیں تھی، اس لیے وہاں کے اساتذہ کو جمع نہیں کیا جا سکا تھا۔ نئے اساتذہ کے ساتھ طریقے تعلیم پر ایک سہ روزہ تدریبی کیمپ رکھا گیا، جس میں انہیں ابتدائی بچوں کو قاعدہ پڑھانے کا انداز بتایا گیا۔ آئندہ آنے والے چھے مہینوں کے لیے قاعدہ اور 'زبانی دعاؤں' کا ایک نصاب بنا کر بھی دیا گیا۔ آنے والے دو ماہ میں سبھی مکاتب کی تفصیلی رپورٹ تیار کرنے کا کام بھی شروع کیا جا چکا ہے۔ ایک دفعہ مکمل رپورٹ تیار ہونے کے بعد آگے کی ضروریات کے لحاظ سے کام کیا جائےگا، ان شاء اللہ۔
مکاتب کی ان ساری سرگرمیوں کا مرکز 'جامعہ عرفانیہ' ہے۔ جامعہ عرفانیہ پولونگو ہی میں واقع ایک ادارہ ہے، اس ادارے میں ناظرہ و ابتدائی عربی درجات کے ساتھ معلم کورس بھی چلایا جاتا ہے۔ جامعہ عرفانیہ کے اساتذہ سے بھی ملاقاتیں ہوئیں مگر قلت وقت کی بناء پر معلم کورس کے نظام و نصاب کو اچھے سے دیکھنے سمجھنے کا موقع نہیں مل سکا۔
مکاتب کے امور سے فراغت کے بعد 'مون ریژ اسکول' بھی جانا ہوا۔ 'مون ریژ اسکول' ایک پرائویٹ اسکول ہے، جہاں طلباء و طالبات کو اسلامیات بھی پڑھائی جاتی ہے۔ استاذ محترم مولانا خورشید عالم داؤد قاسمی صاحب اس اسکول میں اسلامیات کے ہیڈ (ذمہ دار) ہیں؛ جبکہ مفتی نعمان صاحب انتظامی امور دیکھتے ہیں اور ہمارے دوست مفتی آصف صاحب گرلژ سیکشن (لڑکیوں) میں اسلامیات کے اہم استاذ ہیں۔ مفتی صاحب کے ساتھ گرلژ سیکشن کی درسگاہوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ الحمد للہ، بچّیاں بڑا عمدہ قرآن پاک پڑھنے کے ساتھ ضروری مسائل دین سے بھی واقف تھیں۔ اللہ اس اسکول کو مزید ترقیات سے نوازے اور سارے معاونین و ٹرسٹی حضرات کے حق میں اسے ذخیرۂ آخرت بنائے۔
بالآخر ۲٤ فروری کو پولونگو سے واپسی کا سفر شروع ہوا۔ راستے میں کچھ غیر متوقع پریشانیوں کی وجہ سے واپسی کے سفر میں دو روز لگ گئے۔ پولونگو سے ہم لوگ سیدھے پیٹاؤکے کے لیے روانہ ہوے۔ پیٹاؤکے میں مفتی عبد القوی صاحب قاسمی اور مولانا ذکی صاحب قاسمی ہیں اور یہاں یہ حضرات ایک اسکول کے زیر انتظام خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس اسکول کے زیر نگرانی بھی کئی مکاتب چل رہے ہیں۔ ان مکاتب میں سے دو جگہوں پر جانا ہوا۔ الحمد للہ، یہ مکاتب قدرے غنیمت ہیں۔
پیٹاؤکے سے کچھ آگے دو اور حضرات: مولانا منظر صاحب قاسمی اور مولانا نسیم صاحب قاسمی رہتے ہیں۔ پہلے ہمارا ارادہ تھا کہ ان حضرات سے ملاقات کے لیے ان کے گھر پہونچا جائے۔ مگر راستے میں کچھ ناخوشگوار حالات کی وجہ سے ہمیں وقت زیادہ لگ گیا تھا۔ اس لیے ہم لوگ ان احباب سے ملاقات کے لیے نہیں پہونچ سکتے تھے۔ جب یہ بات ان احباب کو پہونچی تو وہ حضرات پیٹاؤکے تشریف لائے، فجزاھم اللہ خیرا۔
پیٹاؤکے سے ۲٦ فروری کو ہم لوساکا چلے آئے۔ لوساکا میں ۲۷ فروری کو کچھ ٹرسٹی حضرات ریحان بھائی کے گھر پر جمع ہوے اور مکاتب کے تعلق سے کئی اہم مشورے ہوے۔ الحمد للہ، کافی کام کی باتیں ہوئیں اور سب کو ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے سے کام کرنے کا حوصلہ ملا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ رب العالمین تمام احباب کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان مکاتب کو اچھے مضبوط ترتیب و نظام تک پہونچا دے ۔ آمین!

محمد اکرم قاسمی، سورت، گجرات، انڈیا
٤ مارچ ۲۰۲۰