Monday, August 21, 2023

شہنشاہِ خطابت حضرت مولانا محمد مطلوب الرحمن مظاہریؒ کی وفات

 

شہنشاہِ خطابت حضرت مولانا محمد مطلوب الرحمن مظاہریؒ کی وفات

 

خورشید عالم داؤد قاسمی

مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ

 

چند دنوں پہلے کی بات ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ حضرت الاستاذ مولانا مطلوب الرحمن صاحب مظاہری مکیاوی –رحمۃ اللہ علیہ– کی طبیعت خراب ہےاور ان کو علاج کے لیے، بہار کی راجدھانی:  پٹنہ لے جایا گیا ہے۔ حضرت مولانا تقریبا 74  سال کے تھے۔ کبھی یہ سننے میں نہیں آیا کہ آپ کسی بیماری سے دوچار  ہیں۔ اللہ تعالی نے حضرت کو بہت اچھی صحت وتندرستی سے نوازا تھا۔ آپ بڑے ہی تندرست وتوانا لگتے تھے۔ گذشتہ چند مہینوں سے آپ بیمار تھے۔ مگر ان کی صحت کچھ متاثر نہیں لگ رہی تھی۔ ہفتہ دس دن پہلے تک آپ اپنے مخصوص انداز میں اور پوری توانائی کے ساتھ، اسٹیج کی رونق بنا کرتے تھے۔ آپ کی وفات سے صرف گیارہ ایام قبل، "شمسی"، نیپال میں، ایک پروگرام تھا۔ آپ اس پروگرا م میں شریک رہے اور تقریبا دو گھنٹے تک تقریر کی۔ مگر جو اللہ پاک کو منظور ہوتا ہے، وہی ہوتا ہے۔ چند دنوں قبل، آپ کی طبیعت کچھ زیادہ خراب ہوئی۔ آپ کو پٹنہ کے "آئی جی ایم ایس اسپتال" میں داخل کرایا گیا۔ بروز: جمعرات، 3/ اگست 2023 کی شام کو، تقریبا ساڑھے تین بجے یہ خبر آئی کہ حضرت مولانا محمد مطلوب الرحمن صاحبؒ  کا وصال ہوگیا اور آپ اپنے ربّ کریم سے جا ملے۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون!

 

حضرت مولانا محمد مطلوب الرحمن صاحب ؒ کا گاؤں: "مکیہ"، ہمارے گاؤں کے بالکل قریب ہے۔ ان دونوں گاؤں کے درمیان حد فاصل ایک دریا ہے۔ دریا کے جنوبی طرف حضرت کا گاؤں ہے اورشمالی جانب ہمارا گاؤں واقع ہے۔ہم نے اپنے بچپنے سےحضرت کی تقریر سنی۔ مولانا ہمارے علاقے اور خطے میں، ایک مشہور اور قابل احترام عالم اور خطیب کی حیثیث سے جانے جاتے تھے۔ یہ مشکل تھا کہ ہمارے خطے میں تقریر و خطابت کے حوالے سے کوئی تذکرہ ہو اور ان کا نام نہ لیا جائے۔ ایک وقت تھا کہ کسی دور دراز کے گاؤں سے جلسے میں شرکت کی دعوت آتی، آپ بغیر کسی تعب وتھکان کا اظہار کیے، سائیکل سےہی پہنچ جاتے۔جب  کسی جلسہ میں آپ کی آمد کی اطلاع ہوتی؛ تو لوگ آپ کا خطاب سننے کے لیے جوق در جوق وہاں پہنچتے۔ جب آپ خطاب فرماتے؛ تو سامعین پورے انہماک کے ساتھ، آپ کی تقریر سنتےتھے۔  حقیقت یہ ہے کہ آپ ہمارے علاقہ ہی نہیں؛ بلکہ بہار کے مشہور و معروف خطیب تھے۔ اِن دِنوں نہ صرف بہار؛ بلکہ ہندوستان کےمتعدد صوبوں سے جلسے میں شرکت کی آپ کو دعوت آتی اور آپ وہاں تشریف لے جاتے۔ آپ کسی پروگرام میں ہوتے؛ تو آپ کی موجودگی اس  پروگرام کے کامیابی کی ضمانت سمجھاجاتا۔ اللہ پاک نے آپ کی زبان میں بڑی چاشنی اور حلاوت رکھی تھی۔ آپ کی آواز بڑی بلند، گفتگو بہت صاف ستھری ہوتی تھی۔  آپ ایک قادر الکلام اور خوش گفتار مقرر تھے۔ آپ ایک عوامی مقرر تھے؛ اس لیے دوران تقریر عوامی زبان میں ہی ، عوام کی دینی واصلاحی ضرورتوں کی بات کہتے۔ آپ بلا تکلف علاقائی زبان استعمال کرتے تھے۔ جب ناظمِ جلسہ مائک آپ کے حوالے کرتا؛ تو سامعین میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی، جو بیدار ہوتا وہ سونے والے کو جگانے لگتا کہ بیدار ہوجاؤ،  اب مولانا مطلوب صاحبؒ کا خطاب شروع ہورہاہے۔ آپ منٹوں میں بڑے بڑے مجمع کو آسانی سے، اپنے انوکھے انداز سے اپنا گرویدہ  اور فریفتہ کرلیتے تھے۔ آپ مجمع پر چھاجاتے تھے۔ اللہ تعالی نے آپ کو ایسی طبیعت اور مزاج عطا فرمایا تھا کہ آپ آسانی سے کسی بھی مجلس میں گھل مل جاتے۔ آپ لوگوں سے آسانی سے مانوس ہوجاتے اور انھیں مانوس کرلیتے تھے۔پھر اپنی طبعی ظرافت اور حاضر جوابی سے مجلس میں چھاجاتے  تھے۔

 

حضرت مولانا اپنی تقریر کا آغاز قرآنی آیت اور رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم– کی احادیث مبارکہ سے کرتےتھے۔ زبان و بیان کو عوام کی فہم کے مطابق رکھتے اور خوبصورتی سے قرآنی آیت اور حدیث کی وضاحت کرتے۔ آپ کسی بھی پروگرام کو خطاب کر رہےہوں، آپ کے خطاب میں ظرافت کا رنگ بھرپور پایا جاتا۔ آپ اپنی تقریر میں واقعات وغیرہ کا بھی  ذکر کرتے۔ مگر وہ واقعات جیسے تیسے صرف سامعین کو ہنسانے کے لیے نہیں ہوتے؛ بلکہ حدیثوں کی روشنی میں، سبق آموز واقعے ہوتے۔ دوران تقریر، موقع و محل کی رعایت کرتے ہوئے، آپ اشعار اور نعت النبی بھی پڑھتے تھے۔ اللہ پاک نے آپ کو بڑی اچھی اور عمدہ آواز سے نوازا تھا۔ آپ کا حافظہ بھی قوی تھا۔ آپ کو بہت سی نعتیں اور نظمیں زبانی یاد تھیں۔ آپ تقریر کے دوران جس طرح ہر موضوع پر حدیثیں پڑھتے تھے، اس سے آسانی سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ نے بہت سی حدیثیں زبانی یاد کر رکھی تھی۔ ہم نے آپ کے ایک شاگرد سے سنا کہ آپ حضرت مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ (1903 - 1975) کی کتاب: "مشکاۃ الآثار" پوری زبانی یاد کیے ہوئے تھے۔

 

ہم جس خطے اور علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، وہاں مختلف مسالک کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ مگر ہم نے کسی جلسے اور پروگرام میں، مولانامحترم کو  کسی مسلک کے لوگوں کے خلاف بولتے نہیں سنا۔ آپ یہ نہیں چاہتے تھے کہ علما کسی اسٹیج پر کھڑے ہوکر، عوام کے سامنے کسی دوسرے مسلک کے لوگوں کی پگڑیاں اچھالیں۔ آپ کے خطاب کا موضوع عام طور پر سماج میں پائے جانےوالے خرافات و بدعات اور رسم و رواج ہوتے تھے۔ اس حوالے سے آپ خوب بولتے تھے۔خواتین میں جو دین کے حوالے سے کمیاں پائی جاتی ہیں، آپ اس پر بھی گرفت کرتے اوراپنے خطاب میں جگہ دیتے۔ اس وقت آپ کا خطاب، خواتین کے انداز تکلم میں ہی ہوتا۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا کہ گاؤں اور دیہات کی بہت سی غیر تعلیم یافتہ خواتین تک بھی قرآن وحدیث  کا پیغام آسانی سے پہنچ جاتا۔

 

حضرت مولانا کے والد جناب صادق حسین صاحبؒ (وفات: 1991) ایک کاشتکار تھے۔ اللہ تعالی نے ان کے دل میں علم و دین کی محبت ڈال رکھی تھی؛ چناں چہ انھوں نے اپنے فرزندوں کو دینی تعلیم کی طرف متوجہ کیا۔ اللہ پاک نے ان کے کسی فرزند کو حفظ قرآن کریم کی نعمت سے نوازا؛ تو کسی کو عالم، فاضل اور مشہور و معروف خطیب بنایا۔ انھیں فرزندوں میں سے ایک حضرت مولانا محمد مطلوب الرحمن صاحبؒ تھے۔ مولانا کی پیدائش 5/ مارچ 1950 کو، مکیہ،ضلع: مدھوبنی (بہار)میں ہوئی۔ مولانا کا رنگ صاف، قد متوسط، ناک کھڑی، سر کے بال گھنیرے، زلف جو گردن تک پہنچتے تھے (جسے عربی میں لِمَّة کہا جاتا ہے)، پیشانی کشادہ اور چوڑی، گھنیری لمبی داڑھی، آنکھیں فراخ اور اس پر بڑے فریم والا چشمہ، سر پر سفید دوپلی غیر معمولی کھڑی ٹوپی، جو بعد میں گول ٹوپی سے بدل گئی، نصف ساق تک لمبا کرتا، موسم سرما میں کرتے کے اوپر خوبصورت سا لمبا کورٹ جو ٹخنے سے قدرے اوپر اورکندھے پر عربی رومال۔ یہ تھا آپ کا سراپا۔

 

حضرت مولانا ابتدائی تعلیم کے حصول کے لیے، سن 1964ء میں، شمالی بہار کی مشہور دینی درس گاہ: جامعہ اشرف العلوم، کنہواں، سیتامڑھی میں داخل ہوئے۔ اشرف العلوم میں، آپ نے  مخدوم بہار حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ، حضرت مولانا محمد طیب خان صاحب کماویؒ، حضرت مولانا نوازش کریم صاحبؒ، حضرت مولانا صابر حسین صاحب قاسمیؒ، فقیہ ملت حضرت مولانا زبیر احمد صاحب قاسمیؒ وغیرہم جیسے عبقری علما سے فارسی کی ابتدائی کتابوں سے عربی چہارم تک کی کتابیں پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ پھر آپ نے حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد صاحب باندویؒ (1923 - 1997) کی زیر نظامت چل رہے ادارہ: جامعہ عربیہ، ہتھورا، باندہ، یوپی میں داخلہ لیا۔ مختصر المعانی اور جلالین وغیرہ کی تعلیم آپ نے اس ادارہ میں حاصل کی۔

 

سن 1971 میں، حضرت مولانا نے ہندوستان کی عظیم دینی درس گاہ: جامعہ مظاہر علوم، سہارن پور، یوپی کا رخ کیا۔ آپ مظاہر علوم میں دو سال زیر تعلیم رہے۔ آپ نے مظاہر میں، حدیث کی کتابیں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب مہاجر مدنیؒ (1898 - 1982)، حضرت مولانا مفتی مظفر حسین صاحبؒ (1929 - 2003)، حضرت مولانا محمد یونس صاحبؒ (1937 - 2017)، حضرت مولانا عاقل صاحب –حفظہ اللہ– وغیرہم جیسے علوم و فنون کے ماہر اساتذہ سے پڑھی اور تلمذ کا شرف حاصل کیا۔ سن 1973 میں، آپ نے مظاہر سے درسیات کی تکمیل کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔

 

حضرت مولانا محمد مطلوب الرحمن صاحبؒ تزکیہ واحسان کی راہ طے کرنے کے لیے اپنے موقر استاذ، عارف باللہ حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد صاحب باندویؒ کا انتخاب کیا اور ان سے بیعت ہوئے۔ آپ حضرت باندوی سے بہت محبت کرتے تھے۔ حضرت باندوی بھی آپ کو پسند کرتے تھے۔ آپ نے حضرت باندوی کے تعلق سے فرمایا کہ ایک بار "الہ آباد" میں، وہ  آپ کی تقریر سن کر، بہت خوش ہوئےاور انھوں نے نوے سال عمر کی دعا دی۔ پھر مولانا نے کہا کہ وہ بزرگ تھے۔ ان کا قول کوئی "وحی" نہیں ہے۔ میری طبیعت خراب چل رہی آپ حضرات میری صحت کے لیے دعا کریں! ان کی وفات کے بعد، آپ نے محی السنۃ حضرت مولانا ابرار الحق صاحب حقی ہردوئی ؒ (1920 - 2005) سے رجوع فرمایا۔

 

حضرت مولانا محمد مطلوب صاحبؒ نے عملی زندگی کا آغاز"مدرسہ اسلامیہ"،  فتح پورکوٹ، یوپی سے کیا۔ یہ مدرسہ دار العلوم ندوۃ العلما، لکھنؤ کی شاخ تھی۔ اس مدرسے میں آپ مختصر القدوری وغیرہ کا درس دیتے تھے۔ علاقہ کا تبلیغی واصلاحی دورہ بھی کرتے تھے۔ آپ دینی واصلاحی پروگراموں میں تقریر کے لیے مدعو کیے جاتے تھے۔ شروع سے ہی عوام و خواص کے درمیان ایک مقبول خطیب کی حیثیت آپ کی شناخت بن گئی تھی۔ آپ کی تقریر بہت پسند کی جاتی تھی۔ اس مدرسے سے آپ چودہ سال تک منسلک رہے۔ پھر حضرت مولانا عبد الحنان صاحب بالاساتھویؒ (1934 - 2009)کی خواہش پر، ان کی زیر نگرانی چل رہے ادارہ: جامعہ اسلامیہ قاسمیہ، بالاساتھ، سیتامڑھی، بہار میں صدر المدرسین کی حیثیت سے وارد ہوئے۔ اس ادارہ میں تقریبا آٹھ سال  تک، آپ نے انتظامی وتدریسی خدمات انجام دی۔ اس دوران آپ نے ایک سال کے لیے "مشرق وسطی" کا بھی سفر کیا۔  جب خلیج جنگ شروع ہوئی اور امریکی قیادت میں، مختلف ممالک کے اتحاد نے 24/فروری 1991 کو "عراق" پر حملہ کیا، اس موقع سے آپ وطن واپس آگئے اور پھر دوبارہ جامعہ قاسمیہ سے وابستہ ہوگئے۔ جامعہ میں، ہدایہ ثانی، نور الانوار،شرح جامی، مرقات وغیرہ کا درس آپ سے متعلق رہا۔ آپ علاقے میں منعقد ہونے والے دینی واصلاحی پروگراموں میں، ایک خطیب کی حیثیت سے شرکت کرتے تھے۔ اس سے جہاں صوبہ بہار میں آپ کی شناخت ہوئی، وہیں عوام کے درمیان جامعہ کا تعارف بھی ہوا۔

 

سن 1994 میں، حضرت مولانا جامعہ سے مستعفی ہوگئے۔ پھر  آپ نے اپنے قصبہ: "مکیہ" میں قائم مدرسہ مصباح العلوم کی باک  ڈور اپنے ہاتھ میں لی۔ یہ مدرسہ سن 1989ء میں قائم ہوا۔ آپ اس مدرسہ کے قیام کے بعد، اس کے صدر کے عہدے پر فائز کیے گئے تھے۔ جب آپ مصباح العلوم میں آئے؛ تو عربی اول، عربی دوم، عربی سوم اور عربی چہارم کی جماعتوں کے کچھ طلبہ نےمصباح العلوم میں داخلہ لیا۔ ان جماعتوں کی مختصر القدوری، کافیہ ابن حاجب،اصول الشاشی، شرح الوقایہ، شرح جامی  وغیرہ جیسی اہم کتابیں آپ سے متعلق تھیں۔ سن 1994 سے تا دم واپسیں، آپ  مصباح العلوم کے ناظم رہے۔اللہ تعالی آپ کی خدمات کو قبول فرمائیں اور اپنے شایانِ شان بدلہ عطا فرمائیں!

 

حضرت مولانا کی شادی "حسن پور برہروا"، ضلع: سیتامڑھی کے جناب محمد صدیق صاحب کی صاحبزادی سے سن 1975 میں ہوئی۔ آپ نے اپنے پیچھے، اہلیہ محترمہ، تین صاحبزادیاں اور پانچ صاحبزادے چھوڑے ہیں۔ آپ کے صاحبزادگان میں محمد انور صاحب ممبئی میں مقیم ہیں اور کارو بار میں مشغول ہیں۔ حافظ محمد انظر صاحب مدرسہ مصباح العلوم، مکیہ میں مدرس ہیں۔ مولانا محمد سلمان سعودی عرب میں رہتےہیں۔ مولانا محمد عمران ندوی مدرسہ مصباح العلوم، مکیہ میں ہی درس وتدریس کے ساتھ ساتھ انتظامی امور بھی سنبھالتے ہیں۔ سب سے چھوٹے صاحبزادے حافظ محمد بلال ہیں۔آپ کے صاحبزادگان علما وحفاظ ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کی اولاد کو آپ کے لیے "ولد صالح "  کا مصداق بنائيں!

 

آپ کی نمازِ جنازہ میں، علاقے کے صاحب نسبت بزرگ، حضرت مولانا عبد المنان صاحب قاسمی –حفظہ اللہ– (ناظم: مدرسہ امدادیہ اشرفیہ، راجوپٹی، سیتامڑھی و خلیفہ حضرت مولانا ابرار الحق صاحب ہردوئیؒ)، حضرت مولانا اظہار الحق صاحب مظاہری –دامت برکاتہم– (ناظم: جامعہ اشرف العلوم، کنہواں، سیتامڑھی)، حضرت مولانا اشتیاق صاحب اعظمی،حضرت مولانا شبلی صاحب قاسمی (قائم مقام ناظم: امارت شرعیہ، بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ) وغیرہم جیسے علما ومشائخ  کی ایک بڑی جماعت،مدارس ومکاتب کے طلبہ، قرب و جوار کی بستیوں کے لوگ اور آپ کے محبین و متعلقین نے شرکت کی۔ تقریبا دس ہزار لوگ جنازے میں شریک تھے۔ ایک گاؤں میں اتنے لوگوں کا جنازے میں جمع ہونا، لوگوں کی آپ سے محبت اور قلبی لگاؤ کی دلیل ہے۔ جنازے کی نماز، 4/ اگست کو بعد نماز جمعہ، آپ کے صاحبزادے مولانا محمد عمران صاحب ندوی نے پڑھائی۔ پھر گاؤں کے قبرستان میں، شہنشاہِ خطابت کو سپرد خاک کیا گیا۔ اللہ پاک حضرتؒ کی بال بال مغفرت فرمائیں اور جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائیں! ●●●●

شہنشاہِ خطابت حضرت مولانا محمد مطلوب الرحمن مظاہریؒ کی وفات


 

شہنشاہِ خطابت حضرت مولانا محمد مطلوب الرحمن مظاہریؒ کی وفات


 

شہنشاہِ خطابت حضرت مولانا محمد مطلوب الرحمن مظاہریؒ کی وفات


 

شہنشاہِ خطابت حضرت مولانا محمد مطلوب الرحمن مظاہریؒ کی وفات


 

شہنشاہِ خطابت حضرت مولانا محمد مطلوب الرحمن مظاہریؒ کی وفات


 

تاریخ عالم کا ایک یادگار اور مخلصانہ واقعہ

 

تاریخ عالم کا ایک یادگاراور مخلصانہ واقعہ

 

خورشید عالم داؤد قاسمی

 

اللہ تعالی نے مسلمانوں کو ایک سال میں دو عیدیں منانے کا موقع دیا ہے۔ ان میں ایک عید الفطر ہے، جو ماہ رمضان کی تکمیل پر، ماہ شوال کی پہلی تاریخ کو منائی جاتی ہے۔ دوسری عید کو ہم عید الاضحی کہتے ہیں۔ یہ عید اللہ تعالی کے پیغمبر: حضرت ابراہیم –علیہ السلام– کا اپنے بیٹے حضرت اسماعیل –علیہ السلام– کو اللہ کی رضا کی خاطر، قربان کرنے کی یاد کے طور پر، اسلامی سال کے بارہویں مہینے: ذو الحجہ کی دس تاریخ کو منائی جاتی ہے۔ امت مسلمہ کے لیے ان دو عیدوں کے علاوہ کوئی تیسری عید نہیں ہے۔ اگر کوئی تیسری عید منائی جاتی ہے؛ تو وہ عید غیر اسلامی اور بدعت ہے۔

 

ہر شادی شدہ آدمی کی خواہش ہوتی ہے کہ اللہ پاک اسے اولاد کی عظیم نعمت سے نوازیں؛ تاکہ اس اولاد سے اس کی آنکھیں ٹھنڈی اور قلب مطمئن ہو۔ وہ اولاد اس کے بڑھاپے کا سہارا بنے اور برے وقت میں معاون و مددگار ثابت ہو۔ حضرت ابراہیم –علیہ السلام– کو جوانی میں بچے کی عظیم نعمت نہیں مل سکی۔ ان کی خواہش تھی کہ اللہ پاک انھیں بچے کی عظیم نعمت سے نوازیں۔ آپ –علیہ السلام– نے اللہ سبحانہ وتعالی سے بچہ کے لیے دست دعا دراز کی۔ انھوں نے دعا میں حسین وجمیل اور ذہین وچالاک بچہ نہیں مانگا؛  بل کہ انھوں نے اللہ سے ایک نیک و صالح، پارسا ودیانتدار اور متقی وپرہیزگاربچہ مانگا۔ اللہ پاک نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور آپ کو ایک متحمل مزاج، حلیم وبردبار اور صابر وشاکر بیٹے سے نوازنے کی خوش خبری دی۔ آپ بڑھاپے میں والد بن گئے۔ اس نومولود کا نام اسماعیل رکھا گیا۔

 

والدین نے اس بچے (حضرت اسماعیل –علیہ السلام–) کی پرورش کی۔ نومولود کی پرورش میں، انھیں  جو مشقتیں پیش آئيں، انھوں نے برداشت کی۔ پھر وہ بچہ اپنے بچپنے سے آگے نکل گیا۔ وہ اپنے والد بزرگوار کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا۔ ان کی عمر تیرہ سال کی ہوگئی۔ اب وہ لڑکا قوت بازو بن کر، باپ کا سہارا ہونے کے قابل ہوچکا ہے۔ اب اس حالت میں والد بزرگوار حضرت ابراہیم –علیہ السلام– نے اچانک خواب میں دیکھا کہ اللہ کا حکم ہے کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل کو، اللہ کی رضا کی خاطر قربان کردیں۔ یہ ایک مشکل امتحان کی گھڑی تھی۔ قربان کرنا ہو یا قربان ہونا ہو، اس کٹھن امتحان میں  پیغمبر کے علاوہ شاید ہی کوئی پاس ہو سکے۔ حضرت ابراہیم –علیہ السلام– نے وہ خواب اپنے لخت جگر اسماعیل –علیہ السلام–کے سامنے بیان کیا۔ بیان کرنے کا مقصد کیا تھا؟ اس کا مقصد یہ تھا کہ باپ اپنے جگر کے ٹکڑے کا امتحان لینا چاہتے تھے کہ وہ اس جاں فرسا امتحان میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔ ایک عظیم المرتبت نبی کا مطیع وفرمانبردار بیٹا، جسے مستقبل میں منصب نبوت پر فائز ہونا تھا۔ پھر وہ بیٹا کیسے اس حکمِ خداوندی کا انکار کرسکتا تھا۔ حضرت اسماعیل –علیہ السلام– کوئی قیل و قال، سوال و جواب اور ٹال مٹول کے بغیر؛ بل کہ سنجیدگی سے جواب دیا کہ آپ بلا تامل وہ کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا گيا ہے۔ جب قربانی کا وقت آئے گا، تو میں ادھر ادھر نہیں بھاگوں گا، راہ فرار نہیں اختیار کروں گا۔  اس حکم خداوندی کو انجام دینے میں، میں آپ کے ساتھ ہوں۔ آپ قربانی کے وقت مجھے روتا بلکتا نہیں پائیں گے؛ بل کہ بمشیت خداوندی آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائيں گے۔ یعنی اس بچہ نے خوش دلی کے ساتھ، اس قربانی کے لیے خود کو پیش کردیا۔ اس واقعے کو اللہ پاک نے قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمایا ہے:

 

﴿فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَى قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ (102) فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ (103) وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ (104) قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (105) إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ (106) وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ (107). (سورة الصافات: 102 – 107)

 

ترجمہ: "پھر جب وہ لڑکا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا؛ تو انھوں نے کہا: بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمھیں ذبح کر رہا ہوں، اب سوچ کر بتاؤ، تمھاری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے کہا: ابا جان! آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے۔ ان شاء اللہ، آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ چناں چہ (وہ عجیب منظر تھا) جب دونوں نے سر جھکا دیا، اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل گرایا۔ اور ہم نے انھیں آواز دی کہ اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچ کر دکھایا۔ یقینا ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک کھلا ہوا امتحان تھا۔ اور ہم نے ایک عظیم ذبیحہ فدیہ دے کر اس بچے کو بچا لیا۔"

 

ان آیات کریمہ کی تفسیر میں ہے: "یہ اگر چہ ایک خواب تھا، لیکن انبیائے کرام کا خواب بھی وحی ہوتا ہے، اس لیے حضرت اسماعیل –علیہ السلام– نے اسے اللہ تعالی کا حکم قرار دیا۔ باپ بیٹے دونوں نے تو اپنی طرف سے اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل میں یہی ٹھان لی تھی کہ باپ بیٹے کو ذبح کرے گا، اس لیے حضرت ابراہیم –علیہ السلام– نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا، تاکہ چھری پھیرتے وقت ان کی صورت دیکھ کر، ارادے میں کوئی تزلزل نہ آجائے۔ چوں کہ باپ بیٹے دونوں اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل میں، اپنے اختیار کا ہر کام کرچکے تھے، اس لیے امتحان پورا ہوگیا تھا۔ اب اللہ تعالی نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھایا کہ چھری حضرت اسماعیل –علیہ السلام– کے بجائے ایک مینڈھے پر چلی، جو اللہ تعالی نے اپنی قدرت سے وہاں بھیج دیا اور حضرت اسماعیل –علیہ السلام– زندہ سلامت رہے۔" (آسان ترجمۂ قرآن)

 

حضرت ابراہیم –علیہ السلام– نے نہ صرف بیٹے اسماعیل کو قربان کرنے والے کٹھن امتحان کو پاس کیا؛ بل کہ آپ کی پوری زندگی قربانیوں پر مشتمل ہے۔ حضرت ابراہیم –علیہ السلام– نے اللہ سبحانہ وتعالی کی رضا کی خاطر، اپنے وطن، اہل و عیال اور خویش و اقارب سب کو چھوڑ دیا۔ آپ کو آگ کے جلتے انگارے میں ڈالا گیا۔ آپ –علیہ السلام– دعوت و تبلیغ کے لیے اپنی اہلیہ محترمہ اور اپنے پیارے لڑکے کو مکہ مکرمہ میں چھوڑ کر، ایسے وقت میں دوسری جگہ کا قصد کیا، جس وقت مکہ مکرمہ میں زندگی گذارنے کے لیے دوسری سہولتیں تو دور، پینے کا پانی بھی آسانی سے میسر نہ تھا۔ اللہ پاک نے آپ کو مقبولیت کا وہ مقام عطا فرمایا کہ مسلم، یہودی اور عیسائی سب کے سب آپ کو اللہ کا عظیم پیغمبر شمار کرتے ہیں اور اس سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو "خلیل اللہ" کا لقب دے کر، اپنا دوست بنا لیا۔

 

ان عظیم باپ اور بیٹے (علیہما السلام) کی عظیم قربانی اللہ پاک کو بہت پسند آئی۔ اس کی یاد کے طور پر، قربانی امت محمدیہ کے ہر "صاحبِ نصاب" شخص کے لیے واجب قرار دی گئی۔ اس وقت سے یہ قربانی کی عظیم یاد گار اب تک منائی جاتی ہے اور رہتی دنیا تک منائی جاتی رہے گی، ان شاء اللہ۔ جو شخص صاحبِ نصاب ہے اور قربانی نہیں کرتا ہے؛ تو اس سے اس حوالے سے قیامت کے دن سوال کیا جائے گا۔

 

آج کے دورٍِ جدید میں، ہر چیز کو عقل کی کسوٹی پر تولنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کچھ لوگ خدائی احکام میں بھی عقل کے گھوڑے دوڑاتے ہیں اور اس کی عقلی دلیل تلاش کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اگر کسی خدائی احکام کے پیچھے، کوئی عقلی دلیل نہ ملے؛ تو کچھ لوگ اس حکمِ خداوندی پر عمل کرنا ترک کردیں گے۔ یہ طریقہ کار تقاضائے ایمانی کے خلاف ہے۔ اگر ایسا کیا جائے؛ تو اسے دین اور احکام خداوندی پر عمل کرنا شمار نہیں کیا جائے۔ اللہ کے احکام کی فرمانبرداری اور تسلیم واطاعت وہ ہے جسے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے کر دکھایا۔ پھر اللہ پاک کو ان باپ اور بیٹے کی یہ قربانی والی ادا اتنی پسند آئی کہ اسے رہتی دنیا تک کے لیے یاد گار بنا دیا اور آج دنیا میں لاکھوں لوگ ہر سال اس عظیم قربانی کو عملی طور پر یاد کرتے ہیں۔

 

شریعت محمدیہ میں، اللہ کی رضا کے حصول اور جناب نبی اکرم –صلی اللہ علیہ وسلم– کے طریقہ کار کی پیروی کے لیے، قربانی ہر صاحبِ نصاب شخص پر واجب کردی گئی ہے۔ نبی اکرم –صلی اللہ علیہ وسلم– اللہ تعالی کی رضا کے حصول کے لیے ہر سال قربانی کیا کرتے تھے۔ آپ –صلی اللہ علیہ وسلم– کی راہ ہدایت کی اتباع کرتے ہوئے اللہ کی رضا کی خاطر صحابۂ کرام –رضی اللہ عنہم– بھی ہر سال قربانی کیا کرتے تھے۔

 

اس قربانی کی حقیقت کو ایک حدیث شریف میں کس طرح بیان کیا گا ہے، اسے بھی ملاحظہ فرمائے۔ حضرت زید بن ارقم –رضی اللہ عنہ –نے فرمایا کہ رسول اللہ–صلی اللہ علیہ وسلم– کے اصحاب –رضی اللہ عنہم–  نے دریافت فرمایا : "يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ قَالَ: "سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ" قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: "بِكُلِّ شَعَرَةٍ، حَسَنَةٌ" قَالُوا: فَالصُّوفُ؟ يَا رَسُولَ اللهِ! قَالَ: "بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ، حَسَنَةٌ." (ابن ماجہ، حدیث نمبر: 3127)

 

ترجمہ: "اے اللہ  کے  رسول–صلی اللہ علیہ وسلم–! یہ قربانی کیا ہے ؟  آپ –صلی اللہ علیہ وسلم–نے فرمایا: "یہ تمھارے باپ ابراہیم  (علیہ السلام) کی سنت ہے۔" انھوں نے پوچھا: ہمارے لیے اس میں کیا (ثواب)ہے ؟ آپ –صلی اللہ علیہ وسلم– نے جواب مرحمت فرمایا: "ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے ۔" (پھر) انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول –صلی اللہ علیہ وسلم– اون (والے بال) کا (بدلہ ) کیا ہے؟  آپ–صلی اللہ علیہ وسلم–نے فرمایا: "ہر اون والے بال کے عوض بھی ایک نیکی ہے۔"

 

اسلام میں قربانی کی بڑی حیثیت اور اہمیت ہے۔ مسلمانوں کو جانور کی قربانی کرتے رہنا چاہیے تاکہ جب ضرورت پڑے؛ تو اسلام کی خاطر کسی بھی پیاری چیزکو  قربان کرسکیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی نظام عالم بغیر قربانی کے عروج نہیں کرتا ہے۔ وہ قوم جس میں قربانی دینے کی عادت ہو، وہ آسانی سے کام یابی کی چوٹی پر پہنچ سکتی ہے۔ مگر یہ قربانی اخلاص کے ساتھ کی جانی چاہیے۔ ریا و نمود سے بالکل اجتناب کیا جانا چاہیے۔ مگر آج المیہ یہ ہے کہ ہماری قربانی میں اخلاص اور روحانیت کی کمی ہوتی ہے؛ کیوں کہ عید الاضحی کے موقع سے جانور قربان کرتے وقت، لوگ  شہرت وناموری کا اظہار کرتے ہیں۔ کچھ جانور خریدتے وقت آپس میں تقابل کرتے ہیں۔ اگر کسی نے پندرہ ہزار کا جانور خریدا، تو اس کا پڑوسی بیس ہزار کا جانور خریدنے کی کوشش کرتا ہے؛ تاکہ وہ لوگوں کو محسوس کراسکے کہ وہ اس شہر یا علاقے کا ایک ممتاز اور نمایاں شخص ہے۔ پھر لوگ اس کی تعریف کریں کہ اس نے اتنا قیمتی جانور قربانی میں ذبح کیا ہے! ہم قربانی کے دنوں میں جانور ضرور قربان کرتے ہیں؛ مگر ہم اپنی نیت کو خالص رکھنے میں کام یاب نہیں ہوپاتے ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے۔ ہمیں ہمیشہ اپنی نیت کا خیال رکھنا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ ہم جس رقم سے جانور خرید رہے ہیں وہ رقم جائز ہے یا ناجائز۔

 

قربانی کرتے وقت ہماری نیت خالص ہو۔ ہم نہایت ہی متواضع ہوں۔ ہمیں ہمیشہ دعا کرنی چاہیے کہ اے اللہ یہ ہماری یہ قربانی آپ کی طرف سے قبولیت کی محتاج ہے، آپ اسے قبول فرمالیجیے! جانور کو قربان کرنے سے پہلے ہمیں ابراہیم –علیہ السلام– اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل –علیہ السلام– کی جانفشانی اور آزمائش کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔  ہمیں صحابۂ کرام –رضی اللہ عنہم– کے سچے جذبے کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے۔ پھر ہمیں جانور کی قربانی کرنی چاہیے۔ پھر ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ اللہ پاک ہماری قربانی قبول فرمائیں گے! ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ہم جس جانور کو قربان کرتے ہیں اس کا خون، گوشت، چرم، کھال وغیرہ اللہ پاک کے پاس نہیں پہنچتا؛ بل کہ وہ چیز جو اللہ تک پہنچتی وہ ہمارا تقوی ہے، ہمارا اخلاص ہے اور ہمارا سچا جذبہ ہے؛ چناں چہ جانور کی قربانی سے پہلے، ہمیں اپنی نیت درست کرنی چاہیے۔ ہماری نیت یہ ہونی چاہیے کہ یہ قربانی صرف اللہ پاک کی رضا اور خوشنودی کے حصول کے لیے ہے۔ قرآن کریم میں ہے: ﴿لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ. (سورة الحج: 37) ترجمہ:  "اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے، نہ ان کا خون؛ لیکن اس کے پاس تمھارا تقوی پہنچتا ہے۔" ●●●●

تاریخ عالم کا ایک یادگاراور مخلصانہ واقعہ


 

تاریخ عالم کا ایک یادگاراور مخلصانہ واقعہ

 


راستے کے حقوق و آداب