Friday, June 19, 2015

پورے حقوق کی رعایت کے ساتھ روزہ رکھئے!


پورے حقوق کی رعایت کے ساتھ روزہ رکھئے!

از: خورشید عالم داؤد قاسمی


اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنے پسندیدہ دین "اسلام" کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا بھی منکر دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ روزہ ان پانچ بنیادوں میں سے ایک ہے جن پر اسلام کی بنیادیں ہیں۔ ان ارکان و اساس کو ایک حدیث نبوی میں اس طرح بیان کیا گيا ہے: عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- : "بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ." [صحيح بخاری، حدیث نمبر: 8، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 20 - (16)] ترجمہ: حضرت عبدا للہ بن عمر -رضی اللہ عنہما- روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  -صلی اللہ علیہ وسلم- نے فرمایا: "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: (1) گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد  (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، (2) نماز قائم کرنا، (3) زکوۃ ادا کرنا، (4) حج کرنا   (5) اور رمضان کے روزے رکھنا۔"


یوں تو روزہ کی کئی قسمیں ہیں، مگر ہم جس روزہ کی بات کررہے ہیں، وہ رمضان المبارک کے فرض روزے ہیں، جسے اللہ تعالی نے قرآن کریم یہ آیت کریمہ نازل فرماکر فرض کیا: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ." (سورہ بقرہ، آیت: 183) ترجمہ: "اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، اس توقع پر کہ تو متقی بن جاؤ۔" اس آیت کریمہ میں اللہ پاک اپنے مومنین بندے سے مخاطب ہے کہ جب تم ایمان کی دولت سے مالا مال ہوگئے؛ تو تمھیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ ماہ رمضان کے روزے بھی تم پر فرض ہیں؛ لیکن تمھیں حیرت و استعجاب کرنے کی ضرورت نہیں، چونک اٹھنے کی حاجت نہیں؛ اس لیے کہ یہ روزے تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض تھے۔ نصاری کے حوالے سے یہ بات حدیث میں ملتی ہے کہ ان پر بھی ایک ماہ کے روزے فرض تھے، مگر اس قوم نے اس کی تعداد بڑھا کر پچاس کرلی تھی۔ اللہ نے آگے فرمایا کہ اس روزے کا مقصد متقی بنانا ہے؛ کیوں کہ روزہ دار اپنے نفس کو متعدد تقاضوں سے روکنے کی عادت ڈالتا ہے اور اسی عادت کی پختگی تقوی کی بنیاد ہے۔


روزہ کا مطلب یہ ہے کہ ہر عاقل ، بالغ مسلمان مرد و عورت جو روزہ رکھنے کی طاقت و قوت رکھتے ہوں، وہ صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور جماع  سے رک جائے، اسی کو شرعی اصطلاح میں روزہ کہتے ہیں۔ جس طرح نماز کے کچھ حقوق و آداب اور شرائط ہیں، اسی طرح روزے کے بھی حقوق و آداب ہیں۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ: روزہ دار شخص جیسے مذکورہ چیزوں سے اجتناب کرتا ہے، اسی طرح مندرجہ ذیل چیزوں کا ارتکاب نہ کرے، یعنی کسی کی غیبت کرنا،جھوٹ بولنا، کسی سے جھگڑا  لڑائی اور شب و شتم کرنا ، کسی نازیبا اور حرام باتوں کا سننا اور غیر مناسب و ناجائز چیزوں کا دیکھنا۔ جب صائم ان تمام چیزوں سے اپنے آپ کو روکتا ہے ؛ تو روزہ کا بہت ہی اجرو ثواب پاتا ہے؛ ورنہ تو روزہ پھر کسی کام کا نہیں رہتا اور صائم کو کچھ ہاتھ نہیں لگتا۔ اس حوالے سے ہم ذیل میں ،چند احادیث نقل کرتے ہیں۔


جو شخص روزہ ایسے ہی رکھتا ہے جیسا کہ روزہ کا حق؛  تو پھر اس کا اجر وثواب بہت ہے۔ اللہ تعالی خود ایسے شخص کو  اجر وثواب عنایت فرماتے ہیں۔ ایک حدیث قدسی ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "قَالَ اللَّهُ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ." [بخاری شریف، حدیث نمبر: 1904، مسلم شریف، حدیث نمبر: 163 - (1151)] ترجمہ: حضرت ابوہریرہ- رضی اللہ عنہ- روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم -نے ارشاد فرمایا: " روزے کے سوا ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے ؛  کیوں کہ  روزہ  میرے لیے ہے اور اس کا بدلہ میں  دونگا۔"


ایک حدیث میں جناب نبی کریم -صلی اللہ علیہ وسلم- نے ایمان و احتساب کے ساتھ  روزہ رکھنے والوں  کے پچھلے سارے گناہوں کی بخشش کی بشارت دی ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ." [بخاری شریف، حدیث نمبر: 38، مسلم شریف، حدیث نمبر: 175 - (760)]  ترجمہ: حضرت ابوہریرہ  -رضی اللہ عنہ- سے مروی ہے کہ رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم - نے فرمایا: "جو شخص رمضان کا روزہ  حالت ایمان میں،  ثواب کی امید کرتے ہوئے رکھے؛  تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے۔"


ایک روایت میں ہے کہ "صیام" روزہ داروں کے سلسلے میں اور "قرآن کریم" تلاوت کرنے والوں کے سلسلے میں قیامت کے دن شفاعت کریں گے۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ فيَقُولُ الصِّيَامُ: أَيْ رَبِّ، إِنِّي مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ فَيُشَفَّعَانِ." (شعب الایمان، حدیث نمبر: 1839) ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمرو –رضی اللہ عنہ- روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ – صلی اللہ علیہ وسلم- نے فرمایا: "روزہ  اور قرآن دونوں بندے کے حق میں شفاعت کریں گے؛ لہذا روزہ کہے گا: 'اے میرے رب! میں نے اسے دن میں کھانے اور شہوتوں سے روکے رکھا؛ اس لیے اس کے حوالے سے میری شفاعت قبول فرمائے!' اور قرآن گویا ہو گا: 'میں نے اس کو رات میں سونے سے روکے رکھا؛ اس لیے اس کے حوالے سے میری شفاعت قبول فرمائیں!' پھران  دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔"


اگر ہم  پورے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ روزہ نہیں رکھتے ہیں؛ تو پھر کیا ہوگا؟ اس سلسلے میں فرمان نبوی ملاحظہ فرمائے۔ ایک حدیث شریف میں ہےکہ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ ان کے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا،  ان کو کچھ  حاصل نہیں ہوتا ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: " كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ، وَكَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ." (مسند احمد، حدیث نمبر: 9685) ترجمہ: ابو ہریرہ –رضی اللہ عنہ- روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ –صلی اللہ علیہ-نے فرمایا: "بہت سے  روزہ دار ایسے ہوتے ہیں، جنھیں ان کے روزےسے سوائے بھوک (اور پیاس، دارمی) کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اوربہت سےشب میں  عبادت میں مشغول رہنے والےایسے  ہیں، جنھیں ان کی عبادت سے سوائے بے خوابی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔"


ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایسے شخص کے روزے کی اللہ کو کوئی ضرورت نہیں، جو جھوٹ بولتا ہو۔ حدیث ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ." [صحيح بخاری، حدیث نمبر: 1903] ترجمہ: ابو ہریرہ –رضی اللہ عنہ- روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ –صلی اللہ علیہ وسلم – نے ارشاد فرمایا: "جو شخص (روزہ کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑ دے؛ تو اللہ کو  اس بات  کی پرواہ نہیں  کہ اس نے اپنا کھانا پینا چھوڑ دیا۔"


ان مذکورہ بالا حدیثوں سے معلوم ہوا کہ روزہ دار کی اہمیت، اللہ کی نظر میں، بہت ہی زیادہ ہے؛ اس شرط کے ساتھ کے روزہ پوری رعایت کے ساتھ رکھا گيا ہو۔ انسان کو روزہ صحیح طریقے سے رکھنی چاہیے اور روزہ کی حالت میں لغویات وعبث ، فحش کلامی اور افعال باطلہ سے پرہیز کرنا چاہیے،  تاکہ زیادہ سے زیادہ اجروثواب اور انعام واکرام کا مستحق ہوسکے۔


روزہ کا مقصد اور غرض و غایت روزہ دار کو متقی بنانا اور صفت تقوی سے متصف کرنا ہے، جیسا کہ آیت کریمہ میں مذکور ہے۔ تقوی یہ ہے کہ اس سے متصف شخص اللہ عزوجل سے ڈر ے، ہر کام کرنے سے پہلے یہ سوچے کہ یہ کام اللہ اور اس کے پیارے رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم -کے فرمان کے موافق ہے یا مخالف؟ اللہ نے جن چیزوں کا حکم کیا ہے، اسے بجالائےاور جن چیزوں سے روکا ہے، اس سے رک جائے۔ تقوی کو ایک روایت میں مثال کے ساتھ سمجھایا گیا ہے جو قریب الفہم ہے۔ وہ روایت یہ ہے: ایک مرتبہ حضرت عمرؓنے حضرت ابی ابن کعبؓ سے تقوی کے متعلق دریافت فرمایا، تو انھوں نے جواب دیا : "امیر المومنین ! آپ کسی خاردار جھاڑیوں والے راستے (ایسا راستہ جس کے دونوں طرف کانٹوں کی قطار ہو) سے گزرے ہیں؟" انھوں نے ارشاد فرمایا : "ہاں۔" حضرت ابی ابن کعبؓ نے سوال کیا: "پھر اس وقت آپ نے کیا کیا؟" حضرت عمر –رضی اللہ عنہ-  نے کہا: "میں  دامن سمیٹ کر، احتیاط کے ساتھ قدم رکھتا تھا۔" حضرت ابی ابن کعبؓ نے کہا: "بس یہی تقوی ہی۔"  یعنی دنیا میں بہت سی اچھی اور بری چیزیں ہیں؛ تو کچھ بھی کرنے سے پہلے آدمی اسے ملحوظ خاطر رکھے کہ یہ شریعت کے مخالف ہے یا موافق ؟  اگر موافق ہو تو کرے اور اگر مخالف ہو؛  تو اس سے اجتناب کرے، پھر یہی عمل تقوی اور اس کا کرنے والا متقی ہے۔


روزہ جہاں صائم کے اندر تقوی پیدا کرتا ہے، وہیں یہ صبر بھی  سکھلاتا ہے۔ حضور -صلی اللہ علیہ وسلم -نے رمضان کے مہینہ کو "شَهْرُ الصَّبْرِ" (نسائي شریف، حدیث نمبر: 2408)  یعنی صبر کا مہینہ فرمایا کرتے تھے؛  اس لیے کہ صائم اشیاءِ خورد و نوش اور جِماع پر قدرت ہونے کے باوجود بھی،  اس سے اپنے آپ کو روکتا ہے۔ صبر بہت بڑی چیز ہی۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ صبر کا بدلہ جنت ہے۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والے کو بے حساب اجر دینے کا وعدہ فرمایا ہے؛ چناں چہ ارشاد ربانی ہے: "إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ." (سورہ زمر، آیت: 10) ترجمہ: "صبر کرنے والے کو ملتا ہے ان کا ثواب بے شمار ۔" مطلب یہ ہے کہ کسی چیز پر صبر کرنے سے صابر کو، اس کے عوض بے شمار بدلے دیے جائیں گے؛  اس لیے کہ اس کے مقابلے میں دنیا کی تمام سختیاں اور تکلیفیں ہیچ ہیں۔


روزہ ایسی عبادت ہے،  جو روزہ دار کو محتاج،غریب، مسکین فقیر کی غم خواری پر ابھارتا ہے، پرساں حال بناتا ہے اور مدد و نصرت پر مجبور کرتا ہے؛ کیوں کہ جب آدمی روزہ کی حالت میں بھوک وپیاس کی شدت برداشت کرتا ہے؛ تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ ان مفلس اور محتاج لوگوں کے شب وروز کتنی مشقت اور پریشانی کے ساتھ کٹتے ہوں گے، جن کو نان شبینہ بھی میسر نہیں ہے! پھر وہ روزہ دار جسے اللہ تعالیٰ نے دولت و ثروت عطا کیا ہے،  وہ زکاۃ و خیرات کی رقمیں بغیر کسی تاخیر کیے؛ بل کہ بعجلت مستحقین تک پہچانے کی سعی کرتے ہیں۔ اسی طرح روزہ میں اور بھی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔


اطباء کہتے ہیں کہ روزہ صحت کے لیے مفید ہے۔  روزہ دار تندرست و توانا رہتا ہے۔  کچھ ایسی بیمار ی انسان کے جسم میں ہوتی ہے کہ ڈاکٹر تھک ہار کر اسےچھوڑدیتا ہے؛ لیکن روزہ سے وہ مرض ختم ہوجاتا ہے اور مریض رو بصحت ہو جاتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ روزہ کے بے شمار دینی و دینوی اور روحانی و جسمانی فوائد ہیں۔ مسلمان کو بغیر کسی عذر لنگ اور کمی کوتاہی کے روزہ رکھنا چاہیے۔ پھر دینی فوائد کے ساتھ ساتھ دوسرے فوائد بھی حاصل ہو ں گے۔  اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ارکان اسلام اور شریعت محمدیہ کا قدرداں اور اس پر عمل کرنے والا بنائے! آمین!


(مضمون نگار دارالعلوم، دیوبند کے فاضل اور مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ کے استاذ ہیں۔ ان سے qasmikhursheed@yahoo.co.in    پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)

Wednesday, May 13, 2015

ہم جنس پرستی: فطرت سے بغاوت

ہم جنس پرستی: فطرت سے بغاوت

از: محمدخورشیدعالم داؤدقاسمی

حرف آغاز:
ہزار بار افسوس اور تف ہو اس موڈرن اور نام نہاد مہذب اقوام اور بہت سے ممالک اور ان کے رہنماؤں پر،  جس نے "ہم جنس پرستی" جیسی مہلک وبا میں بھی شخصی آزادی اور فطرت کے دشمن افراد کے جذبات کا ناجائز احترام کو سیکولرزم اور آزادی سے تعبیر کرکے، دنیا کو قعر مذلت میں ڈالنے پر تلے ہیں۔ یہ ایک ایسا خلاف فطرت فعل ہے جس کی کوئی مذہب اجازت دیتا ہے اور نہ کوئی مہذب معاشرہ۔ اس فعل کا مقصد محض فطرت سے بغاوت اور غلط و ناجائز طریقے سے خواہشات نفس کی تکمیل اور جنسی ہیجان کی تسکین ہے، جو در حقیقت ایک بہت بڑی بے چینی اور عدم اطمینان ہے۔

        "ہم جنس پرستی" کا لفظ اردو زبان و ادب میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی ہی جنس کے انسان کے ساتھ مل کر، اپنی جنسی خواہشات پوری کرے۔ یعنی مرد مرد کے ساتھ اور عورت عورت کے ساتھ مل کر اپنی جنسی خواہشات پوری کرے۔ اس فعل کو انگریزی میں  (جب مرد مرد سے اس فعل کا ارتکاب کرے تو) Homosexuality   اور (جب عورت عورت سے اس فعل کو انجام دے تو)Lesbianism  کہا جاتا ہے۔

ہم جنس پرستی کی ابتداء:
قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے: "وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ." (سورہ: اعراف، آیت: ۸۰) ترجمہ: "ہم نے لوط کو بھیجا؛ جب کہ انھوں نے اپنی قوم سے فرمایا، کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا والوں سے نہیں کیا۔" قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کے بہ موجب، اس شیطانی فعل کی ابتداء سیدنا حضرت ابراہیم –علیہ السلام- کے بھتیجے، اللہ کے نبی، حضرت لوط –علیہ السلام- کی قوم (اہل سدوم، سدوم: یہ بیت المقدس اور اردن کے درمیان ایک مقام تھا، جہاں حضرت لوط –علیہ السلام- نبی بنا کر مبعوث کیے گئے تھے) نے کیا۔ "اہل سدوم" سے پہلے دنیا میں، اس بدترین فعل کا کوئی تصور نہیں تھا۔ اس قوم سے قبل کسی نے اس کا ارتکاب نہیں کیا تھا۔ یہ اتنا گھناؤنا فعل ہے کہ دنیا کی کسی قوم کا ذہن بھی، اہل سدوم سے قبل، اس فعل کی طرف نہیں گیا۔ حضرت عمرو بن دینار فرماتے ہیں کہ اس قوم (اہل سدوم) سے پہلے دنیا میں کبھی ایسی حرکت کا ارتکاب نہیں کیا گیا۔ پھر وہیں سے یہ قبیح فعل شروع ہوا، جو آج تک ایک مہذب معاشرہ اور سوسائٹی کو ذلیل و خوار کرنے کے درپے لگا ہوا ہے۔

        آیت مذکورہ کے متصلا بعد ایک دوسری آیت ہے: "إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِنْ دُونِ النِّسَاءِ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ." (سورہ: اعراف، آیت:۸۱) ترجمہ: "(یعنی) تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر، بل کہ تم حد  ہی سے گزر گئے ہو۔" جہاں پہلی آیت کریمہ میں "ماسبقکم بہا" سے یہ سمجھ میں آیا کہ قوم لوط سے پہلے، اس کام کا کسی نے ارتکاب نہیں کیا ہے۔ اسی طرح دوسری آیت کریمہ میں جو "بل انتم قوم مسرفون" آیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ کچھ لوگ بسا اوقات کچھ گناہوں کو دھوکہ اور فریب میں آکر ارتکاب کرلیتے ہیں، جن کو اپنے آباء و اجداد کو کرتے دیکھتے ہیں؛ لیکن اس فعل کے بارے میں اللہ تعالی نے کہا کہ اس میں تو دھوکہ کھانے اور کسی کو دیکھنے کی کوئی بات ہی نہیں؛ بل کہ تم نے ایک ایسے فعل کا ارتکاب کیا ہے، جس کا تم سے پہلے کسی نے ارتکاب نہیں کیا۔ یعنی اس سلسلہ میں تم نے خود دوسری اقوام کے مقابلے میں تجاوز کیا ہے ۔ اس آیتِ کریمہ سے بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ "ہم جنس پرستی" کے فعل کا آغاز "اہل سدوم" نے ہی کیا۔ (معارف القرآن،3/615-616)

قوم  لوط پر عذاب اِلٰہی:
جب قوم لوط نے ہم جنس پرستی جیسی بدترین عادت سے توبہ و استغفار نہیں کیا اور نہ ہی حضرت لوط –علیہ السلام- پر ایمان لائے؛ تو اللہ نے اس قوم پر عذاب واقع کرنے کےلیے فرشتوں کو بھیجا۔ جب وہ فرشتے عذاب واقع کرنے کےلیے حسین لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط –علیہ السلام- کے گھر مہمان بن کر ٹھہرنے آئے؛ تو اہل سدوم، انھیں حسین لڑکے سمجھ کر بدفعلی کی نیت سے حضرت لوط کے گھر پہنچ گئے۔ اس موقع پر حضرت لوط –علیہ السلام- بہت پریشان ہوئے کہ وہان مہمانوں (فرشتوں) کو ان خبیثوں اور شیطانوں سے کیسے بچائیں۔ آپ –علیہ السلام- کی پریشانی دیکھ کر فرشتوں نے آپ –علیہ السلام- سے بتلایا کہ وہ فرشتے ہیں، عذاب دینے آئے ہیں اور وہ لاکھ کوششوں کے باوجود، اہل سدوم کے قابو میں نہیں آسکتے ہیں۔ نیز حضرت لوط –علیہ السلام-سے یہ بھی کہا کہ آپ رات کے آخری حصہ میں اپنے اہل و عیال کو لےکر یہاں سے نکل جائیں۔ پھر اگلی ہی صبح،  اللہ تعالی کا عذاب اس قوم پر اس طرح نازل ہوا کہ آسمان سے ایک زبردست چیخ  آئی۔ پھر حضرت جبریل –علیہ السلام- نے اس بستی کو اٹھاکر پلٹ دیا اور مزید ان پر پتھر کی بارش کی گئی اور سارے کے سارے مرگئے۔ آج بھی وہ جگہ بیت المقدس اور نہر اردن کے درمیان "بحر میت" (ایک سمندر) کی شکل میں موجود ہے۔

قرآن کریم اور حدیث شریف میں ہم جنس پرستی کی قباحت اور سزا:
ہم جنس پرستی "گناہ کبیرہ" میں شمار ہوتا ہے۔ اس فعل کو بہت بڑا گناہ گردانا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس فعل کی قباحت یوں بیان کی گئی ہے: "أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ." (سورہ: اعراف، آیت: ۸۰) یعنی تم لوگ ایسا فحش کام کرتے ہو، جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا والوں میں سے نہیں کیا۔ اس آیت شریفہ کی تفسیر میں مفسرین حضرات فرماتے ہیں کہ یہاں لفظ: "الفَاحِشَة" کو "الف لام" کے ساتھ مقید کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسا خلاف فطرت فعل ہے جو گویا کہ ہر طرح کے فواحش کا مجموعہ ہے اور یہ فعل زنا سے بھی بڑھا ہوا جرم ہے۔

        نبی کریم –صلی اللہ علیہ وسلم- نے بہت سی حدیثوں میں اس خلاف ِ طبعِ انسانی فعل کی شناعت بیان فرمائی ہے۔ کہیں اس کو نزول تباہی کی علامت بتایا، تو کہیں علامات قیامت میں شمار کرایا اور کہیں اس فعل کے فاعل اور مفعول: دونوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ارشاد نبوی ہے:

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- : "مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الفَاعِلَ وَالمَفْعُولَ بِهِ." (ترمذی،  حدیث نمبر: 1456،  ابو داؤد، حدیث نمبر: 4462، ابن ماجہ، حدیث نمبر: 2561، مسند احمد، حدیث نمبر: 2732)

ترجمہ: حضرت ابن عباس -رضی اللہ تعالی غہما - روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - نے فرمایا: "تم جس شخص کو بھی قوم لوط کا عمل کر تے ہوئے پاؤ؛ تو فاعل و مفعول: دونوں کو قتل کردو۔"

صحابہ کرام، تابعین عظام اور ائمہ مجتہدین نے اس فعل کی شناعت و قباحت بیان کی ہے اور شدید ترین  گناہ قرار دیا ہے۔ امام  مالک  -رحمہ اللہ- نے فرمایا  کہ عمل قوم لوط کے کرنے والے  فاعل و مفعول کو رجم کیا جائے، چاہے وہ محصن ہو یا غیر محصن۔  (القوانین الفقہیہ: 3/232) اس حوالے سے امام ابو حنیفہ –رحمہ اللہ - کی رائے ہے کہ اس فعل کے مرتکب کو حد تو نہیں لگائی جائے گی؛ بل کہ تعزیر و عقوبت سے کام لیا جائے گا۔ امام ابو یوسف اور محمد –رحمہما اللہ- نے فرمایا کہ جو شخص ہم جنس پرستی کرتا ہے،  اسے وہی سزا دی جائے، جو ایک زانی کو دی جاتی ہے یعنی اگر وہ غیرشادی شدہ ہے تو اسے سو کوڑے لگائے جائیں اور اگر شادی شدہ ہے تو اس کو رجم کردیا جائے۔ حنفیہ کے مفتی بہ قول کے مطابق ،اگر کسی نے اس  عمل کی تکرار کی؛  تو اسے قتل کیا جائے گا۔ (فتح القدیر مع الہدایہ: 4/150) امام  احمد بن حنبل  - رحمہ اللہ - نے فرمایا کہ اس عمل کے کرنے والے فاعل اور مفعول: ہر دو کو وہی سزا دی جائے گی جو ایک زانی کو دی جاتی ہے۔ (کشاف القناع: 6/94) امام شافعی -رحمہ اللہ- کے ایک قول کے مطابق، فعل قوم لوط کے مرتکب پر حد زنا نافذ کی جائے گی؛ جب کہ دوسرے قول کے مطابق فاعل کو قتل کیا جائے گا، چاہے وہ محصن ہو غیر محصن۔  (الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ)

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہم جنس پرستی کی حمایت میں تحریک:
گزشتہ سال ۱۸؍ ۱۲؍ ۲۰۰۸ء کو "اقوام متحدہ" کی "جنرل اسمبلی" میں فرانس اور ہالینڈ جیسے نام نہاد مہذب و مثقف ممالک کے اراکین نے "ہم جنس پرستی" کے حق میں یہ کہتے ہوئے تحریک پیش کردی کہ: "ہم جنس پرستی کو حق سمجھا جائے اور اسے جرائم کی فہرست سے نکال دیا جائے۔" پھر کیا تھا یہ تحریک پیش ہوتے ہی ۶۶؍ ممالک کے رہنماؤں نے اس شنیع فعل کی حمایت میں دستخط ثبت کرکے حمایت کا اعلان کردیا۔ مگر شامی ممبر عبداللہ الحلاق نے بر وقت اس تحریک کے خلاف تحریک پیش کردی اور انھیں بھی۶۰ ؍ ممالک کے ممبران کی حمایت مل گئی اور مسئلہ رک گیا۔

ہم جنس پرستی اور اقوام عالم:
اس حقیقت سے شاید کوئی انکار کرسکے کہ عصر حاضر میں ہم جنس پرستی کو بڑھاوا دینے اور پروان چڑھانے میں مغربی ممالک اور مغربی میڈیا نے بہت اہم کردار ادا کیاہے۔ اس بدترین فعل کو کئی مغربی اور یورپی ممالک نے قانونی جواز فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کرکے اخلاق وکردار کا جنازہ نکال دیا ہے۔ آج امریکہ، کنیڈا، آسٹریلیا، بعض یورپی ممالک اور اسی طرح جنوبی افریقہ میں ہم جنسوں کی شادی کو قانونی منظوری دے کر، اسے جرائم کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ شخصی آزادی کے عنوان سے یہ ایسی بےراہ روی کی اجازت دے رکھی جو معاشرہ کی تباہی و بربادی کا بہت بڑا سبب ہے۔ ہم جنس پرستی کو قانونی جواز دینے کا سلسلہ مغربی اور یورپی ممالک سے شروع ہوا؛ چنان چہ آج نیدرلینڈ، ناروے، اسپین، سویڈن، کنیڈا اور بیلگام جیسے ممالک نے ہم جنس پرستی جیسے ملعون فعل کو شخصی آزادی کے نام پر ،قانونی جواز دے رکھا ہے اور ان ممالک میں ایک ہی جنس کے لوگ آپس میں شادی کرتے ہیں۔ حال آں کہ یہ سوچنے کی بات ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا پہلے سے ہی ایڈس جیسے مرض سے پریشان اور بدحال ہے؛ کیوں آزادی کے نام پر ہم جنس پرستی جیسے مہلک مرض اور فاسد اخلاق فعل کو قانونی جواز فراہم کیا جارہا ہے؟!

ہم جنس پرستی اور ہندوستان:
ہندوستان دینا کا ایک ایسا ملک ہے جو قدیم زمانے سے ہی تہذیب وتمدن کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کسی مخرب اخلاق فعل وعمل کی اجازت کبھی نہیں دی گئی۔ ہندوستان ہمیشہ سے صوفی، بزرگ اور رہسہ وادی دھرتی رہی ہے۔ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے شروع سے ہی پائے جاتے ہیں۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی یا کسی بھی مذہب کی کتاب میں، ہم جنس پرستی جیسے بدترین فعل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ابتدائی زمانہ سے ہی یہاں کا شہری اور حکومت اس بدترین فعل کے مخالف رہی ہے۔ یہی وجہ ہے ہم جنس پرستی جیسے خبیث فعل کو کبھی بھی قانونی جواز فراہم نہیں کیاگیا۔ اسی جیسے مخرب اخلاق فعل اور خلاف فطرت عمل کو روکنے کےلیے ایک لمبے زمانے سےقانون کی شکل میں"دفعہ: ۳۷۷" چلا آرہا ہے۔ اب اسے زمانہ کی گردش اور ایام کا الٹ پھیر کہا جائے یا پھر موجودہ آزادی کہ آج ہم جنس پرستی کو بھی شخصی آزادی کے نام پر قانونی جواز بخشا جارہا ہے۔

دفعہ ۳۷۷ ایک نظر میں:
دفعہ ۳۷۷ میں جو کچھ تحریر ہے وہ یہ ہے:
        377. Unnatural offences: Whoever voluntarily has carnal intercourse against the order of nature with any man, woman or animal, shall be punished with imprisonment for life, or with imprisonment of either description for term which may extend to ten years, and shall also be liable to fine.

        اس دفعہ کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص بھی رضاکارانہ طور پر (بھی) خلاف ترتیب فطرت کوئی فعل کسی مرد، عورت یا جانور کے ساتھ کرتاہے؛ تو عمر قید کی سزا یا پھر دس سال تک کی قید اور جرمانہ بھی لاگو کیا جائے گا۔

دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ:
دہلی کی ایک غیر سرکاری تنظیم "ناز فاؤنڈیشن" نے ۲۰۰۱ء، دہلی ہائی کورٹ میں، ایک پٹیشن داخل کرکے دفعہ ۳۷۷ کو ختم کرنے اور لغو قرار دےکر ہم جنس پرستی کو قانونی جواز فراہم کرنے درخواست کی؛ دہلی ہائی کورٹ ۲۰۰۳ء میں اس درخواست کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ درخواست گزار اس مسئلہ میں کوئی جائز مسلمہ حیثیت و اختیار (Locus Standi) نہیں رکھتا ہے۔ پھر ناز فاؤنڈیشن نے سپریم کورٹ میں اس فیصلہ کے خلاف عرضی پیش کی۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کو دہلی ہائی کورٹ میں سماعت کےلیے واپس کردیا۔

پھر دہلی ہائی کورٹ میں اس پر سماعت شروع ہوئی، آخر کار دہلی ہائی کورٹ کے دو محترم جج: چیف جسٹس اجیت پرکاش اور جسٹس ایس مرلی دھرکی بنچ نےعرضی کی سماعت کے دوران، اپنے تاریخ ساز فیصلہ میں، بہ روز: جمعرات،۲؍ جولائی۲۰۰۹ء کو، تعزیرات ہند کی ۱۵۰؍ سالہ قدیم دفعہ ۳۷۷ کا دائرہ محدود کرتے ہوئے، رضامندی کے ساتھ کی جانے والی ہم جنس پرستی کو قانونی اجازت دےدی ہے۔ جج حضرات نے ہم جنس پرستی کو جرم ماننے کو دفعہ ۲۱ کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دفعہ۲۱ کا حاصل یہ ہے کہ ہر شہری کو اپنے طور پر زندگی گزارنے کا مساوی موقع ملنا چاہیے اور قانون کی نظر میں ہم سب برابر ہیں۔
       
اب اس فیصلہ کے آنے کے بعد، اس کا نتیجہ یہ مرتب ہوگا کہ اب تک ہندوستان میں، ہم جنس پرستی جو ایک جرم کے دائرے میں آتی تھی، اب وہ جرم نہیں رہی۔ اب تک جو لوگ اس شیطانی فعل کا ڈھکے چھپے طور پر ارتکاب کرتے تھے اور خود کو مجرم سمجھتے تھے، اب انھیں کسی طرح کا کوئی ڈر اور خوف نہ ہوگا اور اس جنونی فعل کا ارتکاب کھلے طور پر بھی چاہیں تو کرسکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی ہائی کورٹ سے یہ فیصلہ جوں ہی صادر ہوا، ہم جنس پرستوں نے دیدہ دلیری کے ساتھ، کھلے عام سڑکوں پر آکر جشن منانا شروع کردیا اور ایک دوسرے کو مبارکبادی کا پیغام ارسال کرنے لگے۔

سیاست کے گلیاروں میں ہم جنس پرستی کی موافقت و مخالفت:
"یو پی اے" سرکار ہم جنس پرستی کے موضوع پر کچھ زیادہ ہی نرم دل معلوم ہورہی ہے؛ کیوں کہ گزشتہ یو پی اے سرکار میں بھی یہ مسئلہ زیر غور آیا تھا اور اب بھی زور پکڑے ہوا ہے۔ یو پی اے سرکار نے، ہم جنس پرستوں کے مطالبہ سے مرعوب ہوکر، جس طرح ہم جنس پرستی پر کھلے عام بحث ومباحثہ کے ذریعے عام اتفاق بنانے کی بات کہی ہے، یہ انتہائی ہی غیرمعقول بات ہے۔ یہ ایک ایسا غیر مناسب قدم ہے، جسے ہندوستانی سماج کا مہذب اور سنجیدہ طبقہ ہرگز قبول نہیں کرسکتا ہے؛ کیوں کہ یہ فعل ہندوستانی تہذیب وثقافت کے بالکل متصادم ہے۔ مگر ان تمام باتوں کے باوجود، غضب تو یہ ہے کہ اس شیطانی فعل کی حمایت کرنے والوں کو مہذب، ترقی پسند اور آزادی کا پاسدار مانا جارہا ہے؛ جب کہ اس کی مخالفت کرنے والوں کو پرانے خیال کا آدمی سمجھا جارہا ہے۔

        گزشتہ دنوں بھی مرکز میں جب کانگریس کی قیادت میں یو پی اے سرکار تھی، تو ہم جنس پرستی کا مسئلہ سامنے آیا تھا۔ اس موقع سے سابق وزیر صحت جناب امبونی رام داس نے ہم جنس پرستی کے خلاف نافذ ہونے والی دفعہ ۳۷۷ کو ختم کرنے کےلیے عدالت تک اپنی شفارش و پیروی شروع کردی تھی۔ جب کابینہ میں رام داس کی تجویز پر بحث ومباحثہ ہوا، تو سابق وزیر داخلہ جناب شیو راج پاٹل نے دفعہ ۳۷۷ کو ختم کرنے کی زبردست مخالفت کی تھی اور یہ موضوع کچھ دنوں کےلیے دب گیا۔ اب پھر یو پی اے سرکار کے وزیر قانون نے جناب ویرپا موئیلی نے اپنے پیشرو کی طرح، ہم جنسی کی موافقت میں آواز اٹھانی شروع کردی ہے۔ موجودہ وزیر داخلہ، سابق وزیر داخلہ کے برخلاف، اس موضوع پر نرم گوشہ رکھتے معلوم ہورہے ہیں؛ جب کہ وزیر صحت غلام نبی آزاد نے بھی اس موضوع پرپارلیامینٹ کے باہر اور اندر عام اتفاق کےلیے بحث ومباحثہ کی حمایت کی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے اور دفعہ۳۷۷ ختم کردیا جاتا اور کھلے عام ہم جنس پرستی جیسے شیطانی فعل کی اجازت مل جاتی ہے، تو ہندوستانی عوام یو پی اے سرکار کو معاف نہیں کریں گے اور اس کی سزا ایک نہ ایک دن سرکار کو بھگتنی ہی ہوگی۔ اس لیے اس حساس موضوع پر یو پی اے سرکار کو اپنا موقف بہت سخت رکھنا چاہیے اور تعزیر  ہند کی دفعہ ۳۷۷ بدستور قائم رکھنی چاہیے۔

حرف آخر:
آج جب ہم یورپی ممالک کے حکمراں اور عوام سب کے سب خود کو مہذب اورشائشتہ قوم سمجھتے ہیں اور دوسروں کو غیرمہذب اور ناشائشتہ، بیوقوف اور سفیہ سمجھتے ہیں؛ حال آں کہ حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے۔ مغربی ممالک نے آج آزادی کے نام پر صنف نازک کو گھر سے باہر نکال کر دوکانوں اور دفتروں کی زینت بناکر، ان پر دوہرا بوجھ ڈال دیا ہے۔ اسی مغربی ممالک نے آرٹ وکلچر اور اظہار رائے کی آزادی کے نام پر مذہبی پیشواؤں کی تنقیص و بیجا تنقید اور ان کے مضحکہ خیز کارٹونوں کے بنانے کا لائسنس فراہم کیے ہیں۔  انھیں مغربی ممالک کے قائدین نے شخصی آزادی کے نام پر ہم جنس پرستی جیسے ملعون فعل کو درست قرار دیا۔ آج ہندوستانی حکام وقائدین بھی، تہذیب وتمدن اور اعلی اقدار کے مرکز، وطن عزیز ہندوستان کی پرانی اور مثالی روایات کو مٹانے کے درپے لگے ہوئے ہیں اور بےسلیقہ اور ناشائشتہ اقوام کے بھوڈے، بھدے اور خلاف فطرت افعال کو تہذیب وتمدن کے طور پر قبول کر رہے ہیں اور آزادی کے نام پر انھیں قانونی جواز فراہم کر رہے ہیں۔ اگر اسی طرح آزادی کے نام پر جو کچھ ہورہا، ہوتا رہا تو وہ دن دور نہیں کہ اللہ تعالی اجتماعی طور پر نہیں؛ تو انفرادی طور پر یکے با دیگرے اِن اقوام عالم پر بھی وہی عذاب مسلط کردے جو قوم لوط پرکیا؛ کیوں کہ اللہ اپنا وعدہ پورا کرتا اور ارشاد خداوندی ہے:  "وماهِی من الظلمین ببعید."  یعنی جس طرح قوم لوط پر پتھر کی بارش برسائی گئی، آج کے لوگ بھی اگر وہ کام کریں تو کوئی دور نہیں کہ ان پر بھی پتھر کی بارش کی جائے۔


(مضمون نگار دارالعلوم، دیوبند کے فاضل اور مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ کے استاذ ہیں۔ ان سے qasmikhursheed@yahoo.co.in    پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)

Tuesday, April 21, 2015

کوئی بھی شخص مسلمانوں کاووٹنگ کا حق نہیں چھین سکتا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کوئی بھی شخص مسلمانوں کاووٹنگ کا حق نہیں چھین سکتا

بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

مادر وطن ہندوستان کی آزادی میں مسلم شہریوں کی قربانی، پھر ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں ان  کا کردار اور کارنامہ کسی بھی دوسرے مذاہب کے ماننے  والے شہریوں سے کم نہیں ہے۔ اس حقیقت کے باوجود ، جب بھی کوئی شخصی و انفرادی موضوع ہوتا ہے ؛ تو کچھ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے دشمن اور  گنگا جمنی تہذیب کے قاتل کی زبان وقلم سے سارے مسلم شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کا قلم و زبان صرف زہر ہی اگلتی ہے۔تعجب کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں  کی وطن دوستی اور حب الوطنی تک پر سوال اٹھایا جاتا ہے اور کچھ نفرت کے سوداگر یہاں تک کہہ  دیتے ہیں کہ مسلمانوں کا حقّ رائے دہی کو منسوخ و مسترد کردیا جائے اور ان کا یہ حق چھین لیا جائے۔ یہ زہر افشانی کرنے والے کبھی حزب اقتدار کے لیڈر مسٹر سبرامانین سوامی ہوتے ہیں، تو کبھی  شیوسینا کے راجیہ سبھا کے رکن اور پارٹی کے اخبار روزنامہ "سامنا" کے  ایکزیکٹیو  ایڈیٹر: مسٹر  سنجے راؤت اور ان کی تائید میں بی جے پی کے "اترپردیش" کے "انّاؤ" حلقہ سے لوک سبھا کے منتخب رکن مسٹر ساکشی مہاراج بھی آجاتے ہیں۔

گزشتہ 12/اپریل کو شیو سینا کے روزنامہ "سامنا" میں مسٹر  سنجے راؤت نے  ایک مضمون : "ممبئی میں اویسی کی اچھل کود-ساؤدھان- بل میں سپونلے ہیں" کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ "مسلمانوں کے ساتھ کی گئی ناانصافی کے خلاف جد و جہدکے نام پر ووٹ بینک کی سیاست کی جارہی ہے۔ جب تک ان (مسلمانوں)  کا استعمال ووٹ بینک کے طور پر ہوتا رہے گا، وہ کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتے۔مسلمانوں کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا،  جب تک وہ ووٹ بینک کی سیاست کے طور پر استعمال کیے جاتے رہیں گے؛ لہذا ایک بار بالا صاحب نے کہا تھا کہ مسلمانوں سے حق رائے دہی چھین لی جائے۔ " جو کچھ انہوں نے کہا تھا ، وہ درست ہے"۔

ایسا لگتا ہے کہ مہاراشٹرا کی سرزمین پر گزشتہ اسمبلی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین کی آہٹ  نے ان لوگوں کو کچھ زیادہ ہی بوکھلا دیا ہے۔ اور پھر ابھی ضمنی انتخاب میں مجلس نے اپنا امیدوار کو پیش کرکے،  ان لوگوں کے سوچنے کی قوت کو بھی ختم کردیا ہے؛ اسی لیے جو کچھ زبان و قلم پر آرہا ہے،  اسے کہتے اور چھاپتے چلے جارہے ہیں۔  اسی مضمون میں مسٹر راؤت نے اپنے بوگھلاہٹ کا مزید ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک پوچھ لیا کہ "مسلمانوں کو ایسے اویسیوں کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ انھیں کوئی کام کرنے والا اچھا لیڈر کیوں نہیں ہضم ہوتا؟" ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمانوں نے آزادی سے آج تک،  بغیر کسی بھید بھاؤ کے جو لیڈر ملا اسے قبول کیا ہے، ان میں معدودے چند کو مستثنی کیا جاسکتا ہے۔  یہی وجہہ ہے کہ آج مسٹر راؤت  کا قلم اتنی روانگی سے مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہا ہے؛ نہیں تو ایسے جملے لکھنے سے پہلے، ان کو  سو بار سوچنا ہوتا۔

جہاں تک اویسی برادران کا تعلق ہے؛  تو ان کو سارے ہندوستانی مسلمانوں نے اپنا نمائندہ نہیں بنا رکھا؛بل کہ وہ ایک پارلیمانی حلقہ کے منتخب نمائندہ ہیں۔  مگر مسلمان اس بات سے بخوبی واقف  ہیں کہ یہی اویسی ہے جو روڈ سے لیکر پارلیامنٹ تک مسلمانوں کے مسائل کو اٹھاتے ہیں اور ان کو ان کا حق دلانے کی بات کرتے ہیں۔مہاراشٹرا اسمبلی میں اویسی برادران نہیں ہیں، مہاراشٹرا کے مسلمانوں نے اویسی برادران کوپارلیامنٹ اور اسمبلی کے لیے منتخب بھی نہیں کیا ہے۔ انھوں نے اویسی کے علاوہ دوسرے لیڈروں کو ہضم کیا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ پچھلی سرکار نے مسلمانوں  کے لیے جو ریزرویشن طے کیا تھا، اسے موجودہ حکومت نے ختم کردیا؛  جب کہ مراٹھیوں کے لیے جو ریزرویشن متعین کیا گیا تھا وہ جوں کا توں باقی ہے؟ مسٹر راؤت اپنی زہر افشانی میں تنہا  اور واحد نہیں ہیں؛ بل کہ اس طرح کی بات کرنے والے اوربھی ہیں۔

مسٹر را‎ؤت کے بیان پر جب ساکشی مہاراج کی رائے پوچھی گئی؛ تو انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے زہریلے بیان سے اپنے زبان کو آلودہ کیے بغیر نہیں رہ سکے اور یہاں تک کہہ دیا کہ "میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کا صفایا کردیاجائے؛ لیکن ہر کوئی کےلیے یکساں سول کوڈ اور فیملی پلاننگ لازمی طور پر ہونی چاہیے۔ جب ہم چار بچے کا معاملہ اٹھاتے ہیں، تو لوگ بہت ہی شور و شرابہ کرتے ہیں اور جب وہ (مسلمان) چار بیویوں سے چالیس بچے پیدا کرتے ہیں؛  تو کوئی اس کو کچھ نہیں کہتا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا: "فیملی پلاننگ ہونی چاہیے۔ جب ملک آزاد ہوا تھا اس وقت صرف تیس کڑور کی آبادی تھی، آج ایک سو تیس کڑور کی آبادی ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟  ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی:  سب کے لیے یکساں قانوں ہونا چاہیے۔  چاہے ایک، دو، تین یا چار بچے ہوں، جب تک ہم سب کے لیے یکساں قانون نافذ نہیں کرتے، ملک کو فائدہ نہیں ہوسکتا؛ لہذا حزب اقتدار اور حزب مخالف کو  اجتماعی طور پر ایک  سخت قانون نا‌فذ کرنا چاہیے اور وہ لوگ جو اس قانون پر عمل نہیں کریں ان کا حق رائے دہی چھین لیا جائے۔"

میں ان کے اس متنازعہ بیان پر تبصرہ  کرنا نہیں چاہتا، مگر اتنا بتا دیتا ہوں کہ مسٹر مہاراج  یہ وہی شخص ہیں جنہوں نے کچھ ہی دنوں  قبل بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کو  محب وطن اور وطن دوست قرار دینے کی وجہ سے پارلیامنٹ میں معافی مانگنے پر مجبور کیے گیے تھے۔ یہی نہیں؛ بل کہ یہ وہی آدمی ہے جس نے ہندو آبادی  میں اضافہ کے لیے ہندو خواتین کو چار چار بچے جنم دینے کا مشورہ بھی دیا تھا، جس پر ہر چہار جانب سے ان کے بیان کی مذمت کی گئی تھی اور بی جے پی نے ان کی اس حرکت پر، ان کو شو کاؤز نوٹس جاری کیا تھا؛ لیکن پھر بھی مسٹر مہاراج کی زبان ہے کہ زہر اگلنے سے باز نہیں آتی ۔

اسی طرح  16/جولائی 2011 کو "جنتا دل" کے سابق صدر مسٹر سبرامانین سوامی نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ  "ہمیں بحیثیت ہندو، اسلامی دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے یکساں ذہنی سوچ کی ضرورت ہے۔ اگر ایک مسلمان اپنے ہندو  نسل سے ہونے کا اعتراف کرتا ہے؛ تو ہم ہندو اسے ایک عظیم ہندو سماج کے طور پر قبول کرسکتے ہیں جو کہ ہندوستان ہے۔ اور دوسرے جو اس کا اعتراف نہیں کرتے ، یا وہ غیر ملکی جنھوں نے  رجسٹریشن کے ذریعے ہندوستانی شہریت حاصل کی ہے،  وہ ہندوستان میں رہ تو سکتے ہیں؛ لیکن حق رائے دہی کا استعمال نہیں کرسکتے (جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نمائندہ  منتخب نہیں کیے جاسکتے)"۔

جس طرح ان لوگوں کو اویسی چبھ رہا ہے اور مسلمانوں سے الٹا سیدھا سوال کرتے ہیں اور حق رائے دہی کے سلب کرنے کی بات کرتے ہیں، ان سے بھی تو یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ آپ کو پورے ہندوستانیوں کا ترجمان اور نمائندہ کس نے بنارکھا ہے؟ آپ کو یہ کیسے معلوم کہ مسلمانوں کو کوئی اچھا لیڈر ہضم نہیں ہوتا ہے؟ کیا آپ کو اپنے بڑوں کی غلطی پر فخر ہے کہ آپ اسے دہرارہے ہیں اور سالوں پرانی بات کو لوگوں کےخانۂ خیال میں لارہے ہیں؟ اگر کوئی خود کو ہندو نسل سے نہیں مانتا ہے یا فیملی پلاننگ کے حق میں نہیں ہے؛ تو اس کا حق رائے دہی کس قانون کی بنیاد پر ختم کیا جائے گا؟

ان جیسے لوگوں کی زہریلی تحریر اور متنازعہ بیان بازی سے تو کوئی  صاحب عقل و دانش اتفاق نہیں کرسکتا۔ ہاں، یہ واضح  ہے کہ یہ لوگ اپنی سیاسی روٹی سیکنے اور خود کو قومی سطح کا لیڈر اور قائد بننے کے زعم میں اس طرح کی تحریر اور بیان بازی وقتا فوقتا کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ 1947 میں تقسیم ہند کے وقت، بہت سے مسلمانوں نے ہندوستانی  شہری بن کر رہنا پسند کیا۔  اگر وہ چاہتے تو ان کو یہ اختیار تھا کہ وہ پاکستان ہجرت کرجاتے۔آج یہ کون ہوتے ہیں جو مسلمانوں کی  حب الوطنی کا امتحان لیں اور ان کےووٹنگ کے حق کو چھینیں؟ جو حق ملک کا دستور ایک شہری کو دے رکھا ہے، اسے کیسے کوئی سرپھرا چھین سکتا اور منسوخ کرنے کی بات کرسکتا ہے۔ اس ملک کے شہری ہونے کے ناطے مسلمانوں کا  وہی حق ہے،  جو دوسروں کا ہے۔ صرف ووٹنگ ہی کیا، ان کا  کوئی بھی حق کوئی نہیں چھین سکتا۔ اگر کوئی سیاسی پارٹی مسلمانوں کے ساتھ ووٹ بینک کی سیاست کرتی ہے؛  تو یہ اس کی ضمیر فروشی  اور ذمے داری سے منھ پھیرنے والی بات ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے،  تو وہ اس سے  بخوبی واقف  ہیں کہ ان کے لیے اچھاکیا ہے اور برا کیا ہے۔ وہ اپنا فیصلہ اپنے حساب سےکرنے کا حق رکھتے ہیں ۔

لوگ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی اکٹریس نے  نیوز چینل اور اخباروں کی ہیڈ لائنس میں چھانے کےلیے،کسی چوپاٹی پر برہنہ ہوکر گھومنا شروع کردی۔ پھر کیا تھا، وہ ہفتوں  نیوز چینلس اور اخبارات میں چھائی رہیں۔ ہمارے کچھ مفاد پرست سیاستداں بھی اس روش پر گامزن لگ رہے ہیں، نہیں تو یہ لوگ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ان کی تحریر اور بیان بازی  سے کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس طرح کی ذہنیت کے لوگ معاشرہ و سوسائٹی اور ملک کے امن و امن کے لیے خطرہ ہیں۔ اگر ان کی بر وقت اصلاح نہیں کی گئی؛ تو صدیوں سے چلی آرہی ملک کی گنگا جمنی تہذیب مٹی میں مل جائے گی اور اس کی  ذمے دارحکومت ہوگی۔


(مضمون نگار دارالعلوم، دیوبند کے فاضل اور مون ریز ٹرسٹ اسکول، زامبیا، افریقہ کے استاذ ہیں۔ ان سے qasmikhursheed@yahoo.co.in    پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)

None Can Dare to Revoke Voting Rights of Muslims

None Can Dare to Revoke Voting Rights of Muslims

By: Khursheed Alam Dawood Qasmi



Unquestionably the sacrifices made by Muslims citizens aren’t less than the sacrifices made by any other citizen of the country in the freedom struggle of India. Following the independence, the Muslims have no fewer roles in India’s development and growth than others. Certainly the patriotism and nationalism of Muslims are above the question. It doesn’t need an evidence to prove as it’s as clear as crystal. Having such fact, Muslims are put on acid test by so-called nationalists very often. Whenever an issue related to Muslim community comes in the light, the so-called nationalists begin to accuse and paint the whole Muslim community with something which they have never done. Accusation isn’t just enough, but even they start spreading poison against the whole community stoking a controversy and putting the communal harmony at the risk. To my utter surprise, even some hatemonger people go ahead to suggest revoking the voting rights of Muslims. Such poisonous statement is made from the self-proclaimed champion of the Hindus rights like the Harvard-educated economic scholar, Mr. Subramanian Swamy and a Rajiya Sabha Member of Parliament of Shiv Sena and Executive Editor of the party mouthpiece, “Saamana”, Mr. Sanjay Raut. On the top, such view is backed and supported by another Member of Parliament like Sakshi Maharaj.

On April 12, The Shiv Sena mouthpiece, “Saamana” daily published an editorial by its Executive Editor, Mr. Sanjay Raut, wherein he writes targeting Barrister Asaduddin Owaisi, a Lok Sabha MP from Hyderabad and the whole Muslim community: “If Muslims are only being used this way to play politics, then they can never develop. Muslims will have no future till they are used to play vote bank politics and thus Balasaheb (Ex-Chief of Shive Sena Late Mr. Bala Thackeray) had once said to withdraw Muslims voting rights. What he said is right.”

The “secular masks” of all the so-called secular political parties will be worn out, once their voting rights are withdrawn, the editorial said. Taking a dig at All India Majlis-e-Ittihadul Muslimeen (AIMIM) MP Asaduddin Owaisi for challenging Sena president Uddhav Thackeray to come to Hyderabad, the editorial said, “Owaisi dares us to come to Hyderabad. But we want to ask him if Hyderabad is in India or in Lahore, Karachi or Peshawar….” “By saving the hiding place of snakes, you cannot kill them. Owaisi and his party are like a snake which, if fed, will do no good to the nation. AIMIM is an old snake,” it said as reported in The Times of India.
           
It seems the arrival of AIMIM at the land of Maharashtra in the last year concluded Assembly Elections had made some people like Mr. Raut frustrated; therefore, whatever is coming at the pen and the tongue, they write and publish without care. In the same editorial Mr. Raut has gone to extend to ask the Muslim Community: “Why do the Muslims need such Owaisies? Why they don’t digest some good leaders who work for the development and prosperity?” It shows that Mr. Raut has not deep knowledge about the Muslims’ political affairs. It’s Muslims who have accepted each and everyone as their political leaders without any pre-condition and question since the freedom struggle. If Muslims would have put pre-condition to accept someone as their leader from the beginning, they would not have been in such worst condition today and Mr. Raut would not have dared to write such poisonous editorial. It should also be noted that only few days back the Shiv Sena suggested Muslims to go to Pakistan for special treatment as Mr. Owaisi talked about reservation to Muslims in Maharashtra.

As for Mr. Owaisi, the all Indian Muslims have not chosen him as their leader, rather he is an elected leader from a parliamentary constituency merely. In spite of that, Indian Muslims know well that it’s Mr. Owaisi among few leaders who fight for the rights and against the injustice meted out to the minority entirely from the road to the Parliament. It’s well-known that Mr. Owaisi is not in the Maharashtra Assembly. Maharashtra Muslims haven’t elected him for Assembly or Parliament. They had and have digested the leaders other than Owaisi. Then why are the situations of the Muslims in the same condition like of other states in India? Why has the BJP-Sena government scrapped just five percent reservation to Muslims in education announced by the previous Congress-NCP government; whereas the same BJP-Sena government has passed a law to grant the quota for Marathas, while it was scrapped by the court?

Mr. Raut isn’t alone to write such piece of write-up, but one can find in the great India few more people like him. On 16th July, 2011, the Harvard-educated economist and ex-President of Janta Party Mr. Subramanian Swamy penned an extremely anti-Muslim article in the DNA expressing his poisonous opinion. He wrote: “We need a collective mindset as Hindus to stand against the Islamic terrorist.... If any Muslim acknowledges his or her Hindu legacy, then we Hindus can accept him or her as a part of the Brihad Hindu Samaj (greater Hindu society) which is Hindustan. Others, who refuse to acknowledge this, or those foreigners who become Indian citizens by registration, can remain in India, but should not have voting rights (which means they cannot be elected representative).”

Asked about Mr. Raut’s editorial published in “Saamana”, Mr. Sakshi Maharaj, Bharatiya Janata Party Member of Parliament from Unnao in Uttar Pradesh said on 12th April in the evening, “I have not gone through his statement.” But he said targeting the Muslim community: “I don’t say Muslims and Christians should be sterilised. But there should be family planning and a uniform law for all. When we talk of four-child issue, there is a lot of hue and cry, and when they have 40 children from four wives no one says anything.” Speaking on the population growth as a major challenge before the country, he said, “There should be family planning. When the country gained independence, the population was only 30 crore. Today it is 130 crore. Who is responsible for it?...There should be one law for everyone be it Hindus, Muslims, Sikhs or Christians.”

“Whether for one, two, three or four kids... unless we have a common law for everyone, the country will not benefit...So both the government and the opposition should come together to bring a strict law and those who don’t follow it should be stripped of their voting right,” Mr. Maharaj said as reported by the Rediff.com.

Without making a comment at the above statement of Mr. Maharaj who is famous for his controversial statements, just I would like to mention that he is the very leader who had drawn flak for describing the assassin of Mahatma Gandhi, Nathuram Godse as a “patriot” and was forced to apologise in the Parliament only few month ago. It’s him who was earlier at the centre of a controversy when he asked Hindu women to have at least four-child. The BJP on its part had distanced itself from his remarks. Despite that, Mr. Maharaj isn’t controlling his tongue in issuing such communal statement which can harm communal harmony.

As they are posing such bogus questions to Muslims and presenting such opinions regarding Muslims about revoking the voting rights of Muslims, they can also be questioned, why do they are afraid of someone who raises Muslims’ issues? Who has made them the representatives and advocates of the whole nation to utter such poisonous statements? How do they know that Muslims need just the leaders like Mr. Owaisi? How do they know that Muslims don’t digest any good leader who works for development? How and on what basis if any Muslim refuses to acknowledge his Hindu legacy can remain in India, but shouldn’t have voting rights? On what basis the voting right should be stripped of those who don’t follow family planning? Actually such thoughts and opinions are rubbish to be thrown in the bin.

It’s loud and clear that most of the people will never agree with such statements. In fact such leaders have no any place in the Indian society where people have been staying together without discrimination in the most cases. They are just trying to have media’s attention and unfortunately it’s done by the media group. For the information of such leaders, I do want to mention a fact. When India got freedom and unfortunately partition took place, at that time the Muslims had option either to migrate to newly created Pakistan or remain in India. So, Muslims remained in India being Indian citizens with their choice. Had they wanted, they would have migrated to Pakistan. This was the choice of Muslims, not a chance. They have equal rights in India like any other citizen without discrimination according to the constitution. None can dare to revoke the voting rights of Muslims as it’s granted to each citizen of 18-year old. If a particular political party takes Muslims as a vote bank and it plays vote bank politics with them, then such party should be held responsible for such grave mistake not the Muslim community. As the Muslims are concerned, they don’t need suggestion coming out form the poisonous minds, but they have full right to take their own decisions.

It’s said, once an actress ran out on Chaupati without clothes to hit the news headlines as she had gone into oblivion by the media and post the incident, she remained in news for several weeks, our so-called self-claimed nationalist leaders are like of such crazy actress to have media attention and get the level of national leader by spreading hatred. It’s a fact that they will get nothing except being in the news for some days or months. But it’s also a reality that such people pose danger to the nation. If such thoughts are being appreciated and cherished, India will perish. So, such thoughts and persons must be reformed before the damage is made, otherwise the government will be held responsible for it. ***


(The author is a Darul Uloom, Deoband alumnus and presently teacher of Moon Rays Trust School, Zambia, Africa. He can be reached at qasmikhursheed@yahoo.co.in)